آزاد مہدی کا ناول ”پیرو“ میری نظر میں
میں کبھی بھی کوئی ناول تو کیا، کوئی افسانہ بھی بھاگتے دوڑتے نہیں پڑھتا۔ مجھے اس کام کے لئے پوری یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اچھے فکشن کی قرات کا پہلا تقاضا ہی یہی ہے کہ قاری کہانی کے ماحول میں پہنچے اور اُس کے اہم کرداروں سے ذہنی ہم آہنگی پیدا کرے۔ اس لئے صرف 176 صفحات کے ناول ”پیرو“ کو پڑھنے میں میرے دو دن لگ گئے۔ بقول جگر مراد آبادی
اک آگ کا دریا ہے اور ڈُوب کے جانا ہے
مطلب اگر کوئی تیر کر پار کر جائے تو اُس کے پلّے کچھ نہیں پڑے گا۔ ڈوب کر جاتے ہوئے ہر مقام کو جی کر گزریں گے، تو ہی اس کی تہہ میں چُھپے ہوئے موتیوں تک رسائی ہو سکے گی۔ یہاں میں اس ناول کے بارے میں ایک قاری کی حیثیت سے اپنی رائے شیئر کر رہا ہوں (خیال رہے میں نقاد بالکل نہیں ہوں)۔
مذکورہ ناول کی ابتدا شاہدرہ باغ کے جغرافیائی تعارف سے ہوتی ہے۔ شاہدرہ، لاہور کے پہلو میں پونے پانچ سو برس سے بس رہی ایک بستی ہے (اب تو شاید اُسے ایک شہر کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے)۔ یہاں اُس زمانے سے سب ایسے ہنر مند بستے چلے آ رہے ہیں جو کسی نہ کسی طور مغلوں کے لئے کام کرتے تھے۔ یعنی اس بستی میں صرف کاریگر لوگ ہی قیام پذیر تھے اور صدیوں تک اُن کی نسلیں ہی اس بستی کی باسی رہیں۔ قاری کو اس باب سے گزرتے ہوئے شاید خیال آتا ہو کہ یہ سب کیا ہے؟ کہانی کہاں ہے؟ یہ جغرافیہ کیوں شروع کر دیا؟ مگر آگے چل کر یہی خیال ایک خوشگوار حیرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کہانی وہاں کے گلی محلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں کے باسیوں کی فطرت کو واضح کرنے لگتی ہے۔
میں نے آزاد مہدی کا ایک اور ناول بھی پڑھ رکھا ہے۔ اُس کا عنوان ہے ”ایک دن کی زندگی“ ۔ اُس ناول کا ذکر بھی آگے چل کر کبھی کروں گا لیکن پہلے ان دونوں ناولوں کے مطالعہ سے جو میں کسی حد تک سمجھنے میں کامیاب ہو گیا ہوں، وہ ہے آزاد مہدی کی ہنرمندی کا راز۔ وہ کسی گلی محلے یا قصبہ کے ایک چھوٹے سے اور بظاہر غیر اہم واقعے یا عام سے کردار کو بنیاد بنا کر پورا ناول لکھ دیتے ہیں۔ لیکن ذرا سی توجہ سے یہ جان لینا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ یہ معمولی سا واقعہ یا غیر اہم سا کردار دراصل پورے معاشرے کی فطرت کا استعارہ ہے۔
”پیرو“ میں بھی یہی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔
مرکزی کردار سے لے کر ریلوے سٹیشن کے جمعدار تک، دراصل ہمارے معاشرے کی مجموعی عکاسی کے نمائندے ہیں۔ ہمارے سماج کے کس کردار کے پاس کیسی طاقت ہے اور وہ اس کا استعمال کیسے کر رہا ہے، اس ناول کا عرق ہے۔ ناول نگار نے یہ سب کچھ اتنی خوبصورتی اور ایسی جزئیات کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ قاری معمولی کوشش سے ہر ماحول اور ہر کردار کے ایک ایک گوشے سے آشنائی حاصل کر سکتا ہے۔
جو لوگ آزاد مہدی کو جانتے ہیں، بڑی آسانی سے اس غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں کہ اس ناول کا مرکزی کردار شاہد خود ناول نگار ہی ہے۔ اُس پر جو کچھ بیت رہی ہے وہ دراصل تخلیق کار خود جی چکا ہے۔ یہی اس فکشن نگار کی بڑی کامیابی ہے کہ اس کردار کو تضحیک کا نشانہ بنا کر ہمارے معاشرتی المیے کے اُن پہلوؤں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جنہیں ہم عام طور پر کبھی اہمیت نہیں دیتے۔ حتیٰ کہ ایسی کسی ٹریجڈی کا حصہ بن کر بھی، وجوہات کی جڑوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ مگر اس ناول کے مطالعہ کے بعد ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ”ہیں؟ یہ سب کچھ تو ہمارے ساتھ بھی ہو رہا ہے“ ۔
ہمارے سماج کی ایک اور کجی کی بھی اس ناول میں پوری شد و مد سے تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے تمام ہنر مند، کاریگر، یہاں تک کہ چھوٹے موٹے کام کرنے والے، سب کے سب، خود موقع پاتے ہی، ایک دوسرے کی اتنی تضحیک کرتے ہیں کہ کسی دوسرے طبقہ کے کسی فرد کو ایسا کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔
انیس سو بہتّر میں دستوئیفسکی کا ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ پہلی بار اردو میں ترجمہ ہو کر پاکستان آیا تھا۔ روسی کلاسیکی ادب سے یہ میری پہلی آشنائی تھی۔ پھر میَں روسی کلاسیکی ادب کا عمومی طور پر اور دستوئیفسکی کے فکشن کا خاص طور پر گرویدہ ہو گیا۔ ”پیرو“ کی قرات کے دوران مجھے بار بار خیال گزرا کہ ہو نہ ہو آزاد مہدی بھی میری طرح روسی کلاسیکی ادب سے متاثر ہوا ہو۔ جس انداز میں وہ کسی بھی کردار یا ماحول کی نقش گری کرتے ہوئے جزئیات کی باریکیاں بیان کرتا ہے، رنگ، چہرے اور جسم کے حدود اربعہ سے کردار یا ماحول کی تصویر بناتا ہے، یہ میں نے روسی کلاسیکی ادب کے علاوہ اور کہیں نہیں دیکھا۔
ہالی وڈ کی سسپنس اور ایکشن سے بھرپور فلموں کی طرح اردو کے بعض ناول نگار بھی اپنے ناولوں میں واقعات کے تیز تر بہاؤ اور کرداروں میں شدت کے ذریعے تجسس پیدا کر کے قاری کو فتح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ”پیرو“ میں اگر کوئی ایسا کچھ ڈھونڈنے کی خواہش رکھے گا تو اُسے سخت مایوسی ہو گی۔ اس کا درست حظ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ پڑھنے والا ناول کے ماحول میں اُترے اور اس کے کرداروں کی نفسیات کو سمجھنے کی سعی کرے۔
اس ناول میں کوئی کردار بھی فلسفی یا دانشور ہونے کا دعویدار نہیں ہے۔ لیکن پورے بیانیے میں بار بار کچھ ایسے کاٹ دار جملے آتے ہیں، جو انسانی نفسیات اور تاریخ کے سربستہ راز کھولتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
ایک ناول، جس میں بہت سے کردار ہوں اور ایک ایک کردار کو، ہر بدلتے ہوئے ماحول کو، اتنی تفصیل سے قاری تک پہنچانا نہایت محنت طلب کام ہے۔ اور ایسا صرف وہی ناول نگار کر سکتا ہے جو اپنی تخلیقات کو شہرت یا دولت کمانے کا ذریعہ سمجھنے کی بجائے، اُس سے عشق کرتا ہو۔ آزاد مہدی اپنی تخلیقات کا ایک ایسا ہی عاشقِ صادق ہے۔
اس ناول میں کوئی بھی کردار ایسا نہیں، جو اُسے دیا گیا کام پوری ایمانداری سے کر رہا ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگر ہزاروں میں سے کوئی ایک ایسا کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو اُس کی راہ میں کانٹے نہ بچھائے جاتے ہوں۔ کیا یہی ہمارے سماج کا اصل چہرہ نہیں ہے؟
مذکورہ ناول میں ایک خاص برادری کا ذکر ہے جو ابتدائی صفحات میں صرف ایک پیراگراف تک محدود ہے۔ اس ناول کی اشاعت پر وہ برادری اتنی برانگیختہ ہو گئی کہ ناول نگار کے گھر پر حملہ کر دیا۔ ناول کی بہت سی کاپیاں جلا کر انہوں نے اپنی دماغی آگ کو ٹھنڈا کیا اور ناول نگار کی فیملی کو خوفزدہ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی۔ یہ ہمارے سماج کا جدید ترین چہرہ ہے۔
انہی تلخ حقائق کی تو اس ناول میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ لوگ دوسروں کو اذیت دے کر اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں معاشرہ مزید محرومیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ لوگ انصاف کی فراہمی سے اس قدر مایوس ہو چکے ہیں کہ اب وہ اپنے معاملات عدالتوں تک لے جانے کے روادار بھی نہیں رہ گئے۔ خواہ ہجوم کے ذریعے یا کسی اور ذرائع سے، وہ اپنے فیصلے خود ہی کرنے لگے ہیں۔ بہت سی مذہبی تنظیموں نے اس چلن کی خاص طور پر آبیاری کی ہے۔



