روٹی کی قربانی
میں اور شاداب کافی عرصے سے اپنے بڑھتے وزن سے پریشان تھے جسے کم کرنے کے لیے صبح شام غور و خوض جاری تھا۔ کبھی شربتِ کریلا کے گلاس انڈیلے جا رہے تھے تو کبھی سفوفِ ہاضم کو شیرِ مادر کی طرح پھانکا جا رہا تھا۔ اگر کسی نے کوئی جڑی بوٹی بتائی تو شام سے پہلے وہ کمرے میں موجود ہوتی اور اگر کسی نے رسالے سے کوئی فارمولا بتایا تو اُس کے جملہ اجزاء اکٹھے کر کے اُن کی دوا تیار کی جا رہی ہوتی، لیکن ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ ، یعنی پیٹ ایسا ضدی بچہ ثابت ہوا جس نے پلٹ کر پیچھے جانے سے انکار کر دیا۔ اب حالت یہ ہو چلی تھی کہ ایف ایس سی میں ہونے کے باوجود ہمارا وزن اتنا بڑھ گیا کہ کالج میں باقاعدہ ہمارا نام لے کر مذاق اڑایا جاتا اور ہم دل پہ پتھر رکھ کر اس مذاق کو نہ صرف برداشت کرتے بلکہ نہ چاہنے کے باوجود بھی اتنا ہنستے کہ گویا یہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔
لیکن ایک دن ہم نے تہیہ کر لیا کہ بس جتنا سہنا تھا سہ لیا اب مزید اس ظالم سماج کے طعنے نہیں سہنے۔ ”مگر یہ تو بتاؤ ہم کریں گے کیا۔ یہ پیٹ ہے کوئی ربڑ تو نہیں کہ بس دبایا تو دب گیا“ ، شاداب نے پھولے ہوئے پیٹ پر اپنا نرم و نازک ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔ ”دیکھو دنیا میں کون سا کام ناممکن ہے۔ بابر نے ہندوستان کو فتح کیا، آئن سٹائن نے ایٹم بم کا فارمولا بنا ڈالا، کولمبس نے اکیلے پورا امریکہ دریافت کر مارا تو یہ پیٹ۔ یہ بے زبان کیا چیز ہے۔ تم دیکھنا ایسا پیچھے ہٹے گا جیسے سیلاب اترنے کے بعد پانی پیچھے ہٹتا ہے“ ۔ میرا یہ عزمِ مصمم دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی اور امید کی ایک ٹمٹاتی کرن کو میں اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ”مگر یہ ہو گا کیسے؟“ اُس کا سوال اپنی جگہ بہت اہم ہونے کے ساتھ سنجیدہ بھی تھا جس پر میں نے سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا۔ اب کمرے میں ٹہلتے ہوئے اُن ترکیبوں پر غور کرنے لگا جن سے وزن کم کیا جاسکتا ہے مثلاً کھانا کم کر دیا جائے گویا اگر میں پہلے آٹھ روٹیاں کھاتا تھا تو اب چار کردوں، لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ چار روٹیوں سے پیٹ نہیں بھرے گا اور جب پیٹ نہیں بھرے گا تو نیند کیسے آئے گی، لہذا چار کی بجائے چھ روٹیاں کافی ہوں گی ۔ اس کے علاوہ ایک ترکیب یہ بھی دماغ میں چل رہی تھی کہ میٹھے کو کم کر دیا جائے، گویا پہلے اگر ہفتے میں سات دن میٹھا کھایا جاتا ہے تو اب اُسے پانچ دن پہ لایا جائے، لیکن اس پہ دل مطمئن نہ ہوا کیونکہ ہمارا ننھا سا دل میٹھے کا ہی تو شوقین ہے ایسے میں اگر اس کی یہ معصوم سی خواہش بھی کچل دی گئی تو بیچارہ ٹوٹ جائے گا۔ اب دل کو توڑنا کتنا بڑا گناہ ہے لہذا اس گناہ کبیرہ سے بچنے کے لیے میں نے فوراً استغفار پڑھ کر دل کو سمجھایا کہ میاں خوش ہو جاؤ سات کے سات دن ہی میٹھا چلے گا وہ بھی دبا کر۔
”خدارا کچھ بتاؤ بھی۔ کیسے کم کریں اس پیٹ کو“ ، میری طویل خاموشی نے شاداب کو بے چین کر دیا۔ ”دیکھو اس کے لیے بس ایک چیز کو چھوڑنے کی ضرورت ہے اور وہ ہے کھانا“ ۔ میرے منہ سے اتنا اہم انکشاف سن کر اُس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ ”مگر سب سے اہم یہی تو ہے کہ کھانا کیسے چھوڑا جائے۔ تمہیں تو پتہ ہے میں اگر کھانا نہ کھاؤں تو تمہیں کھانے کو جی چاہتا ہے۔“ ۔ شاداب کی اس بات سے مجھے مکمل اتفاق تھا، اس لئے کہ جب بھی وہ بھوکا ہوتا ہے بہت غصے سے تیز تیز باتیں کرتا ہے سو شاداب کے غصے سے بچنے کے لیے ضروری تھا کہ اُس کا پیٹ ہر وقت بھرا رہے۔ ”دیکھو شاداب! زندگی قربانی مانگتی ہے اور ہمیں بھی یہ قربانی دینی ہوگی۔ آج جاپان، چین اور امریکہ نے جتنی ترقی کی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اُنہوں نے قربانی دی ہے سو ہمیں بھی یہ قربانی دینی ہوگی، اپنی خاطر اس قوم کی خاطر“ ، میں بھوکے پیٹ ہونے کی وجہ سے شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا تھا اور شاداب کے دل پر میری باتوں کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ اس لئے کہ میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ جب میرا پیٹ خالی ہوتا ہے، اُس وقت میری زبان کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ ”ویسے بات تو تمہاری کچھ کچھ دل کو لگتی ہے۔ اس بات پر تو ہم نے آج تک غور ہی نہیں کیا۔ چلو ایسا کرتے ہیں کہ شیڈول بناتے ہیں“ ۔
اس کے بعد شاداب ایک کاغذ نکال کر اُس پر شیڈول مرتب کرنا شروع ہو گیا۔ اس کے مطابق ناشتے میں تین پراٹھے، دو ابلے انڈے، دو آملیٹ کے ساتھ دو کپ چائے بالائی ڈال کر۔ مجھے اس شیڈول پر یہ اعتراض تھا کہ اس میں ناشتوں کے ساتھ انڈوں کا جو تناسب رکھا گیا تھا وہ مساویانہ نہیں تھا۔ اس اعتراض کو سنجیدگی سے سُن کر شاداب نے شیڈول میں یہ ترمیم کی کہ اب تین کی جگہ دو پراٹھے لکھ دیے۔ میں نے اس شیڈول کو دیکھا تو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں دل پہ پتھر رکھ کر اسے قبول کر لیا جبکہ میرا دل چار پراٹھوں سے کم کبھی سیر نہیں ہوتا۔ بہر حال اس کے بعد ظہرانہ اور عشائیہ کا جو پروگرام مرتب ہوا اُس میں حتی الوسع یہ کوشش کی گئی کہ گوشت کو مرکزی مقام دے کر دال سبزی کو بقدر ضرورت ہی رکھا جائے کیونکہ ہمارے جسم کو پروٹین کی جو سخت ضرورت ہوتی ہے وہ صرف گوشت سے ہی ممکن ہے۔ یہ شیڈول ہماری کڑی محنت اور سر کھپانے کے بعد دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہو گیا، جس پر ہر دو فریقوں کے دستخط لیے گئے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ اس شیڈول کو کمرے کی دیوار پر مناسب مقام پر آویزاں کر دیا گیا۔ شاداب جو اس شیڈول کا کاتب تھا وہ اب بجھا بجھا سا دکھائی دے رہا تھا جیسے دل پر کوئی بوجھ ہو۔ ہم عموماً رات دس بجے تک سو جاتے تھے مگر آج گیارہ بج گئے لیکن شاداب کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ وہ کمرے میں ٹہلتے ہوئے کبھی شیڈول کے پاس جاتا اُسے یوں پڑھتا جیسے کوئی غلطی نکالنا چاہ رہا ہو اور کبھی اپنے بڑھے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سرد آہیں بھرتا۔ میں اُس کی حالت کا بغور مشاہدہ کر رہا تھا لیکن یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ ”کیا بات ہے شاداب؟ کوئی پریشانی ہے کیا؟“ ۔ مجھ سے نہ رہا گیا تو پوچھ لیا۔ ”کچھ نہیں بس دل کو سمجھا رہا ہوں کہ بھوک کتنی اچھی چیز ہوتی ہے۔ اس کے کیا کیا فائدے ہیں“ ، اُس نے میرے پاس بیٹھ کر جواب دیا۔ ”تو کیا دل مان گیا؟“ ، میں نے تجسس سے بھرپور سوال کیا۔ ”ہاں ہاں۔ کیوں نہیں۔ دل تو اتنا خوش ہے، اتنا خوش ہے کہ خوشی سے آنسو نکل رہے ہیں“ ، یہ بات کہہ کر وہ اپنی چارپائی پہ جا کے گرا اور سو گیا۔
اگلی صبح میری آنکھ قدرے دیر سے کھلی اور جب کمرے میں دیکھا تو شاداب باہر سے آ رہا تھا۔ ”کہاں گئے تھے؟“ میں نے پوچھا، ”واک کرنے۔ دو کلومیٹر واک کی ہے آج۔ بہت مزا آیا۔ چل اب ناشتہ کرنے چلیں۔ قسم سے بہت بھوک لگی ہے“ ۔ اپنے دوست کی بھوک کا سن کر مجھے بہت دکھ ہوا لہذا جلدی جلدی تیار ہو کر جب ہوٹل میں داخل ہوئے تو ویٹر چائے والے کو دھیمی آواز میں یہ کہہ رہا تھا ”یہ باؤ پانچ پراٹھے، چار انڈے اور تین کپ چائے پینے کے بعد پھر آ گیا ہے۔ اللہ خیر کرے پتہ نہیں اب اس بار کتنی تباہی پھیرے گا“ ۔


