قیصر عباس: جن سے نہ ملنے کے باوجود، ملنے کی خواہش برقرار رہی
بزرگوں کا یہ قول نہ جانے کتنی بار نظروں سے گزرا ہو گا کہ آدمی اپنی محفل سے پہچانا جاتا ہے۔ آج اتفاق سے ایک ایسی ہی شخصیت مقابل تھی جس سے، اس سے قبل کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر وہ جس محفل سے متعلق رہے تھے، اُس سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ضرور شناسائی رہی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت اُن سے ملتے ہوئے اجنبیت کا احساس قطعی نہیں تھا۔ ہاں! شعوری اور لاشعوری طور پر ذہن میں یہ خیال بار بار سر اٹھا رہا تھا کہ آج کے بعد کیا پتہ، پھر کب ملاقات ہو، سو دل یہی کہتا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جتنی بھی خوش گوار یادیں اور باتیں سمیٹ لی جائیں، کم ہے۔
گفتگو کو زیادہ نفع بخش اور معنی خیز بنانے کا داناؤں نے ایک (کارآمد) اصول یہ بھی بتایا ہے کہ سننے کو ترجیح دی جائے اور خود (زیادہ) بولنے پر اصرار نہ کیا جائے۔ اس صورت میں، دوران گفتگو پلڑے کا جھکاؤ خود بہ خود وصولی کی طرف مائل رہتا ہے۔ ہمہ تن گوش کی تشریح بھی شاید کچھ ایسی ہو، سو آج اس ملاقات کے لئے بھی یہی اصول طے ہے۔
ایک ایسی شخصیت جس نے بیرون ملک علمی، تدریسی اور تخلیقی میدان میں نہایت فعال کردار ادا کیا ہو، اُس سے گفتگو کی ابتدا، ظاہر ہے وطن سے ہجرت کے سوا اور کیا ہو سکتی تھی
” کہتے ہیں نقل مکانی کرنے والے لوگ دو دنیاؤں میں زندگی بسر کرتے ہیں سرزمین وطن جہاں انھوں نے جنم لیا پرورش پائی اور نئی سرزمین جہاں انھوں نے سکونت اختیار کی۔ بہتر زندگی کی تلاش میں نکلے ان بنجاروں کی شخصیت بھی دو دنیاؤں میں بٹی رہتی ہے لیکن ان کی فکر و احساس کے دھارے اور ان کی یادوں کے سب دریچے پہلی دنیا میں ہی کھلتے ہیں۔
میرا تعلق بھی اسی نسل سے ہے۔ زندگی کا آدھا سفر طے ہوا، شادی ہوئی تو اپنی ہم سفر کے ساتھ امریکہ آ گیا۔ میری ہم سفر صالحہ زندگی کے ہر موڑ پر گزشتہ چالیس سالوں سے میرے ہم قدم ہیں۔ امریکہ آ کر ہم دونوں نے پی ایچ ڈی کی۔ امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں پڑھایا۔ انتظامیہ کا حصہ رہا۔ غم دوراں کے نشیب و فراز اور دو بیٹوں کی تربیت کے بعد ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ زندگی کا بیشتر سفر تو طے بھی ہو چکا۔ ”
اس طویل سفر سے پہلے بھی، ایک مختصر سفر اندرون ملک کا بھی ان کے حصے میں آیا۔ یہ سفر حصول تعلیم کے لئے راولپنڈی سے لاہور جانے کا تھا، یہ ارادہ انھوں نے کیوں باندھا، یہ جاننا بھی ضروری تھا۔
”ستر کی دہائی میں ہم کچھ دوستوں نے گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی سے بی اے کے بعد پنجاب یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے شعبہ صحافت میں داخلے کی درخواست داخل کروائی اور اس طرح پنجاب کا صدر مقام لاہور، ہماری زندگی کا صدر مقام بھی ٹھہرا۔ یہاں کئی اساتذہ درس و تدریس میں مصروف تھے اور سب ہی اپنی اپنی جگہ ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ صدر شعبہ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید سنیارٹی کے لحاظ سے بہت رعب و دبدبہ رکھتے تھے اور اپنے لیکچر کی باقاعدہ تیاری کر کے آتے تھے۔ ان کا ایک منفرد انداز یہ تھا کہ لیکچر نوٹس کاغذ کی بجائے گریٹنگ کارڈ یا عید کارڈ پر لکھ کر لاتے۔ گریٹنگ کارڈ کا یہ استعمال بعد میں ہمارے خوب کام آیا۔ اگرچہ یہ علمی مقاصد کے لئے نہیں کچھ ذاتی مشاغل کے لئے تھا۔“
ہر طالب علم کی زندگی میں بعض اساتذہ شخصیت سازی کے اعتبار سے غیر معمولی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کہتے ہیں زندگی میں صرف دو لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی تخلیق کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ایک باپ اور دوسرا استاد۔ اسی لئے اس بات میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ خوش قسمتی سے ملنے والی یہی وہ رہنمائی ہے جو شاگرد کے لئے ساری زندگی کا زادہ راہ بن جاتی ہے۔ یہاں سوال سادہ سا ہے کہ انھیں ملنے والی اس خوش قسمتی کو کس نام سے پکارا جائے۔
” پروفیسر مہدی حسن جو ہمارے لئے اب سر مہدی تھے، اسی زمانے میں شعبے میں نئے آئے تھے۔ سنا تھا کہ شعبے نے اُن کی ملازمت ختم کردی تھی اور وہ عدالتی فیصلے کے ذریعے دوبارہ اس عہدے پر بحال کر دیے گئے تھے۔ وہ معلم سے زیادہ ہمارے دوست تھے لیکن کلاس میں سخت ترین استاد تھے، بلکہ امتحانات میں ہمیں دوسروں سے کم نمبر ملتے جس کی ہمیں اُن سے ہمیشہ شکایت رہتی۔ میں کلاس میں ضرورت سے زیادہ شرارتی تھا، کلاس میں اکثر ان کے عتاب کا شکار میں ہی رہتا تھا اور کئی بار کلاس سے باہر جانے کا حکم میرے لئے ہی صادر ہوا۔
میں نے سر مہدی ہی کی نگرانی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ تحریر کیا تھا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اخبارات کی رپورٹنگ پر تھا۔ بلا کی یادداشت تھی سر مہدی کی۔ تمام شاگردوں کا نام اور حالات انھیں ازبر ہوتے۔ جنوری 2008 میں میرے مجموعہ کلام کی تقریب اجرا لاہور میں رکھی گئی تھی جس میں انھوں نے تقریر کرتے ہوئے مجھے نصیحت کی کہ واپس آ کر وطن کی خدمت کروں۔ یہ ان سے دوبدو ملاقات کا آخری موقع تھا اور میں انھیں یہ نہیں بتا سکا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود میں کیوں وطن واپس نہیں جا سکا۔ ”
وہ ہونہار شاگرد جو اپنے استاد کے نقش قدم پر چل کر علم و آگہی کے نئے چراغ روشن کرتا رہا، وہ بلاشبہ سرخرو ہے کہ دو دنیاؤں کا باسی ہوتے ہوئے، اُس نے اپنے فکر و احساس کے دھارے سے وطن اور وطن سے محبت کو کبھی جدا نہ ہونے دیا۔ دیار غیر میں بھی اپنی نمایاں علمی، سماجی اور تخلیقی خدمات سے دنیا بھر کے دانشوروں کے سامنے وطن کے نام میں چار چاند لگائے۔ بنجارہ بن کے جہاں بھی پڑاؤ ڈالا، وہاں اپنی شخصیت کے انمٹ نقش چھوڑے۔

وطن کے اس ہونہار فرزند سے سوال ابھی ختم نہیں ہوئے تھے اور سوالات کی خواہش بھی پوری طرح موجود تھی کہ ہاتھ میں تھامی ہوئی کتاب نے، یہ احساس دلایا کہ یہاں جس شخصیت سے مکالمہ جاری تھا وہ دراصل اپنی تحاریر میں ہم کلام تھا۔ یوں کتاب کی ورق گردانی نے ملاقات کی یہ سبیل پیدا کردی، اور باتوں باتوں میں اتنی باتیں بھی ہو گئیں۔ وہ بھی اُس شخص سے جس سے ملنے کی شدید خواہش کے باوجود ملنا مقدر نہ تھا۔
قیصر عباس کے خیالات اور تصورات جو ان تحریروں میں زندہ ہیں، آنے والے کل کے خواب ہیں۔ ایک ایسی دنیا کے خواب جہاں انسانیت کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ وہ نئی صبح کے امکان سے مایوس نہیں، شاید اسی لئے انھوں نے اپنی تحریروں کے ماتھے پر، امید سحر کی بات کی ہے۔
خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہو گا
خوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہو گا
ہر حرف سے پھوٹے گی کرن صبح جنوں کی
ہر باب رقم جرات اظہار سے ہو گا



