فولادی اعصاب کی مالک خاتون نفس بی بی
”جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔“ (القرآن)
برف سے ڈھکی سنگلاخ وادی میں، جہاں سرد ہوائیں چلتی ہیں اور زمین برف کی سفید چادر اوڑھے ساکت نظر آتی ہے، ایک باہمت خاتون ہر خطرے کو پس پشت ڈالے، زندگیوں کو بچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ہاتھ میں چھڑی، کندھے پر ادویات سے بھرا بیگ، اور چھ فٹ برف میں کھڑی یہ بے لوث مسیحا کوئی اور نہیں بلکہ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی ایک نڈر صحت کارکن ہیں، 13,600 فٹ سطح سمندر کی بلندی پر واقع وادی بروغل کے باسیوں کے لیے امید کی آخری کرن بنی ہوئی ہیں۔ وادی بروغل زمینی جنت، مگر مشکلات کا گڑھ ضلع لوئر چترال سے 250 کلومیٹر دور افغان صوبہ بدخشاں کے واخان کے بارڈر پر واقع وادی بروغل اپنی قدرتی خوبصورتی میں بے مثال ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے فطرت نے اپنے تمام رنگ یہاں نچھاور کر دیے ہوں۔ مگر اس حسین وادی میں زندگی اتنی ہی کٹھن ہے۔ سردیوں میں پانچ سے چھ فٹ برف گرنے سے وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل منقطع ہو جاتا ہے۔ نہ کوئی سڑک، نہ اسپتال، نہ بجلی، اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات۔ یہاں کے مکینوں کے لیے صحت کی خدمات خواب سے کم نہیں، اور یہی خواب نفس بی بی حقیقت میں بدل رہی ہیں۔
آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے چترال اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ حاملہ خواتین کی نگہداشت، حفاظتی ٹیکے، اور پیچیدہ کیسز کو بروقت ریفر کرنا اس ادارے کا بنیادی مشن ہے۔ بروغل کے باسیوں کے لیے سب سے قریبی ہیلتھ سینٹر شوشت میں واقع ہے، جو وادی بروغل سے 55 کلومیٹر پر واقع ہے۔ وہاں تک پہنچنا عام دنوں میں بھی دشوار، جبکہ برف باری کے موسم میں تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ مگر نفس بی بی کے حوصلے کے آگے یہ مشکلات ماند پڑ جاتی ہیں۔
سال 2020 اور 2022 / 2023 کی وہ یخ بستہ سردیاں آج بھی دل میں ایک کہانی بن کر محفوظ ہیں، جب برفانی طوفانوں نے ہر راستہ مخدوش کر دیا تھا، جب زندگی ٹھٹھر کر رہ گئی تھی، اور جب امیدیں برف کی موٹی چادر تلے دب چکی تھیں۔ مگر انہی طوفانی ہواؤں میں ایک ہمت، ایک حوصلہ، اور ایک رحمت کا چراغ جل رہا تھا نفس بی بی اس طوفانی برف باری میں اپنی سفر پر تھی یہ کوئی عام سفر نہ تھا، یہ زندگی اور موت کے بیچ کی دوڑ تھی۔ دو دن تک مسلسل گھوڑے پر سفر کرتے ہوئے، بے رحم برفانی ہواؤں سے لڑتے ہوئے، وہ وادی بروغل کے ان گھروں تک پہنچیں جہاں ہر درد میں صرف سسکیاں تھیں اور ہر آنکھ میں بس ایک التجا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان بے سہارا، لاچار ماں بننے والی عورتوں کے لیے مسیحا بنا کر بھیجا تھا۔
کہیں ایک ماں زچگی کی شدید تکلیف میں تڑپ رہی تھی، کہیں ایک نومولود کی کمزور سانسیں وقت سے پہلے دم توڑنے کو تھیں۔ مگر نفس بی بی کے نرم ہاتھ، شفیق لہجہ، اور بے لوث خدمت نے زندگی کو ایک بار پھر جیتنے کا حوصلہ دیا۔ وہ صرف ایک نرس نہیں، وہ امید کا وہ چراغ تھیں جو برف کی طوفانی راتوں میں بھی روشن رہا، جو ان ماؤں کے لیے روشنی بن گیا، جو شاید اگر وہ نہ پہنچتیں، تو زندگی کے اندھیروں میں کھو چکی ہوتیں
وادی بروغل کے گاؤں چیلی مار آباد کی ایک ماں نفس بی بی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہے ”
”ماں بننے کا لمحہ ایک عورت کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ یہ خوشی کا لمحہ بھی ہوتا ہے، مگر بعض اوقات یہی لمحہ موت کے دہانے پر لے آتا ہے۔ میں بھی اسی کرب سے گزر رہی تھی۔ چاروں طرف اندھیرا تھا، بے بسی کی زنجیریں میرے وجود کو جکڑ چکی تھیں۔ درد کی شدت ناقابلِ برداشت تھی، مگر مجھ سے زیادہ تکلیف دہ وہ خوف تھا جو میری آنکھوں میں ٹھہر گیا تھا کہ شاید میں اپنے بچے کا چہرہ کبھی نہ دیکھ سکوں۔
یہاں نہ کوئی دائی تھی، نہ دوا، اور نہ ہی باہر جانے کا راستہ۔ میری سانسیں بوجھل ہو رہی تھیں، جیسے زندگی آہستہ آہستہ میرا دامن چھوڑ رہی ہو۔ ہر لمحہ امید دم توڑ رہی تھی۔ میرا دل ڈوب رہا تھا، میرے لبوں پر بس ایک ہی دعا تھی ”یا اللہ! مجھے بچا لے۔ اور پھر، جیسے اندھیرے میں روشنی کا کوئی جگنو چمکتا ہے، اللہ نے ہماری مدد کے لیے ایک فرشتہ بھیج دیا نفس بی بی۔ وہ نہ ہوتیں، تو شاید میں زندہ نہ رہتی۔ وہ ایک نرس نہیں، بلکہ مسیحا تھیں، جن کے ہاتھوں میں شفا، لہجے میں سکون اور آنکھوں میں محبت تھی۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو ایسا لگا جیسے کسی ماں نے اپنی بیٹی کو حوصلہ دیا ہو۔ ان کی تسلی بھری باتیں، مہارت سے کیے گئے اقدامات اور بے لوث خدمت نے میرے وجود میں بجھی ہوئی سانسوں کو پھر سے جلا بخش دی۔ آج میں زندہ ہوں، میری گود میں میرا بچہ مسکرا رہا ہے، اور یہ سب نفس بی بی کے خلوص، ایثار اور محبت کی بدولت ہے۔ وہ صرف ایک ماہر نرس نہیں، بلکہ انسانیت کی روشنی ہیں، ایک ایسی روشنی جو ہر ڈوبتے دل میں امید کی کرن جگا دیتی ہے۔“
وادی بروغل کے گاؤں پچ اوچھ کی ایک اور ماں اپنے جذبات کا اظہار یوں کرتی ہے میں نہیں جانتی تھی کہ زچگی کا درد اتنا جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ مہینوں سے تکلیف میں مبتلا تھی، غربت اور بیماری نے میرے جسم کو توڑ کر رکھ دیا تھا، اور میرے حوصلے بھی شکستہ ہو چکے تھے۔ ہر لمحہ لگتا تھا کہ شاید میں مزید جی نہیں پاؤں گی۔ سانسیں بوجھل ہو رہی تھیں، آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا تھا، جیسے زندگی آہستہ آہستہ میرا دامن چھوڑ رہی ہو۔ مگر پھر، جیسے کسی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل جائے، ویسے ہی اللہ نے میری مدد کے لیے نفس بی بی کو بھیج دیا۔ وہ محض ایک نرس نہیں تھیں، وہ ایک مسیحا تھیں۔ ان کے چہرے کی شفقت، لہجے کی نرمی اور ہاتھوں کی مہارت نے میری ڈھلتی ہوئی امید کو سہارا دیا۔ جیسے کسی اندھیری رات میں اچانک چراغ جل اٹھے، جیسے کسی بے جان زمین پر پہلی بار بارش کی بوندیں گریں، ویسے ہی میرے دل میں زندگی کی لو پھر سے روشن ہو گئی۔ میرے ہاتھ کمزور تھے، مگر نفس بی بی کے لمس نے ان میں طاقت بھر دی۔ میری آنکھیں بوجھل تھیں، مگر ان کی تسلی بھری مسکراہٹ نے ان میں روشنی بھر دی۔ میں جانتی تھی کہ میں تنہا نہیں ہوں میرے سر پر ایک نیک دل، ہمدرد اور مہربان ہاتھ ہے۔ ایک ایسا ہاتھ، جو زندگی کی روشنی بکھیرنے آیا تھا۔ اور پھر میرے کانوں میں ایک کمزور مگر معصوم سی آواز گونجی۔ میرا بچہ میری گود بھر چکی تھی، میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے یہ آنسو خوشی کے تھے، شکر کے تھے، اور اس یقین کے تھے کہ اللہ ہمیشہ امید کے دروازے کھول دیتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں۔
نفس بی بی اپنی طبی خدمات کے دوران پیش آنے والے ایک ایسے لمحے کو یاد کرتی ہیں، جو ان کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا ہے۔ ان کی آواز میں لرزش آ جاتی ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور وہ دکھ بھرے لہجے میں کہتی ہیں۔
”یہ جنوری 2020 کی بات ہے۔ سردی اپنے جوبن پر تھی، یخ بستہ ہوائیں جسم کو کاٹ رہی تھیں۔ وادی بروغل کے دور افتادہ گاؤں لاشکر گھاس سے ایک حاملہ خاتون کو گھوڑے پر بٹھا کر شوشت ہیلتھ سینٹر لایا گیا۔ وہ دس دن سے شدید درد میں مبتلا تھی، مگر زچگی کا مرحلہ طے نہیں ہو پا رہا تھا۔“
”دو دن تک وہ برفانی طوفان سے لڑتی رہی، اس کی کمزور سانسیں ہر جھٹکے کے ساتھ اور مدھم پڑتی جا رہی تھیں۔ ہر لمحہ اس کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔ ’کیا میں اپنے بچے کو دیکھ پاؤں گی؟‘ مگر میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی، اپنی ساری مہارت بروئے کار لائی، مگر تقدیر شاید کچھ اور ہی لکھ چکی تھی۔ وہ ماں اپنے بچے کو دیکھنے سے پہلے ہی دنیا چھوڑ گئی۔“ یہ کہتے ہوئے نفس بی بی کی آواز بھرا جاتی ہے۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر خاموش ہو جاتی ہیں، جیسے الفاظ کے بجائے ان کی آنکھیں وہ دکھ سنا رہی ہوں، جو بیان سے باہر ہے۔
”میں نے اپنی زندگی میں بہت سے تکلیف دہ مناظر دیکھے ہیں، مگر وہ خوف، وہ بے بسی، اور وہ آنکھوں میں جلتی امید کی آخری جھلک میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ وہ اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے زندہ رہنا چاہتی تھی۔ کاش! کاش اس علاقے میں پہلے سے کوئی ماہر دائی یا ایل ایچ وی موجود ہوتی، تو شاید وہ بچ سکتی تھی۔ شاید ایک اور بچہ یتیم ہونے سے بچ جاتا، شاید ایک اور خاندان بکھرنے سے بچ جاتا۔“ یہ الفاظ نہیں، ایک ماں کی خاموش چیخیں ہیں، جو ان برف پوش پہاڑوں میں کہیں دب کر رہ گئی تھیں۔
زندگی بچانے کا یہ مشن نفس بی بی کے لیے کبھی آسان نہیں تھا۔ شدید برفباری، برفانی طوفان، گرتے ہوئے درجہ حرارت، اور جان لیوا سفر یہ سب ان کے حوصلے کے آگے ہمیشہ بے بس رہے۔ کبھی پیدل، کبھی گھوڑے پر، کبھی کھڑی چٹانوں سے گزر کر، وہ ہر رکاوٹ کو عبور کر کے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
نفس بی بی نے یہی کیا۔ وہ بروغل کے ان محروم لوگوں کے لیے امید کی کرن بن چکی ہیں، جو سالہا سال سے بنیادی صحت کی سہولیات کے منتظر تھے۔
یہ کہانی محض ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہمت، قربانی، ایثار اور انسانیت کی وہ داستان ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔





