میرے پاس فی الحال تم ہو۔
ہمارے ہاں رمضان ٹرانسمشن ایک طرح سے ریا کاری، نمائش اور منافقت کا ذریعہ بنی ہوئی ہے، جس میں بظاہر نیک بن کر وعظ و نصیحت کرنے کی باقاعدہ اداکاری کی جاتی ہے، شوبز سے جڑی شخصیات کو مذہبی پہناوا کے ساتھ اینکر بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر لیں۔
حال ہی میں رمضان ٹرانسمشن کے ایک پروگرام میں معروف اداکار دانش تیمور جس میں انہی کی اہلیہ عائزہ خان مہمان تھیں میں دانش نے ایک زبردست انکشاف کرتے ہوئے کہا
”مجھے چار شادیوں کی اجازت ہے، یہ اجازت انہیں قادر مطلق نے دے رکھی ہے جسے اس سے کوئی نہیں چھین سکتا، لیکن وہ محبت اور عزت کی بنیاد پر فی الحال عائزہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہے“
کیا فی الحال والا بھی کوئی سمبندھ ہوتا ہے؟
اب اسے دوسری شادی کا خبط کہیں یا احساس برتری کے کھوکھلے کمپلیکس کا گھٹیا ترین اظہار، اپنے اختیار کا اس قدر ڈھٹائی سے اظہار کرنا کہ جس خاتون کے ساتھ آپ کے دن رات بیت رہے ہوں اس کے متعلق اس قدر تذلیل پر مبنی رویہ اختیار کرنا محض اس لیے کہ وہ خاتون ہے کھلا تضاد نہیں؟
بھلے آپ کو قدرت نے یہ اختیار دے رکھا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ آن ائر وہ بھی اپنی شریک حیات کی موجودگی میں وارننگ والے انداز میں احسان کرتے ہوئے کہیں کہ مجھے چار شادیوں کا حق تو ضرور ہے لیکن فی الحال میں ان کے ساتھ رہنے پر اکتفا کروں گا۔
کیا یہ اظہار کا مہذب طریقہ ہے؟
مطلب اگر آپ سلیبرٹی ہیں تو اس کا یہ مطلب تھوڑے ہے کہ جو جی میں آئے کہتے پھریں؟
یہ ”فی الحال“ طرز کی کیسی محبت ہے جسے آپ آن ائر رسوا کر رہے ہیں اور دھمکی والے انداز میں خدائی پیغام بھی سنا رہے ہیں۔
یہ پدر سری سماج کے گھٹیا اور منافقانہ پیمانے ہیں، مرد ہونے کی آڑ میں اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل تو مکمل آزادی کے ساتھ انجوائے کرنا چاہتے ہیں لیکن بات جب خواتین کی آتی ہے تو ایک دم سے ان کی غیرت جاگ جاتی ہے۔
خود کے ساتھ چار خواتین کا حصار چاہتے ہیں اور خاتون ڈرتے ہوئے اپنی خواہش کا ذرا سا اشارہ بھی کردے تو وہ گھٹیا اور چالو کیوں؟
منافق سماج کے کیسے گھٹیا پیمانے ہیں کہ مردانہ ہوس یا خواہش تو جائز ہے لیکن اگر وہی آزادی خاتون کو چاہیے تو اسے گھٹیا، چالو یا بازاری ایسے القاب جڑ دیے جاتے ہیں کیوں؟
اگر مرد کو عضو تناسل کی وجہ سے اپنی مردانگی پر فخر ہے جس کا تذکرہ وہ دوسری یا تیسری شادی کی صورت میں ایک مردانہ اسٹیٹس کے طور پر فخریہ انداز میں کرتا ہے تو پھر ایک خاتون کو یہ حق حاصل کیوں نہیں؟
حالانکہ وہ بھی تو ایک سر چشمہ حیات وجائنا کی مالک ہے، جذبات رکھتی ہے اور مکمل جنسی تسکین چاہتی ہے، وہ بھی اگر یہی سب آن ائر کہہ دے کہ مجھے اپنے شوہر سے جنسی تسکین نہیں مل پا رہی ہے لیکن فی الحال وہ انہی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے لیکن یاد رہے کہ قدرت نے اسے بھی خلع کا اختیار دے رکھا ہے تو ذرا بتائیے کسی بھی مرد کو یہ سب کیسا لگے گا؟
بھائی یہ تو خواتین کا حوصلہ ہے، اگر وہ زبان کھول دے تو نجانے کتنوں کی مردانگی ننگی ہو جائے، جیسے ایک مرد کے ذہن میں سوال ہوتے ہیں یا جنسی تسکین کے تصورات پائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح سے ایک خاتون کے ذہن میں بھی نجانے کتنے سوال، فینٹسی یا جنسی تسکین کے متعلق رنگ برنگی خواہشات پائی جاتی ہیں لیکن وہ سماجی جبر کی وجہ سے اظہار نہیں کر پاتی۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں کے مرد کو نہ تو خاتون کے ساتھ ڈھنگ سے سونا آیا ہے اور نہ ہی عالم بیداری میں انسانوں ایسا برتاؤ کرنا۔
لائیو شو میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے جیون ساتھی کو یوں رسوا کرنا کوئی مردانگی نہیں بلکہ بزدلی ہے، جو بات گھر میں رہنی چاہیے وہ اگر ایسے باہر نکلتی ہے تو آپ احساس کمتری کے مارے ہوئے انسان ہیں۔


