جنگ جوئی میں سیاسی اقدامات نظر انداز کرنے کا رویہ
قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرا خصوصی اجلاس نے گزشتہ روز ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف ہر قیمت پر جنگ جیتنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ البتہ اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیہ اور پاک فوج کے سربراہ کی بریفنگ کے دوران طاقت کے استعمال پر زور دیا گیا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اعتماد سازی یا کسی سیاسی حل کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔
حیرت ہے کہ کئی دہائی تک بلوچستان میں علیحدگی پسند رجحانات کا سامنا کرنے اور خیبر پختون خوا میں تقریباً ربع صدی سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے باوجود ملک کے سیاسی و عسکری لیڈر اس حوالے سے عوامی رابطہ کاری، مقامی مسائل سے آگاہی اور حکمرانوں و عوام میں موجود فاصلہ دور کرنے کے اہم پہلوؤں پر غور نہیں کرپائے۔ اعلامیہ میں تحریک انصاف کے حوالے سے افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اس نے اس اہم اجلاس میں شریک نہ ہو کر ایک اہم قومی منصوبہ سے دوری اختیار کی۔ وزیر اعظم کے علاوہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی واضح کیا کہ ’ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، تحریک اور شخصیت نہیں ہے۔ یہ ہماری اور آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے‘ ۔ اس طرح ایک ایسی پارٹی کے ساتھ سیاسی حساب برابر کرنے کی کوشش کی گئی جو اگرچہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تو موجود نہیں تھی لیکن قومی اسمبلی میں اس کے 90 کے لگ بھگ ارکان موجود ہیں اور وہ ملک کی اہم سیاسی جماعت ہے۔ ایسی پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ مکالمہ کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ خاص طور سے اگر ملک میں جمہوری عمل جاری رکھنے کا ارادہ ہے اور انتخابات ہی ابھی تک حکومت سازی کا واحد قانونی آپشن ہیں تو حکومت اپوزیشن کی اہم اور مقبول پارٹی کو نظر انداز کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں اگرچہ مکالمہ جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے لیکن گزشتہ روز کے اجلاس کے حوالے سے جو معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں وہ مکالمہ، سیاسی افہام و تفہیم اور تشدد کے علاوہ پر امن ماحول پیدا کرنے کے بارے میں امید افزا نہیں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ فوج ہی نہیں حکومت بھی اس وقت ملک میں جاری دہشت گردی اور بدامنی کو دبانے کے لیے طاقت کے موثر استعمال کو ہی واحد حل سمجھتی ہے۔ اگر فوجی قیادت کسی شورش یا بدامنی کی صورت حال میں طاقت کے استعمال کو واحد حل کے طور پر پیش کرتی ہے تو اس پر حرف زنی نہیں کی جا سکتی۔ فوج کی تربیت مسائل کو طاقت کے زور پر حل کرنے ہی کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا آئین عسکری اداروں کو ملک کی منتخب سول حکومت کے زیر نگیں رکھنے پر زور دیتا ہے۔ کسی بدامنی کی صورت میں اگرچہ فوج ہی کو معاملات سنبھالنے کے لیے بھیجا جائے گا لیکن یہ فیصلہ سیاسی لیڈروں کو کرنا چاہیے کہ کب اور کتنی فوجی طاقت ضروری ہے۔ سول حکومت کے قیام اور اسے با اختیار بنانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ طاقت کو غیر ضروری طور سے اندھادھند استعمال نہ کیا جائے۔ امن و امان کی کسی بھی صورت حال میں عسکری قوت سے سرکشی پر اترے ہوئے عناصر پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ریاست کی طاقت کا مقابلہ ممکن نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی متبادل اور مکالمہ و بات چیت کا راستہ دکھا کر انہیں کسی حل پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دنیا میں ہر مسلح تنازعہ و تصادم کا حل، اسی طریقے سے تلاش کیا جاتا ہے۔ صرف طاقت پر انحصار اور کچل دینے کا ارادہ کر کے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں صرف فوجی قیادت کے مشورے کے مطابق طاقت استعمال کرنے، علما سے فتوے لینے، جدید ہتھیاروں کی خریداری کے لیے وسائل فراہم کرنے اور ریاست کے اختیار کو چیلنج کرنے والے عناصر کو کچل دینے جیسے فیصلے تو کیے گئے لیکن سیاسی لیڈروں کی طرف سے کوئی ایسا مشورہ، ان فیصلوں میں شامل نہیں ہوسکا جس سے یہ امید پیدا ہو کہ حکومت کو عوام سے رابطے اور زمینی سطح پر مسائل حل کرنے کی ضرورت کا بھی احساس ہے۔ یہ تو درست ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کے بعد قومی جذبات انگیختہ ہیں اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر عسکری مراکز پر حملوں کی وجہ سے ہونے والی شہادتوں اور نقصان پر پریشان ہیں۔ لیکن سیاسی قیادت کو ایسے ہی ہیجان خیز ماحول میں وسیع تر ہم آہنگی پیدا کرنے کا فریضہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت اور دیگر سیاسی قیادت یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ اہم اجلاس ایک تو تحریک انصاف اور دیگر متعدد پارٹیوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے کم اہم ہو گیا، دوسرے حکومت اس صورت حال کا نوٹس لینے کی بجائے، اپوزیشن کی غیر موجودگی کو اپنی کامیابی سمجھنے کی فاش غلطی کر رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتہ کے دوران کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے قومی یکجہتی کی ضرور پر زور دیتے ہوئے تحریک انصاف کو دہشت گردی کے خلاف منصوبہ بندی میں شامل کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں کا اجلاس بلانے کی بات بھی کی تھی لیکن اسلام آباد واپس پہنچ کر اے پی سی بلانے کی بجائے قومی اسمبلی کا خفیہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اگرچہ تحریک انصاف نے اس حوالے سے بے یقینی کی صورت پیدا کی لیکن حکومت نے بھی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تحریک انصاف کے علاوہ دیگر ایسی چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملانے کی کوئی کوشش نہیں کی جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ ان میں محمود خان اچکزئی اور ان کی پارٹی پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور سردار اختر مینگل اور ان کی بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی (مینگل) شامل ہیں۔ اس اجلاس کو خفیہ رکھنے، اس کی سکیورٹی کے انتظامات کرنے اور میڈیا کو اجلاس سے باہر کرنے کی کوششوں پر تو زور دیا گیا لیکن سیاسی لیڈروں کو راضی کرنے اور قومی تنازعہ کے حل کے لیے ساتھ چلنے پر آمادہ کرنے کی معمولی کوشش بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ حالانکہ اگر وزیر اعظم سلامتی کمیٹی کی بجائے آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کرتے اور عمران خان کو پیرول پر رہا کر کے اس میں شریک ہونے کی دعوت دی جاتی تو شاید دہشت گردی کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنا سہل ہوتا۔
حیرت ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو ’ان کیمرا‘ یا خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کو اجلاس میں شریک ہونے سے روکا گیا۔ حالانکہ اس اجلاس میں کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جو عام لوگوں کو معلوم نہ ہو یا جسے چھپانا قومی مفاد میں ضروری سمجھا جائے۔ تاہم وزیر اعظم نے اجلاس کے دوران پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، اسے کسی بھی معاملہ میں اقدام کرنے کا مکمل اختیار دینے کی بات کی۔ تو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اجلاس کے آخر میں دعا کے لیے آرمی چیف کو دعوت دی حالانکہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان جیسے عالم دین بھی موجود تھے۔ ان رویوں سے صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اندرون ملک شورش اور سیاسی بے چینی کی ہمہ قسم ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے اور فوج کی آڑ میں خود اپنے فرائض فراموش کر رہی ہے۔ حالانکہ ملک میں گورننس کے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے واضح کیا تھا کہ حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور ناقص نظم حکومت کی وجہ سے فوجی جوانوں کا خون بہانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یہ بیان براہ راست وزیر اعظم شہباز شریف کے طرز حکمرانی کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ ان میں اس الزام کو سمجھنے کی بھی صلاحیت نہیں ہے اور نہ ہی وہ گورننس کے حوالے سے فوج کے تحفظات دور کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعریف و توصیف کا ماحول پیدا کر کے فوج کے سربراہ کو خوش کرنے کا اہتمام تو کیا گیا لیکن ٹھوس شکایات دور کرنے اور معاملات کے سیاسی حل کے حوالے سے کوئی نقطہ نظر سامنے نہیں آ سکا۔ گویا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران نہ تو وسیع تر قومی اتحاد و اشتراک دیکھنے میں آیا، نہ سیاسی مسائل پر توجہ دے کر ماحول تبدیل کرنے کا اشارہ دیا گیا اور نہ ہی فوج کی شکایات دور کرنے کی بات ہوئی۔ یوں یہ اجلاس حکومت کی مکمل ناکامی اور بے بسی کا نمونہ بن کر رہ گیا۔
اسی دوران آج صدر آصف زرداری نے کوئٹہ کا دورہ کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں۔ دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے‘ ۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور پائیدار امن چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے ہر بچے کو اسکول میں دیکھنا چاہتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے بچوں کو روشناس کرانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبے کے سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’بحیثیت پاکستانی قومی یکجہتی سے وطن کو آگے لے کر جانا ہے۔ ہم حقوق دے کر ہی لوگوں کا دل جیتیں گے۔ بلوچستان کے لوگوں سے دلی لگاؤ اور دیرینہ تعلقات ہیں‘ ۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی اور عوام کی بہبود کو اولین ترجیح دینے کی بات بھی کی۔ بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ عید کے بعد وہ بلوچستان میں کیمپ آفس قائم کریں گے اور تفصیل سے عوامی شکایات سنیں گے۔
سوال تو یہ ہے کہ جو باتیں ملک کا آئینی صدر سمجھتا اور بلوچستان جاکر عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، وہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران حکومتی ایجنڈے میں کیوں دکھائی نہیں دیں۔ اگر صدر مملکت عوام کو تسلی و تشفی دینے کے لئے بلوچستان میں کیمپ لگانے کی بات کر سکتے ہیں تو ملک کا وزیر اعظم صوبے کے عوام سے تعلق و ربط بڑھانے کے لیے ایسا ہی اقدام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتا۔


