انوکھی لٹک اس کی باتوں میں ہے


(ارشد معراج کے لئے ایک اظہاریہ)

دن کا پہلا پہر ہزارہ ایکسپریس نے جب ذرا ٹھیکی لی تو پتہ چلا یہ بھلروان ریلوے اسٹیشن ہے۔ پلیٹ فارم پر لگے سائن بورڈ پر نظر پڑتے ہی ذہن میں بے ساختہ ایک نام گونجا: ارشد معراج۔ کیوں؟

ابھی چند سال قبل تک یہ شہر اور اس کا نام میرے لیے بالکل اجنبی تھا مگر جب سے ارشد معراج کا لکھا ”بھلروان ریلوے اسٹیشن“ پڑھا مجھے یوں لگا یہ سب تو جیسے میرا دیکھا بھالا منظر ہے۔ کسی بیانیے کی طاقت اور فن کا جوہر اس میں ہوتا ہے کہ وہ ان دیکھی کو دیکھی اور اجنبی کو شناسا بنا دے۔ ارشد معراج کا مضمون ’ریلوے اسٹیشن پھلروان‘ بلاشبہ ایسا ہی ہے

خیر یہ تو تمہید تھی

بات یہ ہے بھلروان کے قصباتی شہر سے آ کر نہ صرف راولپنڈی اسلام آباد کہ ادبی حلقوں بلکہ ساری ادبی دنیا میں میں اپنی شاعری کی بدولت ایک منفرد مقام بنانے والے ارشد معراج کی ریٹائرمنٹ کی اس تقریب میں، ٹرین کے طویل تھکا دینے والے سفر سے واپسی کے ساتھ ہی، میری آج کی حاضری ایک طرح سے تلافی ہے۔ ایک قرض کی ادائی اور ایک فرض نبھائی ہے۔ میری زندگی کے اکثر فرائض چوں کہ قضا ہی ہوا کرتے ہیں اس لیے آج ایک قضا ادائی اور سہی۔ قضا اس لیے کہ ان کے ساتھ کام کرتے عشرے سے زائد مدت میں میں میں نے ان پر کبھی کلام نہیں کیا تھا۔ اس لیے میری ائندہ گفتگو ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک قرض کی ادائی بھی ہے۔

ارشد معراج کی شخصیت اور شعری وجدان پر میں نے جب بھی غور کیا۔ (بھئی ”شخصیت اور شعری وجدان“ وغیرہ کے کلمات میرے لیے بہت بھاری ہیں مجھے ان کا بہت زیادہ کچھ پتا وتا نہیں، بس شاعری کے نقادوں سے چونکہ یہ الفاظ اکثر سنے اس لیے سوچا فیشن کی خاطر استعمال کر لینے میں حرج نہیں ) ۔ تو ارشد صاحب کی ”شخصیت اور وجدان“ میں مجھے ہمیشہ چند عناصر کا مرکب نظر آیا:

ماں، پھلروان اور ایک ازلی اداسی، اتھاہ تنہائی اور مہیب سناٹا

یہ سب ان کے لیے الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت ایک ہی کیفیت کے مختلف پہلو ہیں۔ ہمارا شاعر جب راتوں کے مہیب سناٹے کو بھوگتا ہے تو اس کا کرب نظموں کا روپ دھارتا ہے۔ دوستوں کے درمیاں ہو کر بھی وہ نیلے پانیوں کی کتھائیں لکھتا اور آنکھوں میں نمکین رت جگے گھولتا ہے۔ دوستوں سے مکالمہ دراصل اس کی خود کلامیاں ہیں، ایک بکھرے ہوئے تنہا آدمی کی سرگرانیاں ہیں اور لاحاصل کی کہانیاں ہیں۔ بظاہر عمدہ لباس اور چمکتے دمکتے جوتوں میں ملبوس ہو کر یہ خوش پوش جوان جب یہ محفلیں سجاتا ہے تب بھی اندر سے تنہا ہوتا ہے۔ دوسروں کے درمیان رہنے والے بظاہر اس مجلسی آدمی کی تنہائی کا کرب اور ذات کا بکھراؤ اگر دیکھتا ہو تو ان کی صرف ایک نظم ”ہاں + نہیں = نہیں (نصف بہتر)“ دیکھ لینا کفایت کرے گا:

اپنے پرش کے بے ڈھنگے پن، اس کی خود اذیتی اور بکھراؤ کو روئی کے گالوں کی طرح سنبھالے رکھنے والی ایک پتی ورتا استری کے چھوٹے چھوٹے جملوں سے بنی یہ نظم عورت کے ایثار و محبت، نگہداری، پال پوس اور سدا کے روگی شوہر کی دیکھ بھال میں اپنا آپ مٹا ڈالنے ہی کو نقش نہیں کرتی بلکہ یہ نظم موقلم کے چھوٹے چھوٹے چھون سے مرد کے اس بکھراؤ اور پریشان سبھاؤ کا بھی کامل مرقع بناتی ہے جس میں خود کلامی کی صورت مرد کی رائیگانی کے تو صرف چند کلمات ہیں مگر پھر بھی ہم تمام مردوں کی بے ڈھنگی چال ڈھال اور کسُوتے رنگ ڈھنگ کی نمائندگی کرتا سارے کا سارا ارشد معراج اس میں کھلا پڑا ہے بکھرا ہوا ہے :

سوچتا ہی رہا
کہ کئی کام تھے
گھر پریشان کے، صبح کے شام کے
جو نہیں ہو سکے
رائیگانی، جوانی، کہانی رہی
اور پانی بہی
”یہ کیا حالت بنا رکھی ہے کمرے کی
خدا کا خوف
میں اک دن جو نہیں ہوتی تو گھر برباد کرتے ہو
یہ موزے اور برتن بیڈ کے نیچے
مرے اللہ!
یہ کپڑے ساتھ ٹیبل پر یونہی کل سے دھرے ہیں کیا؟
یہ گیلا تولیہ بھی شیلف پر
دیکھو یہ جوتے پالنے میں ہیں
یہ چائے فرش پر تم نے گرائی ہے؟
پان کی پیکیں
کتابیں ہی کتابیں اور سگریٹ
ہمارے واسطے بھی کچھ جگہ چھوڑو
معز اب کھیلتا ہے
کھیلنے کو جا بھی چاہیے ہے
ہمیں بھی سانس لینی ہے ”
” ارے توبہ۔
یہ بوتل۔
پتا تھا رات کوئی گل کھلاؤ گے اکیلے میں
کہا تھا ڈاکٹر نے بھی
جگر کا کینسر ہونے کا خدشہ ہے
مگر تم کس کی سنتے ہو
مجھے تکلیف دینے کے بہانے ڈھونڈتے ہو تم
اکیلے تھے کہ کوئی اور بھی تھا شاملِ محفل
کہو کھایا بھی تھا کچھ۔
کہ بس اوندھے پڑے سوئے
یہ کیسے صاف ہو گا سب
ہٹو میں خود ہی کرتی ہوں
مگر تم۔
بولتے اب کیوں نہیں ہو۔ ”
وقت محدود ہے
کوئی خواہش؟ نہیں
اور تمنا؟ نہیں
کوئی آہٹ؟ نہیں
خود مداوا؟ نہیں
ایک انبوہ ہے۔ میں کہیں بھی نہیں
کیا کروں۔ کیا کروں
کچھ نہیں۔ کچھ نہیں
ہاں نہیں۔ بس نہیں!
[ ”ہاں + نہیں =نہیں (نصف بہتر)“ ، مشمولہ دوستوں کے درمیاں ]

یہ نظم صرف ارشد معراج کی کہانی نہیں، سچی بات تو ہے اگر ہم مرد ایک پتی ورتا عورت کے سنبھالے ہوئے نہ ہوتے تو اکثر ایسے ہی ہوتے۔ ہمت والا ہے ارشد معراج جس نے کھلے دل سے یہ تسلیم کیا۔ مگر ہم مرد، کہ سخت ظلم و جہول ہیں، اکثر اس کا اعتراف نہیں کرتے!

میرا اور ارشد معراج کا (اور کامران کاظمی کا بھی) ورود اس بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں چند ماہ آگے پیچھے ہوا۔ بطور مہمان استاد تو یہ پہلے سے پڑھا رہے تھے مگر مستقل بنیا دوں پر یہ بعد میں آئے۔ ان کے اطوار و اوضاع اور عادات و مزاج میں صبح ازل سے ہی ایک اپنے ہی رنگ کا بانکپن اور ایک لٹک ہے۔ یہ ایک اپنی ہی آن بان اور چٹک لٹک والے آدمی ہیں۔ ایک دفعہ زندگی بسرانے کا جو طور اختیار کر لیا عمر بھر بڑے خشوع و خضوع سے اس پر عامل رہے۔ اس میں کچھ دخل ان کے مخصوص نیروسس کا بھی ہے۔ ان کی گفتار اور چال ڈھال میں ایک خاص انداز کا دھیما پن ہے۔ اونچی آواز میں کم بات کرتے ہیں اور اگر انہیں کالر بھی لگا ہوا ہو، جو کہ ہم نے اکثر لگا دیکھا، تو سمجھو کہ، یہ مدھم اور کومل سروں میں بولتے ہیں۔ دوستوں کی عزت کرنا ان کا مان رکھنے اور انجانوں کے دکھ کو اپنی تکلیف جان کر جیتے ہیں۔ انہیں راستے میں اگر کوئی ضرورت مند، بیمار، لاچار غرض مند مل جائے تو یہ اپنا ضروری کام چھوڑ کر (بشرطیکہ وہ ضروری کام مشاعرہ پڑھنا نہ ہو) اس کی دلجوئی میں لگ جائیں گے کہ مثلاً، ”کلاس وغیرہ تو روز ہوتی رہتی ہے آج بھی میرے بن ہو جائے گی، آج پہلے اس کی ضرورت پوری کرتے ہیں“ ۔

مجھے ان کی شخصیت سے پیار، شاعری سے محبت اور ثقافتی و سیاسی نظریات سے لاتعلقی، بلکہ قدرے بیزاری رہی ہے۔ مگر ان کی انسان دوستی پر ہمیشہ رشک آیا ہے۔ اپنے شاگردوں سے ان کا تعلق مثالی رہا ہے۔ اپنے خوردوں کی حوصلہ افزائی میں یہ ہر قسم کی مبالغے کو جائز سمجھتے ہیں۔ طلبا کے ساتھ جب کبھی کلاس میں ہوتے ہیں تو پھر کلاس ختم ہونے کا کوئی ٹائم نہیں ہوتا۔ کلاس ختم کرنا یہ صرف سماج میں ضروری سمجھتے ہیں اگر ان کا بس چلے تو طبقاتی تقسیم اور انسانوں کے مابین اونچ نیچ کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں مگر کیا کریں اللہ میاں نے یہ دنیا بنائی ہی ایسی ہے! یہاں ارشد معراج اسی طرح معذور و لاچار ہیں جس طرح اپنی بیماری کے سامنے بے بس ہیں۔

ان کی ازلی بیماری جس کی وجہ سے ان کے انداز و اطوار میں ایک دلربا قسم کا بکھراؤ پیدا ہوا خود ان کے لیے خواہ کتنی ہی کربناک ہو مگر ان کی شاعری کے لیے ہمیشہ بہجت افزا رہی ہے۔ جن دنوں یہ شدید ذہنی تناؤ و جسمانی تکان کا شکار ہوتے ہیں، ان کی شاعری میں اتنا ہی وفور ہوتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ میرے دوست اکبر معصوم کا بھی تھا۔ کسی ایسے ہی عالم نے اس سے یہ شعر کہلائے تھے:

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے
میرے بستر میں اذیت کی فراوانی ہے
ہے مصیبت میں گرفتار مصیبت میری
جو بھی مشکل ہے میرے لیے آسانی ہے

ارشد معراج کی عمومی دلبستگی، اور وجہ شہرت بھی، غزل نہیں بلکہ نظم ہے مگر یہ جب غزل بھی کہتے ہیں تو کمال کرتے ہیں۔ ان کے چند اشعار دیکھئے :

ورائے نظر میں کہیں ہوں، نہیں ہوں
گماں، واہمہ ہوں، یقیں ہوں، نہیں ہوں
مرے ہونے پہ اتنا اصرار کیوں ہے
کہا ہے نا میں نے، نہیں ہوں، نہیں ہوں!
میں کوئی کہاں ہوں، تمہیں اس سے مطلب!
میں پل بھر کہیں ہوں، یہیں ہوں، نہیں ہوں
کچھ کو دل کا حال سنانے آیا ہوں
کچھ قبروں پر پھول چڑھانے آیا ہوں
کچھ باتیں جو تم سے کرنا باقی تھیں
ان باتوں کی دھول اڑانے آیا ہوں
کچھ سپنے جو آنکھ نگر سے پھسلے تھے
ان سپنوں کو آنکھ میں لانے آیا ہوں
کچھ کلیاں جو کھلتے کھلتے رہ گئی تھیں
ان کلیوں کو پھول بنانے آیا ہوں
کچھ یادوں کی پریاں مجھ میں قیدی ہیں
ان کو اب آزاد کرانے آیا ہوں
کچھ لمحے جو جیون بننے والے تھے
ان لمحوں کی راکھ بچانے آیا ہوں
کچھ سوچیں جو سوچتے سوچتے سوچی تھیں
ان سوچوں کو خواب بنانے آیا ہوں
کچھ یاروں کے عیب امانت ہوتے ہیں
ان یاروں کے عیب چھپانے آیا ہوں
کچھ یادوں کے سکے جیب میں کھوٹے ہیں
ان کو میں تبدیل کرانے آیا ہوں
کچھ یاروں کے قرض ہیں میرے کاندھوں پر
ان یاروں کے قرض چکانے آیا ہوں
” جس عورت کے زخم پہ عورت باندھی تھی“
اس عورت سے آنکھ ملانے آیا ہوں

یہ تو ہوئیں ارشد کی شاعری کی باتیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ عموماً نظم ہی لکھتے ہیں وہ نثر لکھنے پر آئیں تو اس میں بھی وہ بہت منفرد ہوتے ہیں۔ شاعرانہ اسلوب اور خاص طور پر غزل کا ڈکشن نثر کے لیے عموماً عیب گردانا گیا ہے۔ مگر میرا خیال ہے نظم کے اندر جو ایک مہین انداز کا افسانہ پن ہوتا ہے اس کا سایہ اگر نثر کی فضا پر بھی پڑتا رہے تو نثر میں زندگی کی چلت پھرت کچھ اور نمایاں ہوجاتی ہے۔ پھلروان ریلوے اسٹیشن والا ارشد معراج کا مضمون ہی دیکھ لیں۔ بیانیے کی طاقت اور جادو ان دیکھے کو دیکھا بھالا ہی نہیں بناتا بلکہ روز مرہ کی دیکھی بھالی چیزوں میں ایک فاصلہ یا ایک دھندلکا پیدا کر کے انہیں اجنبیا بھی دیتا ہے۔ پھلروان ریلوے اسٹیشن گو ہم نے نہیں دیکھا مگر ارشد معراج نے ہمیں وہ ”دکھا“ دیا ہے یا اسے اس طرح کے تمام پرانے ریلوے اسٹیشنوں کا ہم قبیل بنا دیا ہے۔ ارشد معراج کے مضمون میں آ کر وہ ایک ریلوے اسٹیشن ہی نہیں بلکہ دیہات نما شہروں میں بسنے والوں کا سب کچھ ہے۔ اس کے ساتھ کا میدان، پیٹر پودے، تل تالاب، جوہڑ وہاں کے باسیوں کی اکلوتی تفریح گاہ تاش چوسر منڈل، کھیل میدان اور اوپن ائر اشنان گھاٹ، ویلوں نٹھلوں کی چنڈال چوکڑی، بوڑھوں بیماروں کی دل پشوری بیٹھک، اور حتیٰ کہ رات کے اندھیرے میں عورتوں مردوں کی جائے رفع حاجت تک ہے۔ اس اجتماعی بیت الخلا میں ٹولیوں کی صورت بیٹھی دیہاتی عورتوں کی کھسر پھسر میں وقوع پذیر ہونے والے دلچسپ لطائف ظرائف تو ارشد معراج کے دلکش بیانیے میں آپ خود پڑھیے، مجھے بیان کا یارا نہیں!

میں نے ارشد معراج کے دھیمے پن اور دوستوں یاروں اور اپنوں بیگانوں سے ہمدردی برابری اور انکسار برتنے کی بات کی تھی۔ اس پر یاد آیا کہ جب وہ نئے نئے یونیورسٹی میں آئے تو ان کے اچھے وقتوں کے ایک پرانے دوست جو پہلے ہی یہاں موجود اور اپنے سینیئر ہونے کے زعم میں کچھ زیادہ ہی مبتلا تھے، ایک دفعہ سر راہے روک کر نہایت روکھے پن سے گویا ہوئے :

”دیکھو ارشد آج کی میٹنگ میں تم جس بے تکلفی سے میرا نام لے لے کر بات کر رہے تھے یہ اب کچھ مناسب نہیں ہے۔ پرانا تعلق اور دوستی اپنی جگہ مگر اب تم یہاں میرے جونیئر ہو۔ آج کے بعد سے تم مجھے ’ڈاکٹر صاحب‘ کہہ کر مخاطب کیا کرو گے، سمجھ گئے نا!“ ۔

اپنوں پرایوں سب سے ہمیشہ پیار انکسار سے بات کرنے والا ارشد معراج ان صاحب سے 15، 20 سال پرانا دوستانہ تعلق اور بے تکلف تو تکار والے زمانے یاد کر کے چُپکا ہی تو رہ گیا!

شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کی جنہیں
خبر نہیں کہ روشِ بندہ پروری کیا ہے

میں نے ارشد معراج کی شخصیت اور شعری وجدان میں جن عناصر ترکیبی کی کار فرمائی کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک ماں اور اس کی محبت بھی ہے۔ جون 2021 میں ماں کی وفات پر ارشد اور ان کے بھائی نے جس طرح اظہار درد کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ چند اشعار دیکھئے :

تیری دنیا بھی کیا کمال کی ہے
صرف اک داستاں زوال کی ہے
گھر سے رخصت ہوا ہے اک مہماں
ہر گھڑی گریۂ وصال کی ہے
ماں ہے موجود میرے آنگن میں
گھر میں خوشبو اسی کی شال کی ہے
پیڑ آنگن کا کٹ گیا ارشد
جون کی دھوپ اب جلال کی ہے
ماں کی موت پر ان کے بھائی امجد معراج نے کہا:
تیرے باجوں مر جاواں گا
میری مائے دور نہ جائیں
اس پر ارشد نے بھائی کی یوں دلجوئی کی:

”میرے بھائی میرے بچے میں ہوں نا تمہارے سر پر سائبان کی طرح! اکیلا تو میں ہو گیا ہوں کہ مجھ سے بڑا (گھر میں) اب کوئی نہیں!“

ارشد کی یہ بھائی کو یہی تسلی نہیں بلکہ اپنے تمام دوستوں کے لیے وہ اس طرح سائبان بن کے رہتا ہے۔

چھوٹے بھائیوں سے ان کا تعلق شفیق باپ جیسا رہا ہے چونکہ خود بیماریوں کا ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں اس لیے اکثر پرانے مریضوں کی طرح ان کی پوٹلی میں ہر درد کا دارو موجود رہتا ہے۔ دوستوں یاروں بھائیوں اور ان کے بچوں کی چھوٹی موٹی بیماریوں کے معالج کا کردار بھی یہ خود ہی ادا کرتے ہیں۔ ایک موقع پر ان کی ایک بھائی نے ان کی ایک مزے کی عادت یوں بتائی کہ جب ہم چھوٹے تھے تب سے یہ باپ کی طرح ہماری نگہبانی کرتے تھے۔ کسی کا گلا خراب ہوتا یا کوئی کھانسی زکام میں مبتلا ہوتا تو یہ فوراً کہتے ”غرارے کرو“ ! کسی کے پیٹ میں درد ہو یا سر میں یہ سب کو ایک ہی تیر بہدف نسخہ ”غرارے کرو“ تجویز کیا کرتے تھے۔ ان کی غرارے کروانے کی عادت اتنی پختہ اور متواتر تھی کہ ہم گھر والے اس سے تنگ آ گئے۔ آخر ہم نے خود بھی دوسروں کے لیے یہی تجویز کرنا شروع کر دیا: کسی کے پیٹ میں درد ہو تا تو اس سے پہلے کہ ارشد بھائی کوئی دوا بتائیں اپنا نسخہ آزمائیں، ہم ترنت کہتے ”بھئی غرارے کرو“ ۔ کسی کے ٹخنے میں موچ آتی تو ہم کہتے ہیں بس ”غرارے کرو“ ۔ ہر مرض کا علاج ”غراروں سے کروانے“ کے رواج کو ہم نے اتنا فروغ دیا کہ محلے والوں کو بھی پتہ چل گیا کہ یہ ہیں وہ پروفیسر صاحب جو راتوں کو شاعری کرتے ہیں اور دن میں ”غرارے کروا“ کر قبضِ مزمٌن سے لے کر اسہالِ ملیٌن تک کا کامیاب علاج کرتے ہیں!

آج اس پروگرام میں آتے ہوئے میرے ساتھ گاڑی میں ایک دوست بھی تھے جو ارشد معراج کو جانتے ہیں انہوں نے یوں ہی اٹھا کر سرسری سا یہ مضمون دیکھنا شروع کر دیا اور مجھ سے کہا:

”جب تم صدر شعبہ تھے تب تو ارشد سے تمہاری ٹھنی رہتی تھی۔ حتٰی کہ وہ تمہاری ریٹائرمنٹ تقریب میں آنا بھی حسب معمول بھول گئے تھے مگر آج اس کی رخصت پر تمہاری محبت کا یہ جوش خروش، بات کچھ سمجھ نہیں آئی!“

تو پاکستانی فلم ”سرفروش“ کے ہیرو سنتوش کمار کے ایک معروف مکالمے سے استفادہ کرتے ہوئے میرا جواب تھا کہ

”وہ میرے منصبی فرض کی مجبوری تھی اور یہ ارشد معراج سے میرے موانستی تعلق کے قرض کی ادائی ہے!

Facebook Comments HS