روشنی کے ساتھ رہئیے روشنی بن جائیے


این بی ایف سے نکلے تو موسم کی دلربائی اور سبزہ و گل کی زیبائی قلب و نظر کے لئے باعث تسکین بنی۔ ابھی ہمیں اپنے شہر کے ایک نامور سپوت، فرزند کوہاٹ کموڈور محمود الرحمن کے گھر جانا تھا، ان کا دو دفعہ فون آ چکا تھا کہ ہم کہاں ہیں۔ محمود الرحمن صاحب کی خود نوشت ”پہاڑی لڑکے سے تباہ کن کپتان“ تک شائع ہو چکی ہے جس کی شاندار تقریب پذیرائی میں بوجوہ شریک نہیں ہو سکی۔ محمود الرحمن ہمارے مربی شجاعت علی راہی صاحب کے کیڈٹ کالج کوہاٹ میں شاگرد رشید رہے ہیں۔ اور اب بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں بھی دلی اور زمینی قربت رکھتے ہیں۔ انہی کی وساطت سے اپنے شہر کے اس نابغہِ روزگار شخص سے ہمارا تعارف ہوا میں نے چاہا کہ ان کو اپنی کتابیں بذریعہِ پوسٹ بھجوا دوں مگر ان کا اصرار تھا کہ کتابیں آپ کے ہاتھ سے لینی ہیں اور آپ کی خدمت میں اپنی کتاب پیش کرنی ہے، سو ہم نے وعدہ کر لیا اور آج اس وعدے کو ایفا کرنے جا رہے تھے۔

اسد نے گوگل آنٹی کی مدد سے بحریہ کا رخ کیا۔ بارش اب تھم چکی تھی، مگر بادل چھائے ہوئے تھے۔ بحریہ ٹاؤن کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے ہم گھر کے قریب پہنچ گئے مگر یہاں پہنچ کر ایک بائیک والے بھائی کو رہنما کیا اتنے میں محمود الرحمن صاحب کا پھر فون آ گیا۔ گھر بالکل قریب تھا۔ گاڑی سے اترے تو مجھے واکر کے ساتھ چلتے دیکھ کر انہوں نے کہا ”میڈم آپ تو ٹھیک ٹھاک ہیں ہمت نہ ہاریں ہیما مالنی وغیرہ کو دیکھیں 70 سال سے زیادہ کی ہیں اور کس طرح فٹ ہیں“ ۔ میں نے دل میں سوچا ”ہم کون سا کم عمر ہیں“ اندر گئے تو انہوں نے سرخ گلاب کے پھولوں کا بوکے دے کر باقاعدہ خوش آمدید کہا، اسد نے اس پر مسرت لمحے کو اپنے موبائل میں محفوظ کیا، میں نے انہیں اپنا سفر نامہ ”کھلی آنکھوں کا خواب“ اور کتابوں کا سیٹ پیش کیا انہوں نے مجھے اپنی خود نوشت کا تحفہ دیا۔

ان کی نصف بہتر عقیلہ کو برسوں پہلے دیکھا تھا جب وہ اسکول میں میری بھانجی سعدیہ کی ہم جماعت اور گہری دوست تھیں۔ ایک مدت کے بعد دیکھ کر اچھا لگا۔ دنیا بھی کتنی چھوٹی ہے۔

کچھ دیر بعد ہی چائے اور لوازمات سے لدی پھندی ٹرالی آ گئی۔ سموسے، شامی، گاجر کا حلوہ اور کوہاٹ کی مخصوص دیسی مٹھائی کھاتے پیتے تبادلہِ خیال ہوتا رہا۔ محمود الرحمان ٹھیٹ ہندکو میں گفتگو کرتے رہے۔ ہندکو زبان کے ایسے محاورے ایسا روزمرّہ اور اصطلاحات کہ جو آج کل کے ہندکو بولنے والوں کو سمجھ ہی نہ آئیں۔ اسد کو بھی کہنے لگے کہ ہندکو بولیں اردو بولتے بولتے جبڑے تھک گئے۔ میرا بیٹا اسد کم گو تو نہیں البتہ وہ کم کم لوگوں کے ساتھ اس طرح کھل کر بے تکلفی سے گفتگو کرتا ہے۔ محمود الرحمن صاحب کے گھر اسد نے پر لطف وقت گزارا، محمود الرحمان مرنجان مرنج اور باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی شخصیت کو حیرت انگیز بلکہ ہمہ صفت کہہ سکتے ہیں۔ خوش مزاج، خوش اطوار اور خوش ذوق محمود الرحمن اور عقیلہ کی نفاست اور اعلی ذوق، ان کے شاندار ڈرائنگ روم سے ظاہر تھا جہاں بہت ہی خوبصورت آرائشی و زیبائشی اشیاء ایسی منفرد تھیں کہ بے اختیار توجہ اور نظروں میں سما رہی تھیں انہوں نے ہمیں پورا گھر دکھایا جس کو انہوں نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ گھر کے ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم، لاؤنج ہر جگہ کے دریچوں سے باہر کے لان کا خوبصورت اور سر سبز و شاداب منظر نظروں کے سامنے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گھر کا نقشہ بھی خود ڈیزائن کیا گو کہ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی مگر ان کی بے تکلف طبیعت کی وجہ سے ایسا لگا جیسے ایک مدت سے شناسائی ہے میں سمجھتی تھی کہ وہ انگریزی زبان میں لکھتے ہیں اس بدیسی زبان کے لکھاری رہے ہیں مگر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب انہوں نے جوش کے بہت خوبصورت اشعار اردو کے بارے میں سنائے،

دریا کا موڑ، نغمۂ شیریں کا زیر و بم
چادر شبِ نجوم کی، شبنم کا رختِ نم
تتلی کا ناز‌ِ رقص، غزالہ کا حسنِ رم
موتی کی آب، گُل کی مہک، ماہِ نو کا خم
ان سب کے امتزاج سے پیدا ہوئی ہے تو
کتنے حسیں اُفُق سے ہُویدا ہوئی ہے تو!

لہجہ ملیح ہے کہ نمک خوار ہوں ترا
صحّت زبان میں ہے کہ بیمار ہوں ترا
تیرے کرم سے شعر و ادب کا امام ہوں
شاہوں پہ خندہ زن ہوں کہ تیرا غلام ہوں

وا ا ا ا ا ا ا ا اہ ہم نے بے اختیار داد دی، پھر اپنے شہر کے طرح دار شاعر احمد فراز کے اشعار کے بارے میں بتانے لگے کہ لوگ انہیں احمد فراز کا حافظ کہتے ہیں۔ حافظ تو وہ چٹکلوں اور یوسفی کی پرمزاح باتوں کے بھی ہیں جن سے انہوں نے محفل کو کشت زعفران بنائے رکھا۔

ان تمام باتوں کے علاوہ جو ان کا خاص متاثر کرنے والا پہلو تھا وہ ان کے فلاحی اور رفاہی کام ہیں انہوں نے چند کرسچن بچوں سے اپنے سکول کا آغاز کیا، اب ان کے پاس 500 بچے ہیں جن میں سے اکثریت یتیم ہیں یہ بچے اسلام آباد کے بہترین اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں اور ان کے لباس اور تعلیمی اخراجات تمام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے۔ ”گل در دوراں“ کے نام سے ان کا ایک سکول بھی ہے، اس خوبصورت نام کے اسکول میں وہ بچوں کو خود پڑھاتے ہیں اور بچے جس طرح والہانہ طور پر ان سے لپٹ رہے تھے پیار کر رہے تھے اسی سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کس قدر پیار اور توجہ سے کر رہے ہیں۔ محمود الرحمن شجاعت علی راہی اپنے استاد محترم سے بہت عقیدت رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کو بھی ادھر ہی بلا لیں گے میں نے کہا نہیں یہ مناسب نہیں لگتا میں پہلے ان کی طرف جاؤں گی اور پھر ہم آپ کی طرف آ جائیں گے لیکن شجاعت علی راہی صاحب نے میرا میسج نہیں دیکھا شجاعت علی راہی صاحب کو انہوں نے فون کیا۔ تو وہ خود تشریف لے آئے۔ ان کے آنے سے محفل کو گویا چار چاند لگ گئے پھر خوب اچھی مزے کی گفتگو ہوئی۔ محمود صاحب مقامی سکول کی تقریب میں مہمان خصوصی تھے ان کو بار بار فون آرہے تھے

سو انہوں نے اجازت چاہی۔

ان کے جانے کے بعد راہی صاحب سے تخلیق ایوارڈ اور لاہور یاترا کے حوالے سے گفتگو ہوئی ایوارڈ، انعامات اور کتابوں کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ راہی صاحب فقیر منش، درویش آدمی ہیں۔ ایوارڈ اور ایسی تمام چیزوں سے بے نیاز ہیں۔ فی زمانہ اس طرح کے لوگ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ یہ اللّہ کا کرم اور میری خوش بختی ہے کہ مجھے ان جیسے بالا قد شخصیت کی رہنمائی، شفقت حاصل رہی ہے۔

دوران گفتگو محمود الرحمن صاحب بتا رہے تھے کہ اس دن ہم فتح جنگ کیڈٹ کالج جا رہے تھے وہ سارے راستے آپ کی تعریفیں کرتے رہے آپ کی ہمت کی استقامت کی۔ میں نے کہا یہ ان کا حسن ظن ہے ورنہ من آنم کہ من دانم

دل میں سوچا ہر انسان اپنے آئینے میں دوسروں کو دیکھتا ہے یہ ان کا بڑا پن اور کشادہ دلی ہے ان کی شخصیت کا ایک شیتل رنگ اور روپ ہے۔ شیرینی اور کشادہ دلی کہ وہ کھلے دل سے تعریف و توصیف کرتے ہیں حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ زندگی میں اچھے قدر دان لوگوں کا ہونا بھی اللّہ کا خاص فضل اور نعمت ہے۔ میں نے دل ہی دل میں اللّہ کا شکر ادا کیا، کافی دیر گفتگو رہی پھر میں نے انہیں اپنی دعاؤں کی کتاب جو میری پہلی تصنیف و تالیف ہے پیش کی اور اپنی پیاری دوست ثروت رضوی کے دوہوں پر مشتمل گنگا جل پیش کی جو ہندو پاک میں دوہوں کی کسی خاتون کی پہلی کتاب ہے۔ اٹھنے کو دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن ہمیں واپس رسالپور بھی جانا تھا لہذا اجازت چاہی عقیلہ کھانے کے لیے روکتی رہی۔

باہر نکلے تو بادل برسنے کو تیار تھے گاڑی میں بیٹھے راہی صاحب پیدل ہی چل پڑے کہ ایک گلی چھوڑ کر گھر ہے اسد نے بہت کہا لیکن وہ نہ مانے۔ کچھ دیر بعد تو کن من کن من بوندیں پڑنی شروع ہوئیں اور پھر تو ایک تار سا بندھ گیا، ۔ رم جھم رم جھم بارش میں بحریہ کے خوب صورت گھروں کے سامنے خوبانی اور آلوچے کی خشک شاخوں پر سفید کھلتے پھول دیکھ کر اللّہ کی حمد و ثنا کی۔ مٹی کی سوندھی سوندھی مہک کا کوئی جواب نہیں جو روحانی مسرت و انبساط سے ہم کنار کرتی ہے۔ ایسے ہی دل کی زمین پر، پر خلوص اور بے ریا جذبوں کی پھوار محبت و عقیدت کے بیج بوتی اور پروان چڑھاتی ہے۔ من بگیا میں پھول کھلاتی ہے۔ بے غرض، مخلص اور سب سے بڑھ کر منکسر المزاج لوگ روشنی کا استعارہ ہیں۔ جن کے پاس بیٹھ کر، جن کی انسان دوستی دوسروں کو بھی منور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیئے روشنی بن جائیے

Facebook Comments HS