عاشقانِ عمران کے لئے امریکی وزارتِ خارجہ سے آیا پیغام


کبھی کبھار مجھے شدت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم خود اذیتی کے مریض بن چکے ہیں۔ میرے اس خیال کو تقویت ان عاشقان عمران کے رویے سے بھی ملی جو ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی بے پناہ اکثریت وہاں کئی برسوں سے رہتے ہوئے بھی اس گماں میں مبتلا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں جمہوری نظام کا فروغ چاہتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حکومتی بندوبست کے ہاتھوں ان کے رہ نما کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے امریکہ سے برداشت نہیں ہو گا۔ ان کے قائد عمران خان اگر جلد رہا نہ ہوئے تو پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ جمہوری کارکن کی مبینہ طور پر زندگی اجیرن بنانے والے ریاستی افسران کے امریکہ داخلہ پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ عمران خان سے پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کے خیال میں ٹرمپ کی خصوصی محبت اس وجہ سے بھی ہے کیونکہ وہ پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں جو اس کے اقتدار میں وائٹ ہاؤس گئے تھے۔ وہاں امریکی صدر کی اہلیہ کے ساتھ سیلفی بھی بنوائی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے اس حصے میں ٹرمپ انہیں لے کر گیا جو ذاتی استعمال یا گھریلو افراد کے لئے مختص شمار ہوتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ کو پاکستان میں ”جمہوریت“ یاد نہ آئی تو اس ملک میں مقیم عاشقان عمران نے کمال یکسوئی سے پہلی بار اپنی اہمیت کا احساس دلوایا۔ بطور کمیونٹی متحرک ہوئے اور امریکی ایوان ہائے نمائندگان سے تاریخی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کروائی جس میں تحریک انصاف کے بانی کے ”انسانی حقوق“ کے تحفظ کا مطالبہ ہوا۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس قرارداد کو مگر رعونت سے نظرانداز کر دیا۔

مذکورہ انتظامیہ کی عمران خان کے حوالے سے بے اعتنائی سمجھی جا سکتی تھی کیونکہ اپریل 2022 ء میں اقتدار سے فراغت کے بعد بانی تحریک انصاف پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں گئے۔ وہاں منعقد ہوئے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے ایک سائفر کے حوالے سے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ ان کے دورہ روس کو برداشت نہیں کر پایا۔ وہاں کے صدر پوٹن سے ان کی ملاقات ہوئی تو پاکستان میں ”رجیم چینج“ کا فیصلہ کر لیا گیا۔ عمران خان کو ”وطن پرست“ ہونے کے ”جرم“ میں ایران کے ڈاکٹر مصدق اور چلی کے آلندے کی طرح ”عبرت کا نشان“ بنانے کا فیصلہ ہوا۔ ”رجیم چینج“ کی سازش کا شکار ہونے کے بعد عمران خان تواتر سے ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا سوال اٹھاتے رہے۔ یہ سوال اٹھانے کے بعد ان کے حامیوں کو بائیڈن سے کسی مدد کی توقع نہ رہی۔ وہ شدت سے ٹرمپ کے منتخب ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ بے شمار پاکستانی نژاد امریکی شہریوں نے صدارتی انتخاب کے دوران ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ بھی دیے۔

ٹرمپ منتخب ہو گئے تو بے تابی سے انتظار ہوتا رہا کہ وہ کب ٹیلی فون اٹھا کر پاکستان کے مقتدر حلقوں کو متنبہ کریں گے کہ عمران خان ان کا یار ہے۔ انہیں رہا کیا جائے۔ ظاہر ہے وہ ٹرمپ کے دباؤ کی بدولت رہا ہو جاتے تو پاکستان کے ہر شہر جاکر قبل از وقت انتخاب کی تحریک چلاتے۔ ایسے انتخابات کے نتیجے میں ان کی وزیر اعظم کے منصب پر کم از کم دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپسی یقینی تصور ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کو اقتدار سنبھالے مگر 3 ماہ گزر چکے ہیں۔ وہ فون مگر ابھی تک آیا نہیں جس کا انتظار ہو رہا تھا۔

ٹرمپ کے سرد مہر رویے سے چراغ پا ہو کر بالآخر بدھ کے دن پاکستان سے عرصہ ہوا امریکہ منتقل ہوئے ایک انگریزی روزنامے کے مالک اور رپورٹر نے امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کھری کھری سنانے کا فیصلہ کیا۔ اپنی باری پر کھڑے ہوئے تو وزارت خارجہ کی ترجمان کو یاد دلایا کہ لاکھوں پاکستانی نژاد ووٹروں نے ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ ڈالا تھا۔ ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دیتے ہوئے انہیں توقع تھی کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان کی جیل سے رہائی کے لئے دبا؟ بڑھائیں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ان دنوں ٹمی بروس ( Bruce Tammy) نام کی ایک خاتون ہیں۔ بنیادی طور پر ریڈیو پروگراموں کی میزبان رہیں۔ گفتگو کے ہنر پر کامل عبور کی حامل ہیں۔ ان کی گفتگو اس لئے بھی ٹرمپ کے حامیوں کو بہت شاندار سنائی دیتی ہے کیونکہ 1962 ء میں پیدا ہونے والی یہ خاتون کبھی ڈیموکریٹک پارٹی میں بہت متحرک رہی ہیں۔ ان کے سماجی رویے بھی انہیں ”لبرل“ پہچان دیتے ہیں۔ اس پہچان کے ہوتے ہوئے بھی جب وہ ٹرمپ کے مخالفین کے لتے لیتی ہیں تو رونق لگ جاتی ہے۔

پاکستانی صحافی کو بھی محترمہ نے کمال مہارت سے یہ پیغام دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی حامی نہیں۔ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات کے لئے انگریزی کی ترکیب Internal Frame Worksاستعمال کرتے ہوئے موصوفہ نے درحقیقت پیغام یہ دیا کہ ٹرمپ کا امریکہ کسی بھی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات کے کسی بھی پہلو میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ قصہ مختصر امریکی وزارت خارجہ سے پیغام یہ آیا کہ عمران خان جانیں اور حکومت پاکستان۔ امریکہ کا ان دونوں کے باہمی معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اپنی منہ پھٹ پہچان برقرار رکھتے ہوئے موصوفہ نے پاکستانی صحافی کو یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر وہ ٹرمپ کو پاکستانی نژاد ووٹروں کا احسان جتا کر عمران خان کے بارے میں امریکی صدر کا رویہ جاننا چاہتا ہے تو وائٹ ہاؤس سے رجوع کر کے صدارتی ترجمان سے گفتگو کر لے۔

تحریک انصاف کی سیاست کے بارے میں میرے ہزاروں تحفظات ہیں۔ اس کے بانی مگر ان دنوں مشکل کی گھڑی کا سامنا کر رہے ہیں اور میں ان کی مشکلیں آسان ہوتی دیکھنا چاہ رہا ہوں۔ یہ لکھنے کے بعد امریکہ میں مقیم عاشقان عمران سے فریاد ہے کہ خدارا اس حقیقت پر چند لمحوں کو غور کریں کہ روس کے صدر ٹرمپ نے گزشتہ تین برسوں سے یوکرین پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ پوٹن اپنے سیاسی مخالفین کو سانس بھی لینے نہیں دیتا۔ ”دنیا کے سب سے طاقتور جمہوری ملک“ کا سربراہ ہوتے ہوئے ڈونلڈٹرمپ مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل اس سے رابطے میں ہے۔ یوکرین کو خود پر بوجھ سمجھتے ہوئے پوٹن کو مائل کیے چلے جا رہا ہے کہ وہ اس ملک کے خلاف جنگ روک دے۔ یوکرین کی جو زمین ہتھیالی ہے اسے اپنے پاس ہی رکھے۔ یوکرین کے پاس جو زمین باقی بچے گی امریکہ اس میں دفن ہوئی قیمتی معدنیات نکال کر وہ پیسے وصول کر لے گا جو واشنگٹن نے یوکرین کی ”خودمختاری کے تحفظ“ کے لئے بھاری بھر کم ڈالروں کی صورت خرچ کیے ہیں۔

پوٹن سے دوستی کو بے تاب ٹرمپ سے عمران خان کی مدد کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔ خدارا اسے بھلا کر کچھ قومی غیرت و حمیت کا بھرم رکھیں۔

Facebook Comments HS