پنجاب پولیس غیر سیاسی نہ ہونے کی بنیادی وجہ!

پولیس آرڈر دو ہزار دو جاری ہونے کے صرف چار سال بعد ہی اس میں ایک سو اٹھارہ ترامیم کر دی گئیں۔ وہ حصے جو پولیس کے احتساب کو بہتر بناتے ہیں اور اس کی نگرانی کے کام کاج کو غیر جانبدار بنانے کے لئے رکھے گئے تھے وہ بادشاہوں کو پسند نہ آئے۔ پنجاب سرکار نے بھی پولیس آرڈر میں چار سال پہلے مزید ترامیم کر ڈالیں لیکن پندرہ برس بیت گئے صوبے میں اعلیٰ افسران کی تقرریاں مسلسل اس قانون کے منافی عمل میں لائی جارہی ہیں، صرف چھوٹے رینک کے معاملات کے لئے پولیس آرڈر نافذ ہے جب کہ آئی جی، سی سی پی او، سی پی او اور ڈی پی او جیسے اہم عہدوں کی تقرریوں کے لئے صوابدیدی اختیارت استعمال کئے جارہے ہیں۔
اس قانون کے تحت ان اعلیٰ افسران کا انتخاب نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن، صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن اور ضلعی سیفٹی پبلک کمیشن کے ذریعے عمل میں لایا جانا تھا۔ آئی جی پنجاب کی تقرری نیشنل کمیشن کے ذریعے ہونا تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں بننے والے اس کمیشن میں تیرہ افراد شامل ہیں۔ تین اپوزیشن اور تین حکمران جماعت کے اراکین قومی اسمبلی کا انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی نے کرنا تھا جب کہ چھ دیگر غیر سیاسی اور آزاد اراکین کا انتخاب چیف جسٹس آف پاکستان کے ذمے تھا۔ اسی طرح صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کی تشکیل میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے ذریعے اسی فارمولے کے تحت ہونا تھی۔ لیکن یہ سب صرف قانون کا حصہ ہے اور اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
پولیس کے اعلیٰ افسران کی تعیناتی جب تک صوابدیدی اختیارات کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی، پولیس غیر سیاسی نہیں ہو سکے گی۔ اگلے سال الیکشن بھی سر پر ہیں، ایسے میں صوبے بھر میں غیر سیاسی پولیس جمہوریت اور جمہور دونوں کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اسی نکتے پر مبنی ایک کیس اب لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔ مقدمے کی سماعت خود چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے مدعے میں دوسرا نقطہ ان اعلیٰ افسران کے ‘ٹنیور’ کے حوالے سے ہے۔ یعنی پولیس آرڈر کے مطابق افسران کی کسی عہدے پر تعیانی کی معیاد تین سال ہونا تھی اور انہیں ہٹانے کے لئے صوبائی حکومت کو متعلقہ کمیشنز کی اجازت لینا لازم تھا۔ لیکن ظاہر ہے اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ اسی طرح پنجاب کے تمام چھتیس اضلاع میں تفتیش کے لئے علیحدہ برانچز کا قیام بھی تاحال عمل نہیں لا جاسکا۔ صوبے بھر کے صرف تین اضلاع میں یہ تفتیشی برانچز جزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔
پرسوں ہوئی سماعت میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے تسلیم کیا کہ پولیس آرڈر دو ہزار دو پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ لہٰذا لاہور ہائیکورٹ نے سرکار سے جواب طلب کیا ہے کہ بتایا جائے پندرہ برس بیت گئے کیونکر اس قانون کو نافذ نہیں کیا جا سکا؟ یاد رہے کہ اس قانون کی ایک سو اٹھاسی شقوں میں سے لگ بھگ ایک سو پچیس پر سرے سے عمل نہیں ہوا۔ اس مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل ممتاز قانون دان سعد رسول کا کہنا تھا کہ دس اپریل کو آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا ریٹائر ہو رہے ہیں، نئے آئی جی کی تعیناتی نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام سے مشروط کی جائے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل شکیل الرحمان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر آئی جی کی تعینانی میں تاخیر مناسب نہیں، دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ نئے آئی جی کا مستقبل اس کیس سے جڑا ہے۔ عدالت نے معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر اور سابق ایڈوکیٹ جنرل خواجہ حارث کو اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکار اگلی پیشی میں کیا وضاحت پیش کرتی ہے۔ اگر پنجاب سرکار سندھ اور بلوچستان کی طرح پولیس آرڈر دو ہزاد دو کو منسوخ کرتے ہوئے اٹھارہ سو اکسٹھ کا فرسودہ سسٹم رائج کرتی ہے تو یقیناً اس کی تعبیر یہی ہو گی کہ نہیں جناب۔۔! ہم الیکشن کے ہنگام ہم پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنانا ہی نہیں چاہتے۔ بصورت دیگر بسم اللہ کیجئے۔۔ شہباز شریف کی ’پنجاب سپیڈ‘ کی کچھ جھلک پولیس نظام پر بھی ہو جائے۔۔! روکا کس نے ہے؟

