سچی سرکار
سچی سرکار کا آستانہ نہر کے کنارے پھلاہی کے درختوں کے درمیان واقع تھا۔ پیر صاحب کی عمر چالیس کے قریب، سر کے لمبے بال جو کئی سالوں سے نہیں دھلے، مونچھیں چٹ، داڑھی غائب جبکہ ہاتھوں کے ناخنوں میں میل ایسے جمع تھا جیسے کوئی کسی کے گھر میں پناہ لیتا ہے۔ یہ صاحب یہاں کب سے مقیم تھے اس کا کوئی علم ہمیں نہیں تھا اور نہ ہی ہم ان کے آستانے سے واقف تھے۔ مگر ہوا یوں کہ شاداب ایک ہفتہ گھر رہنے کے بعد جب کالج واپس آیا تو آتے ہی شدید بخار میں مبتلا ہو گیا۔ اُسے بہتیرا ڈاکٹروں کے پاس لے کر گیا مگر بخار کسی محبوبہ کی طرح ایسے چمٹ گیا کہ اب جانے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ ”میری مانو تو اسے کسی بابے کے آستانے پہ لے کر جاؤ۔ لگتا ہے اسے کوئی سایہ ہے“ ۔ ایک ہم جماعت نے ہماری توجہ اس جانب مبذول کروائی جو شاداب کو دیکھنے آیا تھا۔ ”سایہ مگر کس کا؟ اور شاداب میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اس پر کسی کا سایہ ہو گیا ہے؟“ ، میں نے اُس سے حیرانی سے پوچھا۔ ”اوں ہوں۔ تم نہیں سمجھو گے ان باتوں کو۔ ابھی بچے ہو۔ جب جنات اور چڑیلوں سے واسطہ پڑے گا تب پتہ چلے گا۔ میری مانو تو اسے سچی سرکار کے پاس لے جاؤ۔ دیکھنا ایسا دم کریں گے، ایسا دم کریں گے کہ جن خود پاؤں پڑ کر معافیاں مانگیں گے“ ۔ اپنے عزیز دوست کی خاطر ہم نے سچی سرکار کے آستانے پر ماتھا ٹیکنے کی بھی حامی بھر لی کہ شاید ہو سکتا ہے یہ تندرست ہو جائے۔
اگلے دن میں اپنے ہم جماعت کے ساتھ شاداب کو چنگ چی پہ بٹھا کر سچی سرکار کے آستانے پر روانہ ہو گیا اور راستے بھر اُن کی کرامات کا وعظ پوری دلجمعی و خشوع و خضوع کے ساتھ سنتا رہا، تاوقتیکہ مجھے آہستہ آہستہ یہ یقین آنا شروع ہو گیا کہ سچی سرکار سے بڑی سرکار اس دور میں کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ بھائی صاحب جس زور و شور سے کرامات بیان کر رہے تھے اُس سے لگتا تھا کہ دنیا کی معلوم تاریخ میں سچی سرکار سے زیادہ کرامات کسی سے صادر نہیں ہوئیں۔ کبھی سچی سرکار سمندر کے گہرے پانیوں کے اندر غوطے لگا کر نایاب مچھلیاں باہر لا رہے ہیں تو کبھی دور دراز افریقی ملک میں کنویں کے اندر گرے مینڈک کو زندہ سلامت بحفاظت باہر نکال رہے ہیں۔ ایک آن میں وہ یہاں ہوتے ہیں تو اگلے لمحے پلک جھپکتے ہی وہ سمرقند کے بازار میں میٹھے خربوزے خرید رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی مادر زاد نابینا آیا تو بینائی پائی اور بے اولاد آیا تو اولاد پائی۔ ان کرامات کو میرے علاوہ شاداب بھی بہت غور سے سن رہا تھا، اور اُس کی ذہنی کیفیت سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ اُسے تندرست ہونے کی آس لگ گئی ہے جس کی وجہ سچی سرکار ہے۔
ایک گھنٹہ اونچے سیدھے راستوں پر دھکے کھانے اور دھول چاٹنے کے بعد بالآخر ہم سچی سرکار کے آستانہ عالیہ پر پہنچ گئے، جہاں پھلاہی کے گھنے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں آ کر ہماری ساری تھکاوٹ دور ہو گئی۔ اُس وقت آستانہ عالیہ میں مخلوقِ خدا کا بے پناہ رش تھا، جبکہ سچی سرکار دروازہ بند کر کے کمرے کے اندر وظائف میں مشغول تھے۔ شاداب کو ہم نے چنگ چی پر ہی بٹھائے رکھا اور خود اندر چلے آئے۔ ”دیکھا کتنی خلقت یہاں آئی ہوئی ہے۔ اگر یہ سچی سرکار حق نہ ہوتے تو بھلا یہ لوگ یہاں آتے۔ نہیں نا۔ اب دیکھنا صرف ایک تعویذ سے شاداب کو ایسا آرام آئے گا کہ آیا تو چنگ چی پر ہے مگر جائے گا اپنے قدموں پر وہ بھی بھاگ کے“ ۔ اُس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میری آنکھوں میں خوشی سے آنسو آ گئے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایک تعویذ سے بیمار کو تندرست کر دیتے ہیں اور ہم نالائقوں کو اُن کا علم ہی نہیں۔ ”مگر یہ سچی سرکار ہیں کہاں؟ اتنے لوگ کڑی دھوپ میں اُن کا انتظار کر رہے ہیں مگر وہ دکھائی نہیں دیتے“ ۔ میری بات سن کر میرے دوست نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا، ”بے وقوف ایسے نہیں کہتے۔ یہ لوگ جتنا زیادہ دھوپ میں بیٹھیں گے، اُتنا ہی اُن کے گناہ دھلیں گے اور جنت میں درجات بلند ہوں گے۔ یہ سب لوگ اپنی خوشی سے اس چلچلاتی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور دیکھو کتنے خوش ہیں“ ۔ میں نے ایک نظر جب اُن لوگوں پر ڈالی تو واقعی دوست کی بات درست نکلی۔ وہ تمام لوگ اُس چلچلاتی دھوپ میں بیٹھے ہوئے آپس میں یوں باتیں کر رہے تھے جیسے یہاں پکنک منانے آئے ہوں۔ ”مگر اتنے رش میں ہماری باری کب آئے گی۔ جس تعداد میں لوگ آئے ہوئے ہیں اُس حساب سے تو ہمارا نمبر ہفتے بعد آئے گا“ ، میری پریشانی کو دیکھ کر میرا دوست خوب ہنسا جیسے میں نے بہت بڑی بے وقوفی کی بات کی ہے۔ ”ارے جاہل، حوصلہ تو کر۔ ہر جگہ کی طرح یہاں بھی شارٹ کٹ چلتا ہے۔ تو دیکھ تو سہی میں کرتا کیا ہوں؟“ ، اور اُس کے بعد میرے دوست نے سچی سرکار کے آستانے میں ملازمت کرنے والے ایک ملنگ کو آنکھ ماری، جس کے بعد وہ بھاگتا ہوا ہمارے پاس آیا۔ ہم اُس ملنگ سے مصافحہ کر کے اُسے ایک طرف لے گئے، ”یہ بتاؤ کیا پوزیشن ہے اندر کی؟“ دوست نے ملنگ سے پوچھا، ”اندر ایک آدمی گیا ہے اور دو آدمی لائن میں لگے ہیں“ ، اُس ملنگ کا جواب سن کر میرے دوست نے سر کو کھجانا شروع کرد یا۔ ”یہ لیں اور اگلا نمبر ہمارا لگائیں“ ، دوست نے پانچ سو کا نوٹ جب اُس کی طرف بڑھایا تو ملنگ نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ ”باؤ جی یہ کم ہے۔ اگر پانچ سو دینا ہے تو سرکار سے شام کو ملاقات ہوگی۔ ہزار کا ریٹ چل رہا ہے۔ آگے آپ کی مرضی“ ۔ یہ لین دین کا معاملہ میری سمجھ سے بالکل باہر تھا اس لئے چپ رہا۔ ”ایک ہزار مگر کیوں؟ پہلے تو پانچ سو میں باری آ جاتی تھی“ ، دوست نے ملنگ سے تکرار کی، ”باؤ جی رات کو خبریں نہیں سنیں۔ ڈیزل دس روپے مہنگا ہو گیا ہے۔ اب کیا کریں جی ہمارے بھی بال بچے ہیں، ہم نے بھی یہیں سے کمانا ہے۔ آپ نے دینا ہے تو ٹھیک ورنہ پارٹی تیار بیٹھی ہے“ ۔ دوست نے ملنگ سے مزید الجھنے کی بجائے ہزار کا نوٹ اسے دیا تو ملنگ نے آنکھ مار کر ہمیں گرین سگنل دے دیا کہ دوست کو لے آؤ۔
ہم جلدی جلدی شاداب کو تپتے بخار میں اٹھائے سچی سرکار کے پاس جب اندر پہنچے تو شاداب نے آنکھ کھولتے ہی جونہی سچی سرکار کو دیکھا تو فوراً چیخ مار دی۔ ”اوئے اچھو! تو۔ نکال ہمارے دس ہزار روپے حرام خور جو تو نے ہم سے قرض لے کر آج تک واپس نہیں کیے“ ، شاداب کی یہ بات سن کر سچی سرکار کی سٹی گم ہو گئی اور وہاں سے ایسے بھاگے کہ مرید چیختے چلاتے رہ گئے کہ سچی سرکار کہاں جا رہے ہیں، آپ کے بعد ہمارا کیا ہو گا۔ اُس دن شاداب کا سایہ اور بخار دونوں اتر گئے مگر سچی سرکار کا وہ قرض نہ اترا جو اُنہوں نے شاداب کے ابو سے لیا تھا۔


