تیکھے اور طنزیہ رویے
بہاولپور کو ہمیشہ ایک پرامن اور مہذب شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی باہمی ملنسار طبیعت کی باعث ایک اچھی اور الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اس لیے شہر میں جھگڑے اور لڑائی نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود گزشتہ روز جھانگی والا روڈ بہاولپور پر ایک موٹر سائیکل سے ایک کار کی اچانک ٹکر ہو گئی۔ جب سے ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ یہاں سے گزرنا شروع ہوئی ہے اور اس روڈ پر شادی ہال والوں نے پارکنگ رش کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ بہت زیادہ ٹریفک کی وجہ سے ایسے واقعات اس سڑک پر معمول بن چکے ہیں۔ اتفاقا ”ان دونوں کا نہ تو کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی کی گاڑی کو کوئی بڑا مالی نقصان ہی پہنچا۔ لیکن وہ دونوں سوار ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے اور ان کے غصہ بھرے تیکھے، نفرت انگیز، اور طنزیہ رویے نے بات کو بڑھا کر باہم دست و گریباں ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان کی اونچی آوازیں سن کر پوری سڑک پر بے ہنگم ہجوم نے ٹریفک بند کردی تھی۔ کوئی بھی اپنی غلطی یا ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ الفاظ کی تلخی باہمی جذبات کی آگ کو مزید بڑھا رہی تھی۔ لوگوں نے بمشکل معاملے کو ٹھنڈا کیا اور یہ بلا وجہ کا جھگڑا رفع دفع ہوا۔ اس جھگڑے کی خاص بات یہ تھی کہ وہ دونوں گالی گلوچ کی بجائے ایک دوسرے پر طنزیہ فقرے کس رہے تھے۔ کہتے ہیں کہ بن گئی بات بات کچھ بھی نہ تھی؟ اسی طرح اکثر سرکلر روڈ پر گاڑی پارکنگ کے مسائل وجہ تنازعہ بن جاتے ہیں اور باہمی سخت طنزیہ جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ آج کل اس طرح کے واقعات، اونچی آوازیں، ترش لہجے، بگڑے انداز، تیکھے اور طنزیہ رویے پورے معاشرے میں ہر جانب جابجا دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کوئی گلی ہو یا محلہ، گراؤنڈ ہو یا سڑک، کوئی بھی ہسپتال ہو یا دفتر ہر جگہ ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرتی رویے کسی بھی قوم کی تہذیب، تمدن اور شعوری ترقی کا آئینہ ہوتے ہیں۔ نرمی، شائستگی اور خلوص ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہیں، جبکہ اونچی آوازیں، سخت لہجے، اور ترش اندازِ بیان تہذیبوں کے زوال کا مظہر سمجھے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج کے دور میں یہ رویے نہ صرف عام ہو چکے ہیں بلکہ معاشرتی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ ہمارے بچے اس صورتحال میں کیا دیکھ اور سیکھ رہے ہیں؟ ان کے معصوم ذہن کیا سوچ رہے ہیں؟ وہ اپنے بڑوں کے یہ انداز کیوں نہیں اپنائیں گے؟ میں سوچ رہا تھا کہ اب ہمارے معاشرے میں ایسا کیوں ہونے لگا ہے؟ اور اس سے نجات کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ گالی گلوچ اور مار پیٹ سے بھی زیادہ خطرناک یہ طنزیہ اور تلخ الفاظ ہوتے ہیں جن کا زخم تلوار سے زیادہ گہرا اور کاری ہوتا ہے اور جو بڑی مشکل سے ہی بھرتا ہے۔ ہمارے باہمی مذاق میں بھی ایک دوسرے کی ذات پر طنز چھپا ہوتا ہے۔ کبھی دوسرے کی شکل و صورت، کبھی رنگ کبھی زبان اور کبھی جسامت کو بڑی خوبصورتی سے نشانہ بنا کر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ جو بسا اوقات وجہ تنازعہ بھی بن جاتا ہے۔
طنزیہ جملے، اور اونچی آوازیں عام طور پر جذبات کی شدت، مایوسی یا کسی کا مذاق اڑانے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس قسم کے رویے، اور طنز کا مقصد اکثر کسی کی کمزوریوں یا خامیوں کو اجاگر کرنا اور نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ یہ رویے نہ صرف دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں بلکہ باہمی تعلقات میں دوریاں اور نفرت بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح کے رویے کی بنیادی وجہ کبھی کبھی خود کو غیرمحفوظ سمجھنا، خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کرنے کی خواہش یا پھر اس دنیا کی حقیقت سے مقابلہ کرنے کے لیے طنزومزاح کا سہارا لینا بھی ہوتا ہے۔ بول چال کے انداز اور گفتگو کا معیار انسان کی ذہنی حالت اور فکری ترقی کا پتہ دیتے ہیں۔ گفتگو کی سائنس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مہذب اندازِ بیاں نہ صرف لوگوں کو قریب لاتا ہے بلکہ بہتر تعلقات کے فروغ کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس کے برعکس، سخت لہجے اور بے صبری انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
تیکھے اور طنزیہ رویے اور لہجے عموماً ان حالات یا معاملات سے جڑے ہوتے ہیں جہاں انسان اپنے جذبات کو براہ راست یا واضح انداز میں بیان کرنے سے گریز کرتا ہے اور کسی غیر واضح یا بالواسطہ طریقے سے اپنے موقف کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ ایسے رویے اور لہجے میں سخت زبان، چبھتے ہوئے الفاظ یا طنز کا سہارا لیا جاتا ہے جو اکثر دوسروں کو زیادہ تکلیف دیتا ہے اور جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ ان تیکھے اور طنزیہ رویوں کی چند وجوہات دکھائی دیتی ہیں جیسے احساس عدم تحفظ، کچھ لوگ اپنی کمزوریوں یا خوف کو چھپانے کے لیے ایسے رویے کا سہارا لیتے ہیں۔ محرومی کا احساس یعنی زندگی میں ناکامی یا نا انصافی کا سامنا کرنے والے افراد اکثر تیکھے رویے اپناتے ہیں۔ بدلہ لینے کا جذبہ یعنی ماضی کی تکلیف یا ناراضگی کی باعث یہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ توجہ حاصل کرنے کی خواہش بھی اکثر اوقات یہ رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ احساس برتری اور خود کو دوسروں سے برتر دکھانے یا ثابت کرنے کے لیے ایسے رویے اختیار کیے جاتے ہیں۔ گھریلو اور معاشی پریشانیاں انسانی جذبات کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ کسی اور بات کا غصہ کسی اور بات پر سامنے آتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بہت سے طنزیہ فقروں کا استعمال روزمرہ زندگی میں ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے۔ جس میں ہمارے ٹی وی ڈراموں اور مزاحیہ شوز کے ڈائیلاگ اور فقروں کا بڑے غیر محسوس طریقے سے بڑا عمل دخل ہو چکا ہے۔ بچوں تک موبائل کے ذریعے سوشل میڈیا کی رسائی ان کی زبان و بیان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ میاں بیوی، بہن بھائی اور بچے یہاں تک کہ ہمسائے آپس میں بھی طنزیہ گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ ہمارے ٹی وی مزاحیہ پروگرامز اور سوشل میڈیا پر یو ٹیوبر عام گفتگو میں بھی طنزیہ جگت بازی کو فروغ دیے رہے ہیں۔ بسا اوقات یہ سب عادتا ”غیر ارادی طور پر ہو بھی جاتا ہے۔
ایسے رویوں کے ہمیشہ تلخ اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔ یہ رویے ہمارے باہمی تعلقات میں دراڑ ڈال کر بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ دل آزاری اور جذباتی زخم پیدا کرتے ہیں۔ مثبت ماحول کو منفی بنا دیتے ہیں۔ افراد کے درمیان اعتماد اور تعاون کو ختم کردینے کا باعث بنتے ہیں۔ بسا اوقات ایسے رویوں اور لہجوں کی باعث بہت بڑے بڑے نقصان بھی ہوسکتے ہیں جس کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے کہ ان رویوں سے نجات کی کوشش اور ان کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ چند تجاویز یہ ہو سکتی ہیں کہ پہلے تو برداشت پیدا کر کے دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپس میں مثبت اور براہ راست اور صاف بات چیت اور مکالمہ کریں۔ خود احتسابی ایک بڑا اچھا عمل ہے۔ اپنے رویے اور زبان پر نظر رکھیں اور خود پر قابو رکھنے کی کوشش کریں۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم مثبت سوچ اپنائیں اور منفی خیالات کو دور کر کے مثبت انداز گفتگو اختیار کریں۔ طنز کرنا مذاق نہیں بلکہ دل آزاری کا باعث ہوتا ہے۔ ہنستے ہنستے کسی کا دل دکھانا ہماری اندرونی منافقت ہوتی ہے۔
آج، تہذیب اور تمدن کے پیمانے بدلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ شور، ہنگامہ، اور جارحانہ رویے جیسے عناصر معاشرے میں فروغ پا رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی اجتماعی سوچ اور رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایک پُرامن اور خوشحال معاشرے کے لیے یہ لازم ہے کہ ہم شائستگی، برداشت، اور نرمی جیسے اوصاف کو اپنائیں۔ گفتگو کا معیار بلند کرنے اور مثبت رویوں کو فروغ دینے سے ہی ہم ایک بہتر معاشرتی ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جو ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنے۔ الفاظ کی تلخی ان کا چناؤ بہتر بنانے کے لیے بڑی اور مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی کوشش کرنی ہوگی اور ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ، والدین اور میڈیا کو یہ مثبت پیغام لوگوں تک پہنچانا ہو گا۔ کہ میٹھے بول میں جادو ہوتا ہے جو ہمیں زندگی میں بے شمار تلخیوں اور بدمزگیوں سے بچاتا ہے۔

