فلسطین کا نوحہ


” ڈاڈھے دی مار تے لسے دی گال“ ، مطلب طاقتور مارتا ہے اور کمزور برا بھلا کہتا رہتا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے مغلظات کا رخ زور آور کی طرف کر دیتا ہے۔ ہم ایک عرصہ سے اپنے بے روح اجتماعات میں یہ دعا مانگتے آرہے ہیں یا اللہ ظالموں کو تباہ کردے۔ ان کے آلاتِ حرب کو زنگ آلود فرما دے، ان میں کیڑے پڑ جائیں۔ چوتھی نسل یہی دعائیں مانگتے چلے جا رہی ہے۔ مگر ظالم ٹس سے مس نہیں ہو رہا الٹا مزید طاقتور ہوتے چلا جا رہا ہے۔ ایک عجیب بات ہے اور بڑی عجیب بات ہے مٹھی بھر لوگ جو کہ قوم ہیں۔ اور ایک قوم کے طور پر انہوں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ ایسا منوایا کہ باقی دنیا ان کی مٹھی میں ہے۔ انہیں اس بات کا ذرہ برابر خوف نہیں آتا کہ ہم چند لاکھ، لگ بھگ دو ارب لوگ جو مظلوم سے ہمدردی رکھتے ہیں انہیں بے دردی سے قتل کر رہے ہیں۔ اور اس قتال میں بچے بوڑھے اور عورت کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ بلکتے بچے، آہ و فغاں کرتی خواتین، بین کرتی لڑکیاں، بچے خواہ جھولے میں ہیں یا پھر توتلی باتیں کرنے والے۔ کہیں بچے ماؤں کی تلاش میں اور کہیں مائیں بچوں کی لاشیں اٹھائے اپنے بھائی اپنے خاوند اپنے والد کے جنازوں میں۔ واللہ ذرا دل کی آنکھ سے یہ منظر تو دیکھیں، اس معاملے کو اپنے اوپر مطلب اپنے آپ کو ان مظلومین کی جگہ رکھیں، یہ کیا کیفیت ہوگی، کیا غم ہو گا، کیا المیہ ہے، کیا رنج ہے، واللہ یہ باتوں سے محسوس نہیں ہو سکتا۔

انہیں خوف ہی نہیں کہ یہ دو ارب کی بات ہے۔ اس دو ارب کے ساتھ دیگر کمیونٹی کی بھی ہمدردیاں موجود ہیں۔ اس قدر بے خوفی کہ اقوام متحدہ کو بھی شٹ اپ کال دے دی گئی۔ عالمی عدالتِ انصاف کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا گیا۔ یہ کیسی بے باقی ہے؟ یہ اپنے دشمن کیوں ہوتے چلے جا رہے ہیں؟ اگر ان کا بیج ہی نا رہا تو! انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہو رہا کیوں؟ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے بڑی بڑی طاقتور اور زور آور قومیں ہو گزری ہیں اور اب ان کا نشان تک نہیں ملتا۔ ابھی کچھ برس پہلے تک تم لوگ بے یار و مددگار تھے، تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ جنہوں نے تمہیں جائے پناہ دی انہی کو تم بے گھر بے در کرنے پر تلے ہو! اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت یہ بے بس، لاچار ہیں کوئی ان کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا۔ مگر قدرت بے بس لاچار نہیں قدرت کو انسانی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی اس نے جلد یا بدیر نتائج ضرور پیش آتے ہیں۔ ہاں اگر انسانی ہاتھ قدرت کے ہاتھ کے ساتھ مل جائیں تو وہ نتائج جلدی ظہور پذیر ہو جاتے ہیں۔ اور اس میں ان ہاتھوں کا ہی بھلا ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہماری بد دعاؤں سے ان کا کچھ بگڑے گا؟ تو جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں بگڑے گا، جب تک عملی اقدامات نا کیے گئے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

اس سے بڑی بددیانتی، ٖڈھٹائی کیا ہو سکتی ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ کر کے آپ پھر بم برسانا شروع کر دیں۔ آپ بم ماریں آپ مزائل چلائیں، آپ گولیوں کی بوچھاڑ کریں مگر سامنے کھڑی فوج پر کریں۔ سول آبادی کو نشانہ بنانا کس قدر گھناؤنا عمل ہے۔ کس قدر سفاکی ہے۔ کس قدر ظلم ہے۔ مگر ظالم تو احساسات سے عاری ہوتا ہے۔ اسے ظلم میں لذت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اذیت پہنچا کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ لہو سے اسے تسکین پہنچتی ہے۔ اس کے نزدیک ہسپتال اور میدانِ جنگ میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ یہ دہشت گرد ہسپتالوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ سکولوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ بچوں اور خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔ تو پھر، تو پھر یہ کہ عام عوام، سول آبادی اس کے لیے ایک آسان اور تر نوالہ ہوتا ہے۔ اور وہ یہی کر رہے ہیں۔ کوئی قانون کوئی قاعدہ کوئی اصول کوئی ضابطہ ظالم کے لیے کار گر نہیں ہوتا نا ہو سکتا ہے۔ جب تک اسے نکیل نہ ڈالی جائے۔ یہ اتنی آسان بات نہیں کہ نکیل ڈال دی جائے۔ اتنا آسان ہوتا تو کب کی ڈل چکی ہوتی۔ بد کے پاس وسائل اور ذرائع آ جائیں تو شر پھیلتا ہے۔ اور اس کی عملی شکل ہمارے سامنے موجود ہے۔

ظالم دہشت گرد اسرائیل کا وجود ناجائز ہے۔ چونکہ وہ ناجائز ہے اس لیے شر کا باعث ہے۔ اور دنیا کا امن تباہ کرنے پر تلا ہے۔ ایک جٹکی بات کروں، ایک موٹی سی بات، سادہ سی سیدھی سی معصوم سی، ایک کملا خیال، جھلی گل، چلیں یوں سمجھئے جاہلانہ بات۔ لگ بھگ بانوے یا پھر ترانوے لاکھ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اگر دو، سوا دو ارب میں سے پانچ چھ کروڑ ختم بھی ہو جائیں تو کوئی بڑی ڈیل نہیں ہے۔ نا رہے گا بانس نا بجے گی بانسری۔ ہمیں کرنا کیا ہے؟ ہمیں جنگ نہیں کرنی مگر کرنی ہے، علمی میدان میں اپنے آپ کو مضبوط اور بہت مضبوط بنانا ہے۔ ہمیں غیر کی سائنسی ایجادات سے محض استفادہ نہیں کرنا بلکہ خود سے اس میدان میں فتح حاصل کرنی ہے۔ ان کی پروڈکٹ کا محض بائیکاٹ نہیں کرنا بلکہ اس کا متبادل فوری طور پر پیش کرنا ہے اور اپنے فارمولے سے پیش کرنا ہے۔ ناکہ انہی کے فارمولہ کو عملی شکل دینی ہے۔ وہ اپنے جس جال سے مہذب دنیا کو بلیک میل کر رہا ہے ہمیں اس کا بغور مطالعہ کرنا ہو گا اور اس کا توڑ پیش کرنا ہے۔ ہمیں خلا کی تسخیر کی طرف بڑھنا ہو گا جہاں وہ پہلے سے قدم جما چکے ہے۔ ہمیں اپنے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروگرام تشکیل دینا ہوں گے تاکہ ہمارا ڈیٹا، ہماری فکر، ہماری سوچ، ہماری تحقیق، سلیکون ویلی تک نا پہنچے۔ بلکہ ان کی معلومات تک ہماری رسائی ہو جائے۔ ہمیں نیو میڈیا، سماجی میڈیا کو محض ٹرولنگ کے لیے، گالی گلوچ کے لیے اور تماشا اور تماش بینی تک محدود نہیں رکھنا ہے۔ بلکہ اس میں خود سے ایک نئی دنیا اور سنجیدہ دنیا بسانی ہوگی۔ ہمیں اگر اپنا دفاع مضبوط بنانا ہے تو علمی میدان کا بجٹ سب سے وسیع کرنا ہو گا۔ اور تعلیم کے میدان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ جو کہ بدقسمتی سے اب تک ایک مذاق کی شکل میں موجود ہے۔

ہمیں ہر وقت اپنا محاسبہ کرنا ہے انفرادی سطح پر بھی اور قومی سطح پر بھی۔ ہمیں تنقید کے لیے دل و دماغ کھلا اور بڑا کرنا ہو گا۔ جس کا کام اسی کو ساجھے پر عمل در آمد کرنا ہو گا۔ یعنی اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔ اور ایک دوسرے کی استطاعت سے معاونت حاصل کریں۔ ناکہ پنگے بازیاں چلتی رہیں۔ ورنہ جیسا ہے ویسے کی بنیاد پر آہ و فغاں اور سسکیاں اور خون اور معصوم لاشیں اور یتیم بچے اور بچیاں اور ظالم کے فلک شگاف قہقہے سماعتوں سے ٹکراتے رہیں گے۔ اور ہم یہی دست دعا بلند کرتے رہیں گے، یا اللہ ان کی توپوں کے دھانوں میں کیڑے ڈال دے۔ ان کی بندوقیں زنگ آلود ہو جائیں۔

Facebook Comments HS