خواب، محبت اور زندگی (1)
جوزا کچھ بھی کر سکتا ہے۔ (A Gemini can do anything) مجھے یہ کہانی پہلے، بہت پہلے لکھنی چاہیے تھی لیکن ہمیشہ کی طرح زندگی آڑے آ گئی۔ آج پچھتر سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کی سرجری سے گزرنے کے بعد میں میں نہیں جانتی کہ میرے پاس اپنی کہانی لکھنے کے لئے کتنا وقت بچا ہے۔ منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں‘ ۔
جب میں کہتی ہوں کہ زندگی آڑے آ گئی تو اس میں میری ذات سے لے کر عالمی امور اور میری بیٹی کے نو عمر بچوں کے مسائل تک سب ہی کچھ شامل ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میری زندگی گزشتہ پانچ چھ سال سے صرف اپنی بیٹی اور اس کے بچوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اکثر سوچتی ہوں کہ اوپر آسمانوں میں احفاظ (میرے مرحوم شوہر) کا تو خوشی کے مارے برا حال ہو گا۔ ان کی عمر بھر یہی تمنا رہی کہ میں گھریلو معاملات پر زیادہ توجہ دوں۔ وہ یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کہ جو وہ نہیں کروا سکے، وہ بچوں نے کروا لیا۔ لیکن جس طرح کے کاملیت پسند وہ تھے، اس لحاظ سے انہیں غصہ بھی آتا ہو گا کہ ان کے معیار کے مطابق میں اپنے بزرگ ہونے کے اختیارات کا صحیح استعمال نہیں کر پاتی۔ اور بچوں کی ’زبان درازی‘ برداشت کر لیتی ہوں۔ احفاظ کبھی بھی میری گھریلو ”کوششوں“ سے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ جب کہ میرے بچوں نے ہمیشہ مجھے یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ خواہ میں ایک منظم اور با سلیقہ قسم کی ماں نہیں رہی ہوں لیکن میں نے ان سے بے تحاشا محبت کی ہے اور اپنی صلاحیتوں کی حد تک ان کی ہر ممکنہ دیکھ بھال کی ہے۔ کہنا وہ یہ چاہتے ہیں کہ میں نے انہیں زندگی گزارنے کے طریقے نہیں سکھائے۔ انہیں روزمرہ کے مسائل سے نمٹنا نہیں سکھایا، دوسرے لفظوں میں ان کی تربیت نہیں کی۔ لیکن کیا واقعی یہ میری غلطی تھی؟
میری ماں نے تو ہمیں مرغی کی طرح اپنے پروں میں چھپا کر پالا تھا۔ میں یونیورسٹی میں آ گئی تھی اور تب بھی امی ہی میرے لئے کپڑے خریدتی اور سلواتی تھیں جب کہ میری ہم عمر لڑکیاں اپنی مرضی سے اپنے پسندیدہ ڈیزائن کے کپڑے سلواتی تھیں۔ جی، میں جو ایک خود مختار اور بائیں بازو کے نظریات پر یقین رکھنے والی ترقی پسند لڑکی تھی، زندگی کی عملی ضروریات کے لئے مکمل طور پر اپنی ماں پر انحصار کرتی تھی۔ اس لحاظ سے میں تضادات کا مجموعہ تھی اور ابھی بھی ہوں۔ میں جو ساٹھ اور ستر کے عشروں میں حیدرآباد کالج اور کراچی یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں رہی۔ اور کم عمری میں ہی سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کی پیروکار بنی۔ عشق کیا اور ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کی۔ سب کچھ خود ہی کیا اور ماں باپ کی مرضی کے خلاف کیا لیکن عملی معاملات میں امی کے بقول میں صفر بٹا صفر تھی۔ افسانوی حرکتیں کرنے اور خیالوں اور خوابوں میں کھوئے رہنے والا رویہ شادی کے بعد بھی میری شخصیت کا حصہ رہا اور میں نے زندگی میں کبھی بھی عملیت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
بقول ڈاکٹر نکہت ریاض رسول: ”اگر یوں ہوتا۔ کہ زندگی میری نہ کتابوں کے گرد ہوتی۔ ذہن میں بالیدگی، دل میں حساسیت نہ ہوتی۔ کتنا آسان تھا اگر میں نارمل سی عورت ہوتی۔“ احفاظ ایک ترقی پسند انقلابی اور کئی لحاظ سے ایک غیر معمولی شخص ہونے کے ساتھ ایمانداری، اخلاقی جرات اور پا مردی کا بے مثال نمونہ تھے مگر گھریلو زندگی میں وہ مجھ سے بہت روایتی توقعات رکھتے تھے لیکن میں ان روایتی توقعات پر پورا اترنے کے قابل نہیں تھی۔ ان کے لئے روایتی بیوی اور بچوں کے لئے روایتی ماں بننا میرے لئے ممکن ہی نہیں تھا۔
مجھے یاد ہے ایک مرتبہ خدا کے برگزیدہ بندوں کی خوبیاں پڑھ کے میں نے بڑے خلوص اور ایمانداری کے ساتھ احفاظ سے کہا تھا کہ آپ میں ساری خوبیاں اولیاؤں والی ہیں، صرف آپ کو غصہ بہت آتا ہے۔ کاش آپ اتنے غصہ ور نہ ہوتے۔ اس بات پر احفاظ کو اتنا غصہ آیا اور وہ شور شرابا کیا کہ توبہ بھلی۔ تو ہمارے روز و شب اسی طرح گزرتے تھے۔ بہرحال اب اپنے نواسا اور نواسی کی وجہ سے میں نے وہ بہت سی گھریلو ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں جو اپنے شوہر اور بچوں کے لئے نہیں سنبھالی تھیں اور نہ کبھی انہیں اتنا وقت دیا تھا۔ گزشتہ چند سالوں سے یہ بچے میری زندگی کی اولین ترجیح بنے ہوئے ہیں۔ ان کی ضروریات، ان کی خواہشات، ان کے مطالبے میرے لئے ہر چیز پر مقدم ہیں۔ اپنی زندگی کی کہانی لکھنے کا ایک سبب یہ بچے اور دوسری وجہ کینسر کی تشخیص اور اس کے بعد کے مراحل سے گزرنا ہے۔ آپ بیتی لکھنے میں تاخیر تو ہوئی لیکن امید کرتی ہوں کہ میرے قارئین مجھ سے اتفاق کریں گے کہ نہ لکھنے سے بہتر یہی ہے کہ لکھ لیا جائے۔
اس آپ بیتی کے آغاز سے پہلے اسے قلم بند کرنے کی وجوہات بتانا ضروری ہے۔ اپنی کہانی لکھنے کا مقصد خود نمائی یا خود ستائی ہرگز نہیں۔ اگر میں واقعی کتابیں شائع کروانے کی شوقین ہوتی تو اب تک جو بلا مبالغہ ہزاروں مضامین لکھ چکی ہوں، انہیں مرتب کر کے درجنوں کتابیں شائع کر وا چکی ہوتی۔ میں اپنی آپ بیتی اس لئے لکھ رہی ہوں کہ دکھ کی ندیا میں پچھتر سال سے جیون کی ناؤ کھیتے ہوئے میں ہمیشہ ہی غم و غصہ، بے چینی اور اضطراب کا شکار رہی۔ میرے افکار احتجاج اور مزاحمت کے گرد گھومتے رہے یا پھر فرقۂ ملامتیہ کی طرح خود ملامتی میں مصروف رہی۔ اب کہیں جا کے جو بیت گئی، اسے سکون سے دیکھنے اور قلم بند کرنے کا موقع ملا ہے۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ لگی لپٹی رکھے بغیر جو گزری اسے ایمانداری کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کر دوں۔ دوسرے، میری کہانی صرف عام قارئین کے لئے نہیں بلکہ نوجوان ایکٹیوسٹس اور لیفٹسٹس کے لئے بھی ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ نوجوان میری اور میری نسل کی غلطیوں سے سیکھنے کے ساتھ ہمارے جذبوں اور کمٹمنٹ سے توانائی بھی حاصل کریں گے۔ مایوس ہونے اور صرف اپنی غلطیوں کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک مرتبہ پھر طلوع صبح کے خواب دیکھنے ہوں گے۔ وہ صبح کبھی تو آئے گی۔ روزا لکسمبرگ نے ہمیں جو سبق سکھایا تھا، اسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے، ”تم ہارتے ہو، تم ہارتے ہو، تم ہارتے ہو، تم ہارتے ہو اور پھر تم جیت جاتے ہو۔“
آخر میں چند الفاظ میرے عملیت پسند نہ ہونے کے بارے میں، جیسا کہ شروع میں ذکر ہوا، امی میرے لئے اس حوالے سے ”صفر بٹا صفر“ کا محاورہ استعمال کرتی تھیں۔ لیکن ریاضی میں ’صفر‘ ایسی مقدار ہے جس کی تعریف متعین نہیں۔ اس لئے غیر دریافت شدہ امکانات کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ یوں میرے بارے میں امی کا دوسرا محاورہ جس کا تعارفی سطور میں ذکر ہوا، مجھ پر زیادہ صادق آتا ہے ”جوزا کچھ بھی کر سکتا ہے“ ۔ اصل میں تاریخ پیدائش کے لحاظ سے میرا برج ’جوزا‘ یا ’جیمنی‘ ہے۔ دراصل میں نے زندگی میں جو کچھ کیا، وہ امی کے لئے غیر متوقع تھا۔ تو پیارے قارئین، آئیے آپ بھی میری زندگی کی ان ’غیر متوقع‘ حرکتوں میں شامل ہو جائیں۔ (جاری ہے )


