مہلک غلطی کی جانب سفر


پاکستان میں جاری سیاسی کش مکش اور خاص طور پر 9 مئی کے واقعات اور مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کے بعد قومی اُفق پر پھیل جانے والی سیاسی کڑواہٹ کے اثرات کو محدود کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔ اِس صورت حال کو معمول پر لانا اس لیے بھی فوری طور پر ممکن نہیں کہ ملک میں سیاسی ڈائیلاگ کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ شاید کوئی بھی پارٹی اپنے طور پر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرنے کے بھی قابل نہیں۔ اس صورت میں یہ ایک مزید تکلیف دہ بات ہے جب ریاست پہلے سے زیادہ سلامتی کے خدشات سے دوچار ہے۔ تاریخی طور پر ہماری سیاسی پرورش مجادلے اور سودمند دھوکہ دہی کی جزیات سے عبارت ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب ریاست کے اندر جمہوری روایات کا سراغ لگانا ممکن نہیں رہا۔ ہر طرف مایوسی بڑھ رہی ہے اور تھکی ماندی سیاسی جماعتوں سے کسی کو توقع نہیں کہ وہ ملک میں استحکام لانے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ اقتدار کا مکھوٹا چڑھائے ہوئے نظر آتی پاکستان مسلم لیگ نے اپنی اولین صفوں میں سے سیاسی برداشت کی حامل قیادت کو پیچھے دھکیل دینے میں کامیابی حاصل کی ہے جب کہ پیپلز پارٹی جن جہاں دیدہ افراد کی گرفت میں ہے وہ نئی قیادت کو درکار صلح جوئی کے تصور سے دور رکھنے میں ابھی تک کامیاب ہیں۔ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت کے طور پر ابھی بلوغت سے دور ہے کیوں کہ اُس نے نہ صرف سیاسی کامیابی کے کئی شاندار مواقع کو ضائع کیا ہے بلکہ درکار سنجیدگی کو ترک کر کے سوشل میڈیائی حربوں کے ذریعے محض ریٹنگ کے حصول تک محدود ہے۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ اس کی قیادت آپس میں بُری طرح گتھم گتھا ہے اور بانی جماعت صرف اُن جانبازوں پر خوش ہیں جو اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حریفوں پر حملوں میں مصروف ہیں۔ اس سے زیادہ سیاسی بصیرت کی توقع ابھی محض ایک خوش گمانی ہی ہے۔

دوسری طرف سیکیورٹی ادارے پوری طاقت سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورت حال تشویشناک ہے کیوں کہ ریاستی اداروں پر حملے کرنے والوں کی طاقت بڑھ رہی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ آنے والے دنوں میں پنجاب اور سندھ کے شہری علاقے بھی تشویش میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں اور ڈیڑھ دہائی پہلے کی طرح ملک میں عدم استحکام کی لہر دوڑ جاتی ہے تو ایسے لگتا ہے کہ اب کی بار ریاست کو زیادہ نقصان اُٹھانا پڑے گا اور حالات کو معمول پر لانے میں زیادہ دقتیں حائل ہوں گی۔ عام طور پر ریاستیں پُرآشوب ادوار سے سیکھتی ہیں اور اپنے اداروں کو حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ عدم استحکام کے دوران ہمارے حساس اداروں نے طاقت کے بل پر سیاسی نظام میں مداخلت کر کے وہ اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے جو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے ناممکن تھا، اس عدم توازن نے غیر آئینی مداخلت کی راہ اس قدر ہموار بنا دی ہے کہ کسی بھی قسم کی جمہوری مزاحمت کا امکان ہی نظر نہیں آتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں کسی بھی قسم کی کشمکش یا عدم استحکام کی صورت میں سیاسی انتظام یا ڈائیلاگ کی کسی صورت کو قابل اعتنا نہیں سمجھا جاتا اور تمام نظریں طاقت کے بل پر حل تلاش کرتی ہوئی ملتی ہیں۔

شورش کے حامل صوبے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں خبردار کر دیا ہے کہ وہ صوبے میں کسی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ کنفیوژن اور عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ اسی اعلان کے دوران وہ یہ بھی کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ اطلاعات کے مطابق بائیس ہزار کے قریب جنگجو سرحد کے آرپار مصروف عمل ہیں اور گیارہ ہزار تک جنگجو سرحد پار کر کے اُن کے صوبے میں پہنچ چکے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کے حامل جنگجوؤں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں اور اول تو وہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے اور اگر کسی قسم کے آپریشن کی کوشش کی گئی تو وہ ناکام ہوگی۔ اُن کی طویل اور اُلجھی ہوئی گفتگو کا لُب لباب یہ ہے کہ عمران خان کو رہا کر دیا جائے تو صوبہ پُرامن رہے گا اور ریاست کے خلاف اعلان جنگ کرچکے ہزاروں جنگجو واپس پلٹ جائیں گے۔

حمایت حاصل کرنے اور اس کا اعلان کرنے کا یہ ایسا ہی ”موثر“ طریقہ ہے جو تحریک انصاف نے گزشتہ دو عام انتخابات میں اپنایا اور انتخابی مہم کے دوران اس کی مخالف سیاسی قوتوں کو انتہاپسندوں نے کچل دیا۔ یہ فرق ضرور ہے کہ اس مرتبہ صوبے میں تحریک انصاف کے مدمقابل سیاسی قوتیں نہیں ہیں لیکن لڑائی پہلے سے زیادہ شدید نوعیت کی ہے۔ خدانخواستہ اگر حالات زیادہ بگڑتے ہیں اور افغانستان سے ملحق قبائلی علاقوں سے شدت پسندی دوسرے علاقوں اور صوبوں کی طرف منتقل ہوتی ہے تو صورت حال فریقین کے لیے تباہ کُن ہوگی۔

دوسری طرف ماہرین کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سٹیک ہولڈرز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور امن کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ انتہا پسندی کی اس لہر میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی مقامی قیادت اور ہمدردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی قندہاری قیادت کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی قبائلی علاقوں میں مہلک تصادم کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اتنے زیادہ متحارب گروہوں اور لشکروں کی متوقع آویزش عام لوگوں کو پریشان کردینے کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ اس متوقع خونی تصادم کے خد و خال ابھی اتنے واضح نہیں کہ کسی قسم کی پیش گوئی کی جا سکے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی عدم تحفظ کی اس کیفیت میں ریاست اور اس کی سالمیت کو شدید قسم کے خطرات کا سامنا ہو گا۔

اگر سیکیورٹی ادارے اس حکمت عملی کو اپناتے ہیں کہ ملک کے شورش زدہ علاقوں میں غیر علانیہ آپریشنز ہوں گے اور ریاست خود ہی سافٹ سٹیٹ سے ہارڈ سٹیٹ کے مجوزہ خانے میں ڈھل جائے گی اور صورت حال مکمل طور پر قابو میں آ جائے گی تو یہ اندازے کی ایک مہلک غلطی ہوگی۔ اس طرح اس ابہام کو بھی تقویت ملے گی کہ ریاست مکمل طور پر اپنی گرفت کھو رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ تنہائی کا شکار ہے۔ مسائل اور تضادات کی ایک طویل فہرست ہے جس کی ضخامت میں اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ سول حکمران فیصلہ کُن اختیار سے محروم نظر آتے ہیں اور کوئی بھی اِن پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ لڑائی چل رہی ہے لیکن مذاکرات جیسا بنیادی جمہوری عمل کسی بھی سطح پر اپنا وجود نہیں رکھتا۔ بلوچستان، کرم ایجنسی اور خیبرپختونخوا کے زیادہ تر حصوں کشیدگی کے تدارک کی کوئی کوشش بھی نظر نہیں آتی اور ریاست کے عملی طور پر غیرلچکدار اور ہارڈ ہو جانے کا ہی انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ سے نبٹنے کے لیے پانی اور ریت کو نظر انداز کر کے آگ کی لپیٹ میں آئی ہوئی عمارت کو فائر برگیڈ کی کرینوں سے مسمار کر دینا ہی آگ سے نجات کا بہترین طریقہ قرار دیا جائے۔

Facebook Comments HS