کیا آپ بزرگوں کی صحت کے سات سوالوں سے واقف ہیں؟

مرزا غالب بڑھاپے کے بارے میں فرماتے ہیں
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
ہمارے کئی بزرگ دوست جو اب ساٹھ ’ستر اور اسی کی دہائی میں داخل ہو چکے ہیں وہ خود بھی اور ان کے دوست اور رشتہ دار عزیز و اقارب بھئی ان کی جسمانی ذہنی اور سماجی صحت کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔
کچھ دوست چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں
کچھ دوست عزیزوں کے نام اور اپنے پسندیدہ اشعار بھولنے لگے ہیں
کچھ دوست ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو گئے ہیں
کچھ دوست یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ کہیں وہ سٹھیا تو نہیں گئے
اور کچھ دوستوں نے اپنوں سے ملنا اور محفلوں میں شریک ہونا کم کر دیا ہے۔
کینیڈا میں چونکہ سردیوں میں برف بہت گرتی ہے اس لیے ایک بزرگ دوست برف پر پھسل گئے۔ ہسپتال گئے تو پتہ چلا کہ ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اسی لیے بہت سے بزرگ برف باری میں گھر سے باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں۔
پچھلے دنوں میرے ایک بزرگ دوست نے مجھے ایک وڈیو بھیجی جس میں بزرگوں سے چند سوال پوچھے گئے تھے اور چند مشورے دیے گئے تھے تا کہ بزرگ بڑھاپے میں بھی صحتمند رہ سکیں اور زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اس وڈیو سے انسپائر ہو کر میں نے سات سوال تیار کیے ہیں تا کہ ہمارے بزرگ دوست ان سے استفادہ کر سکیں۔
بزرگوں کے لیے پہلا سوال:
کیا آپ اب بھی تیز تیز چل سکتے ہیں؟
ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ٹانگیں ایسے ستون ہیں جن پر جسم کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر ستون کمزور ہو جائیں اور ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں تو عمارت بھی ڈگمگانے لگتی ہے۔
ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ بزرگوں کو ٹانگوں کے پٹھوں کی ورزش کرنی چاہیے تا کہ وہ مضبوط رہیں اور بزرگ سیر کے لیے جا سکیں۔ اگر سیر کے لیے چھڑی استعمال کرنی پڑے تو اس سے گریز نہ کریں۔
جانور چار پاؤں پر چلتے ہیں اگر انسانوں کو بڑھاپے میں تین پاؤں پر بھی چلنا پڑے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ سیر کرنا انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔
بزرگوں کے لیے دوسرا سوال:
کیا آپ ایک پاؤں پر چند سیکنڈ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
صحتمند بزرگ ایک پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور اگر نہیں کھڑے ہو سکتے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کے جسم کی نقاہت بڑھ رہی ہے۔ حامد یزدانی کا شعر ہے
اب زمیں پاؤں کے نیچے نہیں ٹکتی حامد
وہ توازن مرے قدموں میں کہاں ہے کہ جو تھا
بزرگوں کے لیے تیسرا سوال:
کیا آپ کو ہر روز بھوک لگتی ہے؟
بعض بزرگوں کو بھوک لگنی بند ہو جاتی ہے اور جب وہ کھانا کھانا کم کرتے ہیں تو ان کی نقاہت بڑھنے لگتی ہے۔ اس سے ان کے جسم کی قوت مدافعت بھی کم ہو جاتی ہے اور ان کے بیمار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بزرگوں کے لیے دودھ پینا اور گوشت دالیں سبزیاں اور پھل کھانا اہم ہے تاکہ جسم اپنی طاقت قائم رکھ سکے۔
بزرگوں کے لیے چوتھا سوال:
کیا آپ گہری نیند سوتے ہیں؟
ہر رات سات گھنٹے کی گہری نیند ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر صحتمند رکھتی ہے۔ سوتے وقت ہمارا جسم اور ہمارا دماغ اپنی مرمت کرتا رہتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے پاس بہت سے ایسے مریض آتے ہیں جو انسومنیا اور بے خوابی کے شکار ہوتے ہیں۔ انہیں
یا نیند نہیں آتی
یا وہ بار بار جاگ جاتے ہیں
یا انہیں ڈراؤنے خواب آتے ہیں
بڑھاپے میں بعض لوگ اس لیے اداس ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتے ہیں اور انہیں احساس رائیگانی گھیر لیتا ہے۔ وہ اپنے ماضی کے فیصلوں پر نادم ہوتے ہیں اور انہیں احساس ہوتا کہ انہوں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ فضول کاموں میں ضائع کر دیا۔
بعض عورتیں ہارمونز کی تبدیلی کی وجہ سے سن یاس تک پہنچنے کے بعد مینوپوز اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ایسے مردوں اور عورتوں کو تھراپی کی ضرورت پیش آتی ہے۔
بزرگوں کے لیے پانچواں سوال:
کیا آپ اپنے پسندیدہ موضوع پر دس منٹ بات کر سکتے ہیں؟
اپنے پسندیدہ موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرنا بھی ذہنی صحت کی نشانی ہے۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بعض بزرگوں کے خیالات گڈمڈ ہونے لگتے ہیں انہیں دوستوں اور عزیزوں کے نام اور اپنے پسندیدہ شاعروں کے پسندیدہ اشعار بھولنے لگتے ہیں اور وہ گفتگو میں شرکت کرنے سے کترانے لگتے ہیں۔
اسی لیے بعض بزرگ اپنے پاس ایک ڈائری رکھتے ہیں اور اس میں اہم معلومات ’اپنے پسندیدہ اشعار اور دلچسپ لطیفے لکھ لیتے ہیں اور پھر اس ڈائری کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ بار بار پڑھنے سے ان کا حافظہ بہتر ہو جاتا ہے۔
بزرگوں کے لیے چھٹا سوال
کیا آپ کے دوستوں کا حلقہ وسیع ہے؟
بڑھاپے میں دوستوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ چونکہ
بعض بزرگ دوست بیمار ہو جاتے ہیں
بعض دوست فوت ہو جاتے ہیں
اور بعض دوست ڈرائیو نہیں کر سکتے اس لیے وہ محفلوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔
اگر جسمانی ملاقاتیں نہ بھی ہوں تب بھی سوشل میڈیا پر دوستی کو قائم کیا اور رکھا جا سکتا ہے اور نئے دوست بنائے جا سکتے ہیں۔
بزرگوں کے لیے ساتواں سوال۔
کیا آپ نوجوانوں سے دوستی کر سکتے ہیں؟
بزرگوں کے لیے نوجوانوں سے دوستی بہت اہم ہے کیونکہ نوجوان ان کی زندگی میں نئے تجربوں ’نئے خیالوں اور نئے جذبوں کا اضافہ کر سکتے ہیں اور نوجوان بھی بزرگوں سے دانائی کی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔
نوجوانوں اور بزرگوں کی دوستی دونوں کے لیے سود مند ہے۔
وہ بزرگ جو اپنی جسمانی ذہنی اور سماجی صحت کا خیال رکھتے ہیں
متوازن خوراک کھاتے ہیں
گہری نیند سوتے ہیں
روزانہ سیر کے لیے جاتے ہیں
اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھتے ہیں
دلچسپ وڈیو دیکھتے ہیں
فنون لطیفہ سے محظوظ ہوتے ہیں
نوجوانوں کے ساتھ کسی تخلیقی پروجیکٹ میں شامل ہوتے ہیں
محفلوں میں شرکت کرتے ہیں
اور کمیونٹی میں والنٹیر کام کر کے خدمت خلق کرتے ہیں
ایسے بزرگ خود بھی ایک بامعنی زندگی گزارتے ہیں اور اپنے دوستوں کی زندگی میں بھی قابل قدر اضافے کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کے جدید دور میں جب سائنس طب اور نفسیات نے ترقی کی ہے اور بہت سی بیماریوں کا بروقت علاج ممکن بنایا ہے آج کا ستر برس کا انسان ماضی کے پچاس برس کا انسان بن گیا ہے۔ اسی لیے اب نوے برس تک صحتمند زندگی گزارنے کے امکانات درخشاں ہو گئے ہیں۔
جو بڑھ کر تھام لے مینا اسی کا ہے
بڑھاپے میں جوان رہنے کا ایک طریقہ ظرافت کو گلے لگانا ہے
جانے سے پہلے آپ کو ایک بزرگ لیکن جوان دل اور خوش مزاج سردار جی کا لطیفہ سناتا جاؤں۔
ایک سہ پہر سردار جی باغ میں دھوپ سینک رہے تھے کہ ان کی جوان نواسی اپنی یونیورسٹی کی کنیڈین ہم جماعت لڑکیوں کے ساتھ آئی اور بڑے پیار سے کہنے لگی
LET ME INTRODUCE YOU TO MY GRANDPA
HE IS IN HIS EIGHTIES
سردار جی نے ان جوان بچیوں کو قریب بلایا اور سرگوشی کے انداز میں کہا
EARLY EIGHTIES
اور وہ سب کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

