شناخت پریڈ
وضاحت:
پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی اور ڈی میں پولیس رہنمائی کے لیے، مذکور ہے۔
*** ***
سنہ 1983 بحالیٔ جمہوریت کی قومی تحریک جو بھٹو کی پھانسی کے بعد چلی اسے ملک کے دیگر حصوں میں میں تو اتنی حمایت و مقبولیت حاصل نہ ہوئی مگر حیدرآباد تا کشمور خصوصاً ً اس کی شدت کا مرکز سندھ کا بالائی علاقہ بن گیا تھا۔ جنرل ضیا نے اس جمہوری تحریک کو کچلنے کے لیے تین ڈویژن فوج اور ہیلی کاپٹرز گن شپ کا بے دریغ استعمال کیا۔ تحریک کمزور پڑی تو اس سے ٹوٹ کر چند سر پھرے نوجوان کچے کی طرف نکل گئے جنہیں وڈیروں اور خفیہ اداروں کی یکساں اور بے دریغ سرپرستی حاصل رہی۔
سندھ پولیس میں دو افسر تھے راجہ سعید اور جواد حسن ( نام فرضی ) دونوں ہی پولیس میں ایک ساتھ بطور ایس اے آئی بھرتی ہوئے۔ ون یونٹ کے قیام کے ایک سال بعد یعنی سن 1956 میں۔ لاہور کے جس پولیس ٹریننگ کالج میں ان کی تربیت ہوئی اس نے ان کی چال ڈھال ایک جیسی کردی۔ قد کاٹھ کے بھی ایک سا۔ تربیت کے دوران یکساں ورزش کی وجہ سے بدن گھٹا ہوا کسرتی، چال میں تکبر وہ بھی فیکٹری فٹنگ جیسا، آواز میں عہدے کے تکبر سے آراستہ تحکم اور عام رویوں میں محکمے کے تحفظ سے جڑے اعتماد کی وجہ سے ایک بے وجہ گھمنڈ۔ عوام پر یہ ان کا عمومی تاثر رہتا۔ یوں وہ مزاجاً ایک دوسرے سے قدرے مختلف شمار ہوتے تھے۔
دونوں افسران میں جاری ایک دیرینہ مخاصمت اب پیشہ ورانہ رقابت میں بدل گئی تھی۔ راجہ سعید جو اب ڈی ایس پی تھا ایک مدت سے جواد حسن کے خلاف کھل کر درخواست بازی کرتا تھا۔ جواد حسن اب غیر معمولی ترقی اور تعلقات کی بنیاد پر ایس پی بن چکا تھا۔ اس کے عین برعکس راجہ سعید تعلقات کی بنیاد پر اپنے خلاف انکوائریاں وقتی طور پر نظر انداز کرا کے ڈی ایس پی تو بن گیا تھا مگر پورا آئی جی آفس اس کے خلاف محاذ کھولے بیٹھا تھا اور اسے ملازمت کی گھمن پھیریوں میں مالا کے دھاگے کی طرح الجھا کر ایس پی بننے سے روک چکا تھا۔
پاکستان قومی اتحاد کی نو ستارہ جماعت کی وجہ سے پانچ ستارہ جنرل ضیا نے جب ملک پر مارشل کا کوڑا برسایا تو راجہ کو کچھ امید ہو چلی تھی کہ اب پنڈی سرکار کی وجہ سے چاروں پاسے فوجاں ہی فوجاں، تے ہر طرف موجاں ہی موجاں ہوں گی مگر کراچی میں تعینات جو میجر جنرل بطور ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تعینات ہو کر آئے ان کی کراچی میں تعیناتی سے قبل بھی جواد حسن نے خاصی خدمت کی تھی۔ ان کی کسی عزیزہ کا گھر قابض کرایہ داروں سے خالی کرایا تھا۔ اس کی بیٹی کو ائر ہوسٹس اور داماد کو ایک بڑے ہوٹل میں سیکورٹی میں لگوایا تھا۔ ان کی آمد باطل کے ماحول میں حق کی وہ آمد تھی جس کی وجہ سے راجہ کے ارمانوں کا کریا کرم ہو گیا۔
ایس پی جواد حسن جو راجہ کی ریشہ دوانیوں کا جڑ سے خاتمہ چاہتے تھے ہر اس میز اور دفتر کو راجہ کے شر سے ڈس انفیکٹ رکھنا چاہتے تھے۔ جہاں ہم سا کوئی نوجوان افسر نیا نیا تعینات ہوا ہو۔ انہیں ہر وقت یہ اندیشے گھیرے رہتے کہ مبادا راجہ کی ان کے خلاف کوئی درخواست کسی سرپھرے افسر کے ہات میں ملازمتی قوانین اور سنیارٹی کے اصولوں کی وہ خارش نہ پیدا کردے جس کی وجہ سے ان کی ترقی کی برق رفتاری پر سوال اٹھا کر مارشل لا والے ان کے پیچھے لگ جائیں۔ ایک دفعہ مارشل لا ہیڈ کوارٹر سے سوال جواب بھی ہوئے مگر ہم نے بتایا کہ یہ دو علیحدہ معاملات ہیں۔ راجہ اپنی انکوائریوں کے معاملے میں بے جا تکبر اور غفلت شعاری کا شکار ہے۔ جواد کی دونوں عہدوں پر ترقی کے ضمن میں اس وقت کے آئی جی پی اور چیف سیکرٹری جواب دینے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ یہ کیس ہوم ڈیپارٹمنٹ سے پروسیس نہیں ہوئے۔ سو نہ یہاں کوئی فائل ہے نہ اس کا کوئی وضاحتی پس منظر۔
جواد حسن باقاعدہ اجازت لے کر دفتر ملاقات کو آتے۔ اپنا کیس سمجھاتے اور جب ان کا کیس ہم اوپر بھیج دیتے تو بہت دبے لفظوں میں خدمت کا موقع فراہم کرنے کا ذکر کرتے۔
جواد حسن کے برعکس ہماری خوش دلی اور صلاحیت کا امتحان لینے راجہ بلا وقت مانگے روز آتے جاتے دفتر آن دھمکتا تھا۔ اسے یہ باور کرانا بہت مشکل ہوتا کہ اس کے سینگ ہمارے ہاں نہیں اپنے اصل محکمے کی اسٹیبلشمنٹ برانچ کے سپرانٹنڈنٹ اسد علی کے ساتھ پھنسے ہیں۔ جب تک وہاں سے انکوائریوں کی سفارشات نہیں موصول ہوں گی اسے ہمارے ہاں سے امداد ملنا مشکل ہے۔
دو سال گزرے ہوں گے کہ مقابلے کے ایک کڑے امتحان میں قابلیت کے جوہر دکھانے پر سرکار نے ہمیں سٹی کورٹ کراچی میں مجسٹریٹ لگا دیا۔ یہ بے حد دل چسپ تعیناتی تھی۔ ہم انتظامی افسر بھی تھے اور عدالتی افسر بھی۔ یہ انتظامی مجسٹریسی سنہ 1993 میں عدلیہ اور انتظامیہ کو علیحدہ کرنے کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ ایک طاقت ور، عوام دوست اور جرائم کش ادارہ کے بطور اس کی افادیت بہت تھی۔ جنرل مشرف کے پولیس آرڈر نے پولیس کو مادر پدر آزاد کر دیا تو لا اینڈ آرڈر، فتنہ فساد، دہشت گردی، تجاوزات اور عوام سے بیوروکریسی کے روابط میں فاصلے آ گئے۔ پولیس کا آئی جی اب پبلک سروس کمیشن، بجٹ کا مالک اور فورس کمانڈر بھی تھا۔ سویلین چیف آف پولیس اسٹاف۔
جنرل ضیا کا دور تھا۔ کراچی سے ایک بڑے میمن سیٹھ دوسرے کئی اہم افراد اغوا ہو گئے۔ ان کے اغوا کے بعد تو ایک باقاعدہ تاوان انڈسٹری کھڑی ہو گئی۔ ایک مہاجر سرجن رضوی جنہیں شکار کا بے حد جنون تھا اور ہر ہفتے تھانہ بولا خان تیتر ہرن مارنے جا پہنچتے تھے ان پر بہت شبہ کیا جاتا تھا کہ وہ اغوا برائے تاوان کی ان وارداتوں میں اغوا مافیا کے مدد گار تھے۔ اس کے ساتھ شہر کے خوش حال علاقوں میں مسلح ڈکیتیاں جو بنگلوں میں کود کر کی جاتیں ان کا بھی ایک سیلاب آ گیا تھا۔ کئی گینگ سامنے آرہے تھے مگر صدرو شیخ جسے کراچی کے اخبارات نے کشمیر خان کا لقب دے رکھا تھا اس کے گینگ نے بہت اودھم مچا رکھا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سیکورٹی کیمرے، مسلح گارڈز پاکستان میں مطلع شہود پر نہ آئے تھے۔ کلاشنکوف بھی ڈاکوؤں کے پاس ہوتی تھی یا پولیس کے بڑے افسروں کے۔
ایک دن ہوم ڈیپارٹمنٹ میں لا اینڈ آرڈر کی بڑی میٹنگ تھی۔ بطور اہم ایجنڈا آئٹم، اغوا، ڈکیتیاں زیر بحث تھیں۔ ہوم سیکرٹری سے ہماری سندھ یونیورسٹی کے زمانے کی یاد اللہ تھی۔ ڈی سی صاحب بھی تین برس سینئر مگر بہت دلدار اور ہمارے نقطۂ نظر سے اتفاق کرنے والے ایک طاقت ور اور سمجھ دار افسر تھے
ہمیں کہا گیا آئی جی اور ہوم سیکرٹری صاحب نے ایس ایس پی سی آئی اے جواد حسن کے بے حد اصرار پر کہ شہر بھر کے سی آئی اے کے عدالتی معاملات اب ہماری نگرانی میں چلیں گے۔ یہ احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ملزمان کا ریمانڈ، شناخت پریڈ، چالان کی سیشن عدالت کو ترسیل، دفعہ 164 کے اقبالی بیانات۔ سب ہماری عدالت سے پروسیس ہوں گے۔ پولیس کے بڑے افسران کا گلہ تھا کہ سی آئی اے بمشکل ان خطرناک ملزمان کو جان جوکھوں میں ڈال کر گرفتار کرتی ہے اور مجسٹریٹ جن میں زیادہ تر وہ تحصیلدار جو عمر اور کیریر کے آخری حصے میں پہلی دفعہ کراچی تعینات ہوتے ہیں وکلا کے دباؤ اور مال کی لالچ میں ان ملزمان کو فی الفور ضمانت اور دیگر سہولیات دے دیتے ہیں۔ اس وجہ سے جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایس پی جواد حسن اور ڈی سی صاحب جو عدالتی اختیارات کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کہلاتے تھے آپس میں دور پرے کے رشتہ دار تھے مگر قربت خاص نہ تھی۔ براہ راست ڈی ایم جی افسر ہونے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اس گروپ سے تعلق رکھتے تھے جنہیں آپ کیرالہ کیے نمبودری برہمن گرو گھنٹالوں کا گروپ کہہ سکتے تھے۔ ملازمت میں مختلف گروپس کو ذات پات میں کھشتری، ویش اور شودر ماننے والے۔
میٹنگ کے بعد ملے تو ناخوش تھے کہ جواد اور ہوم سیکرٹری ہماری تعیناتی کے لیے کیوں اتنا بضد تھے جب کہ ہم سے تین سینئیر افسر اور بھی لسٹ میں موجود تھے۔ ہم نے سمجھایا کہ ہمارے لیے یہ جہاں اعتماد و اعزاز کی بات ہے وہاں اضافی ذمہ داری اور خطرات کی بات ہے۔ ہوم سیکرٹری ہمیں سندھ یونی ورسٹی اور مشترکہ دوستوں کی وجہ سے جانتے ہیں اور جواد حسن کے معاملات ہمارے پاس ہوم ڈیپارٹمنٹ میں چل رہے تھے۔ وہ جانتے ہیں کہ
So I wont bend like a yogi.
(لہذا ہم کسی یوگی کی طرح جھکنے والے نہیں )
کہنے لگے تمہاری یہ سی آئی اے والی مصروفیت یہ ان عدالتی اور انتظامی ڈیوٹی سے مستزاد ہوگی جس کا انتظام پہلے سی ہی موجود ہے۔ بتانے لگے کہ سی آئی اے کے ایس ایس پی جواد کی شہرت ایک سفاک، موقع پرست اور بے اصول پولیس افسر کی ہے، اس کا پریشر نہیں لینا۔
ہفتہ گزرا ہو گا کہ ایس پی جواد حسن سٹی کورٹ آ گئے۔ فرمایا ایک بڑے خطرناک ملزم کی شناخت پریڈ ہونی ہے میں آئی جی صاحب کو ملزم صاحب ڈینو کے بارے میں بریف کرنے آیا تھا۔ سوچا آپ کو لے چلوں۔ راستے میں گپ شپ بھی ہو جائے گی۔
ہم نے بے حد خوش اخلاقی سے سمجھایا کہ عدالت سے نکلتے وقت اور وہاں سی آئی اے سینٹر پر آپ کی کار میں سوار ہوتے اور اس سے اترتے وقت لوگ ہمیں دیکھ کر یہ سمجھیں گے کہ شناخت پریڈ کی کارروائی محض ایک کاغذی خانہ پری ہے مجسٹریٹ پولیس کے دباؤ میں ہے۔ اس کی جانب داری مشکوک ہے۔ آپ چل کر مطلوبہ دس سے بارہ افراد کی تعداد پوری کریں جنہیں لائن میں لگا کر شناخت پریڈ کرنی ہے۔ ابھی دکانیں کھلیں گی تو ہم کسی میمن سیٹھ کی کار مع ڈرائیور منگا کر آ جائیں گے۔ جواد صاحب نے خوش کلامی کا جال دور تک پھیلاتے ہوئے فرمایا کہ
ہماری بیگم حیدرآباد آندھرا پردیش کی ہیں۔ سسرالی بھنڈی (سسرالی بھنڈی پر توجہ رکھیں)، بیگن کا بھرتا اور ڈبل کا مٹھا گھر سے لنچ پر آ رہا ہے، ساتھ تناول فرما کر ہمیں ثواب دارین پہنچائیں۔ ایف آئی اے والی رخسانہ خٹک بھی آ رہی ہے اسے بھی ملزم سے کچھ سوال کرنے ہیں۔ یہ گینگ والے دوبئی بھی آتے جاتے رہے ہیں۔ ہم نے چھیڑا وہ آئیں گی تو پھر آپ کا ڈبل کا مٹھا، ٹرپل کا مٹھا ہو جائے گا۔ ڈبل روٹی کے میٹھے جسے شاہی ٹکڑے کہتے ہیں حیدرآبادی ثانیا مرزا کی بولی میں اسے ڈبل کا مٹھا بولتے ہیں۔
ایس پی جواد کے جاتے ہی ہمارے پڑوسی اصغر بھائی کسی دوست کو لے کر آ گئے۔ کسی اور مجسٹریٹ کی عدالت میں دوست نے ضمانت کے کاغذات جمع کرائے ہوں گے اس کی واپسی میں پیش کار لیت و لعل سے کام لے رہا تھا۔ ہم نے متعلقہ دوست مجسٹریٹ کو فون کر کے اپنے پیش کار کو بھیج کر فائل منگوا لی اور اس دوست سے لفٹ لے کر سی آئی اے سینٹر پہنچ گئے۔ اسے ان دنوں اپنے بنگلہ نمبر کے حساب سے پانچ سو پچپن بھی پکار جاتا تھا۔ سامنے سینٹ جوزف اسکول اور چرچ ہے اور عقب کی گلی میں سینٹ جوزف کالج جو ان دنوں سرکار کے زیر انتظام تھے۔
ایس پی صاحب دفتر میں موجود نہ تھے۔ ان کی وائرس سیٹ پر دی گئی ہدایات کے بموجب ڈی ایس پی اور متعلقہ تفتیشی انسپکٹر بہ ہمراہ ملازمان عدالت کے حکم بجا لانے کو کوشاں اور مستعد ڈیوٹی پر موجود تھے۔ شناخت پریڈ میں شامل دس یا بارہ افراد میں کچھ تو عملے والے اور کچھ باہر والے تھے۔ سب کے سب شکل سے ڈاکو دکھائی دیتے تھے، مضبوط، بدلحاظ چہرے اور برفیلی نگاہ سے آنکھ سکیٹر کر دیکھنے والے، شلوار قمیص، ایک آدھ نے ٹوپی بھی پہنی تھی ایک نے تو یاسر عرفات والا کوفیہ باندھا تھا اور ہات میں سگریٹ بھی تھام رکھا۔ بھارتی ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی کا بغیر دیپکا پڈوکون کے پدماوتی والا پورا سیٹ لگا تھا۔
ملزم صاحب ڈینو کو عقب کے دروازے سے لایا گیا۔ نڈھال تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے گرو مندر کے علاقے بہادر آباد اور طارق روڈ کے گرد و نواح بشمول گلشن اقبال کے علاقوں میں کئی ڈکیتیاں کی تھیں گلشن اقبال کی ایک واردات کے دوران گھر کے اندر موجود ایک فرد کو مزاحمت کرنے پر گولی بھی ماری تھی۔ وہ جان کنی کے مراحل میں ہسپتال میں ہے۔ بچنا محال ہے۔ اس کی گینگ کے باقی ممبرز تاحال مفرور ہیں۔
شناخت پریڈ کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ڈاکو سمیت نو دوسرے افراد کو لائن اپ کر دیا گیا۔ دو ہی گواہ تھے ایک سامنے والے بنگلے کا بوڑھا چوکیدار اور ایک اس گھر میں موجود باپ بیٹا جہاں پر ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی۔ گواہان میں سب سے پہلے بوڑھا چوکیدار لایا گیا۔
بوڑھے چوکیدار نے کہا اس کی دور کی نگاہ کمزور ہے اور رات کو گلی میں اندھیرا بھی ہوتا ہے اس گھر کے سامنے جو پیڑ ہے اس کی وجہ سے گیٹ بھی صاف نہیں دکھائی دیتا البتہ اس نے تہجد کے وقت ایک ٹویوٹا جس کا رنگ اسے یاد نہیں چار آدمی اور ایک عورت کو جاتے دیکھا تھا۔
ہم نے نوٹ کیا کہ جب سے شناخت کے لیے اسے لایا گیا تھا صاحب ڈینو کی نگاہیں ہم پر جمی تھیں۔ ان نگاہوں میں خوف زدہ کرنے سے زیادہ التجا، حیرت اور بے چارگی تھی۔ اس کا قد پانچ فیٹ پانچ یا چھ انچ ہو گا۔ بدن مضبوط جیسے اسٹیل کے تاروں کی بنت کی گئی ہو۔ ہمیں بھی لگا کہ اس خطرناک ملزم کا وجود ہمارے لیے کامل اجنبی نہیں۔ اس چہرے کو ہم نے بھی کہیں دیکھ رکھا ہے۔ آپ نے جانے دوبئی کے شاپنگ مالز یا اور پر ہجوم مقامات پر نوٹ کیا کہ نہیں رئیس، پر اعتماد امارتی عورت جب آپ کے سامنے سے گزرے تو آپ اس کے لیے منظر کا تو حصہ ضرور ہوتے ہیں، مگر نہ اس کے لیے مرکز توجہ، نہ اس لازمی پرسنل اسپیس کا فریم جس کی ہر عورت شعوری طور نگرانی کرتی ہے۔ جس کی معمولی سی خلاف ورزی کچھ علیحدہ قسم کے الارم بجا دیتی ہے۔ فرانسیسی مصنف البرٹ کامیو کے ہیرو ایک افسانے ”The Misunderstanding“ میں کہتا ہے ”I was looked at but i was not seen“ (میں منظر میں موجود تو تھا مگر مجھے دیکھا نہیں گیا)
صاحب ڈینو کو دیکھتے وقت ہمیں یوں لگا کہ ہماری یاد کے دھندلکے میں جو بہت سے چہرے ہیں۔ یہ بھی ان میں سے ایک چہرہ تھا۔ جو ماضی کی اس بینڈ وڈتھ میں صرف منظر کا حصہ تھا۔ جامعہ سندھ جامشورو کے آرٹ بلاک کی تیسری منزل پر جو شعبہ جات تھے وہاں ایسے چہرے دکھائی دیتے تھے۔ جامعہ آ جاتے تھے، سیاست میں سرگرم شرکت کی وجہ چار سال کا پروگرام چھ سال میں کرتے۔ اس منزل پر شعبۂ نفسیات ہمارا کبھی کبھار جانا ہوتا ہم پروفیسر رضیہ کریم اور اپنے دوست پرویز خان سے ملنے جاتے تھے جو شعبۂ نفسیات کا واحد مرد طالب علم تھا۔ لمبی چٹیا والی نسیم زہرہ بھی وہاں پڑھتی تھی اسے پرویز خان کے نوٹس درکار ہوتے تھے۔
چوکیدار کے لیے ہم نے قانونی دستاویز میں شناخت سے قاصر ہے لکھ دیا۔ اگلے گواہ کو حاضر کرنے کا کہا تو باپ بیٹا ساتھ داخل ہوئے۔ یہ واردات کشمیر روڈ کے ایک بنگلے کی تھی۔ باپ بیٹا کشمیری، گورے، دونوں کی خوش حالی تو عیاں تھی مگر چہرے پر پھیلے تاثرات کی روشنی میں اس عمل میں بادل ناخواستہ شامل محسوس ہوئے، قدرے ہراساں و خوف زدہ، بیٹا تو پاجامے کرتے میں بالکل اس زمانے کا راجیش کھنہ لگتا تھا۔
داخل ہوتے ہی ملزم پر نگاہ پڑتے ہی ان کی آنکھوں میں نفرت انتقام اور یافت کے شعلے لپکے۔ ہمیں لگا کہ انہوں نے دیگر افراد کے چہروں پر نگاہ ڈالے بغیر یک لخت اور بلا ججھک ملزم صاحب ڈینو کو پہچان لیا تھا۔ اسی اثنا میں ہم نے دیکھا باپ نے زور سے بیٹے کا بازو دبایا۔ دونوں نے ڈی ایس پی صاحب کی جانب دیکھا جو ایک کونے میں چپ چاپ اس سارے عمل کی نگرانی کر رہے تھے اور جن کی یقین دہانی پر یہ دونوں گواہاں یہاں آئے تھے۔ دونوں یک زبان ہو کر بولے ان میں وہ ملزم شامل نہیں جس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کے گھر پر ڈکیتی کی تھی۔ ان کے انکار سے اس ساری کارروائی پر ایک برف سی جم گئی۔ ڈی ایس پی صاحب نے بہت کہا غور سے دیکھو ایک بندہ وہی ہے جو آپ کے گھر بھی آیا تھا۔ ڈرو مت۔ میں ہوں اور مجسٹریٹ صاحب سے پورا انصاف ملے گا مگر وہ اب ہمیں دیکھ کر کہنے لگے نہیں صاحب جی ان میں وہ بندہ شامل نہیں۔
ہمارے ذہن و دل میں مشاہدے کی بنیاد پر یہ ایک خلش سی رہی کہ ابتدائی تاثر میں دونوں باپ بیٹے نے ملزم صاحب ڈینو کو پہچان لیا تھا مگر کچھ سوچ کر، خوف خمیازہ کی وجہ سے پسپائی اختیار کی اور عدالت کے سامنے جھوٹ بولا۔ یہ سلسلہ ختم ہوا تو جب ملازمان صاحب ڈینو کو واپس پیچھے بیرکس میں لاک اپ میں بند کرنے لے جانے لگے تو اس نے مخصوص سندھی انداز میں دونوں ہات جوڑے اور سائیں پیرن تے ہت کی صدا لگائی اور ساتھ ہی دو منٹ میں تنہائی کی ملاقات چاہی۔ یہ کسی کی طاقت بڑائی اور اسے کے مرتبے کے اعتراف کی بہت پیاری سندھی رسم ہے۔
ہم نے اشارہ کیا کہ دروازے کے باہر مسلح گارڈ بٹھا دیں۔ ہو سکتا ہے یہ ہمیں کچھ بتانا چاہتا ہو۔
صاحب ڈینو نے پہلے تو سی آئی اے والے عملے کی شکایت کی کہ اسے الٹا لٹکا کر مارا بھی بہت ہے اور گرفتاری سے اب تک تیس گھنٹے ہونے کو آئے۔ پینے کو صرف پانی دیا گیا وہ بھی بہت تھوڑا۔ اس نے راز کھولا کہ ہم شعبۂ انگریزی میں تھے اور وہ شعبۂ اسلامی تاریخ میں تھا جہاں ہم اپنی اسکول کی استانی اور مہتاب راشدی صاحبہ کی بڑی ہم شیرہ عزیزہ چنا کے پاس گاہے بہ گاہے آتے تھے۔ وہ وہاں پروفیسر تھیں۔ ان پرانے دنوں کے واسطے سے اگر اسے ناشتہ مل جائے تو وہ یہ احسان یاد رکھے گا۔
ہم نے چھیڑا کہ ناشتہ تو کرا دیں گے مگر پرانی پارت (سندھی زبان میں مروت اور لحاظ داری) کے حوالے سے اسے ہمارے سامنے اعتراف کرنا ہو گا کہ وہ باپ بیٹا اسے پہچان تو گئے مگر انجان بن کر انکار کیا اور بیٹے کی آنکھ میں اس کے لیے ایک سلگتی نفرت تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ ہمارے پیچھے کھڑے گارڈ سے کلاشنکوف چھین کر پورا برسٹ اس کے سینے پر خالی کر دیتا۔
اتنی دیر میں چائے پراٹھا اور انڈا آ گیا اور وہ کہنے لگا جب پیٹ بھرے گا تو آپ کو پرانا سنگتی سمجھ کر اصل بات بتاؤں گا۔ پراٹھے تین کھائے۔ یقین آیا کہ واقعی بہت بھوکا تھا۔
طعام سے فارغ ہو کر کہنے لگا آپ نے بالکل ٹھیک نوٹ کیا اس لڑکے کی بیوی بہت حسین ہے مجھے تو ایسا لگا جیسے اپنی سائیکولوجی والی نسیم کھڑی ہے میرا اور یوسف جھکرانی کا اس پر بہت دل تھا مگر ہم کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔ یہ کشمیر روڈ کا بنگلہ تھا۔ ہم دو دن سے ریکی کر رہے تھے ایک ہفتے پہلے بھی یہاں چکر لگایا تھا مگر شادی تھی۔
پورے دس دن بعد جب سب مہمان وغیرہ چلے گئے تو ہم اس گھر میں کودے۔ اس کی بیوی اس کے پیچھے پیچھے آئی۔ اس نے وہ بچوں کے فراک والی رات کی نائیٹی پہنی تھی۔ اللہ سائیں اس کو تو دیکھتے ہی صاحب ڈینا کا من ڈولے کبھی تن ڈولے والا حساب ہو گیا۔ ان کے گھر میں پرانا بلیو فون ہے۔ میں نے جب اس کا بازو تھام کو اس کو اپنی طرف کھینچا تو اس کے میاں نے چیخا تو میں نے وہ فون کا دستہ اس کے سر پر مارا۔ اس کا باپ بھی آ گیا۔ میں نے کہا اوپر سے آرڈر ہیں سب لوٹ لو۔ سب کو مار دو۔ گھر کو آگ لگا دو۔ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ بس آج کی رات یہ مائی ہمارے ساتھ جائے گی۔ آج جمعرات ہے پیر کی صبح کو ہم اس کو جناح کے مزار کے پاس پر پورے کپڑوں میں اتار دیں گے۔ اس کو بولو اس فراک کے ساتھ جو اس نے پہنا ہے سمیت تین جوڑے اور سامان میک وغیرہ ساتھ لے لے۔ باپ نے بہت بولا یہ دس دن پرانی دلہن ہے اس کو معاف کردو۔ سائیں بس مجھے لگا نسیم سے ملنے کا موقع پھر نہیں ملنے کا۔ یہ لڑکی میرے پاس جمعہ تین دن چار رات رہی۔ ایسا لگا نسیم زہرہ سے میرا بغیر قاضی، کورٹ میں نکاح ہو گیا ہے۔ میں نے بھی جی بھر کے مزے کیے۔ خاتون کے اس سایکو پیتھ کی تحویل میں گزارے جانے والے لمحات کی تفصیل، اس کا رد عمل کسی ماہر نفسیات یا کرمنل پروفائلر کے لیے تو بے حد سبق آموز ہو سکتا ہے مگر اپنے منصب کے وقار کی مناسبت سے عدالتی افسر کو یہ ان دیکھی شیشے کی چھت توڑنے اور اس تجسس بے جا کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ سب سامنے رکھ کر ہم نے کارروائی لپٹ دی اور دفتر جانے کے لیے چل پڑے۔
صاحب ڈینو سے یہ داستان سن کر بہت افسوس ہوا مگر بطور گواہ پیش ہونے والے اس اعلی ظرف دولہے، اس مرد کے ضبط اور حوصلے دونوں کے لیے دل سے داد نکلی جس نے واپسی پر اس واردات پر پردہ ڈال کر اپنی اہلیہ کو قبول کیا۔ سوچیں وہ اگر بطور ملزم اسے شناخت کر لیتے تو عدالت کی گواہی میں کن کن بے ہودگی اور آزار کا سامنا کرنا پڑتا۔ جن رازوں پراس مرد باوفا نے، دل پر پتھر رکھ کر پردہ ڈالا تو وہ وکیلوں کی جرح سے سر عام کیسے تار تار ہوتا۔
دکھ یہ ہے کہ بڑی عدالتیں ہر افسر کو سیدھا کرنے اور شراب کی بوتلوں پر اپنی من چاہی کے خلاف سو موٹو لینے کے لیے تو بے تاب رہتی ہیں مگر اپنی ماتحت عدالتوں کو اس تاخیر اور غلاظت سے باہر نہیں نکالتی ہیں۔ ان کے پاس سب کو سیدھا کرنے کا دماغ ہے سوائے اس سسٹم کو ٹھیک کرنے کے جس کی براہ راست ذمہ داری ان کی بنتی ہے۔
دو ون بعد ڈی سی صاحب سے ملاقات ہوئی تو سارا احوال تفصیل سے سنا کہنے لگے بریگیڈئیر ریاض ایس ایم ایل، کرنل انعام کے پاس میٹنگ تھی، جواد حسن کو تم سے شکوہ تھا کہ مجسٹریٹ صاحب چاہتے تو شناخت کے خانے میں اپنی چست و چالاک قانونی انگریزی سے باپ بیٹے کے شناخت کرنے کی روداد قلمبند کر دیتے۔ بریگیڈئیر ریاض ایس ایم ایل اے اور کرنل انعام بھی ان سے متفق تھے۔ انہیں سمجھانے میں بہت دقت ہوئی کہ اگر سیشن عدالت میں یہ دونوں باپ بیٹا کہتے کہ ہم نے تو ملزم کو نہیں پہچانا تھا اور عدالت میں موجود صاحب ڈنیو وہ ملزم نہیں جو ہمارے گھر اپنی گینگ کے ساتھ ڈکیتی کرنے آیا تھا۔ کہنے لگے میجر جنرل شیر افضل ڈی ایم ایل اے تک ایس پی جواد نے یہی ڈفلی بجائی ہے۔ بات یہاں آن کر رک گئی ہے کہ تم ایک رپورٹ جو بھی اس دن روداد گزری ہے اس پر لکھ دو۔ ہم نے کہا پاکستان کی کوئی انتظامی اکائی ہم سے یہ رپورٹ مانگنے کی مجاز نہ اس کے لیے ہمیں مجبور کر سکتی ہے۔ بطور مجسٹریٹ ہم اپنے عمل میں قانوناً درست ہونے کے باوجود اپنے فیصلے میں غلط تو ہو سکتے ہیں مگر ہماری خود مختاری کسی کی زیر نگین اور پولیس کا فرمائشی پروگرام نہیں۔ تحریراً ہم سے جو بھی ایسی رپورٹ کا طلب گار ہو گا وہ جان رکھے کہ عدالتی کارروائی میں مداخلت اور توہین کا مرتکب مانا جائے گا۔ ہمارے سامنے پیش بھی ہو گا اور جیل جائے گا۔ ان کہ خفیہ ادارے اور سپاہی اللہ دتے ہزاروں رپورٹ الف لیلی کی داستانوں سے چرا کر اوپر بھیجتے ہیں۔ ان کے بڑے، اپنے حوالدار کے لکھے کو مصحف مکرم مانتے ہیں یہ کیا بات ہے کہ عدالت کو کوئی بزعم عہدہ چیلنج کرے۔
کچھ دن سناٹا رہا۔ پولیس جو بھی عدالتی کام لاتی وہ ہم خوش اسلوبی سے بجا لاتے۔ جواد حسن ایک دفعہ پھر ملنے آئے۔ کسی اور علاقے میں صاحب ڈینو کی کسی اور کیس میں گرفتاری ڈال کر ایم پی او میں گرفتاری ڈال رکھی تھی۔ ہم سے کوئی شکوہ نہ کیا۔
ہیوبرٹ ہمفرے فیلو شپ جو دنیا بھر میں قابلیت کی بنیاد پر منتخب ہونے والے افسران کا امریکی سرکاری پروگرام تھا اس کے مقابلے کو جیت کر ہم ایک ماہ بعد امریکہ سدھار گئے۔ پین اسٹیٹ یونی ورسٹی بے حد پر فضا رنگین اور صحیح معنی میں مادر علمی تھی اس کی فٹ بال ٹیم لاجواب تھی۔ یہاں کہ فٹ بال کوچ جو پٹیرنو کو سارا شہر یعنی یونی ورسٹی پارک وائس چانسلر سے زیادہ عزت دیتا تھا حالانکہ وائس چانسلر یونیورسٹی کے اپنے جہاز میں آتا جاتا تھا۔ یونیورسٹی کے فنڈز جنوبی افریقہ کی ہیروں کی کانوں میں سرمایہ کاری تھی۔
پین اسٹیٹ یونی ورسٹی میں ایک سمیسٹر کے لیے کسی اور پروگرام میں کولمبیا کے رکارڈو کے ساتھ پاکستان کی مہ وش بھی آئی۔ رکارڈو کا تو علم نہیں کہ وہ کورنیل یونی ورسٹی اتاکا میں کیا بینگن بگھارتا تھا مگر مہ وش اور رکارڈو آپس میں بہت کھنڈ کھیر (دودھ چینی) بن کر رہتے تھے۔ مہ وش نے ہم نے میمن ہونے کے باوجود اسی تسی کی تو بہت خوش ہو گئی۔ ریکارڈو چند دن کو چلا گیا تو ہم نے اسے اپنے پاس جامعہ کی فراہم کردہ رہائش گاہ میں ہفتے بھر کو ٹھہرا لیا۔ بہت نفیس طبع مگر مزاجاً سوگوار تھی۔ پہلی شادی ناکام ہو گئی تھی ایسا لگتا تھا باؤنس۔ بیک کے چکر میں بقول احمد فراز
پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے
والا سلسلۂ ناتمام تھا۔ ہمیں اس سے کیا۔ ہم تو ایسے ہر معاملے میں خود کو یہی سمجھاتے ہیں کہ
چل خسرو گھر اپنے، سانجھ بھئی چوں دیس
سب ساتھی اپنی اپنی پڑھائی کر سب لوٹ گئے۔ ہم پروگرام کے اختتام پر واپسی پر چند ماہ نیویارک میں رہنا چاہتے تھے۔ مہ وش کی میل آئی کہ وہ بھی نیویارک میں ہوتی ہے پاکستان لوٹنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ ریکارڈو اپنی ماں سے اپنی اور اس کی شادی کی اجازت لینے میڈیلن کے پاس کسی گاؤں گیا ہے۔ ان دنوں وہ بھی مین ہیٹن میں اپنی بہن کے ساتھ تھرڈ ایونیو پر رہتی ہے وہاں اس کے پڑوسیوں کا ایک ریستوراں ہے۔ نام سنو گے تو اچھا لگے گا ”چھوٹے نواب“ مینو میں لنچ پر ان کی سسرالی بھنڈی بہت مست ہوتی ہے۔ اصلی گھی میں کڑک جل بھن کر تلی ہوئی۔ میرے سابقہ سسرال والوں جیسی۔ آتے ہو۔ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ جس بیاباں میں بھی ہم ہوں گے چلے آئیں گے۔
وقت مقررہ پر پہنچ کر لنچ پر ہم کسی کونے میں مہ وش کو کھوج رہے تھے کہ اچانک ایک میز پر اپنے کرم فرما و سرپرست وہی پرانے ڈی سی صاحب دکھائی دیے۔ کسی دوست کے ساتھ لنچ پر آئے تھے اور ویسے نیویارک اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شریک تھے۔ ترقی بھی ہو گئی تھی۔
مہ وش تا حال پہنچی نہ تھی سو ادھر ادھر کی بات چیت کے بعد ہم نے جواد حسن کی شکایت اور بریگیڈیر ریاض کا پوچھا۔ کہنے لگے ریاض شرابی کو ایس پی جواد حسن کے وسیلے سے بہت ریگولر شراب اور عورت ملتی تھی۔ میلا آدمی تھا۔ مجھے ڈی آئی جی صاحب نے ایک ڈنر پر بتایا کہ ایس پی جواد کے ایما پر ایک جعلی پولیس مقابلے میں مال مسروقہ کی بازیابی کے لیے لے جاتے ہوئے تمہارے ہم مکتب صاحب ڈینو کو پولیس نے سہراب گوٹھ سے آگے فل فرائی کر دیا۔ ہم نے کہا Revenge is wild kind of justice ( انتقام وحشیانہ انصاف کا ہی ایک روپ ہے) مگر عدالت کا کام انتقام لینا نہیں۔
بہت دن بیتے بیتے، بہت دن۔ ایس پی صاحب نے خود سے بھی انتقام لیا اور ایک دن دفتر میں اپنے سرکاری پستول سے سر پر گولی مار لی۔














