مارچ یاد ہے لیکن بھگت سنگھ بھول گئے
اس عظیم انسان کا نام بھگت سنگھ ہے اس کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے یہ اس دن پیدا ہوا تھا۔ جب اس کے باپ کرشن سنگھ کو انگریزوں کی جیل سے آزادی ملی تھی۔ اس خاندان میں ایک خاص بات یہ تھی پورا خاندان انگریزوں کے خلاف احتجاج کرتا تھا۔ بھگت سنگھ نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اس کے بعد 1923 میں نیشنل کالج میں داخلہ لے کر اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا وہ مزاحمتی شاعری کا شوق رکھتے تھے۔ جس میں فیض اور میر کو بہت پسند کرتے تھے اور انگریزوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اس نفرت نے 23 مارچ 1923 کو اس کے اپنے دو دوست سکھدیو اور راج گرو کے ساتھ لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا۔ پھانسی پر لٹکتے وقت انقلاب زندہ باد کے نعرے لگتے گئے۔ ان کی آنکھیں میں خوف نہیں بلکہ جوش اور جنوں تھا۔ آج دنیا اس کو انقلابی کے نام سے بھی جانتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے آج اس انسان کو نہ پاکستان کی کتابوں میں پڑھایا جاتا نہ انڈیا کی کتابوں میں ویسے اس پر حق پاکستان کا بنتا ہے کیوں کہ اس عظیم انسان کی پیدائش پاکستان کے خطہ میں ہوئی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے۔ پاکستان کی حکومت کیوں نہیں اون کر رہی ہے؟ آج مذہب کے وجہ سے اس عظیم انسان کو بھلایا جا رہا ہے پھر کوئی کیسے کہہ سکتا ہے یہاں برابر کے حقوق ملتے ہیں۔
پاکستان کی حکومت کو اس کے بارے میں ایک بار ضرور سوچنا چاہیے۔ کیونکہ اس عظیم انسانوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اور اس نا انصافی کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کو پتہ ہی نہیں ہے بھگت سنگھ کون تھا۔ لیکن جو جھوٹ پر بنائی گئی تاریخ سب کو یاد ہے۔ اب تو نوجوانوں کو بھی سمجھ میں آ رہا ہے جو مطالعہ پاکستان پڑھایا جا رہا ہے۔ وہ جھوٹ ہے اب اس پر کوئی یقین نہیں کرنے والا ہے۔ اس پر وقت برباد کیا جا رہا ہے۔ اگر پڑھنا ہے تو سچ پڑھو عظیم لوگوں کے بارے میں پڑھو جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام درج کروایا ہے۔ جن کو دنیا یاد کرتی ہے۔ خدا کے لئے نوجوانوں کے ساتھ ظلم نہ کریں۔ انہیں سچ پڑھائیں جھوٹ نہیں جھوٹ پڑھنے سے کچھ نہیں ہو گا 75 سال سے جھوٹ پڑھتے آ رہے ہو اور اس ملک کی تباہی کر دی ہے۔ اب اور تباہی نہیں کروائیں نوجوانوں کے ساتھ انصاف کریں۔


