کہانی میرے گھر کی
ہم پانچ بھائی تھے گھر کا بٹوارہ ہو چکا تھا بڑے بھائی کا کمرہ ہم سے تھوڑا فاصلے پر تھا ہم چاروں کے کمرے ملحقہ تھے بڑے بھائی کا نام کریم الاسلام تھا اس سے چھوٹے کا نام بشیر جس کو سب شیرا پکارتے تھے اس سے چھوٹا عبداللہ جس کو ماچھی کے نام سے بلایا جاتا اس سے چھوٹا بخت نصر جس کو سب ہلاکو خان کہتے اور سب سے چھوٹا میں تھا اصل نام میرا پتہ نہیں کیا تھا مگر ماں مجھے بگٹی بگٹی پکارتی تھی۔ بڑا بھائی کریم پہلے اچھا تھا پھر اس کو ماں کے رویہ پر کچھ تعجب ہونے لگا اور رفتہ رفتہ دوریاں اتنی بڑھیں کہ وہ ہم سے الگ ہو گیا جو کمرہ ہم سے تھوڑی دوری پر تھا اس کے گرد بھی دیوار کھڑی ہو گئی۔ ماں نے بتایا کہ وہ غیروں کے بہکاوے میں آ گیا اور اپنوں سے منہ موڑ لیا۔ ہم نے ماں کی بات کو ہی سچ مانا اور بڑے بھائی کو برا بھلا کہہ کر خود کو تسلی دے لی۔ بھائی کی بس ایک نحیف سی آواز میرے کانوں میں گونجتی ہے ”ماں تم نے اچھا نہیں کیا، ماں تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو“ ۔ دیواریں اٹھنے کے عمل میں ماں کے ساتھ جس بھائی نے سب سے زیادہ ساتھ دیا وہ عبداللہ ( ماچھی) تھا زیادہ وقت نہیں گزرا ماں کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے ماچھی نے نہ جانے کیا کہا یا کیا ماں ماچھی سے روٹھ گئی اور ایک دن ماچھی اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا لوگ کہتے ہیں ماں نے اسے مارا تھا، آئی کو کون ٹال سکتا ہے وقت کا جبر یا حالات کی مجبوری جو بھی تھا یہ صدمہ بھی سہ لیا۔ شبیر (شیرا) ماں کا دستِ راست ہو گیا ماں کی کرم نوازیاں شیرے پر نچھاور ہونی لگیں شیرا ہمارے حصہ کا راشن پانی بھی استعمال کرنے لگا۔ کہیں شکایت ہوتی تو ماں شیرے کے لئے ہی لڑتی اب ماں کے ساتھ تو مقابلہ نہیں کیا جا سکتا
بخت نصر (ہلاکو خان) تھوڑے اکھڑ مزاج کا تھا اور اصول پسند بھی پڑوسی کے گھر گڑ بڑ ہوئی تو ماں نے ہلاکو خان کو پڑوسی کی مدد کرنے پر لگا دیا تب سے ہلاکو خان اس لڑائی جھگڑے میں اتنا الجھا کہ خود کو فراموش کر دیا۔ میرے پاس کچھ چیزیں تھیں جو میرے لئے بہت اہم اور قیمتی ہیں ماں نے آہستہ آہستہ وہ چیزیں مجھ سے لینی شروع کر دیں اور مجھے ان سے کھیلنے تک سے منع کر دیا۔ مجھے بہت تعجب ہوا پھر وہ چیزیں مجھے شیرا کے پاس ملیں مجھے دیکھ کر بہت دکھ ہوا میں نے ماں سے گلہ کیا تو ماں مجھ پر غصہ ہو گئی اور مجھے کہنے لگی تم تو شروع سے ہی بے ادب اور گستاخ تھے تم سے مجھے یہی امید تھی، اور پتہ نہیں کیا کیا، بولتی چلی گئی۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے ماں اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سے نہیں کسی دشمن سے بات کر رہی ہے۔ گلہ تو میرا بنتا تھا ماں سے مگر شاید ماں اپنی کمزوریوں سے آشنا تھی وہ جانتی تھی کہ وہ غلط ہے اس لیے وہ میرے ساتھ بات چیت کرنے کے موڈ میں نہ تھی۔ وہ بس مجھے ہی غلط کہے جا رہی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اپنی ماں کو کیسے سمجھاؤں کہ ماں ہوش کرو تم کو کیا ہو گیا ہے اگر تم میری بات نہیں سنو گی تو پھر میری بات اور کون سنے گا۔ گھر کا جھگڑا اگر ہم دونوں بیٹھ کر نہیں سلجھائیں گے تو پھر تیسرا فریق نہ تیرے حق میں ہو گا نہ میرے حق میں۔ ایک بار جھکا ماں کے پیر پکڑنے کو مگر ماں نے ٹھوکر مار دی میں اٹھا اپنے آنسو پونچھے اور سسکیوں سے لرزتی آواز میں بولنے کے لئے لب ہلائے تو ماں کی غضب ناک آواز سے میں لرز گیا ماں کہہ رہی تھی ”تم نے ابھی تک میری محبت دیکھی ہے اب تم میرا غصہ دیکھو گے“ ۔
کہیں بہت دور سے میرے کانوں میں کریم الاسلام کی مدھم اور نحیف آواز سرگوشی کر رہی تھی ”ماں تم نے اچھا نہیں کیا، ماں تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو“ ۔


