مِصر کی جادو نَگری: کِپلنگ کا سفر نامہ ( 1913 ) دوسری اور آخری قسط
دریائے نیل
میں تین ہفتہ مُسلسل اسٹیمر میں رہا۔ یہ دِن میں دو یا تین مرتبہ کنارے پر رُکتا۔ اِس سفر میں کچھ سیّاح ایسے بھی تھے جِن کے نزدیک مصر کی مشہوری صرف ممیوں تک محدود ہے۔ کہیں کہیں اسٹیمر کی دونوں جانب بیس بیس فٹ دور بھوری اور جامنی رنگ کی زمین تھی۔ یہ زیادہ تر صحرائی علاقہ ہے جو قدیم مصر میں اُس وقت بھی تھا جب فراعینِ مصر کے معمار اپنے فَن کی معراج پر تھے۔ اُس زمانے کے ماہرینِ زراعت نے بھی زرخیزی کے لئے کیا کیا جتن نہ کیے ہوں گے۔ اب وہ خود تو نہ رہے مگر اُن کی کچھ نشانیاں ضرور باقی ہیں۔ جہاں دریا کے کنارے نیچے ہیں وہاں دو دو میل تک ہریالی نظر آتی تھی۔ مجھے ایسے لگا گویا ایک چھوٹی کشتیٔ نوح کی تیّاری ہو رہی ہے۔ لوگ، اونٹ، بھیڑیں، بکریاں، گائے، بیل، گھوڑے وغیرہ ایک ہی جگہ موجود تھے۔
دریائے نیل کے پانی سے گندم، گنّا، باجرا، جو، پیاز، ارنڈی وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ مصریوں کی سہل پسندی ہے کہ اُنہوں نے اس دریا کی مدد سے صحرا سے سونا نہیں نکالا۔ بے چارے دریائے نیل کے اطراف کے پشتوں کو انچوں اور فٹوں کے حساب سے روزبروز تنگ کیا جا رہا ہے۔
زمینی جنت
انتظامی طور پر یہاں رہنے میں بہت مزہ ہے۔ عوام نقلِ مکانی بالکل نہیں کرتے۔ ان کے تمام وسائل براہِ راست اُن کی نظر میں رہتے ہیں۔ اُن کے مویشی بھی روزمرہ معمولات کے عادی ہیں۔ ضروری اشیاء اِن کو گھر کی دہلیز پر دستیاب ہیں۔ اِن کو آزادی میّسر ہے۔ میرا وجدان ہے کہ اِس جگہ چوری چکاری قتل ڈاکے نہیں ہوتے ہوں گے۔ یہ زمین پر ان کی جنّت ہی تو ہے۔
بینکوں میں حصص
”بھئی میں تو دولتمند ہوں! کرنے کو کچھ نہیں لہٰذا سماجی اصلاحات کرنا چاہتا ہوں! “ ۔ مغربی تہذیب کا یہ جملہ اب یہاں بھی سُننے میں آ رہا ہے۔ آج کل مصر میں عجیب و غریب اصلاحات کا چلن ہے۔ کِسان کی زمین نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جب یہاں کا کسان رقم مانگتا ہے تو میری تحقیق کے مطابق زمین کو بہتر بنانے کے واسطے اُس کو 30 سے 200 پاؤنڈ فی ایکڑ رقم ملتی ہے۔ اِس پر منافع اُدھار چکانے کے بعد 5 پاؤنڈ سے 10 پاؤنڈ فی ایکڑ بنتا ہے۔ پہلے اُس کو یہ رقم مقامی افراد دیتے تھے جو زیادہ تر یونانی النسل تھے۔ اس رقم پر سالانہ سود 30 فی صد یا کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ سے حکومت نے کاشتکاروں کے لئے ایک بینک قائم کیا ہے جو اُن کو 8 فیصد سالانہ سود پر رقم دیتا ہے۔ کِسان اِس رعایت مِلنے سے مزید زمینیں خرید کر خوب پھل پھول رہے ہیں۔ اب اِس سال یعنی 1913 میں انتظامیہ نے احکامات جاری کیے ہیں کہ پانچ ایکڑ سے کم زرعی زمین والے زمینوں کے بدلے کسی قسِم کی کوئی رقم نہیں لے سکیں گے۔
مجھے اِس قصّہ سے دلچسپی تھی کیوں کہ اِس بینک میں میرے بھی کچھ حصص ہیں۔ ہمارے آدھے سے زیادہ کھاتے دار پانچ ایکڑ سے کم زمین والے کاشتکار ہیں لہٰذا میں نے اِس سلسلے میں معلومات حاصل کیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ اِقدام ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور فرانس کے کہنے پر کیا گیا ہے جو پورے زور و شور سے صحیفہ آسمانی سمجھ کر نافِذ کیا جا رہا ہے۔
درآمدی زرعی قوانین مِصر میں ناکام
” کیا کم زمین والے کِسانوں کے اُدھار لینے کی یہ شرط اُن کو مزید زمین خریدنے سے نہیں روکے گی“ ؟ برطانوی بینکاروں سے میں نے سوال کیا۔
” بالکل روکے گی۔ یہی ہم چاہتے بھی ہیں کہ اِن کو مزید زمین خریدنے کے شوق میں اقتصادی تباہی سے بچایا جائے۔ اِن کو خود اِن ہی سے بچانا ہے“ ۔ اُنہوں نے جواب دیا۔
” مِصر میں نافذ کردہ باہر کے قوانین مددگار نہیں ثابت ہو سکتے“ ۔ میں نے اُن سے کہا۔
” ارے نہیں! “ ، ایک مُخبر نے کہا۔ ”مقامی کِسانوں کے پاس اِس حُکم سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ یہ تو فرعونوں کے زمانے سے اپنا“ خیال ”خوب رکھ رہے ہیں۔ اِنتقالِ اراضی میں رد و بدل کرنا اِن کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اور اگر کچھ بس نہ چلے تو یونانی اب بھی 30 فی صد سالانہ سود پر رقم دے رہے ہیں“ ۔
” کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” یونانیوں کو تھوڑی اور رقَم دے دو تو یہ سب طرح کے قوانین سے آپ کو بچا سکتے ہیں“ ۔
” ٹھیک ہے۔ مگر کیا زرعی بینک، کسان کی بہبود کے لئے کچھ کر سکتا ہے؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” کچھ نہیں کر سکتا! زیادہ تر کاشتکار قرض کی رقم ادا ہی اُس وقت کرتے ہیں جب عدالت سے اُن کے سر پر تلوار لٹکا دی جائے۔ بعض کاشتکار دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ خوشحال ہوتے ہیں۔ جو کم بہتر ہیں وہ اپنی زمینوں میں صحیح محنت نہیں کرتے یا حشیش کے نشہ میں لگ جاتے ہیں۔ کچھ دنیاوی اسباب کے لئے زرعی قرض لے لیتے ہیں۔ یوں بربادی اُن کا مُقدّر ہوتی ہے“ ۔
” عام کِسان کا کیا حال ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” اُس نے اِس قانون کو غلط سمجھا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ماضی میں لی گئی رقم کا کوئی حساب نہیں ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ زرعی بینک اِس سلسلے میں کچھ نہیں کرے گا“ ۔
” ایسا تو مت کہو! میرے بھی پونڈ لگے ہوئے ہیں“ ۔ میں نے جواب دیا۔
” یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں تمہارے حصص فی الحال اوپر نہیں جائیں گے۔ اگر کچھ ’تفریح‘ چاہتے ہو تو اِس سلسلہ میں فرانسیسیوں سے بات کرو“ ۔
میں نے ایک فرانسیسی سے پوچھا : ”کیا مِصر میں کسانوں کو دیے جانے والے زرعی قرضوں پر ابھی مزید تجربات کیے جائیں گے یا جو شرائط لاگو ہیں وہی رہیں گی؟“
” دو یا تین تجربات کا امکان تو ہے“ ، اُس نے فوراً جواب دیا۔ ”زرعی قرضوں کی شرائط تو خاصی مضحکہ خیز ہیں۔ مصر کی سرزمین ایسے بے سروپا قِسم کے برطانوی نظریات تھوپنے کی جگہ نہیں“ ۔
” مگر میرے حصص کا کیا بنے گا؟“ ، میں چِلّایا۔ ”وہ تو کئی پوائنٹ نیچے چلے گئے ہیں“ ۔
” بالکل ممکن ہے کہ وہ مزید نیچے جائیں لیکن اِضافہ بھی ہو گا“ ۔
” شکریہ! مگر یہ نیچے کیوں گئے اور اضافہ کب ہو گا؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” اِس لئے کہ یہ نظریہ بنیادی طور پر بے معنی ہے۔ آپ برطانوی لوگ یہ کبھی نہیں مانیں گے۔ اور اِس کے نتیجہ میں ہر ایک شے کی قیمت میں اِضافہ ہو جائے گا“ ۔
” مگر کیوں؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” کیوں کہ مِصر میں زمین ہی سب سے بڑا تحفّظ سمجھی جاتی ہے۔ اگر کوئی اِس کے عوض قرض نہ لے سکے تو دیگر چیزوں پر قرض لینے سے سود کا ریٹ بڑھ جائے گا جِس سے کام کاج، مزدوری اور حکومتی معاہدے متاثر ہو جائیں گے“ ۔
اُس نے مجھے کچھ اِس طرح قائل کیا کہ میں فراعینِ مِصر کا زندگی اور موت کا نقطۂ نظر سمجھ گیا۔ اِسی دریائے نیل کے زرخیز علاقوں پر فرعونوں کے زمانے سے بیٹھے ہوئے سود خور مجھے وہ حساب سِکھا گئے گویا آسمانوں کے خُدا بھی دو جمع دو ہی کرتے رہتے تھے۔
مقابر ڈھونڈ نے پر سرمایہ کاری
قاہرہ کے ہوٹلوں کا تمام تر انتظام سوئٹزرلینڈ کے لو گوں نے سنبھال رکھا ہے ؛ بلکہ پورے مِصر میں اِن ہی کی اجارہ داری ہے۔
میں نے اپنے مخلص دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں مصر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں۔ بعض احباب نے مجھے صحرائی کھُدائی کے کام میں ہاتھ ڈال کر مالدار ہو نے کو کہا۔ اُن مُردہ بادشاہوں کے مقابر ڈھونڈ نے اور قُبور میں خزائن کی تلاش کے چرچے انگلستان میں عام تھے۔ مجھے مُردوں کے مقابِر اور یہاں کی چیزوں سے دِلچسپی نہیں تھی۔ خاص طور پر جب مُردوں نے یہ مال و دولت اپنی آئندہ آنے والی زندگی کے لئے رکھا ہو۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ مِصری تو صریحاً خود کو مشہور کرانے والے لوگ تھے ؛ اسی لئے ہزاروں سال بعد اِن کے گڑے مُردے بھی سوا لاکھ کے ہوتے ہیں۔
جب صحرائی کھدائی مکمل ہو جاتی ہے اور اِس پر سرمایہ لگانے والے یہ خزائن اپنے کیمپوں میں لاتے ہیں تو بعض کے ہاں یہ بیش قیمت قرار پاتے ہیں۔ کچھ قِسمَت کے کَم دَھنی ہوتے ہیں۔ مگر ایک چیز دونوں میں مشترک ہے کہ اُن کی نام نہاد تجربہ کار نِگاہوں کے سامنے اور ناک کے عین نیچے کھُدائی کرنے والے قیمتی نوادرات نہ صرف پار کر جاتے ہیں بلکہ اُن کو ٹھِکانے لگا کر ڈِکار بھی جاتے ہیں۔
میں نے جب ایسے نام نہاد آثارِ قدیمہ کی کھُدائی کرانے والے یورپیوں سے اِس چوری کا ذکر کیا تو کہنے لگے : ”یہ الزام ہے۔ ہما رے مزدور تو قابِلِ بھروسا ہیں، پھر ہم تو اُن پر مُسلسل نظر رکھتے ہیں“ ۔
” اچھا؟“ ۔ میں نے اُن سے سوال کیا ”اگلی مرتبہ جب آپ کا برلن شہر میں جانا ہو تو عجائب گھر ضرور جایئے گا۔ وہاں فراعینِ مِصر کے زمانے کی جو اشیاء رکھی ہیں، اُن میں کتنی ہی آپ آنکھیں بند کر کے پہچان جائیں گے کہ یہ تو میں نے وہاں فُلاں جگہ سے نکالی تھی“ ۔
آج کل اِن عجائب گھروں کے سرپرستوں اور کرتے دھرتوں میں قطعاً کوئی اخلاقی جرات باقی نہیں رہ گئی ہے۔ تاریخی نوادرات کی غیر قانونی قزّاقی میں جرمن سب سے آگے ہیں۔
’ تلاش‘ کی تجارت
’ تلاش‘ کی یہ تجارت ہندوستان میں ریلوے لائن بچھانے کی طرح بہت رومانوی ہے۔ اُسی طرح کی تنگ گیج کی لائنیں ہیں، ویسے ہی گدھوں سے کام لیا جاتا ہے۔ ویسے ہی رنگ برنگے ملبوسات والی عورتیں اور بچے تماشا دیکھنے موجود رہتے ہیں۔ سارا دِن بیلچے اور کلہاڑے چلتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کسی زیر زمین دیوار سے کدالیں ٹکراتی ہیں ایک شور سا اُٹھتا ہے اور کھدائی کرنے والے اپنے ہاتھ احتیاط سے استعمال کر نے لگتے ہیں۔ یہ لمحہ بڑا مسرور کُن ہوتا ہے۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہفتوں ایک موتی تک برآمد نہیں ہوتا۔ اِس تلاش کا نام تجسس ہے کیوں کہ صحرا کی کھدائی میں کسی بھی وقت کچھ بھی نِکل سکتا ہے۔
فراعینِ مِصر کی یادگاریں
خوش قِسمتی سے نیویارک کے ”میٹرو پولیٹن عجائب گھر“ کے قاہرہ سائٹ آفِس میں کھدائی دیکھنے کا موقع مل گیا۔ زمیں دوز سرنگوں میں مقبرے ڈھونڈے جا رہے تھے۔ تمام لوگ کچھ دریافت ہونے کے خواہش مند تھے۔ جیسے کوئی مُردہ اپنے قیمتی ہیرے جواہرات لئے اِن ہی کا منتظر ہو۔ اِس مقام سے صرف چار میل دور، روز بروز بڑھتے ہوئے ہوٹلوں کا علاقہ تھا۔ جبکہ یہاں علاوہ دُھول اور خاک کے کچھ بھی نہیں۔ ہاں اگر ہم لوگوں کے علاوہ کچھ تھا تو وہ برسوں پہلے کی گُم شُدہ قبریں ہوں گی جہاں کبھی سوکھا تِنکا بھی نہیں اُگا ہو گا۔ یہاں 200 نسلوں سے مقبروں میں چوریاں چلی آ رہی ہیں۔ مٹی کے ڈھیروں پر آنے جانے کے مستقل راستے بن گئے ہیں۔ کوئی پتا نہیں کہ اِن کے نیچے وہ سب کچھ ہو جو آج تک نہیں نکالا جا سکا۔
میں اگلی شام فراعینِ مصر کی اُن یادگاروں کے درمیان گھوما پھرا جِن کے آگے وقت بھی ٹھہر گیا تھا۔ فرعونوں نے ایک کے بعد دوسری تعمیرات کو جاری رکھا۔ اِن کی کہانی کا پس منظر اتنا بعید ہے کہ دماغ ہی کام نہیں کرتا۔ صبح ایک فرعونی وزیر کے 5000 سال پرانے مقبرے میں جانا ہوا۔ ایسا لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو ”میں نے دُنیاوی اور روحانی دونوں طرح اپنی زندگی بھرپور گُزاری تھی“ ۔ مقبرے کے ساتھ ہی ایک تنگ راستہ چھوٹے سے کمرے میں جاتا تھا جہاں ایک پتھر کا بنا ہوا چبوترہ تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ اِس جگہ اُس کا مُردہ جِسم رکھا گیا پھر یہیں حنوط کرنے کے مراحِل مکمل ہوئے۔
بادشاہوں کی وادی
یہاں بھورے، لال اور مختلف رنگ کے پتھروں اور ٹیلوں پر مشتمِل ایک وادی ہے جِس کو بادشاہوں کی وادی کہتے ہیں۔ سینکڑوں فِٹ گہرائی میں مُردہ فرعونوں کے حنوط شدہ چہروں کو روشن کرنے کے لئے تیل سے بجلی پیدا کرنے والے انجن سارا دِن شور مچا مچا کر بادشاہوں کی نیندیں حرام کیے رکھتے ہیں۔ اِس وادی کے کنارے قرینے سے مقابِر پر نمبر لگے ہوئے ہیں۔ نیچے اترنے کے راستے پر لوہے کے حفاظتی جنگلے ہیں۔ داخلے کا ٹکٹ ہے جو آثارِ قدیمہ والے جاری کرتے ہیں۔ میں بھی ٹکٹ لے کر سیڑھیوں سے اُترا۔ کافی نیچے جا کر مترجم کی آواز کانوں میں آنے لگی جو فرعونوں کے نام بتلا رہا تھا۔ پتھروں سے تراشی گئی سیڑھیاں سیاحوں کو گرم اور تاریک راہداریوں میں لے جاتی ہیں۔ کافی پیچ و خَم والے راستے ہیں۔ جا بجا گڑھے بنے نظر آئے۔ اِن کے بارے میں بتلایا گیا کہ یہ گڑھے در اصل جعلی قبریں ہیں جو مقبرے تعمیر کرنے والوں نے مستقبل کے قبر چوروں کی پیش بندی کرتے ہوئے دھوکا دینے کے لئے بنائی تھیں۔ سیّاحوں کی واضح اکثریت ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے تھی۔ ہمارے جوتوں تلے ہزاروں سال پرانی مٹی اور دھول تھی جِس کو کبھی تازہ ہوا یا سورج کی روشنی نصیب نہیں ہوئی ہو گی۔ گائیڈ دیواروں پر بنی ان گنت چھوٹی تصاویر اور نا آشنا زبان میں لکھی گئی علامتی تحریر کے بارے میں بتلاتا رہا۔ اُس کی بعض باتیں تو بہت دِلچسپ تھیں۔ لگتا تھا کہ وہ جلدی میں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے کوئی کسی کان میں نیچے اتر کر سیر کرا رہا ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ اِنسان کسی خاص مجبوری کے تحت زمین کے نیچے جاتا ہے یا پھر اپنے ہی آخری سفر میں! شاید اِن جگہوں میں کسی کا بھی زیادہ ٹھہرنے کا دِل نہیں چاہتا ہو گا۔ کتنا ہی بڑا فرعون ہو، ممی کتنی ہی اچھی حالت میں کیوں نا ہو، بجلی کے قمقمے کی روشنی میں جو شے سب پر بھاری ہوتی ہے وہ تابوت ہے۔ میری نظر میں تو یہ کبھی بھی کوئی بہت خوبصورت منظر نہیں ہو تا۔
صحرائی ہیبت
کہا جاتا ہے کہ باغِ عدن صحرائے گوبی سے ٹِمبکٹو کے عین مرکز میں کہیں ہے۔ وہ تو میں نہیں دیکھ سکا البتہ صحراؤں میں ایسے مقام ضرور دیکھے جہاں اب بھی پرانی جنگوں میں کام آنے والوں کے ڈھانچے نظر آتے ہیں۔ اِن کے قریب اُن ہی پر استعمال شدہ خالی کارتوس بھی جا بجا دیکھے۔ صحراؤں کی بعض تنگ وادیوں اور گھاٹیوں میں بڑے بڑے مضبوط دِل والے اور نامی گرامی اسمگلر بھی سال کے ایک خاص زمانے میں جاتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ اِسی طرح صحرا کے بالکل آغاز میں بنے ڈاک بنگلوں کے مقامی مُلازمین اِن میں کبھی قیام نہیں کرتے۔ یقیناً کچھ تو ہے! افسانہ کی بنیاد میں بھی ایک حقیقت ضرور ہوتی ہے۔ پھر ٹیلوں کی اوٹ سے آوازوں کا آنا وغیرہ یہ سب صحراؤں کے ساتھ نتھی ہیں۔
ایک دفعہ میں نے صحرا میں عجیب خوفناک منظر دیکھا۔ ایک ٹیلے پر کئی قبریں تھیں اور ہر ایک قبر پرایک کھوپڑی سجی تھی۔ بہتوں کے دانت ایسے تھے گویا دیکھنے والوں کے خوف کی ہنسی اُڑا رہی ہوں۔ مجھے تو اہرام اور ابوالہول بھی اُسی صحرائی پس منظر میں دِکھائی دیے۔ اہرام کو دور اور نزدیک دونوں طرح سے دیکھنے سے دہشت طاری ہوتی تھی اور ابوالہول کا تو مطلب ہی ہیبت کا باپ ہے۔
” ابوسِمبل“ کا معبد
ایک صبح میں ”ابوسِمبل“ کے معبد گیا۔ یہ ایک چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ 60 فٹ اونچے چار مجسمے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے یومِ حِساب کے منتظر بیٹھے ہیں۔ سیّاحوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ سورج کو اِس جگہ سے طلوع ہوتے دیکھیں۔ اِس معبد کے اندر فرعون رامسس نے اپنے لئے ایک قُربان گاہ بنوائی تھی۔ سورج کی اوّلین کرنوں کا اِس جگہ پڑنا واقعی ناقابِلِ بیان اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر آپ فوراً ہی معبد سے باہر کھلی جگہ میں طلوع آفتاب کا نظارہ کریں تو آپ کو عجب منظر دیکھنے کو مِلے گا۔ وہ ہے خُدائے برتر کی طاقت اور شان! تھوڑی دیر بعد اِس معبد کے سامنے دریائے نیل میں بھی چاندی کی چمک آنے لگتی ہے۔ اگلے چند لمحے آپ کو مبہوت کر دیں گے جب اِن مجسموں کے کنارے پکھراج کے رنگ کے نظر آئیں گے۔ اُس وقت بغیر کوئی سایہ پیدا کیے چاروں مجسمے اُبھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ سورج کی ابتدائی کرنیں اِس زاویے سے پڑیں گی کہ یہ سر سے پیر تک لال روشنی میں نہا جائیں گے۔ بالکل زندہ اور حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوں گے۔ مجھے تو ایسا لگا کہ جیسے یہ بجلی کی کرسی پر بیٹھے موت کے منتظر ہیں کہ کب بجلی کا سوئچ آن ہو اور کب مر جائیں یا یوں لگتا تھا کہ ابھی انتقاماً اُٹھ کر کھڑے ہوں گے۔ اگلے لمحہ سورج کی مکمل روشنی اِن پر پڑتی ہے اور۔ اور پھر مجسمے صرف مجسمے ہی رہ جاتے ہیں۔
یہاں سے چند گز بائیں جانب ایک انگریز سپاہی کی قبر ہے۔ اس کے بارے میں بتلایا گیا کہ ایک نسل قبل درویشوں سے جنگ میں مارا گیا۔ ابو سِمبل سے وادی حائفہ تک دریائے نیل فِرعونوں کے تسلط سے بچا ہوا ہے۔ یعنی یہاں آج کے اِنسانوں کے مُردے ہیں۔ حائفہ گویا مصر کی سرحد ہے۔ حکومت بھی پسِ پردہ ہی نظر آتی ہے۔ ٹیلیگراف کے دفتر میں بھی فوجی منتظم نظر آئے۔ ایک بھی ڈھنگ کا ہوٹل موجود نہیں۔ کوئی قابِلِ ذکر تاریخی ورثہ بھی نہیں۔ یہاں ریل کی پٹری کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ کبھی ریلوے اسٹیشن اور فوجی چھاؤنی کی وجہ سے مشہور تھا۔ اب تو صحرائی ریت جا بجا ریل کی پٹری کھا گئی ہے۔ میں نے فوجیوں کے پریڈ گراؤنڈ میں لڑکوں کو فُٹبال کھیلتے ہوئے دیکھا۔ اب تو بَس اُن سب کی یادیں ہی باقی ہیں۔
یہاں مصر کا احوال ختم ہوا۔ اس کے بعد رڈیارڈ کَپلنگ سوڈان میں داخل ہوتا ہے۔






