فائدہ (افسانہ)
آج صبح بھی جب وہ فجر کے وقت جاگا تھا تو اسے امید تھی کہ نیم گرم پانی کا گلاس یا تو بستر کے سرہانے رکھا ہو گا یا جب وہ وضو سے فارغ ہو گا تو شاید اسے نیم گرم پانی کے گلاس کی آفر ہوگی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجبوراً اور حسب عادت خود ہی کچن میں جا کر ایک گلاس اٹھایا اور گیزر سے آدھا گلاس گرم پانی نکالا اور پھر ٹھنڈے پانی کے نل سے آدھا گلاس ملا کر پی لیا۔ اس کی بیوی نے جائے نماز سے اٹھ کر اس کی طرف دیکھا بھی نہیں اور ہیٹر پر پانی گرم کرنے کے لئے ایک برتن رکھ دیا۔ وہ بھاری دل کے ساتھ مسجد نکلا۔ مسجد سے واپسی پر وہ اپنے کمرے میں گیا اور اپنی ٹیبل پر کتابوں میں کہیں کھو گیا۔ ڈیسک ٹاپ آن کر کے اپنے ریسرچ پیپر پر وقفے وقفے سے کچھ لکھتا رہا۔ اس بیچ کچن سے وہی دل کو ہلا دینے والی آواز آئی۔ ”ناشتہ نہیں کرنا ہے کیا۔ یا جناب کے پیر پکڑنے ہوں گے۔“ اس کے دل کو ایک عجیب سا دھچکا لگا اور سب کچھ وہیں چھوڑ کے کچن میں آیا اور خاموشی سے ناشتہ کیا۔ اس دوران اس کی بیوی عجیب عجیب باتیں سنائے جا رہی تھی جنہیں سن کے اس کا دل جیسے بیٹھا جا رہا تھا۔ ناشتہ ختم کر کے وہ پھر کمرے میں آیا اور بھاری دل کے ساتھ آفس جانے کی تیاریاں کرنے لگا۔ تیار ہو کر برآمدے کی ایک طرف رکھے ہوئے سادہ سے ریک سے پالش والے کالے جوتے اٹھائے اور انہیں ریک کی ایک جانب رکھے ہوئے کپڑے سے صاف کیا۔ اتنے میں کچن کی کھڑکی سے سات سالہ بیٹی فجر نے آواز دی۔
” پاپا جان! جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں آپ کے جوتے ہر روز پالش۔“
وہ اتنا ہی کہہ سکی کیونکہ پیچھے سے اس کی ماں نے اسے ایک جھٹکے کے ساتھ اندر کچن کی طرف زبردستی کھینچا۔
شوکت علی محکمہ شیپ ہسبنڈری کے ریجنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ایک سینئر سائنٹسٹ تھا۔ وہ بچپن سے ہی ایک قابل اور محنتی انسان تھا۔ اس کے والد محکمہ مال میں ایک محرر تھے اور اپنی دیانتداری اور دینداری کے لئے بڑے مشہور تھے۔ شوکت علی ان کا واحد بیٹا تھا جبکہ شوکت علی کی ایک بڑی بہن بھی تھی جو سوشل ویلفیئر محکمے میں سپروائزر تھی اور اس کی شادی دوسرے شہر میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ ہوئی تھی۔ شوکت علی کے والدین اس کی شادی کے تین چار سال بعد ہی یکے بعد دیگرے فوت ہوچکے تھے اور اب شوکت علی اپنے گیارہ سالہ بیٹے الہام، سات سالہ بیٹی فجر اور بیوی راحیلہ کے ساتھ اپنے باپ ہی کے بنائے ہوئے مکان میں رہتا ہے۔ شوکت علی کی آمدنی بس اس کی تنخواہ ہے اور اسی سے گھر کا گزارہ اچھے معیار کے ساتھ چلتا ہے۔ اور بچوں کی آگے کی پڑھائی کے لئے بھی ٹھیک پیسہ جمع ہو رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے پیسے نئے مکان کے لئے بھی جمع ہو رہے ہیں۔ دو کنال آبائی زمین کے علاوہ دیگر کوئی جائیداد نہیں ہے۔
شوکت علی کی شادی بھی عجیب واقعہ تھی۔ جب وہ ویٹرنری سائنسز میں اپنی تعلیم شاندار نتائج کے ساتھ مکمل کر کے آیا تو کچھ ہی دنوں میں شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کے ریجنل ٹریننگ سینٹر میں ایک جونئیر سائنٹسٹ کی پوسٹ نکلی۔ شوکت علی چونکہ گولڈ میڈلسٹ تھے تو اسے ضروری ٹیسٹ اور انٹرویو میں شاندار کارکردگی کی بناء پر آرام سے نوکری مل گئی۔ شوکت علی کے والد کا محکمہ میں آخری سال تھا اور ان کے ریوینیو افسر کو کہیں سے معلوم ہوا کہ علی محمد کا بیٹا جونئیر سائنٹسٹ بن چکا ہے۔ بس پھر کیا تھا۔ علی محمد کو بلا کر اپنی بیٹی کا رشتہ شوکت علی کے لئے جیسے زبردستی دیدیا۔ علی محمد بھی سیدھے سادھے متوکل انسان تھے اور گھر آ کر اعلان کیا کہ شادی کی تیاری کرنی ہے۔ بڑے گھر سے رشتہ مل رہا ہے۔ اور لڑکی نے بھی پولیٹکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کی ہے اور سول سروسز کے لئے تیاری کر رہی ہے۔ شوکت علی نے اپنے والد کا فیصلہ خوشی خوشی تسلیم کیا۔
شادی کے کچھ مہینوں کے بعد ہی محکمہ مال کے بڑے افسر کی بیٹی کو شوکت علی کا پرانا گھر راس نہ آیا اور نہ ہی اس کے سیدھے سادھے والدین۔ اگلے کچھ سالوں کے دوران ہی شوکت علی کے والد اور ان کی والدہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہ بھی بعد میں انکشاف ہوا کہ شوکت علی کی بیوی نے ایک اوپن یونیورسٹی سے تھرڈ ڈویژن میں ایم۔ اے۔ کیا تھا اور اس کی ذہانت کے دانت اس کے باپ کی حرام کی کمائی سے گھر آئی ہوئی نعمتوں سے کب کے کھٹے ہوچکے تھے۔ شوکت علی اسی میں خوش تھے کہ ان کی تند و تیز زوجہ محترمہ گھر تک ہی محدود ہیں، ورنہ اگر کہیں نوکری لگ گئی ہوتی تو جانے کیا کیا جھیلنا پڑتا۔ ویسے بھی افسرِ مال کی بیٹی کا واویلا تھا کہ اس کو نوکری نہ ملنے کا سبب بھی شوکت علی کی نحوست ہی تھی۔ ورنہ اگر کسی دوسرے بڑے گھر میں شادی ہو گئی ہوتی تو آج ایک سول سروسز افسر ہوتی۔
شوکت علی کا کام ایک سائنس دان کا کام تھا، اس لئے وہ ہمیشہ گہری سوچوں میں گم رہتے تھے۔ اور وہ گھر میں اسی کی سزا بھگت رہے تھے۔ پھر بھی وہ اکثر بچوں اور اپنی بیوی سے خوشگوار تعلق بنائے رکھے ہوئے تھے، لیکن اس کی بیوی کا مزاج اس کا اچھا خاصا موڈ ہر وقت خراب کیے دیتا تھا۔ وہ اور اس کی فیملی کو ہر طرح کی سہولیات میسر تھیں اور زندگی میں کسی بھی چیز کی کمی نہ تھی۔ مگر اس کی زوجہ کی طرف سے کسی نہ کسی بات کو لے کر ہمیشہ زہریلی باتیں سننا اب گھر میں معمول تھا۔ اکثر یہ بھی ہوتا تھا کہ بچوں میں سے کسی سے کوئی معمولی غلطی یا لغزش ہوئی ہو تو اس کی آڑ لے کر بھی شوکت علی کو خوب خوب سنائی جاتی۔ کبھی منحوس کہا جاتا تھا اور کبھی گنوار۔ حالانکہ تازہ رینکنگ میں وہ ملک کے پہلے دس سائنس دانوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ خاموش رہتے او ر کوئی ایسی بات نہ کرتے جس سے گھریلو معاملات مزید بگڑ جاتے۔
ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ جب بھی انٹرنیشل سطح یا قومی سطح پر شوکت علی کا کوئی دورہ لگتا تھا یا سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی تو گھر میں اس کے ذکر سے ایک ہنگامہ کھڑا ہو جاتا تھا۔ اگر بچوں میں سے کسی نے سوشل میڈیا پر اپنے والد کی کوئی تصویر دیکھی یا اس کو نوازتے ہوئے کسی خبر یا فوٹو کا بچوں میں سے کسی نے خوش ہو کر تذکرہ کیا تو بیگم کو جیسے کوئی زہریلا کیڑا ڈنک مارتا تھا۔ اس کے بعد کسی نہ کسی بہانے بچوں کی درگت کرنا یا شوکت علی کو کھری کھری سنانا ضروری ہوتا تھا۔
شوکت علی جس پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے وہ ”شیپ کلوننگ“ تھا۔ یہ ایک بہت اہم پراجیکٹ تھا جس پر دس سال سے کام ہو رہا تھا، اور شوکت علی اس پراجیکٹ کے سربراہ تھے۔ اور آج ایک لمبے عرصے کے بعد شوکت علی کی ٹیم کو شاندار کامیابی ملی۔ وہ ایک ترک نسل کی بھیڑ کا کلون بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ہر طرف سرکاری سطح پر شوکت علی اور اس کی ٹیم کو شاباشی دی جا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا۔ شوکت علی بھی آج بہت خوش تھے اور جیسے آسمان میں اڑ رہے تھے۔ اپنے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے ایک خصوصی گاڑی میں تحائف اور پھول وغیرہ کے ساتھ شوکت علی کو گھر بھیجا اور اس کی اپنی گاڑی بھی ایک دوسرے ڈرائیور کے ہاتھ بجھوا دی۔ گھر میں پہلے ہی بچے اپنے باپ کی کامیابی پر ناچ رہے تھے اور شوکت علی کی زوجہ کچن میں منہ بسورے کچھ پکا رہی تھی۔ شوکت علی نے سارے تحفے تحائف اپنے بچوں کے سامنے رکھے اور اپنے بچوں کو چوما۔ اپنے کمرے میں جاکر کپڑے بدل کر جب ڈائیننگ روم میں آئے تو ان کی بیگم نے چائے ان کے سامنے رکھ دی۔ اتنے میں ان کے بیٹے الہام ٹیب لے کر کھڑے ہو گئے اور اپنی ماں سے مخاطب ہوئے،
”مما۔ مما۔ یہ دیکھو۔“ چیف منسٹر پاپا جان کے متعلق کچھ کہہ رہے ہیں۔ ”
” کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری ریاست بلکہ ہمارے ملک کے لئے ایک شاندار کامیابی ہے“ ۔
اور یہ دیکھو۔ ”گورنر سر بھی شاباشی دے رہے ہیں۔“ ۔
”اور یہ کوئی منسٹر بھی تعریف کر رہے ہیں۔“
”اب یہ بکواس بند کرو۔“ ۔ اچانک شوکت علی کی بیوی پھٹ پڑی!
الہام، فجر اور شوکت علی تینوں منہ پھاڑ کر راحیلہ کی طرف دیکھنے لگے۔ شوکت علی نے سر جھکایا۔ معصوم فجر ننھی آنکھوں میں آنسو سنبھالے اپنے باپ کو تکنے لگی۔ اور الہام نے کچھ دیر بعد خاموشی توڑی اور جرات جمع کر کے اپنی ماں سے مخاطب ہوئے۔ ”مگر مما۔ یہ تو ہم سب کے لئے خوشی کی بات ہے۔ ہم پاپا کی کامیابی پر خوشی کیوں نہ منائیں۔ ؟“
راحیلہ نے قہر بھری نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور چلاتے ہوئے کہا۔ ”تمہارے سائنس دان پاپا کے انعامات اور کامیابی سے ہمیں کیا فائدہ؟ ہمارے گھر کی کون سی الماریاں اور صندوق سونے اور چاندی سے بھر جائیں گے؟“


