حصول امن کے لئے محرکات


”make love not war“ یہ جملہ، سب سے پہلے، کس نے کہا تھا، حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔ ویت نامی جنگ مخالف مظاہروں میں، یہ جملہ نعروں یا پوسٹروں پر لکھت کی صورت میں مستعمل تھا۔ انیس سو پینسٹھ میں ڈیان نیویل مائر نامی، اوریگن یونیورسٹی کی طالبہ، ایک جنگ مخالف مظاہرے میں ایک کتبہ اُٹھائے ہوئے تھی جس پر یہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ کچھ ذرائع کے مطابق، ایلن گنز برگ نامی شاعر بھی اس جملے کو اپنے اشعار میں لکھتے تھے۔ جان لینن کا نام بھی اسی زمرے میں لیا جاتا ہے۔

تین سال دو ماہ سے جاری یوکرین۔ روس کی جنگ، آج کل، سعودیہ کے شہر ریاض میں سہ فریقی مذاکرات کے نتیجے میں شاید ختم ہو جائے۔ اس جنگ میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ یوکرین کی گندم ایکسپورٹ پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کے لئے پچاس ہزار فلسطینیوں کا خون بہا چکا ہے۔ اور اس کا خاتمہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ یمن میں بھی سالہا سال سے فریقین میں جنگ جاری ہے۔

امن کے حصول کے لئے یہ سمجھنا اہم ہے کہ ایک فریق کے مطالبات اور نظریات دوسرے فریق کے لئے قابلِ قبول ہیں یا نہیں۔ عموماً شروعات میں فریقین آپس میں بلاواسطہ، (ڈائریکٹ ) بات چیت نہیں کرتے۔ جیسے ریاض میں امریکن مندوبین، روسی اور یوکرینی مندوبین سے علیحدہ علیحدہ مل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ پہلے چھوٹے گروہوں میں ایک دوسرے کے خیالات اور مطالبات کی جانکاری حاصل کی جائے اور پھر فریقین کے رہنما مشترکہ مفادات میں امن معاہدے کریں تاکہ جنگ کی بجائے مستقل امن قائم ہو۔

امن پر تحقیقات کرنے والے، امن کی کوششوں کو تین درجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ امن کی تعریف کی روشنی میں جنگ اور اسلحے کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے۔

دوسرے درجے میں جنگ کے فریقین کو باقاعدگی سے آپس میں بات چیت کرتے رہنا چاہیے شاید وہ مشترکہ مفادات کی روشنی میں جنگ بندی کا اعلان کر دیں اور تیسرے نمبر پر بہت سے ممالک آپس میں سمجھوتہ کریں کہ وہ ایک دوسرے کی مدد اور حفاظت کریں گے۔ اس کی بہترین مثال، چوبیس اکتوبر انیس سو پینتالیس کو، دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد ، اقوام متحدہ کی بنیاد رکھنا تھا۔

امن کے حصول کے لئے کلچرل رول بھی نہایت اہم ہو سکتا ہے۔ مثلاً اسرائیل ایسے ممالک، جہاں مسلم، عیسائی اور یہودی بس رہے ہیں، چھوٹے پیمانے ہی پر، ایک مشترکہ پلیٹ فارم (ادارہ یا کلب) شروع کیا جائے جہاں ان کے مشترکہ مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔

امن مذاکرات میں ثالثی کردار ادا کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ وہ کوئی ملک جیسے یو ایس اے، روس اور یوکرین کے لئے کوشاں ہے، ہو یا کوئی کانفرس۔

مشہورِ زمانہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے ایک اہلکار کے مطابق اس کانفرنس میں تمام شرکاء اپنے نظریات اور مشکلات اپنی تقریروں میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کانفرنس کا ایک نسبتاً چھوٹے ہوٹل میں منعقد ہونا اس لحاظ سے فائدہ مند ہوتا ہے کہ مندوبین پروٹوکول کے علاوہ بھی کوریڈور یا کھانے کی میزوں پر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے اور بات چیت کرتے ہیں جس سے امن کے حصول میں کامیابی مل سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی امن فوج کے سپاہی، جنہیں نیلے ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے ”بلیو ہیلمٹز“ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، مختلف ممالک، جہاں ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ ہوتا ہے یا جنگ کے خاتمے پر، میں تعینات کیے جاتے ہیں۔

مؤرخین بھی امن کے حصول کے لئے اہم تحقیقات کرتے ہیں۔ جنگ کی تباہی کی سبق آموز تحریروں سے مستقبل کی ممکنہ جنگوں کو روکا جا سکتا ہے۔ جو غلطیاں سابقہ راہنماؤں نے جنگ کرنے کی صورت میں کی تھیں وہ موجودہ شاید نہ کریں۔ گزشتہ اسی سالوں میں، جرمنی اور فرانس میں کبھی کوئی بدمزگی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی سرحدی جھڑپ۔ جبکہ یہ دونوں ملک صدیوں سے جنگوں میں ملوث تھے۔ یورپین یونین میں بھی تمام ممالک، کل کے دشمن، آج کے بہترین دوست بن چکے ہیں۔

Facebook Comments HS