لفظوں کی موت

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ فنا ہو جاتی ہے۔ مگر لفظ کی موت ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات کا دائرہ کار وسیع ہے۔ لفظوں کی موت سے زبان بھی آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ لیکن لفظوں کی موت کیسے واقع ہوتی ہے چلیں میں آپ کو ایک قصے سے سمجھاتی ہوں۔ ایک دن میں نے اپنے طالب علم کو اسلامیات کا سوال یاد کرنے

Read more

کائنات اور خوابوں کے تعاقب میں لکھی کہانی ”الکیمسٹ“

  ”جب تم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہو تو پوری کائنات اس چیز کے حصول میں تمہاری مددگار ہے۔“ ” یہ بہت اچھا ہوا کہ تم جان گئے کہ زندگی میں ہر چیز کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ یہی چیز تو روشنی کے لیے جنگ کرنے والے سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ ایسے کئی شاندار جملوں پر مشتمل کتاب ”الکیمسٹ“ پائلو کوہیلو نے لکھی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والا ہر شخص اسے اپنے فہم کے مطابق سمجھ پاتا

Read more

امید پرسش غم کس سے کیجیے ناصر

اداسی، تنہائی، یاسیت اور رات کا شاعر ناصر کاظمی اپنے کلام سے اردو ادب کا دامن بھر گیا۔ کسی بھی شاعر یا ادیب کے کلام میں اس کے عہد میں ہونے والی سرگرمیاں بھی تخلیق میں اپنی جھلک دکھاتی ہیں۔ تخلیق کار جس ماحول میں پرورش پاتا ہے اور جو کچھ اس کے گرد و نواح میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ اس کے کلام پر بھی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ جن

Read more

ناول ”اندھیرا خواب“ کا موضوعاتی تجزیہ

انسان کے تمام کارفرما عوامل کے پیچھے دماغ اور اس کی پیچیدگیاں ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک انسانی دماغ شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بٹا ہوا ہے۔ کسی بھی انسان کے گرد انجام پانے والے پسندیدہ اور ناپسندیدہ عوامل یا تو اس کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں یا پھر کہیں لاشعور میں پناہ لیتے ہیں۔ مگر وقتاً فوقتاً اس کا لاشعور اور ماضی اسے اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ انسان

Read more

راکھ جس سے ہمارے چہرے آج تک سیاہ ہیں

بعض لکھاریوں کو خدا ایسا زور قلم عطا کرتا ہے کہ ان کی تخلیقات انسان بارہا پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا شمار بھی ایسے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنے سفر ناموں کی وجہ سے مشہور ہیں مگر ان کے تخلیق شدہ ناول بھی بہت دلچسپ و حیران کن ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول ”راکھ“ اس قدر شاندار ہے کہ اس ناول کو بار بار پڑھنے کا دل چاہتا ہے۔ اس ناول کا

Read more

دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more