چاند دلچسپی کا محور
چاند کی تشکیل کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں، جن میں سب سے زیادہ مقبول ”جائنٹ امپیکٹ تھیوری“ یعنی عظیم ٹکر کا مفروضہ ”ہے۔ اس نظریے کے مطابق تقریباً 4.5 ارب سال قبل ایک مریخ جتنا بڑا سیارہ“ تھیا ”زمین سے ٹکرایا تھا، جس کے نتیجے میں خلاء میں بڑے پیمانے پر ملبہ ٹکڑوں کی صورت میں بکھر گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ملبہ جمع ہو کر چاند کی تشکیل کا باعث بنا۔ یہ نظریہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود عناصر کی ترکیب زمین کی بیرونی پرت سے کس حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ سائنس دان یہ بھی مانتے ہیں کہ چاند ایک آزادانہ طور پر تشکیل پانے والا سیارہ تھا، جو بعد میں زمین کی کششِ ثقل کے باعث اس کے مدار میں آ گیا، لیکن اس نظریے کے حق میں سائنسی شواہد کم ملے ہیں۔
حال ہی میں چین کے چانگ ای۔ 6 مشن کے ذریعے چاند کے دور دراز حصے سے جمع کیے گئے قمری نمونوں کا حالیہ تجزیہ اس نظریے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ چاند ابتدائی دور میں ایک عالمی مائع لاوے کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نظریے کے مطابق، جب چاند بنا تو اس کی سطح اتنی زیادہ گرم تھی کہ وہ مکمل طور پر پگھلی ہوئی تھی۔ وقت کے ساتھ جب یہ لاوا ٹھنڈا ہوا، تو اس میں موجود ہلکے معدنیات سطح پر جمع ہو کر کرسٹ بن گئے، جبکہ بھاری عناصر نیچے بیٹھ کر مینٹل کی تشکیل کا سبب بنے۔ چاند کی قریب اور دور دراز سطح سے حاصل کردہ نمونوں میں پائی جانے والی مشابہت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ لاوے کا سمندر پورے چاند پر پھیلا ہوا تھا، نہ کہ صرف کسی ایک مخصوص حصے میں۔ ہو سکتا ہے کہ عظیم ٹکراؤ سے حرارت کی جو بہت بڑی مقدار پیدا ہوئی اس سے چٹانوں نے پگھل کر لاوے کی شکل اختیار کر لی۔
مستقبل میں چین کے قمری مشنز مزید اہم دریافتیں کر سکتے ہیں۔ چانگ ای۔ 7 مشن، جو 2026 میں متوقع ہے، چاند کے جنوبی قطب پر اتر کر پانی کی برف کے آثار تلاش کرے گا۔ اگر یہ برف وہاں موجود ہے، تو یہ مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہو گا، کیونکہ اس سے چاند پر ہی پانی اور ایندھن بنانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد چانگ ای۔ 8 مشن، جو 2028 میں بھیجا جائے گا، چاند پر ایک تجرباتی بیس قائم کرنے میں مدد دے گا، جہاں پر 3 D پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے قمری مٹی سے بنیادی ڈھانچے تیار کرنے کی صلاحیت کا تجربہ کیا جائے گا۔
چین کے یہ مشنز نہ صرف سائنسی تحقیقات کو فروغ دیں گے بلکہ چاند پر انسانی موجودگی کی راہ بھی ہموار کریں گے۔ چاند کے جنوبی قطب پر تحقیق کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں طویل عرصے تک سورج کی روشنی دستیاب رہتی ہے، جو شمسی توانائی کے استعمال کے لیے موزوں ہے۔ چین کا طویل المدتی منصوبہ چاند پر ایک مستقل تحقیقی اسٹیشن قائم کرنا ہے، جو 2030 کے بعد مزید توسیع پذیر ہو سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو چاند زمین کے قریب ایک ایسے مرکز میں تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں سے مزید خلائی مشنز، دور دراز حصوں میں بشمول مریخ کے مشنز، بھیجے جا سکیں گے۔
قمری تحقیق میں حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چاند محض ایک مردہ فلکی سیارہ نہیں بلکہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ماضی میں زبردست ارضیاتی سرگرمیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ چاند کی سطح پر موجود لاوے کے آثار، اس کی اندرونی ساخت اور وہاں پائی جانے والی نایاب معدنیات ہمارے نظام شمسی کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ چانگ ای۔ 6 جیسے مشنز سے حاصل کردہ معلومات نہ صرف چاند کی تشکیل کے بارے میں ہمارے علم کو وسعت دے رہی ہیں بلکہ مستقبل میں چاند پر انسانی موجودگی کے امکانات کو بھی بڑھا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور دیگر اجرام فلکی کو بے مصرف پیدا نہیں کیا اگر چاند وجود نہ رکھتا تو سمندروں کا پانی جوار بھاٹے سے آشنا نہ ہوتا اور کرہ ارض کا ایک بڑا حصہ آبی زندگی سے محروم ہو جاتا۔ جدید سائنسی انکشافات اور اکتشافاتِ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ”تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔


