رقص پابہ زنجیر ہی سہی
آج مجھے چیخنے دو، چلانے دو، دھاڑنے دو اور ہو سکے تو رونے دو کہ آج میرے وطن کا ہر جمہوریت اور امن پسند شخص ڈرے سہمے پیروں پر کھڑا معاشی، سیاسی اور سماجی زنجیر میں خود کو جکڑا محسوس کر رہا بے، جبکہ آزاد کہلائے جانے والے وطن کا ہر فرد بے یاس، بے بس و لاچار سا التجائی نظروں سے کسی درویشانہ مدد کا خواہاں ہے جبکہ ریاستی فرمان سے جاری کردہ ”پیکا“ قانون اپنی تمامتر آزادی اور ہولناکیوں کے ساتھ پورے سماج میں ناچ ناچ کر میرے سماج کے انسانی اور سیاسی حقوق کو نہ صرف ہڑپ کر رہا ہے بلکہ میرے دیس کی بہن بیٹیوں کی رداؤں کو قانون کے نام پر تار تار کر کے چوڑی بھرے ہاتھ میں زنجیریں پہنا رہا ہے جبکہ دیس کی بیٹیاں پر عزم ہیں کیونکہ
ہتھکڑی کی جھنکار نے
چوڑیوں کا وقار بڑھایا
صنفِ نازک جب چنگھاڑی
لرزہ طاری در و بام ہوا
تین کا ہندسہ ہی طاق ہے یارو
تھری ایم پی او ہوا تو کیا ہوا
جبکہ یہ ”پھیکا“ قانون اپنے خونیں پنجوں سے میرے دیس کے صحافیوں، سیاسی ورکروں اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کو خوف زدہ کر رہا ہے۔
موجودہ سیاسی اور سماجی خوف کی اس کیفیت سے عام آدمی تو کجا بلکہ میرا بہت ہی عزیز صحافی دوست عثمان جامعی بھی سہما سہما سا دکھائی دیا، میں نے موجودہ حالات کی کشاکشی سے نکلنے کی سبیل جب عثمان سے جاننا چاہی تو اس نے مشورہ دینے سے اجتناب برتتے ہوئے صدیوں پرانا درویشانہ قصہ سنانے پر اکتفا کرتے ہوئے کہانی سنانی شروع کردی کہ
صدیوں پرانی بات ہے، ایک تھی سلطنت وہ نازک۔ بہت ہی نازک موڑ سے گزرنے لگی۔
بادشاہ نے درباریوں، وزیروں، سیانوں سب کو بلا کر پوچھا سلطنت کیسے بچائی جائے؟
کوئی حل نہ دے پایا۔
اخر سوچ سوچ کر نڈھال ہو جانے والے مشاورتی اجلاس میں شریک ایک وزیر کھڑا ہوا اور بولا:
”بادشاہ سلامت! شہر سے دور، گھنے جنگل سے آگے، دریا سے پرے، پہاڑ کی کھوہ میں ایک درویش رہتا ہے، عالم فاضل، بڑا دانا و بینا ہے، مستقبل میں جھانک لیتا ہے، کیوں نہ اسے بلا کر مشورہ لیا جائے؟“
بادشاہ نے کہا سپاہی لے جاؤ اور اٹھا لاؤ۔
اگلا دن چڑھتے ہی درویش دربار میں حاضر تھا۔
بادشاہ نے کہا، ”اے درویش! بتایا جائے کہ سلطنت کو کیسے بچایا جائے“
درویش نے آنکھیں بند کیں اور صدیوں پار کے زمانے میں جھانکنے لگا پھر خود کلامی کے انداز میں ”ہونہہ، اس طرح، اچھا“ کہا اور کھنکھار کر بولا:
”اے بادشاہ! ایک طریقہ ہے جس سے سلطنت بچ جائے گی“
”کیا“ بادشاہ نے بے تابی سے پوچھا،
”پہلے سلطنت میں عوام کو سلطنتی امور سے دور رکھنے کے لئے سلطنت من پسند ترقی کی داستانیں عوام تک پہنچانے اور دنیا میں عوامی سلطنت کا ڈھونگ رچانے کے لئے سلطنتی امور کی تعریف کے ذریعے تشہیر کے راستے تلاش کرنے کے لئے سلطنت میں اخبار و رسائل کا اجرا کروائے اور جدید دور کی ضرورتوں کے تحت پیغام رسانی کے لئے سلطنت میں صحافی اور سوشل میڈیا تخلیق کرے، اور بولنے کی آزادی کا بگل بجوائیے پھر کچھ عرصے کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کے بعد کوئی بات سلطنت کے والی کو ناگوار خاطر لگے تو پھر قوانین بنا کر مذکورہ افراد کے بولنے پر پابندیاں لگوا دے، اور اس کے بعد بھی جو ظل الہی کی حکم عدولی کرے اسے خلاف ورزی پر بند کروا دیں، تاکہ سلطنتی امور سے عوام بہت زیادہ باخبر نہ رہے، اس طرح سلطنت بچ جائے گی اور ظل الہی کا اقتدار بھی قائم و دائم رہے گا“
پھر کیا ہوا پتا نہیں البتہ دربار میں درویش کبھی دکھائی نہ دیا۔
مگر میری ریاست تو جمہوری ہے اور عوام کے ووٹوں سے چنی جانے کے عمل کی داد لیتی آئی ہے۔ میں نے کہا۔
جی۔ قصہ گو نے چونک کر کہا ”جمہوری“ اونہہ۔
اچھا بتاؤ زنجیر پہن کر رقص کرنا آتا ہے یہاں کے عوام کو؟
کیا مطلب۔ میں نے کہا
مطلب کہ اپنے سیاسی معاشی حقوق کے لئے سیاسی دشواریاں جھیل سکنے کی جرات ہے تمہارے عوام میں۔ ؟
بالکل ہے۔ میں نے کہا، دیکھ نہیں رہے آج کل ہر طرف احتجاج، ریلیاں اور دھرنے دیے جا رہے ہیں۔
کچھ ہوا احتجاج اور دھرنوں سے۔ ؟ قصہ گو نے پھر مجھ پر حملہ کیا۔
جلد نتیجہ آنے کی امید ہے۔ میں نے پر اعتماد ہو کر جواب دیا۔
خوابوں سے نکل آؤ میاں، قصہ گو نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
سیاسی اور نظریاتی جدوجہد اگر مگر سے نہیں متحد ہو کر ملتی ہے۔ قصہ گو نے مشورہ دیا اور کہا
جب تک گروہ، قبیلوں، مذہبی تاویلات اور میری قوم تیری قوم کرتے رہو گے۔ ریاست کی طاقت قانون کے سہارے لے لے کر عوام کو کمزور کرتی رہے گی۔
پیروں میں زنجیریں ڈال کر رقص کرنے کا نظریاتی انداز بغیر نسل قوم اور گروہ اپنا لو، ریاست کو ایک روز آئینی حقوق دینا پڑیں گے، مگر صرف مشترکہ جدوجہد اور سب کو ساتھ لے کر پرامن اور نظریاتی جمہوریت پسند بن کر، قصہ گو نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ ڈالا۔
تمہیں معلوم ہے کہ صدیوں پہلے درویش کے گم شدہ ہونے کے بعد سلطنت میں گھٹن سی ہونے لگی اور عوام کی خاموشی سے حبس بڑھتا گیا اور ہر چیز ساکت و مفلوج محسوس ہونے لگی، عوام میں جب سماجی حبس کی شدت بڑھنے لگی تو سلطنت کے عوام گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوئے اور سلطنتی امور کے بجائے اس درویش کی کھوجنا میں جت گئے جس نے سلطنت کے والی کو یہ ”پھیکا“ اور بے لذت مشورہ دیا تھا، عوام کی مختلف ٹولیوں نے اس درویش کی تلاش میں سلطنت کا اک اک نکڑ اک اک گلی، چوراہا، دریچہ، چوبارہ، منڈلی، بیٹھک اور بازار کھنگال ڈالا مگر سلطنت کو خاموش کرنے کے حبس میں مبتلا کرنے کا مشورہ دینے والا درویش نہ ملا، اس دوران تلاش بسیار کے بعد جب تھک ہار کر عوام مایوس ہو چلے اور سب نا امید ہو کر ہمت ہار بیٹھے تو اس کشمکش کے دوران پڑوس کی سلطنت کے آوارہ چرواہے نے پڑوس کی درویشانہ سلطنت کی تعمیر میں اپنے درویش صفت مگر پابہ زنجیر رہنے اور با پیادہ رقص کرنے والے سفید پوش مجذوب کا قصہ چھیڑا اور کہا کہ ہماری سلطنت کا خود کو پابہ زنجیر کرنے والا یہ مجذوب اکثر تنبورہ لے کر ساز پہ جھومتا اور مستی میں مگن رقص کرتا ہے تو پھر اس مجذوب کے ارد گرد عوام جھمگھٹا ڈال کر عجیب سرشاری میں درویش کے ہم آواز ہو کر حقوق کے لئے پر عزم ہو کر گنگناتے ہیں کہ
مت قتل کرو آوازوں کو
اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے
جب حرف یہاں مر جائے گا
جب تیغ پہ لے کٹ جائے گی
جب شعر سفر کر جائے گا
جب قتل ہوا سر سازوں کا
جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا
پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں
جب دیکھو گے ڈر جاؤ گے


