پالیسی میں تسلسل ضروری ہے
افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان میں غیر ملکی افواج سے تعاون کے رد عمل میں ہوتی ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان طالبان کے مطالبے پر حکومت پاکستان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ یہ معاہدہ بھی ماضی کے معاہدوں کی طرح محض چند ماہ ہی چل سکا اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر اپنی قوت مجتمع کرلی اور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دہشتگردانہ کارروائیاں شروع کر دیں۔ افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد وطن عزیز میں بدامنی کی لہر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے کسی علاقے سے دہشتگردانہ حملے یا پھر مغربی بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ کی خبر نہ ملے۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان کی ریاستی سرپرستی و وسائل میسر ہیں۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور مذکورہ معاہدے کی ناکامی کے بعد ہمارے ہاں امن و امان کی روز بروز مخدوش ہوتی صورتحال سے یہ مفروضہ غلط ثابت ہو چکا ہے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان میں دہشتگردی دم توڑ جائے گی۔
جس وقت ہمارے وزیر اعظم افغانوں کو غلامی کی زنجیریں توڑنے پر مبارکباد پیش کر رہے تھے اور ایک طاقتور ریاستی ادارے کے چیف کابل جاکر فاتحانہ انداز میں چائے کا کپ تھام کر تصاویر بنوا رہے تھے۔ اس وقت مسلسل ان سطور میں یہ درویش سوال اٹھا رہا تھا کہ پچھلے کئی برسوں سے ہمارا ریاستی بیانیہ یہ رہا ہے کہ ”کالعدم تحریک طالبان پاکستان دراصل بھارت کی آلہ کار جماعت ہے اور افغان طالبان کا اس گروہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس تنظیم کو افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومتیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتی ہیں جس کی بدولت وہ دہشتگردی کی کارروائیاں کرتی ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والی اسی ہزار سے زائد شہادتوں اور تخریب کاری کی تمام وارداتوں کا ذمہ دار ہمیشہ ٹی ٹی پی اور اس کی سرپرست امریکہ، بھارت اور افغان حکومتوں کو قرار دیا جاتا رہا۔ کئی مرتبہ اعلان ہوا کہ ہماری طرف سے ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف افغان حکومت کو ثبوت فراہم کیے گئے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہماری متعدد درخواستوں کے باوجود افغان حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ کئی بار پاکستان نے ان دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کے بارے میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو آگاہ کیا اور ہندوستان کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت دنیا بھر کو فراہم کیے۔ کہا جاتا تھا کہ ہماری کوششوں کا اس لیے فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ افغانستان اور انڈیا کی سرپرست عالمی قوتیں بھی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار دیکھنے کی آرزو مند ہیں۔ اغیار کی ان سازشوں کے باوجود عوام کے تعاون اور سول اور ملٹری قیادت کے عزم کے سبب بڑی حد تک ہم دہشتگردی کے عفریت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تھے اور وطن عزیز میں امن بحال ہونا شروع ہو چکا تھا۔ عمران خان صاحب کے بقول افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں اور افغانستان بھی اب بدل چکا ہے۔ لہذا افغانستان سے امریکی انخلا اور“ دوست حکومت ”بننے کے بعد اس وقت وہاں طالبان کی حکومت ہے جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مخالفت مول لے کر ہم نے جن کی حمایت کی اس موقع پر تو ہمارے اعتماد کا لیول ہر صورت بلند ہونا چاہیے تھا۔ افغانستان سے لیکن اس قسم کی خبریں کیوں آ رہی ہیں کہ وہاں کی جیلوں میں قید ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ صرف رہائی ملی بلکہ وہاں کی سرزمین بھی ہمارے خلاف استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہو گئی“ ۔
ہمارے یہ سوال بالکل جائز تھے کہ یہ کیسی دوست حکومت ہے جس نے ہمارے تمام دشمنوں کو جیلوں سے رہائی دے دی ہے اور ہم سے بھی اصرار ہو رہا ہے کہ اپنے اسی ہزار بچوں کے قاتلوں کو بلا مشروط معاف کر دیا جائے۔ اس موقف پر بہت سے دوست مجھ سے ناراض ہوئے اور میری تحریروں میں بھی کانٹ چھانٹ ہوتی رہی۔ یہ بات مگر سمجھ سے باہر تھی کہ تحریک طالبان اس وقت اگر واقعی کمزور پوزیشن میں تھی اور افغانستان میں بھی ہماری دوست حکومت قائم ہو گئی تھی تو پھر آخر مذاکرات کی کیا جلدی تھی اور اتنی عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا تھا؟ یہ درست ہے کہ کوئی بھی ریاست ہمیشہ حالت جنگ میں نہیں رہ سکتی اور ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوتا ہے۔ جب ان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت لکھا تھا کہ تحریک طالبان اگر واقعی شدت پسندی چھوڑ کر ملکی آئین کے احترام کا حلف اٹھانا چاہتی ہے تو فبہا۔ اس صورت میں تحریک طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے طریقہ کار پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ تاہم یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس تنظیم کی مذموم کارروائیوں کی قیمت کسی ایک ادارے یا طبقے نے نہیں بلکہ پوری قوم نے ادا کی ہے لہذا کسی فرد کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان قاتلوں کو دوبارہ ہماری سرزمین پر لا بٹھائے۔ بار بار دہائی دی کہ اس متعلق سے کوئی بھی فیصلہ چند اشخاص کے بجائے قوم کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہونی چاہیے تھی کہ آج تک ٹی ٹی پی کے ساتھ جتنے معاہدے ہوئے، اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پہلے سے زیادہ قوت حاصل کرلی تھی۔ اس خدشے کے تحت ہی ہم نے سوال کیا تھا کہ معاہدے میں ایسی کیا ضمانت تھی جو ٹی ٹی پی کو دوبارہ اس قسم کی سرگرمی میں ملوث ہونے سے روکتی؟
اس پہلو پر غور و فکر کے بغیر اس وقت کی عسکری و سیاسی قیادت نے نہ صرف ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا بلکہ ملک سے فرار ہونے والے شر پسندوں کو واپسی کا محفوظ راستہ بھی فراہم کر دیا گیا۔ جس کا نتیجہ آج سامنے ہے۔ ریاستی پالیسی پر کس کی اجارہ داری ہے یہ ہر کوئی جانتا ہے اور مزید کچھ کہنا حد ادب سے تجاوز ہو گا۔ پیشگی معذرت کرتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ واقعتاً اگر ملکی سلامتی عزیز ہے تو ایک واضح سیاسی و خارجی پالیسی تشکیل دی جائے اور ریاستی مناصب پر کوئی بھی ہو اس پالیسی کے تسلسل میں رکاوٹ نہیں آنا چاہیے۔


