بہانے تلاش کرنے اور حل تلاش کرنے میں فرق: جانیے نان پرفارمر اور پرفارمر کی حقیقت
کسی بھی ادارے میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں : پرفارمر (Performer) اور نان پرفارمر (Performer Non) ۔ دونوں کا رویہ، طرزِ عمل اور سوچنے کا انداز بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ایک حقیقی محنتی اور نتیجہ خیز کام کرتا ہے، جبکہ دوسرا صرف باتیں اور بہانے بناتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ نان پرفارمر ہمیشہ خود کو پرفارمر کے برابر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی چور خود کو چور کہلانا پسند نہیں کرتا، اور اگر اسے چور کہا جائے تو سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی کو ہوتی ہے۔ وہ چوری تو کرنا چاہتا ہے، مگر چاہتا ہے کہ لوگ اسے ایماندار اور شریف سمجھیں، تاکہ وہ عزت بھی لوٹے اور دولت بھی۔
نان پرفارمر کی سب سے بڑی خصوصیات یہ ہوتی ہیں کہ کسی بھی کمپنی میں کوئی سسٹم یا پروسیجر بننے نہیں دیں گے کیونکہ اگر انہوں نے سسٹم بنا دیا یا بنوا دیا تو سب سے پہلے اور زیادہ وہی کٹہرے میں آئیں گے اس لئے یہ کوئی سسٹم نہیں بننے دیں گے نہ ٹیکنالوجی کو متعارف ہونے دیں گے کیونکہ اُن کا ایک ہی مقصد ہے کسی طرح کوئی پرفارمنس آڈٹ کا کوئی پروسیجر نہ بن جائے اور کسی ماہر کو کمپنی میں داخل نہیں ہونے دیں گے اگر کوئی غلطی سے ایکسپرٹ آ ہی گیا تو یہ صبح شام اس ماہر کی غلطیاں نکالنے سے اجاگر کرنے تک اور پھر اس کو کمپنی سے نکلوانے کے لئے تلے رہیں گے۔
یہ باتوں کے ماہر لیکن ایک نمبر کے کام چور ہوتے ہیں۔ نان پرفارمر ہمیشہ زبانی جمع خرچ میں ماہر ہوتا ہے۔ وہ بڑے بڑے وعدے کرتا ہے، اپنے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، لیکن جب عملی میدان میں کچھ کرنے کا وقت آتا ہے تو یا تو بہانے تلاش کرتا ہے یا پھر دوسروں کے کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتا ہے۔
دلیلوں اور جوازوں کا انبار ہوتا ہے ان نان پر فارمرز کے پاس ہر وقت، یہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اتنی زبردست دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ سننے والے کو لگے کہ شاید ان کی بات میں وزن ہے۔ ان کے پاس وقت کی کمی، وسائل کی کمی، یا حالات کی خرابی جیسے ہزاروں بہانے موجود ہوتے ہیں۔ یہ اتنا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ کچھ عرصے تک ان کا جھوٹ اصل میں سچ لگنے لگتا ہے۔
نان پرفارمر اکثر دفتری اوقات میں سوشل میڈیا پر وقت برباد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چائے کے وقفے اور گپ شپ میں مگن رہتے ہیں، ہر دفتر میں صبح پہنچتے ہی یہ نان پرفارمر دفتر کے کسی ایک کونے کو پکڑ کر گزشتہ رات کے ٹی وی چینلز، ٹاک شوز، ڈرامے، سیاست، مذہب اور ایشیاء سے لے کر یورپ کے وسائل سے مسائل تک ہر قسم کی سحر انگیز گفتگو کریں گے، نہیں کریں گے تو اس چیز پر بات نہیں کریں گے جس کی انہیں تنخواہ ملتی ہے یا جو کام اِن کے ذمہ ہے۔ اپنے کام میں بہتری لانا اِن کا ہدف نہیں ہوتا، اِن کا ہدف کام کرنے والے یعنی تمام پرفارمرز کے کاموں میں مسائل پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کی پروفائل پر ہمیشہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ لی گئی تصاویر موجود ہوں گی تاکہ وہ خود کو ایک قابلِ ذکر فرد ثابت کر سکیں، خیرات کریں گے تو اتنا دکھا کر کہ خود خیرات لینے والے کو شرم آ جائے۔ لیکن جب ان سے کام کے بارے میں سوال کیا جائے تو ان کے پاس سو بہانے تیار ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ اپنی پوسٹ، عہدے اور مراعات کا پورا لطف اٹھاتے ہیں، لیکن کام سے ہمیشہ کنی کتراتے ہیں۔ ان کا اصل ہنر یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو کسی نہ کسی کامیاب شخص کے ساتھ جوڑ کر رکھیں تاکہ ان پر انگلی نہ اٹھائی جا سکے۔ نان پرفارمر کی ایک خاص عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ محنت کرنے والے پر فارمرز کے ساتھ رہتے ہیں، ان کے کام میں مداخلت کرتے ہیں، اور جب کوئی کامیابی ملتی ہے تو اسے اپنی کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ خود کچھ کرنے کے بجائے صرف دوسروں کی محنت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ صرف کام نہ کرنے والے ہی نہیں، بلکہ کام کے دشمن بھی ہوتے ہیں۔ جہاں کوئی محنتی اور ایماندار شخص کام کرنے لگتا ہے، وہاں یہ نان پرفارمر مختلف حربے استعمال کر کے اسے بھی demotivate کرتے ہیں، اس کا راستہ روکتے ہیں یا کام میں تاخیر پیدا کرتے ہیں۔ ایک رشین ناول میں لکھاری نے ایک استاد کے بارے میں تذکرہ کیا ہے کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا اور اس کا کام یہ تھا کہ کسی بھی صحیح کام کرنے والے فرد کو اس کی جگہ پر کام نہ کرنے دے۔
میرے مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ بھی نان پرفارمر بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس کتابی باتوں اور دنیا بھر کے بزنس ماڈلز کی معلومات تو ہوتی ہے، لیکن جب خود کوئی کام کرنے کی باری آتی ہے تو وہ عملی طور پر صفر ثابت ہوتے ہیں۔
ہمارے مرحوم استاد خواجہ امجد سعید صاحب، پرنسپل ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فائنانس فرمایا کرتے تھے :
MBA کا مطلب صرف ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن نہیں، بلکہ بعض لوگ Management By Avoidance کے ماہر ہوتے ہیں۔ پاکستانی بیوروکریسی اس کی بہترین مثال ہے بلکہ ہر کمپنی کی ٹاپ منیجمنٹ اس کے ماہر ہوتے ہیں کہ کام کو لٹکانا کیسے ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں چائنا، امریکہ، یورپ اور دنیا کے امیر ترین لوگوں کی باتیں جیف بیزوس، بل گیٹس، امبانی، ٹاٹا جیسے نام تو لیتے ہیں، لیکن خود عملی میدان میں کچھ نہیں کرتے۔
دوسری طرف اصل پرفارمر کون ہوتا ہے؟ کام کرنے والا، نہ کہ بہانے بنانے والا۔ پرفارمر وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے اپنا کام کرتا ہے اور نتائج سے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیتا ہے۔ کامیاب ترین لوگ ہمیشہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کے امیر ترین افراد میں کئی وہ لوگ شامل ہیں جن کی رسمی تعلیم زیادہ نہیں تھی، لیکن ان کا عملی تجربہ بہت زیادہ تھا۔
جہاں نان پرفارمر بہانے تلاش کرتا ہے، وہاں پرفارمر حل تلاش کرتا ہے۔ وہ رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے، چیلنجز قبول کرتا ہے اور اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیتا ہے۔
یہاں کچھ عملی تجاویز شامل کی جا سکتی ہیں تاکہ منیجمنٹ نان پرفارمرز سے نمٹ سکے اور کام کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔ میں کمپنی منیجمنٹ کی توجہ چند گائیڈ لائنز کی طرف دلانا چاہوں گا۔
1۔ پرفارمنس میٹرکس طے کریں۔ ہر ملازم کی کارکردگی کو ناپنے کے لیے واضح KPIs (Key Performance Indicators) بنائیں، تاکہ کوئی بھی محض باتوں سے بچ نہ سکے۔
2۔ نان پرفارمرز کی شناخت کریں۔ جو لوگ صرف وقت گزارتے ہیں اور دوسروں کے کام میں مداخلت کرتے ہیں، ان کی نشاندہی کریں اور ان پر کڑی نظر رکھیں۔
3۔ کارکردگی پر مبنی انعامات اور سزاؤں کا نظام متعارف کریں۔ پرفارمرز کو انعامات اور ترقی دی جائے، جبکہ نان پرفارمرز کو کارکردگی بہتر کرنے کے مواقع دیے جائیں، ورنہ انہیں replace کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔
4۔ غیر ضروری میٹنگز اور فضول بحثوں پر کنٹرول کریں۔ ایسی غیر ضروری گفتگو اور گپ شپ کو کم سے کم کرنے کے لیے سخت پالیسی بنائی جائے جو کام کے بجائے وقت کا ضیاع بنتی ہیں۔
5۔ ٹیکنالوجی اور سسٹمز کا نفاذ کریں۔ نان پرفارمرز عام طور پر سسٹمز اور آڈٹ کے خلاف ہوتے ہیں، اس لیے کمپنی کو چاہیے کہ وہ ہر کام کو documentation اور tracking کے دائرے میں لے آئے، تاکہ بہانے بنانے والوں کو accountability کا سامنا کرنا پڑے۔
6۔ سخت پرفارمنس ریویو اور ٹریننگ کا انتظام ہو۔ نان پرفارمرز کو بہتر بنانے کے لیے انہیں مخصوص ٹریننگ دی جائے، لیکن اگر بہتری نہ آئے تو ان کی جگہ زیادہ اہل افراد کو موقع دیا جائے۔
7۔ ٹاپ منیجمنٹ کو خود ایک مثالی پرفارمر بننا ہو گا تاکہ ماتحت بھی ان سے سیکھیں اور ایک نتیجہ خیز کام کا ماحول پیدا ہو۔
پرفارمر اور نان پرفارمر کبھی بھی ایک لائن میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ ایک اپنی محنت سے کامیابی کی بلندیوں پر پہنچتا ہے، جبکہ دوسرا دوسروں کی محنت پر جینے کا عادی ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ پرفارمر مزید ترقی کرتا ہے، جبکہ نان پرفارمر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو بہانے بنانا چھوڑیں، کام کریں، اور اپنی کامیابی کے ذریعے خود کو ثابت کریں۔
پرفارمر اور نان پرفارمر میں واضح فرق ہوتا ہے، اور کسی بھی ادارے کی ترقی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ وہ کس طرح اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ اگر نان پر فارمرز کو پہچان کر ان سے درست انداز میں نمٹا جائے، تو کمپنی کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری آ سکتی ہے۔



"بہت عمدہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ! کسی بھی آرگنائزیشن کی کامیابی کا انحصار ایک مضبوط performance-driven culture پر ہوتا ہے، جہاں پرفارمرز کو آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں اور نان پرفارمرز کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں۔
آپ کا نکتہ بالکل درست ہے کہ سخت performance review اور ٹریننگ کا ایک مضبوط سسٹم ہونا چاہیے تاکہ ہر فرد اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرے۔ جو لوگ بہانے بنانے کے بجائے خود کو محنت سے ثابت کرتے ہیں، وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
اصل میں، ترقی کا دار و مدار صرف محنت پر نہیں بلکہ صحیح سمت میں کیے گئے strategic efforts پر بھی ہے۔ جب لیڈرشپ خود ایک مثال قائم کرتی ہے، تو پوری ٹیم میں مثبت تبدیلی آتی ہے، اور ادارے کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری آتی ہے۔
یہ پوسٹ ایک بہترین یاد دہانی ہے کہ کامیابی انہی کو ملتی ہے جو اس کے لیے سنجیدگی سے محنت کرتے ہیں!