قرضوں سے آزادی
تحریک انصاف کے دور حکومت ( 2018 ء۔ 2022 ء) کے دوران ایک خاص کمیشن تشکیل دیا گیا جس کا بنیادی مقصد یا کام یہ تھا کہ پاکستان کے کل واجب الادا قرضہ جات کے مستند اعداد و شمار کو طے کیا جا سکے۔ کل ملکی و غیر ملکی اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضہ جات میں تفریق کرنے کے علاوہ یہ قرضہ جات کس مد میں لیے گئے اور کس مد میں خرچ کیے گئے کو بھی دیکھنا اس کمیشن کے ذمہ تھا۔ اس کمیشن یا اس کی رپورٹ کا کیا بنا یا آج کل اس کمیشن کی کیا صورت حال ہے کوئی نہیں جانتا۔ تشویشناک بات ہے کہ پاکستان کے ذمہ کل کتنا قرضہ واجب الادا ہے پاکستان کا کوئی شہری یا ادارہ شاید جانتا ہی نہیں اور اگر کوئی جانتا ہے تو اسے عوام سے مخفی رکھا گیا ہے۔
واضع رہے کہ ہم یہاں یہ قطعاً ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ تحریک انصاف کی حکومت قرضے نہ لینے یا قرضوں کی واپسی کے لیے سنجیدہ تھی۔ نئے شکاری اور نئے جال کے مصداق ہو سکتا ہے کہ ان کا محض مقصد نئے قرضوں کے حصول کے لیے نئے زمرے، بہانے اور ایسے ممالک اور مالیاتی اداروں کی تلاش ہو جن سے پاکستان نے ابھی تک کوئی قرضہ نہ لے رکھا ہو۔
قرضہ جات اور واجب الادا سود کی حتمی اور حقیقی تعداد یا مقدار کو کم از کم پاکستان میں کوئی نہیں جانتا۔ اگر مرض کی بروقت تشخیص ہو جائے تو علاج ممکن ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ مونگ پھلی ٹائپ کے چھوٹے موٹے قرضوں کے حصول کی ”خوشخبری“ عوام کو سنائی جائے۔ یہ بات طے ہے کہ ملک، معیشت، ملکی خود مختاری اور عوام قرضوں کے بہت بڑے حجم کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دبتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہ خطرناک المیہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں اس بحران پر قابو پانے کے بارے میں کوئی سوچ بچار بالکل نہیں قوم اور قومی قیادت نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں یا شاید وہ سکتے کے عالم میں ہیں۔
جہاں قرضوں کا کوہ ہمالیہ ایک حقیقت ہے وہاں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کبھی نہ کبھی اس قرضہ اور سود کو چکتا بھی کرنا ہے مگر کیسے۔ معاشی بدحالی سمیت اگر اس سوال کا جواب عوامی نمائندوں سے پوچھا جائے تو وہ بات کو کہیں اور لے جاتے ہیں اور اگر کہیں اور سے پوچھا جائے تو وہ اس امر کا ذمہ دار سیاست دانوں اور ان کی کرپشن کو قرار دیتے ہیں۔ جزوی طور پر شاید دونوں فریق ہی درست کہتے ہوں مگر مرض کا تیر بہدف علاج کیا ہے یہ کوئی بھی سمجھنے اور بتانے کو تیار نہیں۔
اس ضمن میں سیاسیات اور معاشیات کے طالب علم کے طور پر ہم چند گزارشات ہی کر سکتے ہیں۔ جدید انسانی تاریخ میں جن ممالک نے ترقی کی اور نا صرف قرضوں کے بوجھ کو اتار پھینکا بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی قرضے فراہم کرنے شروع کر دیے ان کی فہرست زیادہ طویل تو نہیں مگر چین، جاپان سے لے کر جرمنی اور امریکہ تک ان تمام میں ایک بات یا قدر مشترک ضرور ہے۔ اپنے ملک میں صنعت، حرفت، تجارت، ذرائع مواصلات و نقل و حمل کو ترقی دینا ہی ان ممالک کے درمیان قدر مشترک ہے۔ مذکورہ عوامل کو ترقی دینے کے ساتھ ہونے والی پیداوار کی برآمد کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ کی کمائی کو بھی یقینی بنانا ایک اہم اور اضافی قدر ہے۔
صنعت کاری کے ذریعہ تیز ترین ترقی کی منازل طے کرنے کی بہترین مثال عوامی جمہوریہ چین کی ہے۔ عوامی انقلاب سے پہلے کا چین بادشاہوں، جاگیرداروں اور زمینداروں، کثیر آبادی پر مشتمل ایک زرعی ملک تھا۔ 1949 ء کے انقلاب کے بعد بھی انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ اور چو این لائی زراعت کے سحر سے باہر نہ آ سکے۔ ان لیڈران کا وژن یہ تھا کہ چین کو زراعت کے ذریعے سے ہی ترقی کرنی چاہیے۔ کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے راہنماء جن میں ڈینگ ژیاؤ پنگ اور شی چانگ سن جو کہ موجودہ صدر شی جی پنگ کے والد محترم ہیں ان کی سوچ تھی کہ ملک میں صنعت کاری کے بغیر ترقی ممکن نہیں لہذا پارٹی کے اندر طویل بحث و مباحثوں کے بعد زراعت کے حامیوں کو ”کھڈے لائن“ لگا کر ملک کو صنعت کاری کی راہ پر گامزن کر دیا گیا۔ سائیکل، تالے، کھلونے اور غیر ضروری بالوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی سیفٹی بمعہ ایک عدد چھوٹا سا آئینہ وغیرہ کی برآمدات سے شروع ہونے والے صنعتی سفر نے چین کو ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کی صف میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔
انڈیا اور بنگلہ دیش کی عمومی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔ آج سے تیس سال پہلے ان ممالک کی معاشی صورتحال پاکستان سے کمتر تھی۔ صنعت کاری کی پالیسی کی بدولت ان ممالک کی معاشی اور دوسرے تمام ترقیاتی اشاریوں میں بتدریج ترقی پاکستان سے بہتر ہے۔
اس وقت پاکستانی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرضہ جات کی واپسی اور سود کی ادائیگی ہے۔ ان دونوں کی ادائیگیوں کے لیے ”ڈالر“ ہی ضروری ہیں۔ ڈالر کی سب سے بڑی خامی یہ کہ انہیں چھاپہ نہیں جا سکتا انہیں صرف کمایا ہی جا سکتا ہے۔ اندرون ملک ڈالروں کی آمد کے چند راستے ہی ہیں۔
ان میں سمندر پار پاکستانیوں کی خون پسینے کی کمائی یا دولت ہے جن پر ہمارے حکمران اکثر اتراتے نظر آتے ہیں۔ ان ڈالروں کی حقیقت محض اتنی کہ ان کو اکٹھا کر کے قرضوں کا سود بھی نہیں چکایا جا سکتا اصل زر تو بہت دور کی بات ہے۔
سیاحت ڈالر کمانے کا ایک اچھا اور بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش سالانہ 420 ملین، افغانستان 75 ملین، سری لنکا 3,170 ملین، نیپال 471 ملین، انڈیا 150,000 ملین، بھوٹان 100 ملین اور پاکستان 3,500 ملین ڈالرز کماتے ہیں۔ انڈیا پاکستان سے پانچ گنا بڑا ملک ہے اس تناسب سے پاکستان کو سیاحت سے 17,500 ملین ڈالر کمانے چاہیں۔ پاکستان کے مخصوص معروضی سیاسی حالات کے پیش نظر مستقبل قریب میں سیاحت کی مد میں کوئی بڑا اضافہ ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔
معدنی وسائل کی برآمد سے ڈالر کمائے جا سکتے ہیں اس کی کامیاب مثال سعودی عرب یا قطر وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں سونے کے وسیع ذخائر کا بہت چرچا ہے۔ ہمارے اکثر لوگ سونے کے ذخائر کو بھی نمک اور کوئلے کے ذخائر کی طرح ہی سمجھتے ہیں کہ کدال لگائی اور کھوتا ریڑھی فل۔ سونے کے مذکورہ ذخائر کی اتنی ہی حقیقت ہے کہ سونے کی کان کنی کی لاگت تقریباً سونے کی قیمت کے برابر ہی ہے۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی یا علیحدگی پسندی کے پس منظر میں کہیں نہ کہیں اس فرضی سونے اور استعمال شدہ سوئی گیس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ صرف معدنی وسائل کے زور پر دنیا کے کسی بھی ملک نے ترقی نہیں کی البتہ گزر بسر کرنا اور بات ہے۔ پورا براعظم افریقہ قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے اور یہ معدنیات کام میں بھی لائی جا رہی ہیں مگر باوجود اس کے وہاں غربت اور افلاس کے ڈیرے ہیں۔
پاک چین راہداری کے منصوبے سے قوم نے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ ڈالروں کی بارش بس ہوئی کہ ہوئی وغیرہ۔ دنیا میں تجارتی راہداری کا یہ کوئی پہلا منصوبہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے نہر سویز اور پانامہ نہر بھی بڑے منصوبے ہیں جہاں سے سینکڑوں بحری جہاز روزانہ کی بنیاد پر راہداری ادا کر کے گزرتے ہیں۔ اس دولت سے چند خاندانوں یا طبقات کو فائدہ تو ضرور ہوا مگر ان ممالک کے عوام خوشحالی سے کوسوں دور ہیں اور رہی غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کی بات تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔ پاک چین راہداری کے منصوبے کی تکمیل تک پاکستان چین کاہی خاصا مقروض ہو چکا ہو گا۔ راہداریوں کے منصوبوں نے ان ممالک کی خود مختاری اور قومی سلامتی کو بھی خطروں میں ڈال رکھا ہے۔
ڈالر کمانے کے مندرجہ بالا تمام آپشن کے بعد صرف صنعت کاری کا آپشن ہی بچتا ہے۔ صنعت شاید سرے سے کوئی نئی چیز تو پیدا نہیں کرتی بلکہ موجود وسائل کو کام میں لا کر معمولی اشیاء کی قدر و قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عام مٹی کو صنعتی پراسس سے گزار کر اس سے قیمتی سرامکس تیار کی جا سکتی ہیں اور خام لوہے سے F۔ 16 جہاز بنائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں زراعت کی بنیاد پر بڑی صنعت کو قائم کیا جا سکتا ہے۔ ملکی گندم سے اعلیٰ درجے کا دلیہ یا سیریلیک تیار کر کے عالمی منڈی میں پانچ سے دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر کے ڈالر کمائے جا سکتے ہیں اس طرح کی مدوں میں بہت زیادہ کام کیا جا سکتا ہے۔
اس طرح کے صنعتی فروغ کے لیے کسی بھی غیرملکی قرضوں کی بالعموم ضرورت نہیں ہے۔ مناسب وقفوں سے ملکی ترقیاتی بجٹ کو سڑکوں اور گلیوں کو پختہ کرنے کی بجائے اسے صرف صنعت کے لیے وقف کیا جائے۔ ایک سال اگر سڑکیں نہیں بنتیں تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔ صنعت لگنے سے ہر قسم کی بیروزگاری ختم ہوگی اور برآمدات میں اضافے سے ڈالر آئے گا اور ان ڈالروں سے پھر غیر ملکی قرضوں سے خلاصی ممکن ہو سکے گی۔
ہم احتیاطاً یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ہمارے حکمران طبقات اس ضمن میں ہم سے بہت زیادہ اور اچھے طریقے سے معاملہ کی سنگینی اور ممکنہ حل کو بھی سمجھتے ہیں مگر وہ کبھی اس بارے میں دھیان نہیں دیں گے کیونکہ وہ صرف اور صرف اپنے، اپنے خاندان اور اپنے طبقہ کے مفادات کو ہی دیکھتے ہیں۔ وطن، ملک یا ریاست کے معاملات کیا ہوتے ہے یہ شاید گلہ بانوں کے بس کی بات نہیں۔


