بگاڑ بہت ہو چکا، بناؤ کی کوئی صورت نکالیں

پاکستان کے مختلف شہروں میں اچانک شروع ہو جانے والی ٹارگٹ کلنگ پاکستان میں طالبان اور داعش کے گروہوں کے مستقبل کے متشدد عزائم کے ابتدائی خاکے کی رونمائی ہے جو آگے چل کر خطے میں نئی کشیدگی اور شدت پسندی کی داغ بیل ڈالے گی۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ داعش اور ٹی ٹی پی اس قسم کے حربوں کو اس لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں کہ خوف کی فضا قائم کر کے ریاست کو دباؤ میں لایا جا سکے کیوں کہ خطے میں امریکی عزائم، ایران کے ساتھ نظر آتی کشیدگی، افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے تیزی کے ساتھ بگڑتے ہوئے داخلی حالات سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ ابھی تک سارے منظر پر اس قدر دھند چھائی ہوئی ہے کہ ریاستی اداروں میں بھی یکسوئی کے ساتھ صورت حال کی تفہیم کی اہلیت نظر نہیں آتی۔ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے روایتی اُلجھن کا شکار ہیں اور تنقید کی تپش کم کرنے کے وہی فرسودہ حربے استعمال کر رہے ہیں جن میں بیرونی دشمن زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے خطے میں محض بیرونی مداخلت کی نفسیات اتنی گھس پٹ چکی ہے کہ اس کے ہاں کسی دوسرے تصور کا گزر ممکن نہیں رہا، اس لیے کامل یکسوئی کے ساتھ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ شورش کی لگام نیو دہلی، کابل، اسلام آباد یا پھر واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی تک کوئی فریق یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ ماضی میں اُنہوں نے پراکسی کے جو بیج مہم جوئی کی خاطر اور اپنے اندرونی بگاڑ سے نظریں ہٹانے کے لیے دوسروں کی زمینوں پر بوئے تھے، وہ اتنے تناور درخت ہیں، اتنے زیادہ پھلدار اور شاخ دار ہیں کہ کسی دوسری جڑی بوٹی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہونے دیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان، بھارت، افغانستان اور امریکہ کے عالی دماغوں اور ماہرین کو لشکر طیبہ، طالبان، القاعدہ اور داعش کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ یہ ماہرین سمجھنے سے عاری ہیں کہ شورش بذات خود ایک خودکفیل مظہر ہے جس کے اعضاء ٹوٹتے بنتے رہتے ہیں اور نئی شکلوں اور ناموں کے ساتھ برسر پیکار رہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست اور سلامتی کے حوالے سے ریاستی سطح پر ایک مخصوص قسم کی مہلک سادگی پائی جاتی ہے جس کے خد و خال لامحدود طاقت اور عجلت کے اجزاء سے بنے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی نمایاں مایوسی اور شورش کے آغاز سے پہلے طاقت کا تصور ہمیں حالات کی سنگینی سے آگاہ نہیں ہونے دیتا اور جب حالات بگڑ جاتے ہیں تو ہم عجلت میں ایسے اقدامات کا سہارا لیتے ہیں کہ محرومی اور شورش کے اجزاء مزید نمایاں اور گنجلک نظر آنے لگتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور اس کے سابق قبائلی علاقوں کے علاوہ بلوچستان میں ہم اس قسم کے لاتعداد واقعات و حادثات کو دیکھ چکے ہیں کہ شروع میں اِنہیں معمولی گردانتے ہوئے نظر انداز کر دیا گیا اور جب ہر طرف حدت محسوس ہونے لگی تو پھر روایتی عجلت میں ایسے اقدامات اُٹھائے گئے کے بظاہر معمولی نظر آنے والے معاملات نہ صرف گرفت سے نکل گئے بلکہ پہاڑ نظر آنے لگے۔ ماضی میں مرکزی قوت اس بات پر مطمئن تھی کہ بلوچستان میں لاتعداد میسر سرداروں میں سے جس کو چاہے گی منتخب کر لے گی کیوں کہ سودے بازی کے رسیا بلوچ سردار اسلام آباد میں اقتدار کی راہداریوں میں دندناتے پھرتے تھے اور ہر ایک کے پاس اپنا اپنا پیکیج تھا۔ اس دوران یہ نہ سوچا گیا کہ اسلام آباد میں بیٹھے یہ سردار جس قسم کے پیکیج بیچ رہے ہیں، ان میں مقامی لوگوں کے بنیادی مسائل کا کوئی حل، مداوا یا اُن کی سہولت کا بھی کوئی سامان ہے کہ صرف سرداروں کی خود کی فلاح و بہبود ہی کے لوازمات ہیں؟ لیکن ہر بار بدقسمتی ہی فاتح رہی اور مرکزی قوتیں اُنہی سرداروں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کامیاب ہوئیں جن کے ذاتی مفادات ہی نمایاں تھے، بلوچستان کے عوامی مسائل اور بنیادی ترجیحات کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ اس طرح محدود مدت تک برسراقتدار رہنے والوں کو تو شاید فوائد حاصل ہوئے اور بظاہر بلوچستان مرکزی دھارے کے ساتھ چلتا ہوا نظر آتا رہا لیکن مقامی مسائل اور رنجشیں سُلگتی رہیں۔ مرکز کے پاس صرف دو ہی حل تھے، یا سردار بدل دو یا پھر طاقت استعمال کر کے نئے پسندیدہ لوگوں کے لیے جگہ بناؤ جن کی مدد سے صوبہ گرفت میں رہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ابھی تک مرکزی قوتیں یہ نہیں سمجھ سکیں کہ کیا وجہ ہے کہ آج نہ موثر سردار ہاتھ میں ہیں اور نہ ہی صوبہ گرفت میں نظر آتا ہے۔
تقریباً اس سے ملتی جلتی صورت حال خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع خاص طور پر سابق کرم ایجنسی، خیبر ایجنسی اور اس سے ملحق علاقوں کے ساتھ بھی رہی۔ ہم افغانستان میں تزویراتی گہرائی کے حصول میں اس قدر منہمک تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چلا کہ مذکورہ علاقوں میں ہماری روایتی غفلت کے بیچوں بیچ شورش اور بدامنی کے اجزاء کس قدر تیزی کے ساتھ پھیل گئے اور یہ خطہ فرقہ پسندوں اور انتہا پسندوں کی آماجگاہ بن گیا۔ اگر پارا چنار، پیواڑ، خیبر، تیراہ، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور اس کے گردونواح کے علاقوں کے مسلکی و مذہبی اجزائے ترکیبی کے بارے میں کامل آگاہی رکھنے والے ہمارے طاقت ور کردار تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھتے اور علاقے میں نئے آبادکاروں کو بسانے سے پہلے اُس کشیدگی کو بھی مدنظر رکھتے جو آنے والے دنوں میں پیدا ہونے والی تھی تو شاید کبھی بھی یہ مسئلہ پیدا نہ ہوتا اور یہ خطہ اس حال کو نہ پہنچتا جہاں آج پہنچ چکا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے طاقت ور ماہرین آج بھی حالات کو درست کرنے کے لیے ”پرانی مشینوں“ کی مرمت میں مصروف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انتہائی حد تک بگڑ چکی صورت حال کو اُسی طرح ٹھیک کر لیں گے جیسے ماضی میں کرتے رہے ہیں۔
اگر احتیاط کے ساتھ موجودہ صورت حال اور تیزی کے ساتھ پھیلتی ہوئی انارکی کے خد و خال کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں خطے میں اس قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم تنہا نہیں ہوتے تھے بلکہ لاتعداد بیرونی معاونین ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے۔ جہاں ہم اِن ”معاونین“ کو مطمئن کرتے وہیں اپنی دیگر خواہشات بھی پوری کرلیتے اور حالات کا ملغوبہ کسی نہ کسی حد تک ہمارے قابو میں رہتا۔ اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے اور نہ بیرونی معاونین میسر ہیں اور نہ ہی حالات کو ہم کامل طور پر اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے شورش پسند لشکروں کے منہ بند کرنے کے لیے ہمارے پاس سرمایہ نہیں اور متبادل کے طور پر مقامی لوگ بھی ہمارے ساتھ کم ہی کھڑے ہیں جو اِن لشکروں کے سامنے ڈھال بن سکیں۔ اس صورت حال میں بے یقینی اور مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے جو بدامنی کے خواہش مندوں کو مہمیز دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیزی کے ساتھ مرکزی قوت کے بے اثر ہو جانے کا تصور طاقت پکڑ رہا ہے۔ یہ ایک حوصلہ شکن صورت حال ہے اور صورت یہ ہے کہ کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

