بلوچ قبائل کی ٹرانسفارمیشن کا گداز عمل؟

شکیل بلوچ بھائی بندہ آپ کی چشم بصیرت کو داد دیتا ہے بلاشبہ آپ آئینہ ایام میں مستقبل کے حوادث کو دیکھ سکتے ہیں، مجھے بھی آپ کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ مہرنگ بلوچ ہی دراصل بلوچ اقوام کی ایسی نمائندہ لیڈر بن چکی ہیں، جس نے بلوچ سرداروں کی روایتی اجارہ داری کو ختم کر کے قبائلیت کے جمود کو توڑ دیا ہے اور وہ اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعے بلوچ قبائل کو ایک ایسا صحت مند معاشرے بنانے کی طرف پیشقدمی کر رہی ہیں، جس میں عہد جدید کے تمام عناصر موجود ہوں گے۔ چنانچہ قبائلیت کی ٹرانسفارمیشن کے اس گداز عمل کے لئے یہ ضروری ہے کہ مہرنگ بلوچ کی پرامن مزاحمتی تحریک کو مہمیز دینے کی خاطر ریاست اس کے خلاف ایسی تادیبی کارروائیوں کرے جس سے بلوچ قبائل میں اس کی مقبولیت کو پوری شدت سے راسخ کیا جا سکتا ہو۔ جیسے انگریزوں نے سبھاش چندر بوس اور بھگت سنگھ جیسے سچے فریڈم فائٹرز کو پیچھے دھکیلنے کے لئے نہرو اور گاندھی جیسے اپنے اطاعت گزاروں کی امیج سازی کی تھی، جیسے حال ہی میں برما کی فوج نے اسی قسم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے آن سانگ سوچی کو پرموٹ کیا تھا۔ علی ہذالقیاس، میرے لئے یہ دعویٰ کرنا تو ممکن نہیں کہ ہماری ریاستی مقتدرہ بھی بلوچستان میں قبائلیت کے جمود کو توڑنے کی خاطر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مہرنگ بلوچ اور سمی دین کو بطور بلوچ لیڈر پرموٹ کر رہی ہے لیکن عملاً صورت واقعہ یہی بن گئی ہے، بلاشبہ اپنی تمام تر خرابیوں اور بشری کمزوریوں کے باوجود بلوچ سرداروں خاص کر عظیم اکبر بگٹی، عطا اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری نے اپنی قبائلی شناخت، قومی وقار اور قبائلی ساخت کا کامیاب دفاع کیا، جس کی بدولت پچھلے 80 سالوں میں بلوچستان کا جغرافیائی وجود، قومی شناخت اور سیاسی تمدن مربوط اور بلوچ ساورینیٹی کا سوال قائم رہا لیکن اس کے برعکس مہرنگ بلوچ کی سیاسی تحریک بہت جلد بلوچستان کے قبائلی تمدن کو ایک ماڈرن معاشرے میں ٹرانسفارم کر لے گی جس کے نتیجہ میں بلوچ سرداروں کی روایتی بالادستی ختم، قبائلی نظم و ضبط تحلیل اور بلوچستان کا سیاسی و جغرافیائی منظرنامہ تبدیل ہو جائے گا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہماری ریاست نے خیبر پختونخوا کے پٹھان قبائلی علاقوں کو مسخر کرنے کی خاطر ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے پہلے قبائلی سرداروں کا قلع قمع کیا پھر پی ٹی ایم کی شکل میں قبائلی نوجوانوں کی ایک متوازی لیڈر شپ کھڑی کر کے بآسانی قبائلی علاقوں کو ضم کر کے وہاں کے فطری نظم و ضبط، قبائلی شناخت اور سماجی و سیاسی ڈھانچہ کو تحلیل کر کے پٹھانوں کی روایتی مزاحمتی قوت اور تاریخی سرشاری کو نہایت آرام سے تحلیل کر لیا، اب وہاں کے عوام مولانا فضل الرحمٰن جیسے معتبر عالم دین، اسفندیار ولی جیسے قدآور قوم پرست پشتون لیڈر اور روایتی قبائلی سرداروں کو ٹھکرا کر ایک پنجابی لیڈر عمران خان کے حاشیہ برداروں کو وہاں انتخابی سلطنتیں فراہم کر دی ہیں۔
محترم جناب کریم نواز بلوچ صاحب
میرا یہ ایمان ہے کہ جو شخص بھی ایک بار ہیگل کی جدلیات کو اپنی فکر اور سوچ کا پیمانہ بنا لے وہ عمر بھر دنیا کی ہر حقیقت اور وقت کی ہر کروٹ کو اسی جدلیات میں بیان کرنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، محمد عامر حسینی اگر خود یہ نہ بتاتے کہ وہ مارکسسٹ ہیں تو بھی مجھے اس کی جدلیاتی سوچ سے مزین تحریر از خود بتا دیتی کہ یہ مصنف ہیگلین ہے لیکن حیرت ہے کہ بلوچستان کی مزاحمتی تحریکوں کے حوالے سے ان کا نظریہ جدلیاتی نہیں بلکہ خالص ایجابی نوعیت کا حامل ہے اور وہ بلوچستان کی طبقاتی کشمکش کی تفہیم سے دانستہ اغماز برت کر اسے قومی بیانیہ پر ریاستی اجارہ داری کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مضمون میں ذاتی تجربات سے مملو ایک قسم کی جذباتی اپیل تو موجود ہے لیکن وہ اس ایشو کو عالمی طاقتوں کی پیکار کے تناظر میں سمجھنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے 1880 میں ہی انگریزوں نے اس وقت یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ بلوچستان اور گوادر کی بندر گاہ کو سنگاپور، ہانگ کانگ اور دبئی کی طرح مغربی طاقتوں کے تصرف میں رکھا جائے گا، جس وقت روس کی ملکہ کیتھرین دی گریٹ نے گوادر کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا نظریہ پیش کیا تھا چنانچہ دو عالمی جنگوں کے کارن مضمحل ہونے کے باوجود انگریز جب یہاں سے جانے لگا تو اس نے بلوچستان کو ایک مخصوص تنازعہ کے اندر فکس کر دیا تاکہ بوقت ضرورت تنازعات کی دراڑ کو زیادہ گہرا کر کے اس میں سرایت کر لی جائے گی۔ اس لئے روز اول سے بلوچستان کا سوال جواب طلب رکھا گیا اور یہی فارمولہ بنگال پہ بھی لگایا گیا تھا جس کے بارے میں حال ہی میں برطانیہ میں بیٹھے امریکی سفیر نے تاریخی ریکارڈ کے حوالہ سے بتایا کہ اس وقت ( 1947 ) کے برطانوی وزیر اعظم اٹیلی نے اس وقت کے امریکی سفیر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم اگلے 25 سالوں میں بنگال کو ایک آزاد مملکت بنا لیں گے تاہم اس وقت ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ اب ہمارا ہندو مسلم تنازعہ پہ مبنی اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ کے بیانیہ کو نقصان پہنچے گا۔ ( 1917 میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آ چکا تھا، جسے مغربی سرمایہ دارانہ طاقتیں دریا آمو کے اس پار روکنا چاہتی تھی، اسی مقصد کی خاطر پہلے افغانستان کو شورش کا جہنم بنایا گیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی شکل میں ایک مذہبی ریاست قائم کر کے کمیونسٹ نظریات کی اس ہندوستان تک رسائی روکی گئی جہاں کمیونزم کے لئے سب سے زیادہ زرخیز زمین تھی، جہاں کی کم و بیش نوے فیصد آبادی دلت، شودر، مزدور، ہاریوں اور غریبوں پہ مشتمل تھی ) چنانچہ اسی 1947 کی پالیسی ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر امریکہ کا جنگ دہشتگردی کی آڑ لے کر افغانستان پہ قبضہ بھی دراصل بلوچستان کی علیحدگی اور گوادر کی بندرگاہ پہ تصرف پانے کا مقصد لئے ہوئے تھا لیکن خوش قسمتی سے امریکی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو گئے مگر وہ ابھی وہ اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے کیونکہ اب چین کی گوادر تک رسائی امریکہ کے عالمی مفادات کی موت ہے اس لئے وہ چین کی راہ میں کانٹے بچھانے کے لئے گوادر سے لے کر خنجراب تک سی پیک کے اردگرد تشدد، خوف اور قومی تنازعات کا جال بن رہا ہے۔
اور اس میں ٹی ٹی پی کے علاوہ بلوچ مزاحمتی تحریک ایک موثر ہتھیار بن چکی ہے۔ لاریب، بلوچ بھی اسی طرح سوچتے ہیں جیسے محمد عامر حسینی اپنے آغاز شباب اور مابعد سوچا کرتے تھے، تاہم بلوچ ابھی ٹائم اینڈ سپیس کے اس جال سے باہر نکل کے نہیں سوچ سکتے جسے عامر حسینی بزعم خویش توڑ کر فکری آزادی حاصل کر چکے ہیں۔ بیشک، ہم سب صرف اپنی خواہشات کے غلام ہیں، ہماری اقلیم خیالات کی حیثیت خود مختار ریاست جیسی نہیں ہوتی بلکہ ہمارے خیالات ہماری دلچسپیوں اور مفادات کے غلام ہوتے ہیں، حتیٰ کہ وہ جب بغاوت کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں تو ایسے میں بھی عام طور پہ گڑبڑ ہماری دلچسپیوں میں واقع ہوتی ہے، خیالات تو ٹریفک سگنل کے اشارہ کی حیثیت رکھتے ہیں یہ دراصل دوسرا مقامی دھارا (جبلت) ہوتا ہے جو ان چیزوں سے سروکار رکھتا ہے جن کی طرف خیالات اشارہ کرتے ہیں۔ وہ اجتماعی محرکات جن پہ ہمارا فطری نظام کھڑا ہے وہ ان انفرادی جبلتوں سے کہیں زیادہ کمزور ہے، جو حصول دولت، پیکار اور جذبہ سے متعلق ہیں جو ہمارے اقتصادی نظام کی تہہ میں نظر آتی ہیں، فرانسس بیکن نے سچ کہا تھا کہ ”فہم انسانی نور خالص نہیں بلکہ اس میں ارادہ اور جذبات کے عناصر شامل ہوتے ہیں“ ۔ اسی لئے ہر آتش انتقام میں سلگتا انسان حقائق کے اثبات کے لئے غلط طریقے اختیار کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔ جس طرح آج ہمارے فطری نظم و ضبط میں انحراف روز افزوں ہے اسے قانونی تشدد کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آزادی کی پکار ہمیشہ اس دل سے اٹھتی ہے جو خفیہ طور پہ طاقت کا بھوکا ہوتا ہے۔ بیشک بلوچ عوام کو پاور میں حصہ دیے بغیر بات بنے گی نہیں لیکن زندگی کے مقاصد کے لئے یہ کافی ہے کہ ہم ان مشاہدات کو حقیقی سمجھیں جن کے متعلق مختلف لوگ ایک سی شہادت دیتے ہیں۔ حقیقت اجتماعی طور پہ مربوط احساس کا نام ہے، اس لئے زندگی کے کھیل میں کچھ اصول ایسے ضرور ہونے چاہئیں جنہیں وہ بھی تسلیم کریں جو ان کی خلاف وردی کی قدرت رکھتے ہیں۔ قصہ کوتاہ تاریخ کی رفتار و معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ بہ تسلسل اور بہ تواتر تشدد اور من مانی کارروائیوں کا دائرہ تنگ تر کیا جائے اور صلح و امن کے خط میں توسیع ہو کیونکہ یہ آدمیت کے خلاف ہے کہ معصوم انسانوں کو کسی خارجی مقاصد کے حصول کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے۔

