کرُوگر ایفیکٹ اور پاکستانی قوم


ہماری روزمرہ زندگی میں ہمیں ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں جو کم علمی کے باوجود خود کو ہر فن مولا سمجھتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات نے اس رجحان کو ”ڈننگ۔ کروگر ایفیکٹ“ کا نام دیا ہے۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی رجحان ہے جس میں کم علم یا کم تجربہ رکھنے والے افراد اپنی قابلیت کو حد سے زیادہ سمجھتے ہیں، جبکہ اصل ماہرین ہمیشہ سیکھنے کی جستجو میں رہتے ہیں اور اپنے علم کو محدود سمجھتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں کروگر ایفیکٹ کے اثرات ہر جگہ نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر، سوشل میڈیا پر ہمیں ایسے لوگ بڑی تعداد میں ملتے ہیں جو کسی خاص شعبے کی بنیادی تعلیم بھی نہیں رکھتے مگر بڑے وثوق سے سیاست، طب، سائنس اور مذہب جیسے اہم موضوعات پر رائے زنی کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہم نے دیکھا کہ کئی افراد بغیر کسی سائنسی بنیاد کے گھریلو ٹوٹکوں کو علاج کے طور پر پیش کر رہے تھے، جس کے باعث عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور ماہرین کی تحقیق کو نظر انداز کیا گیا۔

یہی رویہ سیاست میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ ایک عام شہری جو سیاسی تاریخ یا معیشت کی بنیادی سمجھ بھی نہیں رکھتا، وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے اور دوسروں کو غلط سمت میں لے جاتا ہے۔ ہمارے ہاں جو لوگ حقیقت میں سیاست، قانون یا معیشت کے ماہر ہوتے ہیں، ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی کیونکہ کروگر ایفیکٹ کے شکار افراد اپنی کم علمی کو ہی حتمی علم سمجھتے ہیں۔

تعلیمی میدان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں بہت سے طلبہ بغیر محنت کیے خود کو ذہین تصور کرتے ہیں اور اساتذہ کی رہنمائی کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ نصاب کو مکمل طور پر سمجھے بغیر خود کو کامیاب سمجھ لیتے ہیں اور جب عملی زندگی میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں تو دوسروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو طلبہ واقعی علم کی جستجو میں ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی کم علمی کو تسلیم کرتے ہوئے بہتری کی طرف بڑھتے ہیں۔

طبی میدان میں کروگر ایفیکٹ کے سب سے خطرناک نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دیہات اور چھوٹے شہروں میں جعلی حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں پر اندھا اعتماد کیا جاتا ہے۔ یہ افراد خود کو مستند ماہرین سے زیادہ قابل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بھی غلط مشورے دے کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کئی افراد بغیر کسی سند کے دوائیں تجویز کرتے ہیں اور عام شہری لاعلمی میں ان پر یقین کر لیتے ہیں، جس کے باعث مریضوں کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

کرُوگر ایفیکٹ کی جڑیں ہمارے سماجی رویوں میں بھی پیوست ہیں۔ خاص طور پر موٹیویشنل اسپیکرز نے نوجوانوں کے اندر ایک خطرناک حد تک اوور کانفیڈنس پیدا کر دیا ہے۔ یہ مقررین طالب علموں کو سکھاتے ہیں کہ بس اعتماد ہونا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی طرح ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل میں بغیر علم کے بحث مباحثہ کرنے، بڑوں کی بات نہ ماننے، اور سینئرز کی رہنمائی کو نظر انداز کرنے کا رویہ عام ہو چکا ہے۔ ایک طالب علم جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے، وہ اساتذہ اور تجربہ کار افراد سے سیکھنے کے بجائے خود کو زیادہ عقل مند سمجھنے لگتا ہے، جس سے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

اسی طرح مذہبی حلقوں میں بھی کروگر ایفیکٹ نمایاں نظر آتا ہے۔ عموماً مذہبی گروہ عوام کو یہ باور کرواتے ہیں کہ وہ کسی انسان کے سامنے جواب دہ نہیں، بلکہ صرف اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اس سوچ کے باعث کئی افراد سماجی آداب، تہذیب اور مکالمے کی خوبصورتی کو پس پشت ڈال کر محض اپنی رائے کو حتمی سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی بھی علمی یا سائنسی دلیل کو بغیر سمجھے رد کر دینا، مذہب کو ہر معاملے میں بنا تحقیق بنیاد بنا لینا اور علمی مکالمے کی جگہ جذباتی نعرے بازی کو اہمیت دینا اسی رویے کے نتیجے میں پروان چڑھتا ہے۔

یہ رجحان ہمارے قومی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ لوگ تحقیق اور مشاورت کے بغیر رائے دیتے ہیں، اپنی کم علمی کو علم کا درجہ دیتے ہیں، اور جب نتائج غلط نکلتے ہیں تو ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم ترقی کی راہ میں مسلسل پیچھے رہ رہی ہے۔

کرُوگر ایفیکٹ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی کم علمی کو تسلیم کریں۔ ہمیں علم حاصل کرنے کی جستجو کرنی ہوگی اور تحقیق و مطالعے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ذرائع پر یقین کرنے کے بجائے مستند ماہرین کی بات سننی چاہیے۔ حقیقی علم رکھنے والے افراد کی عزت کرنی چاہیے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پاکستانی معاشرہ اگر علم و تحقیق کی طرف راغب ہو جائے اور اپنی کم علمی کو اپنی طاقت میں بدلنے کی کوشش کرے، تو ہم ایک ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اسی طرح بغیر تحقیق کے فیصلے کرتے رہے، خود کو ہر فن مولا سمجھتے رہے، اور ماہرین کی رائے کو نظر انداز کرتے رہے، تو ہم مزید پسماندگی کا شکار ہو جائیں گے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور جتنا ہم سیکھنے کی کوشش کریں گے، اتنا ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔

Facebook Comments HS