کمر۔ کس، ناٹی اولڈ مین اور نیویارک پبلک لائبریری
( 1 ) کمر۔ کس
ہماری من پسند اس دکان پر کیا کیا مسالہ نہیں ہوتا، کون سا تیل ہے جو خالص اور دستیاب نہ ہو۔ اسلامی شہد ان کے ہاں بھی البتہ جعلی ہوتا ہے سو ہم نہیں خریدتے۔ مین ہیٹن نیویارک کے ”ٹریڈر۔ جوز“ جہاں بہت بھیڑ ہوتی ہے اس کے خالص شہد پر بھی ہمیں شک ہی رہتا ہے۔ اس لیے کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ ایک پاؤنڈ یعنی 453.592 گرام کے لگ بھگ شہد پیدا کرنا ہو تو کم از کم بیس لاکھ پھول درکار ہوتے ہیں۔ ایک خفیہ ادارے سے جڑے ہمارے افسر دوست کسی زمانے میں امپریس مارکیٹ کے باہر بیٹھنے والی اخروٹ فروش غیر مسلم کراچی کے قریبی علاقے کی خاتون کو دل دے بیٹھے تھے۔ آنکھیں قنچہ، جلد اجلی، خطوط جان لیوا۔ انہیں بتاتی تھی کہ اس کی ماں کے مراسم ایک سید زمین دار سے تھے۔ ہمارا دوست ہمیں اس نسلی بد احتیاطی کا احوال دیتا تو ہم کہا کرتے تھے کہ محمود غزنوی کی افواج سے لے کر ہر طرف دیکھو تو لگتا ہے
Men are indeed careless with their seed
(مرد اپنے نطفے کے معاملے میں بہت لاپروا ہوتے ہیں)
یہ جاگیردار جتنا اپنے گھوڑے بیل کتوں کی نسل کا خیال کرتے ہیں ویسی احتیاط اپنی نسل کے حوالے سے نہیں کرتے۔ سو یہ دوست محبت میں اس سے جعلی مہنگا شہد لیا کرتے تھے۔ دوستوں کو بانٹا کرتے تھے۔ افسر اور اس خوانچہ فروش ایشوریا رائے کا پیار سچا تھا۔ شہد نقلی۔ ہم نے نہ کبھی پیار کیا نہ شہد خریدا کہ چنتا کریں۔
ہمارے اس من پسند اسٹور پر البتہ کشمیر، ایران، اسپین کی زعفران، کیرالہ کی مرچی، میگھیالہ بھارت کی ہلدی، زنجبار مڈغاسکر کی لونگ اور سری لنکا کی دار چینی۔ ایک سے ایک کھجور بھی۔
یہاں سودے کی قیمت ذرا زیادہ، عملہ مستعد، منیجر دل بر اور سندھی۔ ہم سے اب کچھ مانوس بھی ہو چلا ہے۔ کراچی میں سندھی بولو تو سمجھو دوبئی کا گولڈن ویزہ کنڈیارو، گھوٹکی سے جاری ہو گیا۔ ہم میمن تو یوں بھی ان کی ہی بولی بولتے ہیں سو ایک عجب سا لگاؤ رہتا ہے۔ صدیوں کا سمبندھ ہے۔
اس دن اسٹور پر گئے تو ایک دراز قد، مہکتے عبائے اور ہم رنگ کووڈ ماسک میں لب ہائے خندان چھپائے، آنکھ پر سیاہ چشمہ چڑھائے کرخنداری دہلی کی کھنکتی اردو میں یہ لحاظ کیے بغیر کہ ہم بھی وہاں موجود ہیں پوچھتی تھی ”کمر۔ کس“ آ گیا۔ اب یہ کمر کس نام ایسا ہے کہ علامہ اقبال کے اشعار اور حکیم ناصر (جب سے تونے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے والے) وہ طلسماتی کشتے یاد آ جاتے ہیں جو وہ کراچی میں تعینات بڑے فوجی افسروں کی دورن خانہ کارکردگی کو ہارس پاؤر عطا کرنے کے لیے تبرکاً تقسیم کیا کرتے تھے۔
اس عبایئے والی خاتون نے ڈیفنس فیز فور والی اس دکان پر دو کلو کا آرڈر دے کر کمر کس کو پیک کرایا اور چل دی۔ سندھی منیجر نعیم میرانی ہمیں سندھی زبان میں بتا رہا تھا کہ ان کے ہاں ان کا اپنا ایک خاص حکیمی مسالے کا نسخہ ہے جسے وہ ”کمر۔ کس“ کہتے ہیں۔ اس کی خریداری کرنے والی زیادہ تر تاجران ہول سیل کے پنجابی، مہاجر دکانداروں کی عبائے نقاب والی، عفت مآب، شوہر پسند بیگمات ہیں۔ پیسہ سائیں یا تو ان دکانداروں کے پاس ہے یا ہمارے سندھی افسروں کے پاس۔ باقی آپ کے ہمارے جیسے، شریف لوگ تو مر گئے ہیں، کرائے کا گھر، پرانی موٹر سائیکل، ناراض اولاد، چنگچی رکشے جیسی بیوی۔ بڑا سسرال۔ ہر وقت کے مہمان۔
اس نے انکشاف کیا کہ یہ مائی لوگ ایسے چھپ چھپا کر کیش میں خریداری کرتی ہیں جیسے اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن سے کیلی فورنیا یا جنگل بوائے ویڈ لینے آئی ہوں۔ باقی دکانوں پر دنیا بھر کے پلاٹینم ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ لہراتی پھرتی ہیں۔ شوہر خریداری کے اس مرحلے پر گاڑی میں ہی اسٹئیرنگ تھامے بیٹھے رہتے ہیں۔ خود مارے شرمندگی کے ساتھ نہیں آتے۔ ویسے یہ ایک بڑی مارکیٹ کی دکان ہے۔ باقی دکانوں میں شاپنگ کے وقت یہ دونوں میاں بیوی کھوے سے کھوا ملا کر چل رہے ہوتے ہیں مگر ”کمر۔ کس“ کی خریداری کے وقت یہ احتیاط و اجتناب کا پردہ بذریعہ منکوحہ باشرع کی مدد سے قائم رکھا جاتا ہے۔
سائیں ویسے مکسڈ گرین آٹے، ہلدی، کیرالہ کی مرچی یا سونف کے دام میں پانچ روپے کلو کا اضافہ ہو تو اودھم مچا دیتی ہیں مگر ”کمر۔ کس“ پر ہم موسم آتے ہی سو روپے سے پانچ سو روپے کلو کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ بلا چوں چرا کے رقم دے مال پکڑ چل پڑتی ہیں جیسے دبا کے قبر میں بندے کو رشتہ دار وراثت کا مال لوٹنے دوڑ جاتے ہیں۔ ان میں کوئی کفایت شعار بی بی بہت منمنا کر احتجاج کرے تو ہم کہتے ہیں طورخم بارڈر طالبان والوں نے بہت سختی کر رکھی ہے۔ کشمیر سے بھی بوٹیاں نہیں آتیں۔ ہمارا بندہ پہلے کسی کشمیری سے دوبئی میں رابطہ کرتا ہے۔ کشمیریوں کے پیچھے وہاں بھارت کی خفیہ ایجنسی را لگی رہتی ہے۔ ہمارے پاکستانی کھیپیے کو بھی پنجاب پولیس یا ملٹری انٹیلی جنس والا سمجھتی ہے۔
مسالے کا پیکٹ دوبئی مال میں یا عود مہتہ (علاقہ) کی شیشہ فیکٹری (دوبئی مین ممبئی کے میمنوں کا مشہور شیشہ جوائنٹ جو چوبیس گھنٹے کھلا ہوتا ہے)۔ میں مشکل سے پانچ کلو کا پارسل پکڑاتا ہے۔ انجان بن کر ہم نے پوچھ لیا کہ ”کمر کس سے کیا ہوتا ہے“ ؟
کان کے قریب منھ لا کر کہنے لگا رات کو کھا و تو سمجھو بستر میں ہارلے ڈیوڈسن چلا رہے ہو۔ اللہ سائیں آواز بھی ویسی بمباٹ۔ فراٹے دار، ایک کلو دے دے دوں؟ ہمارے سامنے وہی چھتنار بدن والی جواں سال بیگم صاحبہ چھ ہزار تین سو فی کلو کے حساب سے دو کلو لے گئی تھیں سو دام پوچھنا عبث تھا۔ ہمارے تامل اور تاخیر کو بھانپ کر کہنے لگا ”پیسے نہیں تو کوئی بات نہیں گھر جاکر ایزی پیسہ کر دینا“ ۔ ہمارا انکار اب چہرے سے عیاں تھا۔ کہنے لگا سائیں کھا کے کے تو دیکھیں بستر میں آئی جی والے پاور Feel نہ ہوں تو مجھ پے لعنت میرے سارے گھوٹکی پر لعنت۔ ہم نے کہا کان لا۔ کان قریب لایا تو ہم نے شرارت اور سرگوشی سے کہا ”عورت نہیں“ ۔
سر جھکا کر کہنے لگا۔ اللہ سائیں یہ ہم سب سندھی لوگوں کا مسئلہ ہے : پانی اور عورت جتنی ضرورت ہے اتنی نہیں ملتی۔ میرے پاس بھی نہیں۔ اسی لیے میں بھی دو سال سے کمر کس نہیں کھاتا۔ حالانکہ دکان کے پچھلے حصے میں تین بوریاں بھری ہوئی رکھی ہیں۔
(2)
Sheela’s ۔ ناٹی اولڈ مین (Naughty Oldman)
نامی اس دکان پر ہر قسم کا body wax مل جاتا ہے۔ برازیلین ویکس بھی۔ آپ کو سرگوشیوں میں بتا دیں خواتین کا من پسند یہ وہ موم ہے جو گرم کر لگانے پر جسم کے ان حصوں سے بال ہٹا دیتا ہے جن کی نمائش اس وقت کی جاتی ہے جب کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہوتا ہے۔ چند روشن خیال نائیجرین اور یمنی اور سوڈانی علما کی مشترکہ رائے ہے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں سن 2022 میں دی تھی مگر چونکہ یہ سب کا مسئلہ نہیں اس لیے ان کی جانب سے باقاعدہ فتوی نہیں جاری ہوا کہ دین میں برازیلین ویکس کی گنجائش ہے بشرطیکہ کہ جس کا بدن ہو وہ یہ اہتمام خود کرے کسی دوسرے مرد یا عورت کو برازیلین ویکس کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ ایسا کرنے یا کرانے والی عورت اور مرد، دین کے دائرے سے خارج ہیں۔
رات گئے جمع ہونے والے دکاندار میمن تاجر حلقوں میں جس میں سلیم بھی شامل ہوتا ہے ان کے درمیان جب عمران خان پر اڈیالہ جیل میں سقوط بغداد کے بعد خلیفہ متعصم باللہ والا بھیانک سلوک، غازہ کے پیچھے کس کی سازش، کراچی میں ڈمپروں کے حادثات اور رمضان میں جنوبی پنجاب سے آئے فقیروں کی دوبئی اور کراچی میں یلغار جیسے موضوعات ختم ہو جاتے ہیں تو کس کی دکان پر کیا مل رہا ہے۔ وہ مسائل چھڑ جاتے ہیں۔ یہ سب بخوبی جانتے ہیں کہ دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں اور ماں کہتی تھی کہ کوئی دھندا چھوٹا نہیں ہوتا۔
سلیم کی دکان پر تمام ممالک سے منگوائی گئی جو برازیلین ویکس ہے نا اس کی سب سے زیادہ خریدار خواتین کی عبایہ بریگیڈ ہوتی ہے۔ سلیم کہہ رہا تھا ہر عید سے پہلے دو ہزار بوتل بیچ لیتا ہے۔ دوسو روپے بوتل منافع رکھو تو چار لاکھ روپے چوکس۔ صرف اس ایک آئٹم سے اسٹاف کی ایک مہینے کی تنخواہ اور بونس نکل آتا ہے۔ وہاں ایسے ہزاروں آئٹم ہیں۔
تاجر گھرانوں کی آسودہ حال، خوش مزاج کام و دہن کے ذائقے کی شوقین خواتین ہوتی ہیں جن کے ہات اور کلام دونوں میں بارے مسالے کی چاٹ کا سواد ہوتا ہے۔ وہ میک اپ کا سامان لینے اس دکان پر آتی ہیں۔
سلیم نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے یہ کر رکھا ہے کہ خود برابر کی بلڈنگ میں دفتر میں بیٹھ کر دکان کو کیمروں سے مانیٹر کرتا رہتا ہے۔ دکان کا نام بھی شیلا کی جوانی والے گانے سے متاثر ہو کر فریب کامل کے اہتمام میں ”شیلاز“ رکھا ہے۔ میک اپ کے سامان کا یہ بڑا کام ہے۔ ساتھ کے دفتر کے تینوں فلورز بھی اس کے پاس ہیں اور کراچی کے بیشتر بیوٹی سیلون اس سے ہی مال کی ڈیلوری لیتے ہیں۔ زیادہ تر سامان چین، تھائی لینڈ، بھارت اور فرانس کا ہوتا ہے۔ چین کا حصہ ساٹھ فیصد۔
ریٹیل کے کام کے لیے ساتھ ہی البتہ ایک چھوٹا سا تین منزلہ اسٹور ہے۔ عام دن ہوں تو یہاں خواتین ٹوٹی پڑتی ہیں۔ مردوں کا داخلہ مناسب نہیں مانا جاتا۔ عورتوں کے مسی کاجل اور کریم لوشن والی دکان میں نوج مردوے کا کیا کام۔ وہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ کوئی شیف یہ پسند نہیں کرتا کہ کھانا بناتے وقت اس سے آپ بار بار کھانا چکھنے کی فرمائش کریں۔
ہمارے اور سلیم کے دیرینہ مراسم کا وہاں منیجر صاحبہ نمو نینسی کے علاوہ دیگر عملے کے بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ ہم اس دن شیلاز پرچلے گئے۔
ایک آدھ مرتبہ بیگم کے ساتھ بھارت کا ڈابر آملہ تیل لینے گئے تھے کسی نے کہا آملے کے اصلی تیل میں لیموں ڈال کر بالوں میں لگاؤ تو سر کے بال بالکل ہانیا عامر جیسے ہو جاتے ہیں، اس کے لیے البتہ بالوں کا سر پر موجود ہونا شرط ہے۔ رمضان کے آخری روزے چل رہے تھے سو عصر کا بوجھل پن ماحول پر طاری تھا ویسے جو اہل سلوک اور رسائی ہیں ان کے لیے تو لمحۂ تجلیات ہوتا ہے کہ اس روزے دار کا صبر اور رب کریم کی عطا کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔
افطار سے کچھ چالیس پنتالیس منٹ پہلے ذرا سوختہ تھا۔ لگتا تھا فیشن کی ماریاں گاہک افطاری بناتی ہوں گی۔ سیلز گرلز بھی ایک دلبرانہ عدم دلچسپی اور رومانچک سی روحانی تھکاوٹ کا شکار تھیں۔ ان میں سے اکثر ہیں بھی بہت سجیلی اور دلبر۔ throw بھی بہت ہے۔ سلیم کی آنکھ اچھی ہے کہتا ہے خود سندر نہیں تو سنگھار کو رہنے دو، مال کون لے گا، جم میں کمزور ٹرینر اور بیوٹی شاپ پر بھوتنیاں مال بیچیں گی تو خریدار بھی جنات اور چڑیلیں ہوں گی۔
حسین اور دلربا سیلز گرلز اسٹور کے تینوں فلورز پر ننگے پائوں گھومتی ہیں۔ جن کو فٹ فیٹش ہو، انہیں مایوسی ہوگی۔ کسی ایک کے پائوں ایسے نہیں کہ آپ کو قدم بوسی پر اکسائیں۔
ہمارے نصیب اچھے تھے۔ منیجر نمو نینسی کے اشارے پر اداکارہ دھرشا گپتا جیسی ایک سیلز گرل کو ذمہ ملا کہ ہمیں دوسری منزل پر ایک نرم سا آئی لائنر برش دکھائیں۔ ہماری تربیت میں شامل ہے کہ چالیس برس کی خاتون سے کبھی نہ پوچھیں کہ روزہ ہے مگر مزاج میں اسے دیکھ کر شرارت عود کر آئی توہم نے پوچھا ”روزہ ہے؟“ شرما گئی
ہم نے کہا ”شرما مت۔ ہمارا بھی نہیں۔ پانی پینا تھا۔ اس لیے پوچھا“ ۔
پانی پل اکر سخن فرمایا کہ ”شکل تو نورانی ہے۔ روزہ کیوں نہیں رکھتے؟“
ہم نے کہا ”جب رکھتے تھے تب بھی کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا؟ اب پتہ چلا اللہ میاں کو خوش رکھنا ہو تو بھوکا پیاسا رہنا ضروری نہیں“ ہنسنے لگی
ہم نے کہا۔ ”تو نے کیوں نہیں رکھا؟“
کہنے لگی۔ I am a Hindu
اب ہمارا سوال تھا۔ ”بندی کیوں نہیں لگائی؟“
کہنے لگی ”شوق بہت ہے مگر شادی نہیں ہوئی“ ۔
ہم نے شرارت کی کہ ”چل تیرا شوق پورا کر دیں“ ۔
ہنس کے کہنے لگی
naughty Old man
ہم نے کہا ”ویسے شادی ہماری بھی نہیں ہوئی“
حیرت سے کہنے لگی ”وہ کیوں؟
ہم نے کہا ”جب حالات اچھے تھے سب تیری طرحnaughty man کہہ کر دوڑ جاتی تھیں
آج ارادہ سچا تھا۔ تو تو نے naughty Old manکہہ کر ٹال دیا ”
برش کے بارے میں پوچھنے لگی ”ہم کیا کریں گے کوئی میک اپ آرٹسٹ ہیں کیا؟
ہم نے بتایا
”یہ جو نرم بالوں والا آئی لائنر برش ہوتا ہے اس سے پنسل شیڈ کی Blending بہت اچھی ہوتی ہے
Skin tone Smoothلگتی ہے۔ تصویر اداکارہ دھرشا گپتا کی ہے۔ لگ بھگ اس جیسی ہی ہے۔
سیلز گرل کا نام چندرا۔ اسٹور کا نام ”شیلاز“ یہ بھی ڈیفنس میں کہیں واقع ہے۔ کھوج لیں۔ گوگل پر سب کچھ مل جاتا ہے
(3)
نیویارک کی پبلک لائبریری
ہمارے ہاں تو وزیر اعظم ہائوس میں چھ سال پہلے کی سمری فائل نہیں ملتی۔
نیویارک میٹرولٹن لائبریری میں ہاٹ ڈاگ فروخت کرنے والا یہ ٹھیلارکھا ہے ہم نے ”لنچ“ پر ایک نمائش میں خود دیکھا ہے
کمیونٹی سروس کی جو رضا کار خاتون سب کو اس نمائش کی تفصیلات سے آگاہ فرماتی تھیں، وہ ایسی فیروزی یبینٹلے سے تشریف لائیں تھیں۔ بینٹلے مہنگی لگژری کار ہے اصل مالکان سے رولس رائس نے خریدی اور اب واکس ویگن کمپنی کے پاس ہے۔ اپنی روایات برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ اس کا مکمل انٹیرئر آپ کی مرضی سے ڈیئزائن ہوتا ہے۔ ملکہ برطانیہ کو چونکہ ہماری طرح سرخ شراب کے رنگ کی بینٹلے پسند تھی سو ان کے لیے ایسا ہی اہتمام ہوتا تھا۔ شخصیت بھی بہت معتبر اور پھر کار بھی ایسی جان لیوا۔ اس کار کے لوگو (LOGO) کو ”بگ بی“ کہتے ہیں۔
بھارتیوں میں یہ رسم عام ہے کہ وہ گوروں سے اور ہم بھارتی لوگوں سے نقل کرتے ہیں۔ امیتابھ بچن میں بھی چونکہ احساس تفاخر اور ہندی بولی کے حوالے سے اونچ۔ پنا اور پردھانتا کا مان بہت ہے اس لیے انڈسٹری انہیں بینٹلے والے لوگو کی طرح بگ بی پکارے تو بہت نہال رہتے ہیں۔
ہم دیدھا میں تھے کہ اتنی بڑی لائبریری میں نمائش جانے کس کونے میں ہو اس بینٹلے والی بی بی سے اترتے وقت پوچھ بیٹھے۔ شاداں و فرحاں کہنے لگیں۔ ”ارے میں ہی تو یہ نمائش کنڈکٹ کروں گی آؤ میرے ساتھ۔ کافی پیتے ہیں ابھی تو بیس منٹ ہیں۔ پچاس برس سے اوپر کی عورتوں کا نام اور چالیس برس سے اوپر کی عورتوں کی عمر نہ پوچھنا ہماری سول سروس کی تربیت کا حصہ ہے۔ سو ہم نے نام نہیں پوچھا۔ ان کی تو بس آواز ہی پہچان ہوتی ہے وہ بھی بقول گلزار گر یاد رہے۔
یہ خاتون خود کو نیویارک کی تاریخ پر فریفتہ مانتی تھیں۔ مزاج شائستگی اور وضع داری مگر کمال کی۔
ہم چونکہ وقت سے پہلے آ گئے تھے لہذا بتانے لگیں کہ اللہ کا دیا ان کے پاس سب کچھ ہے۔ پشتینی رئیس۔ اولڈ منی سمجھ لیں۔ پنجاب میں جنہیں Rich from behind کہا جاتا ہے۔ اس لائبریری اور اس سے انہیں خاص انس ہے یعنی نیویارک پبلک لائبریری۔ بہت وقت یہاں بتاتی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے ریلوے اسٹیشن گرینڈ سنٹرل اور دنیا کے سب سے مالدار قطعہ زمین مین ہیٹن کے سامنے یہ لائبریری ہے۔ ہر سال یہاں ہزاروں سیاح آتے ہیں۔
نمائش کا موضوع لنچ تھا۔ جب بیس کے قریب مشتاقان دید و شنید جمع ہو گئے تو چھت پر ایک امیج کی طرف توجہ دلائی گئی۔ یہ سموئیل جانسن کی شہرہ آفاق ڈکشنری کی وہ سن 1775 والی انٹری تھی جہاں پہلے پہل لفظ لنچ بطور luncheon استعمال ہوا۔ اس سے مراد ویسے تو ہلکا پھلکا کھانا تھا مگر امریکہ جو برطانوی باشندے آئر لینڈ اور ویلز سے آئے اس سے مراد ایسی خوراک لیتے تھے جو ایک ہاتھ میں سما جائے۔
عجب دور تھا۔ امریکہ میں پہلی ڈکشنری کے خالق ویبسٹر نے اسے استعمال کرنا نامناسب سمجھا۔ نوحا ویبسٹر کے انتقال کے بعد جب اس ڈکشنری کی ملکیت باجی مریم ویبسٹر کے ہات لگی۔ جسے نمائش والوں نے کاپی کیٹ کے نام سے موسوم کیا تو انہوں نے اپنی دانست میں اس جدت دینے کے لیے مختصر کر دیا اور شامل کر لیا۔ یوں یہ لنچ تک محدود رہ گیا۔
یورپ روس سے آنے والے مہاجرین زیادہ تر کسان پس منظر کے لوگ تھے۔ صبح ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے عادی تھے آج بھی امریکی ناشتہ بھرپور ہوتا ہے بہ نسبت اپنے یورپی ناشتے کی نسبت۔ معاشی ترقی کا دور تھا مگر یہ کسان جب محنت کرتے تھے تو بھوک بھی جلدی لگتی یوں لنچ کو فروغ ملا
اس مریم ویبسٹر ڈکشنری کا زمانہ وہ تھا جب نیویارک میں مین ہیٹن کے علاقے فیشن ایبل اور سرمائے تجارت اور سفارت کی دنیا جیسی جگہ پر یورپ اور روس سے آئے فیکٹری ورکر اور سب وے کے ملازمین ایک سور رسی سے باندھ کر ٹھیلے پر لے جاتے جسے قصائی روڈ پر ہی کاٹ کر ہاٹ ڈاگ بنا دیتا
تفریحا ”تب اسے“ خونی چیخ ” (Blood Squeals ’)‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس مقبول ڈش کا نام فرینکفرٹر یا ہاٹ ڈاگ نام بعد میں پڑا۔
جرمنی سے آنے والوں نے اپنے کھابے فرینکفرٹر کو امریکہ میں مقبول کرایا او ر ہاٹ ڈاگ کا نام دیا۔ اب سب ہی اسے ہاٹ ڈاگ کا نام دیتے ہیں۔ پاکستانی مائیں بھی اپنے ٹونی اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لنچ باکسز میں اسے ہاٹ ڈاگ کہہ کر ہی ٹھونستی ہے۔ بچے بھی اسے کتا نہیں کباب رول سمجھ کر کھاتے ہیں۔
اسی زمانے میں امریکہ میں اطالوی پٹزا بھی مقبول ہوا۔ طے ہوا کہ نیویارک میں سب وے کا یک طرفہ ٹکٹ پٹزا کے ایک سلائس کے دام تک محدود رہے گا جب پٹزا کے دام بڑھیں گے مقامی بلدیاتی حکومت سب وے کا بھاڑہ بھی بڑھائے گی۔ اسے انگریزی میں Pizza۔ Principle کہتے ہیں۔ مقامی بلدیاتی حکومت کا ایسا ماننا ہے کہ جو پٹزا کھا سکتا ہے وہ ایک طرف کا سب وے کا کرایہ بھی دے سکتا ہے سن 1960 سے یہی اصول تاحال قائم ہے گو دونوں کی قیمت اب تین ڈالر کے لگ بھگ ہے مگر مین ہٹن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے کا یہ تیز اور سستا ترین ہر چند کہ رات کو خاصا غیر محفوظ ذریعہ ہے۔















شاعر نے کہا تھا :
آس کہتی ہے یوں نا ہمت ہار
ہاں کمر کس کے جلد ہوشیار
–
بھائی اقبال کا لکھا پڑھا تھا کہ اگلے ہی دن خبر ملی کے ارجنٹینی میراڈونا کی طرح "شین وارن” بھی تھائی مساج کے ساتھ کسی "ہندوستانی بابا رام دیو کی بنائی پتن جلی” برانڈ کی دیسی سلاجیت المعروف ویاگرا استعمال کرتے ہوئے جہاں فانی سے لیگ سپن کی بجائے گگلی کھا بیٹھے تھے۔
–
نہ ہوئے ہمارے حکیم شہزاد لوہا پھاڑ جن کا کشتہ اگر وہ لے لیتے تو بیوہ عامر لیاقت کی طرح سیامی یعنی تھائی لینڈ کی آبادی بھی بڑھادیتے۔
–
ویسے ہرجا کہ کمر اور کس کے وسط میں "-” موجود ہے یعنی کمر-کس : پھر بھی محو حیرت ہوں کہ اسے
–
کمر کِس kiss پڑھا جائے
کمر کَس kas
یا
کسی دل جلے کی کمر کُس