حفاظتی ٹیکے، ان کی افادیت اور غلط فہمیاں


دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک پولیو موجود ہے۔ حکومت پاکستان، عالمی ادارہ صحت اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (پی پی اے ) پولیو کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہیں اور وقفہ وقفہ سے قطروں کی شکل میں پولیو کے ٹیکوں کی مہم چلاتی رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ اس کے علاوہ پچھلے سال خسرہ کی وبا پھیلی اور ہزاروں بچّے اس سے متاثّر ہوئے اور لا تعداد بچّے لقمہ اجل بنے۔ خنّاق (Diphtheria) کے لا تعداد مریض بھی سامنے آئے اور بہت سے بچّے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حالانکہ یہ وہ بیماریاں ہیں جن کو حفاظتی ٹیکوں کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان ٹیکوں کا بر وقت استعمال نہ کرنا ہے۔ اکثر لوگ غلط فہمی کی بنا پر حفاظتی ٹیکے لگوانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ اس کے باوجود پاکستان میں حفاظتی ٹیکے لگائے جانے والے بچّوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ آج ہم اس موضوع پر بات کریں گے کہ حفاظتی ٹیکے کیا ہوتے ہیں۔ یہ کس طرح کام کرتے ہیں، ان کی افادیت کیا ہے اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیاں کیا ہیں۔

حفاظتی ٹیکے یا ویکسین بہت اہم ہیں کیونکہ یہ ان جراثیمی بیماریوں کو روکنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں جیسے ٹیٹینس اور خسرہ یا پھر زندگی بھر کی محتاجی کا سبب بننے والی بیماریاں جیسے پولیو۔ ان کے علاوہ دوسری خطرناک بیماریوں مثلاً ٹائیفائڈ، نمونیا، ہیپاٹائیٹس وغیرہ سے بھی یہ ٹیکے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

حفاظتی ٹیکے صرف بچّوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بڑوں اور بوڑھے افراد کے لئے بھی بہت ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں نہ تو لوگ جانتے ہیں کہ بالغوں کو بھی حفاظتی ٹیکوں کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ڈاکٹر ان کو مشورہ دیتے ہیں سوائے ٹیٹینس ویکسین (Tetanus vaccine) کے جو اکثر چوٹ لگنے یا حادثہ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ حالانکہ بوڑھے یا عمر رسیدہ افراد کو نمونیا اور ہرپس زوسٹر (Herpes zoster) کی ویکسین کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور تمام ترقّی یافتہ ممالک میں دی جاتی ہیں۔

حفاظتی ٹیکوں کا طریقہ کار:

ہر جراثیم کی ساخت میں کچھ پروٹین اور دوسرے مادّے ہوتے ہیں جو خاص اسی جراثیم میں پائے جاتے ہیں اور انہیں اینٹی جن (Antigen) کہتے ہیں۔ جب یہ اینٹی جن انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں تو انسانی جسم کا دفاعی نظام (Immune system) ان کے خلاف کچھ مادّے بناتا ہے ان کو اینٹی باڈی (Antibody) کہا جاتا ہے۔ یہ اینٹی باڈیز ان اینٹی جن کو تباہ اور ختم کر دیتے ہیں۔ حفاظتی ٹیکے بنانے میں اسی نظام کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جس جراثیمی بیماری کو روکنے کے لئے ٹیکے بنائے جاتے ہیں یا تو اس جراثیم کی بیمار کرنے والی صلاحیت کو مختلف طریقوں سے ختم کیا جاتا ہے یا پھر اس جراثیم سے کچھ اینٹی جن کو الگ کیا جاتا ہے۔ ان تبدیل شدہ جراثیم اور اینٹی جن کو ٹیکے بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب یہ ٹیکے انسانی جسم میں بذریعہ منہ یا انجیکشن داخل کیے جاتے ہیں تو انسان کا دفاعی نظام ان کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے جو ایک عرصہ تک جسم میں رہتی ہیں۔ جب کبھی یہ جراثیم انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں تو یہ اینٹی باڈیز ان کو مار دیتی ہیں اور وہ جراثیم ان انسانوں کو بیمار نہیں کر پاتے اور اس طرح وہ بیمار ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ ٹیکے مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ کچھ ٹیکے بذریعہ منہ دیے جاتے ہیں جیسے پولیو اور روٹا وائرس اور کچھ بذریعہ انجیکشن جیسے ٹائیفائڈ اور کالی کھانسی۔ کچھ ٹیکے صرف ایک بار دیے جاتے ہیں اور کچھ ٹیکوں کو مختلف وقفوں سے بار بار دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

حفاظتی ٹیکوں کا نظام یا شیڈول:

جن بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے استعمال ہوتے ہیں ان میں مندرجہ ذیل بیماریاں شامل ہیں۔ ٹی بی، پولیو، خنّاق، تشنّج، کالی کھانسی، خسرہ، روبیلا، کن پھیڑ یا ممپس، گردن توڑ بخار یا میننجائیٹس، چکن پاکس، ہیپاٹائٹس اے اور بی، ٹائیفائیڈ، روٹا وا‏ئرس (HPV vaccine) اور کووڈ (Covid) وغیرہ۔

ہر ملک میں مختلف بیماریوں کی موجودگی اور صحت کے دیکھ بھال کے نظام کے مطابق بچّوں اور بالغوں کے لئے حفاظتی ٹیکوں کا اپنا ایک شیڈول ہوتا ہے۔ لیکن عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ای پی آئی پروگرام کے تحت ترقّی پذیر ممالک کے لئے حفاظتی ٹیکوں کا الگ شیڈول دیا ہے۔ ای پی آئی پروگرام پاکستان میں بھی سرکاری محکمہ صحت کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (پی پی اے ) بھی جو بچوں کی صحت کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے، حکومت پاکستان عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے تعاون سے معمول کے حفاظتی ٹیکوں اور خصوصی حفاظتی ٹیکوں کے فروغ میں سرگرم عمل ہے۔ میں یہاں خاص طور پر ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں کا اپنا شیڈول ہے، جو ڈبلیو ایچ او کے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول سے اپنایا گیا ہے اور ای پی آئی پروگرام کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ڈاکٹروں کو حفاظتی ٹیکوں کے اس شیڈول پر پوری طرح عمل کرنا چاہیے۔ امریکہ یا برطانیہ میں حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول ان کی اپنی ضروریات کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے اور بدلتے ہوئے حالات کے تحت ہر سال اس پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ ہمارے ڈاکٹروں کو ان کے شیڈول پر عمل نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی ہمارے مریض اور والدین کو اس شیڈول کو استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں نہ صرف غیر ضروری الجھن پیدا ہو سکتی ہے بلکہ حفاظتی ٹیکوں کے نامناسب شیڈول کی وجہ سے بیماریاں ہونے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے والدین اور ڈاکٹروں کو پی پی اے کی طرف سے منظور کردہ حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر ہی عمل کرنا چاہیے۔

ای پی آئی صرف بارہ بیماریوں کے خلاف اور 15 ماہ کی عمر تک حفاظتی ٹیکے مفت فراہم کرتا ہے۔ دیگر ویکسینز یا ٹیکے اختیاری ہیں لیکن ان کا لگانا بھی انتہائی مفید ہے۔ اگر کوئی ان کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، جو اکثر مہنگا ہوتا ہے۔ تو یہ ٹیکے نجی معالجین کے ذریعہ لگائے جا سکتے ہیں اور لگوانے چاہئیں۔

اس کے علاوہ، پی پی اے حکومت کے تعاون سے قومی حفاظتی ٹیکوں کا دن مناتا ہے۔ اس طرح کے حفاظتی ٹیکوں کے دن انتہائی اہم ہوتے ہیں، اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ان کے گھروں کا دورہ کرنے والی ٹیم کے ذریعہ ٹیکے لگوائیں۔ والدین کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے یا خسرہ اور ٹائیفائڈ کے ٹیکے لگانے والی ٹیم کو کبھی بھی انکار نہیں کرنا چاہیے حفاظتی ٹیکوں کی مہمات بیماریوں کے کیسز کو کم کرنے اور وبا پر قابو پانے میں بہت مفید ہوتی ہیں۔ ماضی میں پولیو، ٹائیفائیڈ اور خسرہ کے حوالے سے ایسی مہمات چلائی جا چکی ہیں۔ اس طرح کی مہمات مستقبل میں بھی جاری رہیں گی اور عوام کو گھر پر آنے والی ٹیم کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ یہ ٹیکے حکومت کی طرف سے نامزد اسپتالوں کے علاوہ نجی ڈاکٹروں یا اسپتالوں کے پاس دستیاب نہیں ہوتے۔ اکثر دہشت گرد افراد کی طرف سے گھر گھر جاکر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے بھی کیے گئے ہیں اور کتنے ہی کارکن ہلاک کیے گئے ہیں جو ایک انتہائی قابل مذمّت اقدام ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ان ٹیموں میں کام کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں جو اپنی جان پر کھیل کر ہمارے اور آپ کے بچّوں کی صحت اور انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

ویکسین کے بارے میں غلط فہمیاں :

1۔ یہ خیال عام ہے کہ سرکاری ویکسین معیاری یا موثّر نہیں ہوتیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ پرائیویٹ ڈاکٹرز بھی حفاظتی ٹیکے فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ مریض کے لئے زیادہ تر مہنگے ہوتے ہیں۔

2۔ کچھ لوگوں میں یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ ان ٹیکوں میں کچھ ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو بچّوں کو بانجھ کر دیتے ہیں۔ یہ خیال بھی انتہائی غلط ہے۔ کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔

3۔ یہ خیال بھی غلط ہے کہ ان ٹیکوں میں ناجا‏ئز اشیاء شامل ہوتی ہیں۔

4۔ ان ٹیکوں کے مضر اثرات یا سائیڈ افیکٹ ہوتے ہیں۔ ایسا ضرور ہے لیکن مضر اثرات بہت کم اور قابل برداشت ہوتے ہیں۔ اور جان لیوا نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی کوئی اثرات مستقل ہوتے ہیں۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے لیکن ان ٹیکوں کا فائدہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بیمار ہونے کی صورت میں نہ صرف بیماری کے مضر اثرات رہ جاتے ہیں بلکہ علاج کا خرچہ، اسکول سے غیر حاضری اور تعلیم کا نقصان الگ ہوتا ہے۔

5۔ بعض اوقات ٹیکے لگانے کے باوجود بچّہ بیمار ہوجاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی بھی ٹیکہ 100 فیصد اثر پذیر یا افیکٹو (Effective) نہیں ہوتا اور کچھ افراد میں مختلف وجوہات کی بنا پر کام نہیں کرتا۔ دوسرا یہ کہ ان ٹیکوں کو صحیح درجہ حرارت پر ذخیرہ نہیں کیا جاتا۔ ان ٹیکوں کا بنائے جانے والی لیبارٹری سے لگائے جانے والے شخص تک پہنچنے کے دوران ایک خاص درجہ حرارت پر ذخیرہ کرنا ضروری ہوتا ہے جسے ”کولڈ چین“ کہتے ہیں ورنہ ان ٹیکوں کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ بجلی کا بریک ڈاؤن یا فرج کا صحیح کام نہ کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے ان ٹیکوں کو صحیح درجہ حرارت پر ذخیرہ کرنا ضروری ہے۔

آخر میں تمام پڑھنے والوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اپنے بچّوں کو صحیح جگہ سے بر وقت حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں اور دوسرے افراد کو بھی اس کی ترغیب دلائیں۔ خصوصی مہمات کے دوران ٹیکے لگانے والی ٹیموں کی مدد کریں اور ان کو انکار نہ کریں۔ اس طرح ملک میں پھیلنے والی بیماریوں کو قابو کرنے اور ان کا خاتمہ کرنے میں حکومت اور پی پی اے کی مدد کریں جو در اصل آپ کی اپنی مدد ہے۔

( یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )

Facebook Comments HS