اَمن اور آزادی میں سے کیا ضروری ہے؟ (مکمل کالم)


”اَمن اور آزادی میں فرق ہوتا ہے، یہ بات درست ہے نا؟ عین ممکن ہے کہ کسی معاشرے میں نا انصافی ہو اور اُس معاشرے میں اَمن بھی ہو۔ ایسا ہوتا ہے! آپ کے پاس یہ آپشن بھی ہے کہ آپ کو قید کر دیا جائے اور آپ پُرامن رہیں۔“

”ہاں، یہ ہو سکتا ہے۔“
”گویا محض اَمن کی دہائی دینا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے؟“
”نہیں، بے شک نہیں۔“

”تو پھر ہمیں آزادی کی بات کرنی چاہیے نا کہ خالی خولی اَمن کی؟ اَمن تو آپ سفید فام لوگوں کی بنائی ہوئی اصطلاح ہے۔ آزادی ہمارا لفظ ہے۔“

”ہاں ٹھیک ہے مگر آخر کار آپ کو بھی تو اَمن ہی چاہیے۔“
”ہاں، لیکن وہ اَمن اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہمیں برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا۔“
”لیکن اِس وقت تو آپ آزاد ہی لگ رہے ہیں۔“
” (مسکراتے ہوئے ) دراصل میں اِس وقت پُراَمن ہوں۔“
”آپ آزاد لگ رہے ہیں۔“
”نہیں، میں فقط پُراَمن ہوں۔“

یہ مکالمہ شخصی آزادیوں کے علمبردار سیاہ فام امریکی کارکُن سٹوکی کارمائیکل کا ہے جو ایک ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا۔ اِس مکالمے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ جس سہل اور سادہ انداز میں سٹوکی نے اپنا مقدمہ بیان کیا وہ قابل رشک ہے۔ یہ مکالمہ اس بات کا مظہر ہے کہ سٹوکی نام نہاد لبرل نقطہ نظر سے مایوس تھا اور اپنی قوم کی آزادی کے لیے فلسفہ عدم تشدد یا پُراَمن جدوجہد کو ڈھکوسلہ سمجھتا تھا کیونکہ اُس کے نزدیک یہ سفید فام اقوام کی اختراع کی ہوئی اصطلاحیں تھیں جو وہ اپنی سہولت کے مطابق جبر و استبداد کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سٹوکی کارمائیکل کی جدوجہد یا اُس کے فلسفہ آزادی سے متعلق اگر آپ مزید جاننا چاہتے ہیں تو گوگل کر لیں، میں نے اِس مضمون کا پیٹ اُس کے حالاتِ زندگی لکھ کر نہیں بھرنا۔

دنیا میں جب بھی کہیں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے، خود کُش حملہ ہوتا ہے، ٹرین یا ہوائی جہاز کو اغوا کیا جاتا ہے یا کوئی دہشت گرد فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک کرتا ہے تو اُس کا کچھ نہ کچھ پس منظر ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ راہ چلتے لوگوں کو گولیاں مارنے والے نفسیاتی مریضوں سے قطع نظر، باقی جتنے بھی واقعات ہوتے ہیں اُن کے پیچھے کوئی نہ کوئی بیانیہ ہوتا ہے جو اُس حملے کا محرّک بنتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی صبح کوئی دِل جلا اٹھتا ہے اور ٹرین اغوا کر کے چار سو لوگوں کو محض اِس لیے یرغمال بنا لیتا ہے کہ آج اُس نے جاب پر نہیں جانا تھا اور اُس کے پاس کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں تھا۔ یہ بیانیہ ہی ہوتا ہے جو کسی بھی تحریک کے لیے ایندھن کا کام کرتا ہے، اسی بیانیے سے متاثر ہو کر لوگ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین دلا دیا جاتا ہے کہ وہ ایک اعلٰی و ارفع مقصد کے لیے زندگی قربان کریں گے اور اَمر ہو جائیں گے۔ یہ مقصد علیحدہ وطن کا حصول ہو سکتا ہے، کسی خطے کی آزادی ہو سکتی ہے، اپنی نسل کے لوگوں کے لیے مساوی حقوق کا مطالبہ ہو سکتا ہے یا پھر مذہب کی من مانی تشریح کو مسلط کرنا ہو سکتا ہے۔
کسی شخص کو اِس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر اور موت کے خوف سے بے نیاز ہو کر کسی مقصد کے لیے ریاست کے خلاف برسرپیکار ہو جائے، کوئی آسان کام نہیں۔ اور پھر بات محض ایک شخص یا چند اشخاص کی نہ ہو بلکہ کسی قوم کی بڑی تعداد ایک بیانیے سے متاثر ہو جائے اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لے تو اُس بغاوت کو شکست دینے کے لیے ریاست کو صرف طاقت کا استعمال ہی نہیں کرنا ہو گا بلکہ اُس بیانیے کا توڑ بھی کرنا پڑے گا جو اُس بغاوت کا سبب بنا رہا ہو گا۔ آج سے چالیس پچاس سال پہلے کی دنیا مختلف تھی، اُس وقت حریت کی تحریکوں کے لیے کوئی نہ کوئی نرم گوشہ ہوا کرتا تھا، مگر 9 / 11 کے بعد دنیا تبدیل ہو چکی ہے، اب بسوں سے مسافروں کو اتار کر قطار میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھوننے والوں کو کوئی حریت پسند نہیں کہتا، انہیں صرف دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ لیکن بات صرف انہیں دہشت گرد کہنے سے ختم نہیں ہوگی، ریاست کو اُس بیانیے کا رد کرنا ہو گا جس کی وجہ سے یہ سوچ جنم لیتی ہے۔

آج کے اخبارات دیکھے تو پتا چلا کہ ریاست نے بالآخر اِس بیانیے کا جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دیر آید درست آید۔ ایک دو سرخیاں ملاحظہ ہوں۔ ”نیشنل ایکشن پلان کے تحت قومی بیانیے کو مضبوط کرنے پر اتفاق۔ قومی نصاب میں دہشت گردی کے حوالے سے آگاہی شامل کرنے کا فیصلہ۔“ اچھی بات ہے مگر یہ بیانیہ ہو گا کیا؟ اگر تو اِس میں وہی باتیں ہوئیں کہ کوئی مسلمان مسجدوں میں بم دھماکہ نہیں کر سکتا یا کوئی محب وطن بے گناہوں کو خون نہیں بہا سکتا تو اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ایک مثال سے بات واضح ہو جائے گی۔ پاکستان کے متعدد لیڈران یہ بات کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ دراصل پرائی جنگ تھی، سوال یہ ہے کہ اگر یہ پرائی جنگ تھی تو اِس میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں افراد کا خون کس کے سر پر ہے اور اِن جرائم کا ارتکاب کرنے والوں، اِن کے خلاف لڑنے والوں اور اِن کے خلاف نا لڑنے والوں کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ یہ اُس بیانیے کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو مذہبی تنظیمیں بناتی ہیں اور جس کی بنیاد پر وہ عام مسلمان کی ہمدردیاں سمیٹ کر انہیں گمراہ کرتی ہیں۔ اِن کا بیانیہ بظاہر مدلل ہے مگر گہرائی میں جا کر پڑتال کریں تو اِس میں بے شمار سقم مل جائیں گی جنہیں بے نقاب کر کے اِس بیانیے کی ساکھ کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ آج کی تاریخ میں کوئی ایسا ٹی وی چینل، فیس بُک پیچ، یو ٹیوب چینل نہیں ہے جہاں آپ کو اِس مذہبی بیانیے کو رد کرنے کا مواد مل سکے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر ایسے چینل بھی ہونے چاہئیں جو نام نہاد حریت پسندی کا پردہ چاک کر سکیں اور عوام کو بتا سکیں کہ اصل میں یہ دہشت گردی کی بد ترین شکل ہے جسے تحریک آزادی کا خوبصورت لبادہ پہنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بیانیے تشکیل دینا کوئی آسان کام نہیں مگر ریاست کے لیے کچھ ایسا مشکل بھی نہیں، اگر ragtag قسم کی تنظیمیں یہ کام منظم انداز میں کر سکتی ہیں تو ریاست، جس کے پاس لامحدود وسائل ہوتے ہیں، یہ کام کیوں نہیں کر سکتی؟ میرا حسن ظن ہے کہ اب یہ کام کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی، باقی دیکھتے ہیں پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada