نفرت انگیز ہیش ٹیگ۔ جب سوشل میڈیا پسماندہ آوازوں کا گلا گھونٹتا ہے

ایک حالیہ تحقیق، جو نسوانی نظریات پر کام کرنے والی محققین نے کی، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات کوئی اتفاقیہ عمل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ یہ تحقیق سوشل میڈیا کی نگرانی کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش تھی کہ آن لائن دنیا میں کون سی آوازیں دبائی جا رہی ہیں، کن نعروں کے ساتھ، اور کن الفاظ کے ذریعے۔
تحقیق میں ان ہیش ٹیگز کو کھنگالا گیا جن کے نیچے عورتوں، خواجہ سرا افراد، اور اقلیتی برادریوں کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ نفرت سے بھرے ان الفاظ کو ”لفظی بادلوں“ کی صورت میں پیش کیا گیا۔ یعنی ایسے خاکے جن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ ثابت ہوا کہ ڈیجیٹل ظلم کسی ایک آوارہ صارف کا غصہ نہیں بلکہ ایک پورا نظریاتی نظام ہے۔ جس کی جڑیں قوم پرستی، مردانہ غلبے، اور سماجی اخراج کی سوچ میں پیوست ہیں۔
یہ نفرت کبھی مذہب کے نام پر سامنے آتی ہے، کبھی اخلاقی اقدار کے پہرے دار بن کر، اور کبھی سیاسی چالوں کے ذریعے۔ اس سب کا مقصد ایک ہی ہے : وہ آوازیں خاموش کرا دی جائیں جو طاقت کے نظام کو چیلنج کرتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، عورت مارچ اور اس سے جڑے ہیش ٹیگز جیسے #میراجسم_میری_مرضی اور #کھاناخودگرم_کرو کو مسلسل ایسے الفاظ کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جو جنسی شرمندگی اور تضحیک سے بھرے ہوئے تھے۔ طوائف، رنڈی، ننگی، بے غیرت۔ یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعے عورتوں کو انسان کی بجائے صرف جسم بنا کر پیش کیا گیا۔ ان پر فحاشی، مغربی سازش، اور بے راہ روی جیسے الزامات لگا کر ان کے مطالبات کو ”غیرملکی ایجنڈا“ کہا گیا۔
اسی طرح خواجہ سرا افراد کے خلاف بھی ایک منظم نفرت کا جال بچھایا گیا۔ اُن کی شناخت کو جھوٹا، غیر فطری اور گناہ آلود کہہ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔ #خواجہ_سرا ایکٹ منسوخ کرو جیسے ہیش ٹیگز کے نیچے یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ یہ قانون ہم جنس شادی کو جائز قرار دیتا ہے۔ مذہبی شدت پسند گروہ اور کچھ مشہور چہرے اس بیانیے کو بڑھاوا دیتے رہے، جس سے نہ صرف آن لائن حملے بڑھے بلکہ زمین پر بھی خواجہ سرا افراد کو تشدد اور دھمکیوں کا سامنا ہوا۔
اقلیتی برادریوں۔ خصوصاً احمدی، عیسائی، اور ہندو افراد۔ کو بھی اس آن لائن نفرت کا سامنا ہے۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ ہیش ٹیگز جیسے #قادیانی۔ کافر۔ ہیں، #احمدی_مسلمان_نہیں اور #مرتد کے ذریعے احمدیوں کو نہ صرف دینی طور پر نکالا گیا بلکہ اُن کے خلاف قتل کی ترغیب تک دی گئی۔ عیسائی اور ہندو برادریوں کو ”غدار“ ، ”بھارتی ایجنٹ“ اور ”مغربی سازش“ کا حصہ قرار دے کر ایک منظم طریقے سے الگ تھلگ کیا گیا۔ جڑانوالہ میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے بعد ، کئی صارفین نے آتش زنی کا جواز ان ہی آن لائن بیانیوں میں ڈھونڈا۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ انٹرنیٹ پر یہ نفرت کیوں کھل کر کھیلتی ہے : کیونکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں۔ جو ان پلیٹ فارمز کی مالک ہیں۔ اردو اور علاقائی زبانوں میں مواد کی نگرانی کے لیے تیار ہی نہیں۔ سب سے زیادہ ”پسندیدگی“ ان مواد کو ملی جو عورت دشمن، فرقہ ورانہ اور خواجہ سرا مخالف بیانیے پر مشتمل تھے، اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ویڈیوز کو کاٹ کر، حقائق کو توڑ مروڑ کر، اور تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ٹک ٹاک پر وہ پیغامات پھیلائے گئے جو عورتوں اور خواجہ سرا افراد کی تحریکوں کو بدنام کرتے ہیں۔ ٹویٹر (اب ’ایکس‘ ) پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایسے ہیش ٹیگ چلائے گئے جن میں ایک ساتھ سیکڑوں اکاؤنٹس مخصوص افراد کو نشانہ بناتے رہے، اُن کی شکایات رپورٹ کر کے ان کے اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی گئی۔
اور ان سب میں دکھ کی بات یہ ہے کہ جو لوگ نشانہ بنے، اُن کی مدد کے لیے نہ کوئی پلیٹ فارم آگے آیا، نہ کوئی قانون حرکت میں آیا۔ اور جو نفرت پھیلانے والے تھے، وہ آج بھی کھلے عام اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس تحقیق کی روشنی میں اب مزید خاموشی ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو فوری طور پر اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ایسے نظام بنانے ہوں گے جو نفرت انگیز مواد کو فوراً پہچان سکیں اور ہٹا سکیں۔ ایسے اداروں کو جوابدہ بنایا جائے جن کی وجہ سے ظلم بغیر کسی نتیجے کے جاری ہے۔
ریاستی سطح پر بھی سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ نفرت پھیلانے والے نیٹ ورکس کو جرم قرار دیا جائے، اور اُن سیاسی جماعتوں، مذہبی گروہوں، اور با اثر افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو اس سب کے پیچھے ہیں۔
یہ تحقیق ہمیں ایک تلخ سچ دکھاتی ہے : ڈیجیٹل نفرت کوئی ”اظہارِ رائے“ کا اتفاقیہ نتیجہ نہیں۔ یہ ایک سوچا سمجھا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے ان لوگوں کو خاموش کیا جاتا ہے جو پہلے ہی حاشیے پر ہیں۔ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں، قانون ساز ادارے، اور پالیسی بنانے والے اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، تب تک یہ آن لائن دنیا آزادی کی جگہ نہیں، جبر کا ہتھیار بنی رہے گی۔

: تحریر از
فجیرا آصف
فجیرا آصف ایک ماحولیاتی اور صنفی امور کی ماہر ہیں، جو تحقیق، پالیسی تجزیے، اور اسٹریٹیجک پروجیکٹ کوآرڈینیشن کے ذریعے صنفی مساوات، ماحولیاتی انصاف، اور اسٹریٹیجک گورننس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
سدرہ فاطمہ منہاس
سدرہ فاطمہ منہاس ایک تجربہ کار ترقیاتی ماہر ہیں اور ڈیویو ٹریو کنسلٹنٹس کی نمائندہ ہیں، جنہیں پلاننگ اینڈ امپلیمنٹیشن میں مہارت حاصل ہے۔ وہ ایک جینڈر ایکسپرٹ ہیں اور ترقیاتی منصوبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
