ایران امریکہ تنازعہ کا کاروبار
ٹرمپ صاحب کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عالمی سیاست پر مسلسل چھوٹے اور بڑے پیمانے کے زلزلے آ رہے ہیں۔ کچھ روز قبل انہوں نے ایران کو دھمکی دی ہے اگر اس نے جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے معاہدے پر مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو اسے امریکہ کی طرف سے حملوں کو سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے مراد راکٹوں کے ذریعہ ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ اس کے بعد ایران کی طرف سے بھی بیانات کی جنگ شروع کر دی گئی ہے۔ اور کسی تیسرے گروہ کی وساطت سے مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ابھی یہ پیغام رسانی عمان کی وساطت سے کی جا رہی ہے۔
مغربی ممالک اور ایران کے درمیان 2015 میں صدر اوباما کے دور میں ایک جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے ایران پر یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ایران کم افزودگی کے یورینیم کے ذخیرہ کو تین کلو گرام تک محدود رکھے گا۔ ایران ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے بھاری پانی کے ذخیرہ کو ایک سو تیس ٹن سے زائد نہیں ہونے دے گا۔ ایران یورینیم کی افزودگی کو 3.67 فیصد تک رکھے گا۔ جوہری ہتھیار کے لئے بیس فیصد کی افزودگی درکار ہوتی ہے۔
ٹرمپ صاحب نے پہلی مرتبہ اقتدار میں آتے ہی اس معاہدہ سے نکلنے کا اعلان کر دیا کیونکہ ان کا ان کی ٹیم کا خیال تھا کہ اس معاہدہ میں ایران کو ضرورت سے زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں۔ یورپی ممالک اس معاہدے کو قائم رکھنے کے حق میں تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی انہوں اپنا پسندیدہ ہتھیار یعنی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کیا تھا۔ ایران نے بھی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا فیصلہ کیا۔ اور ایران کی سرپرستی میں چلنے والی بعض تنظیموں نے مختلف جہازوں پر حملے بھی کیے اور امریکی ڈرونوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس وقت صدر ٹرمپ کو یہ امید تھی کہ ایران جلد مذاکرات کا آغاز کرے گا لیکن ایران کا اصرار تھا کہ پہلے امریکہ اقتصادی پابندیاں ختم کرے، اس کے بعد ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔ اور یورپی ممالک کا بھی یہی خیال تھا کہ اگر ایران پر پابندیاں نرم کی جائیں تو ایران کے ساتھ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن اپنی کتابThe Room Where It Happenedمیں لکھتے ہیں کہ اس وقت صدر ٹرمپ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایران حالات کی وجہ مجبور ہو کر ان سے مذاکرات شروع کیوں نہیں کر رہا۔ وہ چاہتے یہی تھے ایران جلد مذاکرات شروع کرے اور وہ اپنی شرائط منوا کر فتح کا اعلان کریں۔ آخر انہوں نے جاپانی وزیر اعظم آبے کو اس بات پر تیار کیا کہ وہ ایران سے رابطہ کر کے آمادہ کریں کہ وہ مذاکرات کا آغاز کرے۔
اور آبے تیار ہو بھی گئے۔ کافی تیاری کے بعد آبے ایران کے روحانی راہنما آیت اللہ خامینائی سے ملنے تہران گئے۔ صدر روحانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جب آبے نے اپنے آنے کے مقاصد بیان کیے تو آیت اللہ خمینائی نے ان کی باتوں کے نوٹس لئے اور سن کر کہا کہ وہ ان باتوں پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔ یہ ایک سفارتی طمانچہ تھا جو جاپانی وزیر اعظم کو مارا گیا تھا۔ جاپانی وزیر اعظم نے خفت مٹانے کے لئے کہا کہ اس میٹنگ کے مندرجات پبلک نہ کیے جائیں لیکن ابھی وہ ایران کی فضائی حدود سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ایران کے روحانی راہنما کے دفتر نے ٹویٹ کر دیا کہ جاپانی وزیر اعظم کی نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں لیکن صدر ٹرمپ پر ہم اعتماد نہیں کر سکتے اور وہ اس قسم کی شخصیت نہیں ہیں جن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا جائے۔ ان دنوں میں ایران نے ایک جاپانی بحری جہاز پر حملہ بھی کیا۔ ان ساری خدمات کے عوض جاپانی وزیر اعظم کے ہاتھ سوائے خفت کے کچھ نہیں آیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے اکثر عہدیدار اس بات کے حق میں تھے کہ ایران کو مزا چکھانا چاہیے۔ طویل بحثوں اور دلائل کے بعد انہیں آمادہ کر دیا کہ ایران کی بعض تنصیبات پر راکٹ کا حملہ کیا جائے لیکن رات کے وقت تاکہ زیادہ اموات نہ ہوں۔ وقت اور تاریخ طے ہو گئے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھیوں میں انتہا پسند اس بات پر خوش کہ ہم نے صدر ٹرمپ کو آمادہ کر لیا ہے کہ وہ ایران پر میزائل حملہ کریں۔ ان کی کابینہ کے اہم اراکین اور اہم فوجی افسران وائٹ ہاؤس میں جمع ہونا شروع ہوئے کہ اب کئی گھنٹے کنٹرول روم میں بیٹھ کر ایران پر حملہ کے مناظر دیکھیں گے۔
ابھی وہ جمع ہونے شروع ہی ہوئے تھے کہ اچانک صدر ٹرمپ نے آخری وقت میں یہ پروگرام منسوخ کر دیا کہ اس کے نتیجہ میں تو کئی اموات ہوں گی اور اس سے امریکہ پر الزام آئے گا۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک کیا گیا کہ نائب صدر پنس اور کابینہ کے بعض اراکین کو بھی دوسروں سے علم ہوا کہ حملے کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی گزشتہ مدت صدارت میں اس سارے بحران کے دوران اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو تو بار بار صدر ٹرمپ کو بار بار اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایران سے کسی قسم کے مذاکرات نہ کیے جائیں اور ان پر میزائلوں سے حملہ کر کے انہیں مزا چکھایا جائے تا کہ ایران ایٹم بم نہ بنا سکے۔ لیکن اس کوششوں میں وہ تنہا نہیں تھے خلیج کے عرب ممالک اور سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان بھی اس بات کی مخالفت کر رہے تھے کہ جاپانی وزیر اعظم ایران جا کر ان سے کسی قسم کے مذاکرات کریں۔
ان کا اصرار تھا کہ ایران کا راستہ روکنے کے لئے میزائلوں سے اس پر حملہ کرنا ہی واحد حل ہے۔ اور صدر ٹرمپ کے سابق مشیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ٹرمپ صاحب بار بار اس بات کا اظہار کر رہے تھے اگر انہوں نے ایران پر کسی قسم کا حملہ کیا تو اس کارروائی کا تمام خرچہ عرب ممالک سے وصول کیا جائے گا۔ یہ قول آپ نے سن رکھا ہو گا :
” Those who cannot remember the past are condemned to repeat it“
یعنی جو لوگ ماضی کو یاد نہیں رکھتے، اسے دہرا کر خمیازہ بھگتے رہتے ہیں۔ اب ایک بار پھر امریکہ اور ایران آپس میں پنجہ آزمائی کر رہے ہیں۔ ہو سکتا جو ملک شوق سے بیچ میں قاصد کے فرائض سرانجام دے رہا اس کے ہاتھ سوائے خجالت کے کچھ نہ آئے۔ یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ ایران پر کسی قسم کا کوئی حملہ کرے گا یا نہیں لیکن بعید نہیں ایک بار پھر صدر ٹرمپ طبل جنگ بجائیں اور حملہ کا وقت مقرر ہو جائے اور کابینہ کے اراکین بھی جمع ہونا شروع ہو جائیں لیکن آخر میں صدر ٹرمپ یہ حملہ منسوخ کر کے باقی کابینہ کو ہکا بکا چھوڑ دیں۔
اور اگر ایران پر حملہ کیا بھی گیا تو اس کے خرچہ امریکہ نہیں اٹھائے گا بلکہ حسب سابق اس کا خرچہ پچاس فیصد منافع سمیت عرب ممالک سے وصول کیا جائے گا۔ اس سے اچھا کاروبار کیا ہو گا کہ ایک سودے میں پچاس فیصد نفع کما کر اکاؤنٹ بھرا جائے۔ لیکن ایک مسلمان ملک پر حملہ کرنے کی فیس دوسرے مسلمان ممالک سے وصول کی جائے گی۔


