راشن بانٹنے والوں کو ساتھ میں ”کنڈوم“ بھی ضرور بانٹنے چاہیں

رمضان المبارک کی آخری ساعتیں چل رہی ہیں، ان مبارک گھڑیوں کی برکات کو سمیٹنے کے لیے سیٹھ لوگ غریب غربا میں راشن تقسیم کر رہے ہیں، نیکیوں پر بھی امراء کی اجارہ داری قائم ہے عجب دستور دنیا ہے؟
آخر کچھ تو وجہ ہوگی نا کہ پھیلے ہاتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ہر جگہ پر پھیلے ہاتھوں کا ہجوم لگا ہوتا ہے اور ان میں بچے، بوڑھے، ناتواں و ضعیف سبھی شامل ہوتے ہیں۔
یہ بچے انہی والدین کے ہوتے ہیں جو جنسی تفریح کے چکروں میں بچوں کی لائن لگا لیتے ہیں، یہ تفریح اور ضرورت کے مابین حد فاصل ہی قائم نہیں کر پاتے، جنس ایک بنیادی ضرورت یا جبلت تو ضرور ہے لیکن اندھا دھند مشق نہیں، اس کے نتائج بہرحال انسانوں کو ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔
کیا ہم اس گھٹن زدہ سماج میں بچوں کو جنم اس وجہ سے دیتے ہیں کہ طبقہ مزدوراں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے، یا انہیں چھوٹی سی عمر میں ورکشاپس، ہوٹلز، دکانوں یا مدارس کے حوالے کرنے کے لیے پیدا کرتے ہیں؟
ایک اہم سوال ہے اس کا جواب بھی بہرحال ہمیں ہی کھوجنا ہے، تعلیمی تناسب کا مشاہدہ کر لیجیے، جتنے بچے اسکول کے اندر ہیں ان کی تعداد تو معلوم کی جا سکتی ہے لیکن جو اسکول سے باہر ہیں ان کا تناسب بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ناقابل شمار ہے۔
بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے جہاں بیروزگاری بڑھ رہی ہے وہیں شرح جرائم کے تناسب میں بھی ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے، چوری چکاری، بھیک اور جنسی مکروہات کا گراف بڑھ رہا ہے حتیٰ کہ مدارس بھی جنسی استحصال سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
اس لیے مراعات یافتہ طبقے اور حکومت کو چاہیے کہ راشن یا امدادی پیکیج کے ساتھ تقریباً ہر فلیور کے کنڈوم بھی تقسیم کریں اور ساتھ میں آگاہی مہم بھی چلائیں کہ اگر پال نہیں سکتے تو گلیوں میں رلنے کے لیے بچے پیدا کیوں کرتے ہو؟
انہیں آگاہی دیں کہ غربت کی جس چکی میں گہیوں کی طرح آپ پس رہے ہیں کیا ضروری ہے کہ آپ کے بچے بھی اسی مکروہ جال میں پھنسیں؟
مانع حمل ادویات، مختلف فلیور کے کنڈوم آج کے وقت کا اہم ترین تقاضا ہیں، بچے کی صحت کے ساتھ ساتھ ماں کی صحت بھی انتہائی ضروری ہوتی ہے، جنسی ضرورت اور تسکین و تفریح کے درمیان فرق اور تمیز کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
پوری کی پوری خاتون محض دو ٹانگوں کے بیچ نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک جسم اور حساس سا ذہن بھی ہوتا ہے، چند منٹ کے جنسی لمحات کے علاوہ کئی سارے گھنٹے ایک زندہ خاتون کے ساتھ کیسے گزارنے ہیں اس کا جاننا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ سب بھی انہی پارٹنرز کو جاننا ہے جو جنسی لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
کسی بھی مسئلے کی سنگینی، نوعیت یا تشویش پر غور و فکر یا بات چیت تو بہرحال انسانوں کو ہی کرنا پڑتی ہے، حساس اور تشنہ موضوعات پر اگر انسان سر نہیں جوڑیں گے تو کوئی اور بھلا یہ ذمہ داری کیوں لے گا؟
پھر شرم کیسی، مشکل و محفوظ لفظوں کے چناؤ کا تکلف کیسا؟
کیا ہماری نوجوان نسل سماجی بڑوں کی قائم کردہ برائے نام قسم کی اخلاقی پہلیوں میں الجھی رہے؟
ترقی یافتہ معاشرے آگہی کی دنیا میں کہاں کے کہاں جا چکے، ہم ابھی انہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں کہ کیا پبلک میں جنس ایسے حساس موضوع پر بات چیت کرنا موزوں رہے گا یا نہیں، اس سے بڑھ کر ذہنی پسماندگی کی سطح اور کیا ہو سکتی ہے بھلا؟
اجنبیت یا بیگانگی کے سائے تلے پروان چڑھنے والی نسلیں ہمیشہ راندہ درگاہ یا بھٹکی رہتی ہیں جنہیں کوئی بھی تماش بین اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی آسانی سے استعمال کر لیتا ہے، ایسوں کو بدن سے جڑے مسائل پر آگہی حاصل کرنے کے لیے نجانے شرم و حیا کے نام پر قائم کردہ سوسائٹی کی کتنی گھاٹیوں کو عبور کرنا پڑتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اسی مشق میں بہت سوں کے بالوں میں چاندی اتر آتی ہے اور فہم کا جوش و جذبہ ماند پڑنے لگتا ہے۔
اگر معاشروں کی بقاء یا شرم و حیا کی سربلندی لاعلمی، جہالت، بے خبری یا حقائق کی چھپن چھپائی میں پنہاں ہوتی تو یقین مانیں باقی کی مسلم دنیا کا تو پتا نہیں البتہ ہمارے ہاں تو ضرور پورنوگرافک سائٹس کو دیکھنے کا رجحان خاصا کم ہو جاتا لیکن یہاں تو بڑھ رہا ہے۔
حیرت ہوتی ہے نا اس قدر کنٹرولڈ اور فلٹرڈ ماحول کے باوجود اور تمام تر مذہبی و روحانی بندوبست کے سائے تلے بھی جنسی مکروہات کا گراف بڑھتا جا رہا ہو تو پھر سوچنا پڑے گا کہ نقص کہاں پر ہے؟

