ایک شاعرہ دو محبوب


کینیڈا کی مایہ ناز شاعرہ اسما ناز وارثی نے نہ صرف مجھے بڑی اپنائیت سے ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی بلکہ اپنی ذہین بیٹی زرین کو بھی بلایا تا کہ وہ بھی مجھ سے مل سکے۔

ڈنر کے دوران اسما وارثی نے مجھے اپنے شعری مجموعے
سخن آئینہ
کا ادبی تحفہ دیا تو اس کے پہلے صفحے پر نوشتہ تھا
اپنے محترم دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل کے نام
جن سے عقائد و خیالات میں بعد المشرقین ہونے کے باوجود
ایک یگانگت کا احساس ابھرتا ہے۔ اسما وارثی
سخنور ہوں سخن آئینہ میرا
میں اپنے لفظ کے دل میں مکیں ہوں

اسما وارثی کی بیٹی زریں چونکہ اردو بول تو سکتی ہیں لیکن پڑھ نہیں سکتیں اس لیے اسما وارثی نے انہیں یہ الفاظ پڑھ کر سنائے اور پھر اس کا ترجمہ کیا۔ یہ علیحدہ بات کہ بعد المشرقین اور یگانگت کے انگریزی متبادل تلاش کرنے میں ہم دونوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

زرین کو اپنی والدہ اور میری دوستی سے قدرے حیرت ہوئی اور مجھ سے پوچھنے لگیں کہ
انکل آپ دونوں کے نظریات اور خیالات میں کیا فرق ہے؟
میں نے عرض کی
آپ کی امی جان خدا کو مانتی ہیں میں نہیں مانتا
وہ مذہب پر ایمان رکھتی ہیں میں نہیں رکھتا

وہ کینیڈا میں اسلامی شریعت نافذ کرنا چاہتی ہیں اور میں پاکستان کو بھی ایک سیکولر ملک دیکھنا چاہتا ہوں۔

وہ مسلمان ہیں اور میں ایک انسان دوست

زریں نے پوچھا
تو پھر آپ کی دوستی کی بنیاد کیا ہے؟
ہم دونوں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں
ہم ایک دوسرے پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتے
ہم دونوں کو ادب اور شاعری کا بہت شوق ہے
ہم دونوں اپنے آدرشوں کے ساتھ مخلص ہیں
سب سے بڑی قدر مشترک یہ ہے
کہ ہم دونوں انسان دوست ہیں
اور سب سے بڑی قدر اختلاف یہ ہے
کہ وہ مذہبی انسان دوست ہیں اور میں سیکولر انسان دوست
میں نے زریں کو اپنی انگریزی کی سوانح عمری
THE SEEKER

تحفے کے طور پر دی اور درخواست کی کہ وہ جب اسے پڑھ لیں تو اپنی رائے مجھے بھیجیں۔ زرین نے مجھے اگلی دفعہ اپنے گھر بلایا تا کہ وہ مجھے اپنے شوہر سے ملوا سکے۔

میری کتاب پڑھنے کے بعد زریں کی رائے موصول ہوئی جو کچھ یوں تھی
……………………………..

Dear Uncle Sohail,

I thought I would read just a few pages… but I couldn ’t put the book down! I’ve learned so much about Khizr, but what stands out most is that he loves life deeply, passionately, and with intention. He has faced much sorrow and cognitive dissonance, only to find that life’s boundaries were actually pushing him toward a profound and purposeful self—one full of curiosity, connection, and adventure. What a beautiful memoir and tribute to life’s lessons. Thank you for sharing this wonderful story with me!

Sincerely,
Zarreen
……………………

جب میں نے گھر آ کر اسما وارثی کے شعری مجموعے کا مطالعہ کیا تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس میں میرا مضمون بھی شامل تھا جو میں نے دس سال پیشتر ان کے لیے لکھا تھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا

ایک شاعرہ۔ دو محبوب
آپ بھی پڑھ لیں

خواتین و حضرات!
پوچھتے ہیں وہ کہ اسما کون ہیں
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
اسما ایک خواب ہیں
ایک سراب ہیں
ایک پہیلی ہیں
ایک بجھارت ہیں
ایک مسٹری MYSTERY ہیں
ایک انگما ENIGMA ہیں
وہ خود کہتی ہیں
بظاہر ہوں نہایت سہل اسما
حقیقت یہ کہ خود اک چیستاں ہوں

اسما وارثی اپنے دل میں متاع درد لیے ہوئے زندہ ہیں۔ اور یہ متاع صرف اس دل میں موجود ہوتی ہے جس میں دکھی انسانیت کے لیے ایک کرب ’ایک ٹیس اور ایک کسک موجود ہو اور وہ دل انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے ایک آس ایک آرزو اور ایک آدرش رکھتا ہو اور اس آدرش کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ فرماتی ہیں

ایک ساحل کی تمنا کے سبب
کتنے طوفاں تھے جو سر سے گزرے
میں نے اسما ناز وارثی کے پہلے مجموعہ کلام
فرشتے پوچھتے ہیں
کی رونمائی کے موقع پر جو مضمون پڑھا تھا اس کی ابتدا ان الفاظ سے کی تھی
میں نے ایک دن اردو ادب سے پوچھا کہ اس شاعرہ کا کیا ہوا جو
تمہاری محبوبہ ہوا کرتی تھی
تمہیں دل و جان سے چاہتی تھی
تم سے ٹوٹ کر پیار کرتی تھی
تمہاری محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شرکت کرتی تھی
اور
بڑی اپنائیت سے اپنی نظمیں اور غزلیں سناتی تھی
وہ اب کیوں نظر نہیں آتی
اردو ادب نے ٹھنڈی آہ بھر کے کہا
تم نے سلمان اختر کا شعر نہیں سنا
کون سا شعر؟ میں متجسس تھا
ان کا شعر ہے
ایک لڑکی جو پوجتی تھی مجھے
اب سنا ہے نماز پڑھتی ہے

اس شاعرہ نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور میرے رقیب مذہب سے رسم و راہ بڑھا لی ہے۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ اسے محبت بھرے پیغام بھیجتا رہتا ہوں اور مشاعروں اور ادبی محفلوں میں بلاتا رہتا ہوں۔ مجھے قوی امید ہے کہ ایک دن وہ ضرور پلٹ آئے گی۔ اس کے دل میں جو شاعری کی چنگاری سلگتی رہتی ہے وہ کبھی نہیں بجھ سکتی۔

اور وہی ہوا۔ وہ شاعرہ برس ہا برس کی جدائی اور فرقت کے بعد ایک دفعہ پھر اردو ادب کی محفلوں میں آنے لگی اور اپنی غزلوں اور نظموں سے ان محفلوں کو مہکانے لگی۔ اردو ادب بہت خوش ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ شاعرہ کا پہلا محبوب ہے۔

اسما وارثی ایک طویل عرصے تک اردو ادب کی محفلوں سے دور رہیں اور خاندانی مصروفیات میں الجھی رہیں لیکن اردو شاعروں نے جب انہیں بار بار بلایا تو آخر کار وہ واپس چلی آئیں۔ وہ اپنے پرانے محبوب کے سامنے انکار نہ کر سکیں۔ یہ اردو شاعری کی اور ٹورانٹو کے ادب دوست لوگوں کی خوش قسمتی ہے کہ اسما وارثی نے پرانے محبوب سے دوبارہ راہ و رسم بڑھا لی ہے۔ اس میں ان کا بھی فائدہ ہے اور ہمارا بھی۔ وہ اپنی نظم

محبت ہو گئی ہے
میں فرماتی ہیں
نہ جانے کس طرح کیونکر
محبت ہو گئی اس سے
تصور میں اسی کے رات دن مدہوش رہتی ہوں
عجب وارفتگی سی ہے
یہ کچھ دیوانگی سی ہے
بسیرا جس کا میرے دل میں ہے ’جو آرزو میری
میں جس کو بھول بیٹھی تھی
جدائی اس کی اب میں ایک پل بھی سہ نہیں سکتی
محبت ہو گئی اسما مجھے بار دگر اس سے
مری محبوب میری لاڈلی میری زباں اردو
………………….
میں اسما وارثی کو اپنے پہلے محبوب کے پاس واپس آنے کی مبارکباد دیتا ہوں۔

میں نے اسما وارثی کی کتاب بند کی تو بیک کور پر ان کی ایک مسکراتی ہوئی تصویر اور ان کی ایک غزل کے چار اشعار دکھائی دیے آپ بھی سن لیں

رات بھر بے کلی رقص کرتی رہی
ایک دیوانگی رقص کرتی رہی
خواب آنکھوں میں سجتے بکھرتے رہے
یاد کی جل پری رقص کرتی رہی
ہر طرف ہی سرابوں کے تھے سلسلے
تشنہ لب زندگی رقص کرتی رہی
اوس آنکھوں سے گرتی رہی رات بھر
درد کی چاندنی رقص کرتی ہے

مجھے اسما وارثی کی شاعری پڑھنے سے پہلے بالکل اندازہ نہ تھا کہ انسان پرانے محبوب کے پاس واپس چلا جائے تو اس کے دل میں پھر سے گدگدی ہونے لگتی ہے اور اس کا سراپا رقص کرنے لگتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail