سائنسدان کی زندگی


جب، ایک بار، میری بیٹی سارہ نے، جو او لیول میں پڑھ رہی تھیں، مجھ سے پوچھا کہ دنیا میں سب سے بہترین کیریر کون سا ہے، میں نے فوراً جواب دیا کہ ایک سائنسدان بننا۔ اس جواب نے انہیں حیران کر دیا۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی نوجوان سائنسدان بننے کی خواہش رکھتا ہو۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

پہلی بات یہ کہ پاکستان میں سائنس سے وابستہ رول ماڈل کا تقریباً کوئی وجود نہیں۔ آپ کو معاشرے میں بہت سارے شعبوں میں ایسے لوگ نظر آئیں گے، جو ان شعبوں میں بہترین شمار کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں عالمی سطح کے ڈاکٹر، انجینئر، تاجر، وکیل تو مل جائیں گے، لیکن عالمی سطح کا سائنسدان شاید ہی ملے گا۔ ایسا سائنسدان جس کی اپنی فیلڈ میں شاندار خدمات ہوں اور بین الاقوامی پہچان ہو۔

دوسری بات یہ کہ پاکستانی معاشرے میں ایک سائنسدان کا رول بہت مبہم ہے۔ عام طور پر اس بات کا ادراک نہیں کہ سائنسدان بننے کا مطلب کیا ہے۔

ان کے کام کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟
ان کی ریسرچ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟
ان کی عظمت کا کیا معیار ہے؟
وہ کیا کرتے ہیں؟
وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟

پھر یہ کہ یہ مالی طور پر فائدہ مند کیریئر نہیں ہے۔ بہت سے دوسرے کیریئر، ڈاکٹر یا انجینئر یا تاجر یا وکیل۔ یا یہاں تک کہ ایک فوجی افسر، کہیں زیادہ پرکشش سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اس قسم کی سہولیات، مالی فوائد اور معاشرتی عزت سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو پاکستانی معاشرے میں عام طور پر کسی سائنسدان کو نہیں ملتی۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ میری نظر میں سائنسدان ہونا دنیا کا بہترین پیشہ کیوں ہے؟

یہاں میں ایک عام سائنسدان کی زندگی کی چند نمایاں خصوصیات پر بات کرتا ہوں۔ چونکہ میں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی ایک ماہر طبیعیات اور یونیورسٹی کے پروفیسر کے طور پر گزاری ہے، اس لیے میرے زیادہ تر مشاہدات اسی تناظر میں دیے گئے ہیں۔

ایک سائنس دان کا رول معروضی سچائی کی تلاش ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسی سچائی کی تلاش میں دلچسپی رکھتا ہے جسے کوئی بھی اس بات سے قطع نظر کہ وہ کہاں ہے، کس مذہب کی پیروی کرتا ہے، اور کس قومیت کا حامل ہے، اپنے طور پر سچ ثابت کر سکے۔

بہت کم عمری میں جب میں نے ایک طبیعات دان بننے کا فیصلہ کیا تھا، تو میرا خواب، اپنے اندر تخلیقی صلاحیت، آزادیِ فکر اور ندرت پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ اس کمسنی میں بھی مجھے اندازہ تھا کہ ایک سائنسدان کی زندگی نئے نئے اور انوکھے تجربات سے بھرپور ہوتی ہے۔ ایک سائنسدان کا کام قوانینِ فطرت دریافت کرنا اور پہلے سے موجود قوانینِ فطرت کو استعمال کر کے نیا علم تخلیق کرنا ہوتا ہے۔ میری اسی سوچ نے مجھے ایک طبیعات دان بننے کی طرف راغب کیا۔

جس طرح ایک شاعر، عام الفاظ کو ایک خاص ترتیب دے کر ایک خوبصورت نظم وجود میں لاتا ہے۔ اور ایک مصور عام سے رنگوں کا استعمال کر کے ایک خوبصورت تصویر بناتا ہے، اسی طرح ایک سائنسدان چند خیالات کو یکجا کر کے فطرت کو جانچنے اور ان کی وضاحت کرنے کا کام کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک مصور کوئی معمولی سا احساس اُجاگر کر سکتا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ ایک شاعر اس سے بہتر کوئی شاہکار پیش کر دے۔ مگر سائنسدان اُن نظریات و خیالات کے ساتھ کھیلتا ہے جو گہرے اور عمیق ہوتے ہیں اور جس کو محض مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ شاعروں اور مصوروں کے برعکس سائنسدان کے پاس ایک اعلی درجے کا علمی ہنر ہونا چاہیے تا کہ وہ عمیق سائنسی مسائل سے نبرد آزما ہو سکے۔

ایک سائنس دان عام طور پر صرف ایک خیال میں دلچسپی رکھتا ہے قطع نظر اس کے کہ کون اسے تجویز کر رہا ہے۔ کسی خیال کی خوبصورتی، اس کی گہرائی، اس کی افادیت اور اس کے سیاق و سباق میں ہوتی ہے۔ ایک پیشہ ور سائنسدان اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتا ہے۔ وہ اپنے کام اور دوسروں کے کام کو صرف سائنسی میرٹ کے معیار پر پرکھتا ہے۔ ایک سائنسدان تقریباً کبھی بھی دوسروں کی ذاتی زندگی میں دلچسپی نہیں لیتا۔ ان کے لیے یہ دلچسپ نہیں ہے کہ کوئی سائنسدان کیسے بنا، انہیں کن رکاوٹوں پر قابو پانا پڑا، اور ساتھیوں سے ان کا کتنا اچھا تعلق ہے۔ ان کے لیے اہمیت صرف ان نظریات کی ہوتی ہے جو وہ پیش کرتے ہیں۔

ایک سائنس دان کی عظمت کا اندازہ ان سوالات کے معیار سے لگایا جاتا ہے جن کو حل کرنے کی وہ جد و جہد کرتا ہے۔ اعلیٰ ترین سطح پر وہ سوال ہیں جو فطرت کے قوانین کو تشکیل دینے کا باعث ہوتے ہیں۔ سب سے اونچے درجے پر نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے سائنسدان فائز ہیں جنہوں نے وہ بنیادی قوانین مرتب کیے جنہوں نے کائنات کے اسرار کو سمجھنے میں اہم رول ادا کیا۔ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین حرکت اور قانون ثقل نے جدید سائنسی دور کا آغاز کیا اور صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح آئن سٹائن کے پیش کردہ قوانین اضافیت نے زمان و مکاں کے بارے میں ہمارے تصورات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کوانٹم مکینکس کی دریافت سے وابستہ بہت سے سائنسدان بھی عظمت کے اس مقام پر فائز ہیں۔ ان کے تخلیقی کارناموں نے بیسویں صدی میں برپا ہونے والے ٹیکنالوجی کے انقلاب کو ممکن بنایا۔ کائنات کے اسرار کو سمجھنے کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔ بہت سے سوال ابھی تشنہ ہیں۔

اگلے درجے پر وہ سائنسدان فائز ہیں جوان قوانین کی بنیاد پر نئے اثرات اور آلات دریافت کرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست لیزر، سپر کنڈکٹیویٹی، اور ٹرانزسٹر جیسی دریافت کرنے والے شامل ہیں۔ پھر اکثریت ان سائنسدانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے علم کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ان آلات اور نظریات کا استعمال کرتے ہیں۔

بعض حوالوں سے نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے سائنس دان خوش قسمت تھے کہ وہ ایسے دور میں رہتے تھے جس وقت وہ بنیادی قوانین دریافت نہیں ہوئے تھے جن کے تحت اس کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ ان بنیادی قوانین کی دریافت صرف ایک ہی دفعہ ہو سکتی ہے اور یہ ان خوش قسمت افراد کے ہاتھوں ہوتی ہے جو صحیح جگہ پر صحیح وقت موجود ہوں۔ بعد میں آنے والا شخص کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کے لیے اس پیمانے کی دریافت کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ نیوٹن اور آئن سٹائن انسانی تاریخ میں صرف ایک بار پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ نکتہ اختصار کے ساتھ بیسویں صدی کے ایک عظیم سائنسدان پال ڈیراک نے بیان کیا جو اس وقت موجود تھے جب کوانٹم میکانکس کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں اور جنہوں نے اس عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں تبصرہ کیا کہ وہ دور، جب کوانٹم میکانکس کے قوانین دریافت ہو رہے تھے اور نئے نظریے کی بنیاد پر نئی نئی دریافتیں کی جا رہی تھیں، وہ وقت تھا جب ایک اوسط درجے کا سائنسدان اعلیٰ درجے کا کام پیش کر سکتا تھا جبکہ اب ایک اعلیٰ درجے کے سائنسدان کے لیے اوسط درجے کا کام پیش کرنا مشکل ہے۔

ایک سائنسدان کی زندگی عموماً یک جہتی ہوتی ہے۔ ان کی زندگی میں سائنسی ریسرچ کے علاوہ بہت کم دلچسپیاں ہوتی ہیں۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت عظیم سائنسدانوں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان سب میں جو قدر مشترک پائی وہ ان سب کا انتہائی یکسوئی سے ریسرچ کرنا ہے۔ یہ اس انہماک کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ریسرچ کی زندگی میں کوئی قابل ذکر کارنامہ ادا کر سکے۔

ایک سائنسدان پریس کانفرنس بلا کر یا کسی مجمعے میں کھڑے ہو کر اپنی دریافت کا اعلان نہیں کرتا۔ اس کی دریافت اس وقت تک قابل اعتبار نہیں سمجھی جاتی جب تک کہ اس کی فیلڈ کے افراد اس کی دریافت کی تصدیق نہ کر دیں۔ اس مقصد کے لیے ایک خاص طریقہ کار موجود ہے۔ سائنسی دنیا میں ہر مضمون اور ہر فیلڈ سے وابستہ بہت سے جرنل ہوتے ہیں۔ ان میں بعض کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک سائنسدان کوئی نئی دریافت کرتا ہے، تو اس کو پذیرائی اس وقت تک نہیں ملتی جب تک دہ اپنے نتائج کو ان سائنسی جرنلز میں شائع نہ کر سکے۔ بین الاقوامی سطح کے سائنسی جرنل میں اشاعت کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ جب ایک سائنسدان اپنی دریافت کو ایک ریسرچ پیپر کی صورت میں ایک جرنل کو بھیجتا ہے تو جرنل کا ایڈیٹر جو اس مضمون میں ماہر سمجھا جاتا ہے، اس ریسرچ پیپر کو اس فیلڈ کے دو اور بعض اوقات تین ماہر سائنسدانوں کو ان کا تبصرہ معلوم کرنے کے لیے ارسال کرتا ہے۔ ان ماہرین کے نام خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ یہ شاذ ہی ہوتا ہے کہ یہ سب ماہرین فوری طور پر کسی سائنسی مقالے کو اسی صورت میں شائع کرنے کی متفقہ سفارش کر دیں۔ عام طور پر وہ مقالے کی کسی نہ کسی کوتاہی کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایڈیٹر کو رائے دیتے ہیں کہ اگر مصنف ان کوتاہیوں کو دور کرسکے تو مقالے کو قبول کر لے۔ کئی بار وہ سفارش کرتے ہیں کہ مقالے کو مسترد کر دیں۔ اکثر اوقات اس سارے پراسس میں کئی مہینے گزر سکتے ہیں۔

ایک سائنسدان کو اپنی تحقیق کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک اور اہم ذریعہ اس مضمون اور فیلڈ سے وابستہ کانفرنس میں لکچر دینا یا سیمینار دینا ہے۔ یہ لکچر ان لوگوں کے سامنے دیے جاتے ہیں جو اس فیلڈ کے طالب علم یا ماہر ہوتے ہیں۔ ہر لکچر کے بعد سوالات پوچھے جاتے ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ لیکچرر کے پاس اپنے مقالے سے وابستہ ان سوالات کے ایسے جوابات ہوں گے جو سامعین کو مطمئن کر سکے۔

ایک سائنسدان اپنی شناخت تحقیق کے شعبے سے کرتا ہے۔ قومیت، مذہب یا کسی اور پیمانے سے نہیں۔ ان کی تحقیق کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر پرکھا جاتا ہے۔ کوئی سائنس قومی یا علاقائی نہیں ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایک سائنسدان کے قریبی دوست ان کے وہ ساتھی نہیں ہوتے جن سے ان کا روزانہ کا تعلق ہوتا ہے۔ ان کے دوست تو وہ سائنسدان ہوتے ہیں جو انہی کی طرح کے تحقیقی مسائل پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بعض اوقات ہزاروں میل دور کسی دوسرے ملک بلکہ دوسرے براعظم میں دفاتر اور لیبارٹریوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف مشترکہ منصوبوں پر دوست اور تعاون کرنے والے بن سکتے ہیں بلکہ کسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں حریف بھی بن سکتے ہیں۔ سائنسدان کو عمومی طور پر ایک ملک تک محدود نہیں کیا جا سکتا وہ تو دنیا کا شہری ہوتا ہے۔ جب ہم آئن سٹائن کے تخلیقی کارناموں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کو جرمن سائنسدان کی حیثیت میں نہیں بلکہ ایک عالمی سائنسدان کے طور پر۔ ان کے دریافت کردہ قوانین فطرت تمام دنیا کا سرمایہ ہوتے ہیں۔

سائنسدان کا کام علم تخلیق کرنا ہوتا ہے۔ کسی دوسرے تخلیقی شعبے کی طرح ایک سائنسدان کا کام شام پانچ بجے ختم نہیں ہوتا۔ ایک سائنسدان کا کام کل وقتی ملازمت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ایک سائنس دان کبھی بھی کام کے اوقات، یا رات کے وقت، یا چھٹیوں کے دوران سائنسدان بننے سے باز نہیں آتا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں اپنے جوبن پر ہوتی ہیں اور پھر ایسے دن اور ہفتے اور مہینے آتے ہیں جب اس کے لیے کوئی نئی سوچ محال ہوتی ہے۔ ایک سائنسدان کی کارکردگی کو روزانہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ سالوں پر محیط تخلیق کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ ایک سائنسدان کی زندگی آزادی اور تخلیقی صلاحیتوں سے عبارت ہے۔

سائنسدان کے کیریئر کی مثال ایک کوہ کن کی سی ہوتی ہے جو تمام عمر گوہر نایاب کی تلاش میں گزار دیتا ہے۔ ایک سائنسدان کی زندگی تو مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ وہ ایسی سائنسی دریافت کے لیے سرگرداں رہتا ہے جس سے اسے قدرت کے اسرار کو سمجھنے میں مدد ملے۔ اس کے لیے وہ شب و روز محنت کرتا ہے۔ زیادہ تر کوششیں تو رائیگاں جاتی ہیں۔ لیکن پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایسی سائنسی دریافت کرتا ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہو۔ یہ چند لمحات اس کی سائنسی زندگی کا حاصل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آئن سٹائن نے اپنی زندگی کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ ان کی پوری زندگی میں صرف 5 ایسے خیالات آئے جو قیمتی اور حاصل زندگی تھے۔ آئن سٹائن نے اپنی زندگی کے آخری تیس سال کشش ثقل کو فطرت کی دوسری قوتوں کے ساتھ ملانے کی کوشش پر صرف کیے لیکن پھر بھی ناکام رہے۔

زندگی کے اکثر شعبوں میں ایسے واضح معیار نہیں ہوتے جن کے مطابق ایک فرد کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہو۔ لیکن سائنس میں ایسا نہیں ہے۔ ایک سائنسدان کا اپنی فیلڈ میں اپنا مقام تعین کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ وہ سائنس کی دنیا میں اپنے مقام سے خوب واقف ہوتا ہے۔ یہ خوشی کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے لیکن بعض اوقات وہ محسوس کرتا ہے کہ محنت کے باوجود اس کی تخلیقات اپنے ساتھی سے بہتر نہیں۔ بیسویں صدی کے بہترین روسی سائنسدانوں میں سے ایک اور 1962 کے نوبل انعام یافتہ، Lev Landau، نے ایک دلچسپ درجہ بندی پیش کی جس کے مطابق نیوٹن اور آئن سٹائن 0.5 کے سکور کے ساتھ سب سے اونچے رینک پر فائز ہیں، اس کے بعد کوانٹم مکینکس کے موجد نیلز بوہر، ورنر ہائزنبرگ، ایرون شروڈنگر، پال ڈیراک، اور چند دوسرے 1.0 کے سکور کے ساتھ دوسری منزل پر ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے 2.5 کا معمولی سکور تجویز کیا۔ بعد کی زندگی میں، جب فزکس میں ان کے کارناموں میں اضافہ ہوا تو انہوں نے خود کو 1.5 کی درجہ بندی کا حقدار قرار دیا۔ یہ درجے بندی واضح کرتی ہے کہ کوئی بھی سائنسدان اپنی ریسرچ کی فیلڈ میں کس مقام پر ہے۔

ایک سائنسدان عام طور پر کافی شائستہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوتی ہے کہ جوں جوں اس کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اس پر یہ منکشف ہوتا جاتا ہے کہ اس کا علم کتنا محدود ہے۔ جوں جوں وہ علم کی وادی میں اترتا ہے، اس کے سامنے ایسے ایسے گوشے وا ہوتے ہیں جن کا اس نے تصور نہیں کیا ہوتا۔ اس کو اپنا علم دریا میں ایک قطرے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ نیوٹن نے قوانین فطرت کو دریافت کرنے میں اہم رول ادا کیا اور سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ ان کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سائنسدان تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی کامیابیوں کو ان الفاظ میں بیان کیا:

” میں نہیں جانتا، کہ دنیا میرے بارے میں کیا خیال کرتی ہے مگر میں اپنے آپ کو ایک کم سن لڑکے کی طرح سمجھتا ہوں جو ساحل سمندر پر کھیل میں مشغول ہے۔ وہ خوبصورت سے خوبصورت ترین کنکریوں کی تلاش میں ہے۔ اور بہتر سے بہترین سیپی کی کھوج میں دنیا سے بے خبر ہے۔ جبکہ پوشیدہ حقائق کا بحرِ بے کراں اس کے سامنے موجزن ہے“ ۔

یہ فن اس پیشے سے منسوب رہنے سے آتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy