بچپن کی عید اور آج کی عید۔ خوشیوں کا بدلتا رنگ


عید کا نام سنتے ہی خوشبوؤں، رنگوں اور محبتوں کا ایک حسین امتزاج ذہن میں آ جاتا ہے۔ چاند رات کا انتظار، دادی کے ہاتھ کی بنی میٹھی سویاں، ابو کی طرف سے عیدی، اور سہیلیوں کے ساتھ نئے جوتوں کی دوڑ، بچپن میں عید کا ہر لمحہ ایک یادگار خوشی کا سبب تھا۔ وہ وقت جب چاند رات کو آسمان پر چمکتا چاند دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھتا تھا۔ امی فوراً آواز دیتیں، ”چاند نکل آیا، آؤ سب دعا کرو!“ اور سب بہن بھائی ہاتھ اٹھا کر اپنی چھوٹی چھوٹی دعائیں مانگنے لگتے۔ چاند رات کی رونق کچھ اور ہی ہوا کرتی تھی۔ مہندی لگوانے کی جلدی، چوڑیوں کی کھنک، گلیوں میں بھاگتے دوڑتے بچے، اور وہ خوشبو جو ہر طرف بسی ہوتی تھی۔

عید کی تیاری کئی دن پہلے شروع ہو جاتی تھی۔ تب بازار جانا ایک ایڈونچر سے کم نہیں ہوتا تھا۔ نئے کپڑوں کے انتخاب پر بہن بھائیوں میں بحث، ابو کے ساتھ جوتے خریدنے کا مزہ، اور امی کی فکرمندی کہ سب کے کپڑے اچھے آئیں۔ یہ سب مل کر عید کو خاص بناتے تھے۔ آج کے دور میں آن لائن خریداری نے بہت آسانی تو پیدا کر دی ہے مگر وہ جوش و خروش، وہ جذبہ، وہ چیزوں کو چُھو کر خریدنے کا لطف سب کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب عید سے پہلے عید کی مبارکباد کے لیے عید کارڈز بھیجنا ایک عام روایت تھی۔ بچے، بڑے سب بازار جا کر خوبصورت عید کارڈز چنتے، ان پر دل سے دعائیں اور محبت بھرے پیغام لکھتے اور قریبی رشتہ داروں، دوستوں کو بھیجتے۔ کچھ لوگ کارڈز کو سنبھال کر رکھتے اور سالوں بعد بھی انہیں دیکھ کر پرانی عیدوں کی یادیں تازہ کرتے۔ مگر اب یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا اور موبائل فون کا عام ہونا ہے۔ اب لوگ چند سیکنڈ میں واٹس ایپ یا فیس بک پر ایک ہی پیغام سب کو بھیج دیتے ہیں۔ جذباتی وابستگی، محبت اور محنت جو ایک ہاتھ سے لکھے گئے کارڈ میں ہوتی تھی، وہ اب کہیں کھو گئی ہے۔ آسانی اور تیز رفتار ٹیکنالوجی نے وہ خوشی چھین لی ہے جو کسی کے ہاتھ سے لکھا ہوا عید کارڈ پڑھنے میں آتی تھی۔

چاند رات پر گھر کی تمام خواتین رات گئے تک جاگتی تھیں۔ ہاتھوں پر مہندی کے حسین نقش و نگار بنوانا سب سے بڑی خوشی ہوتی تھی۔ محلے کی سب سہیلیاں اکٹھی ہوتیں اور سب ایک دوسرے کے مہندی لگے ہاتھ دیکھ کر داد دیتیں۔ آج چاند رات اکثر موبائل فونز کے سائے میں گزر جاتی ہے، مہندی کی جگہ انسٹاگرام اور فیس بک پوسٹوں اور واٹس ایپ سٹیٹس نے لے لی ہے اور دوستوں سے گپ شپ کے بجائے ہر کوئی اپنے فون میں مصروف نظر آتا ہے۔

عید کی صبح سب سے خاص لمحہ ہوتی تھی۔ امی ابو فجر کے بعد سب کو جگاتے، یہ مقابلہ ہوتا کہ کون پہلے تیار ہوتا ہے اور سب سے زیادہ پرجوش لمحہ وہ ہوتا جب امی الماری کھول کر ایک ایک کر کے سب کو نئے کپڑے نکال کر دیتیں۔ خوشبو لگانے کے بعد سب تیار ہو کر عید گاہ جاتے۔ چھوٹے بچوں کو ہاتھ تھام کر لے جانا، واپسی پر راستے میں دوستوں اور محلے کے بڑوں سے ملنا، ہر جگہ ہنسی خوشی کا سماں ہوتا۔ نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملنے کا جذبہ آج بھی یاد آتا ہے۔ آج کے دور میں، کچھ لوگ سستی میں عید کی نماز چھوڑ دیتے ہیں، کچھ اسے صرف ایک رسمی روایت سمجھتے ہیں، اور کچھ تو صبح ہی دیر سے اٹھتے ہیں کہ عید کا مزہ ہی ادھورا رہ جاتا ہے۔

بچپن میں عیدی ملنے کی خوشی دنیا کی سب سے بڑی خوشی لگتی تھی۔ نانی، دادی، چچا، ماموں سب سے عیدی لینے کا ایک الگ ہی لطف تھا۔ پھر وہی عیدی لے کر دوستوں کے ساتھ بازار جانا، آئسکریم کھانا، رنگ برنگے غبارے اور کھلونے خریدنا یہ سب لمحے ناقابلِ فراموش تھے۔ آج ہم خود عیدی دینے والوں میں شامل ہو چکے ہیں اور سمجھ آتا ہے کہ بڑوں کے لیے یہ روایت بچوں کی خوشی دیکھنے کا ایک بہانہ تھی۔ لیکن آج کے بچے کیا وہی خوشی محسوس کرتے ہیں؟ شاید نہیں کیونکہ اب عیدی ملنے کے بعد وہ فوراً موبائل میں گیم کھیلنے لگتے ہیں، یا کہتے ہیں کہ ”ابو! عیدی اکٹھی کر کے کوئی بڑی چیز لے لیتے ہیں۔“ وہ چھوٹے چھوٹے خواب، وہ معصوم خوشیاں، سب بدل چکا ہے۔

بچپن کی عید میں سب سے خاص چیز رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنا تھا۔ پورا دن مہمان آتے رہتے، ہم خود بھی چچا، تایا، پھپھو کے گھر جاتے، ہر جگہ شیر خرمہ، چکن بریانی، اور رنگ برنگے میٹھے پکوان لگے ہوتے۔ اب زندگی کی مصروفیات اور جدید طرزِ زندگی نے وہ گرمجوشی کم کر دی ہے۔ کچھ لوگ عید پر گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتے، کچھ کے لیے عید صرف سوشل میڈیا پر عید مبارک کے میسجز بھیجنے تک محدود ہو چکی ہے۔

بچپن میں عید کی سب سے خاص بات بچوں کے چہروں کی مسکراہٹ تھی۔ پورے محلے میں بچے خوشی خوشی دوڑتے پھرتے، ہر کسی کو نئے کپڑے اور جوتے دکھاتے اور سب کا جوش دیدنی ہوتا۔ آج کے بچے موبائل گیمز اور یوٹیوب میں مگن نظر آتے ہیں، ان کی عیدی میں بھی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں عید کی اصل خوشیاں نہیں دکھائیں۔

عید صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ خوشیوں کو بانٹنے، محبتوں کو بڑھانے، اور اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے کا نام ہے۔ وقت بدل گیا، روایات بدل گئیں، لیکن عید کی اصل روح اب بھی وہی ہے۔ اس بار عید پر کوشش کریں کہ موبائل اور سوشل میڈیا کی بجائے حقیقت میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملیں۔ چاند رات کو باہر نکلیں، مہندی لگائیں، بچوں کو عیدی دے کر انہیں بازار لے کر جائیں، اور عید کی وہی رونق واپس لانے کی کوشش کریں جو بچپن میں ہوا کرتی تھی۔ یہی وہ یادیں ہیں جو ہمیشہ دل میں بسی رہتی ہیں۔ عید تبھی عید ہے جب یہ سب کے لیے خوشیاں لے کر آئے۔

Facebook Comments HS