بورے والا میں قیام


میں 1960 میں تقریباً سات سال کی عمر میں بورے والا آ گیا تھا اور 1974 میں بی ایس سی کرنے تک یہیں قیام پذیر رہا۔ جس چوبارے میں ہم رہائش پذیر تھے وہ ایک تنگ و تاریک آسیب زدہ سی کوٹھڑی پر مشتمل تھا۔ جس کے سامنے چھ، سات فٹ چوڑی لکڑی کی بنی ہوئی ایک گیلری تھی جس کے دریچے سامنے بازار میں کھلتے تھے۔ ہماری اس گیلری کے بالکل سامنے مختار سوڈا واٹر کی دکان تھی۔ اس دکان کے پیچھے ایک کمرے میں سوڈا واٹر کی بوتلیں بھرنے کے لئے ایک مشین لگائی گئی تھی۔ جہاں سارا دن بوتلیں بھری جاتیں اور اس سارے عمل کی آواز ہمیں گیلری میں بھی سنائی دیا کرتی اس کے علاوہ اس دکان پر انڈین موسیقی کی مدھر تانوں کے ساتھ لتا کی سریلی آواز میں گائے جانے والے گانے ایک سماں باندھے رکھتے یہ واحد تفریح تھی جو اس چوبارے میں سارا دن مجھے مفت میں دستیاب ہوا کرتی تھی۔ واش روم ہمارا تین مختلف جگہوں پر بکھرا ہوا تھا۔ صبح منہ اندھیرے بیدار ہو کر نیچے بازار میں موجود سرکاری پانی کے نلکے کے نیچے بیٹھ کر نہا لیا کرتے تھے اور یہ عمل سردیوں، گرمیوں دونوں موسموں میں ایسے ہی جاری و ساری رہا کرتا تھا۔ نہانے کے ساتھ ہی پانچ چھ پانی کے گھڑے بھر کر دن بھر کی پانی کی ضروریات کے لئے اسے اپنے گھر میں ذخیرہ کر لیا کرتے تھے اور اگر کبھی صبح کے بعد نہانے کی ضرورت محسوس ہوتی تو ظاہر ہے کہ بازار میں جا کر تو نہایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس لیے ہم اپنے رہائشی کمرے کے کونے میں رکھے ہوئے انہی گھڑوں کے پاس بیٹھ کر نہا لیا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ اس کمرے کی چھت پر ایک اوپن ائر لیٹرین موجود تھی جس کو روزانہ کی بنیاد پر مہترانی صاف کر جایا کرتی تھی۔ اُن دنوں پورے شہر میں یہی نظام چل رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھنگیوں کی ہڑتال بہت موثر ہوا کرتی تھی۔

گرمیوں کی راتیں چھت کے اوپر گزاری جاتیں۔ کمرے میں پڑی ہوئی چارپائیاں سر شام ہی چھت پر چڑھائی جاتیں۔ گو کہ چھت پر آسمان اور ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے تنہائی کا احساس کچھ کم ہو جاتا لیکن سامنے نظر آنے والے سارے صحن بالکل اجاڑ اور سنسان دکھائی دیا کرتے تھے۔ باقی تین اطراف اونچے اونچے پردوں کی موجودگی میں کچھ نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ سامنے کا پردہ زمانہ قدیم میں کسی تیز آندھی کی زد میں آ کر نیچے گر چکا تھا اور اسے دوبارہ بنوانے کی شاید کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ یہاں چھت سے ہمیں صرف ایک گھر کا صحن نظر آیا کرتا تھا۔ جہاں اس گھر کے باسی چلتے پھرتے دکھائی دیا کرتے تھے۔ یہ گھر بھی صرف ایک عدد کمرے اور اس کے سامنے موجود ایک چھوٹے سے صحن پر مشتمل تھا۔ یہ بھی ایک چوبارہ تھا جس کے نیچے والی دکان کسی ایک شخص کی ملکیت تھی۔ جب کہ اس دکان کی چھت پر بنایا گیا یہ کمرہ ماسٹر مولا بخش کی ملکیت تھا۔

ماسٹر صاحب شہر کے واحد درزی تھے جو پینٹ، شرٹ، نیکر اور کوٹ وغیرہ سی لیا کرتے تھے۔ جب کہ شہر کے بقیہ تمام درزی اس فن بخیہ گہری سے ناآشنا تھے۔ یہ میاں بیوی، پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مشتمل ایک اُردو سپیکنگ گھرانا تھا۔ خاتونِ خانہ ذہنی طور پر غیر متوازن تھی۔ اس لیے گھر کا سارا نظام اس کی بڑی بیٹی کے سپرد تھا۔ جس دن ماسٹر صاحب کی آمدنی غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہمیں اپنی چھت پر بیٹھے بٹھائے ہی اس کے بارے میں علم ہوجاتا۔ اس دن ساری ساری رات انواع و اقسام کے پکوان پکائے اور کھائے جاتے رہتے۔

اس خاندان کی صرف ایک بیٹی ننھی ہی واقعی ننھی اور چھوٹی سی تھی۔ باقی سب بہن بھائی جوان بلکہ ہم عمر ہی معلوم ہوا کرتے تھے۔ سارے کنبے کی پہچان اُن کی غیر معمولی سیاہ رنگت تھی۔ ماسٹر صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی زمانے میں تھیٹر میں کام کیا کرتے تھے۔ جہاں وہ مجنوں کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ اُن کے مضبوط کندھے چوڑی چھاتی، آگے کو غیر معمولی طور پر ابھرا ہوا ورزشی سینہ اور بازوؤں کی پھڑکتی ہوئی مچھلیاں لان کے کُرتے میں سے باہر نکلتی ہوئی محسوس ہوا کرتی تھیں۔ خدا کی رزاقیت پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ جو کچھ دن بھر میں کماتے رات سونے سے پہلے برابر کر کے اس یقین اور صدق کے ساتھ سو جاتے کہ کل کا رزق بھی وہ رزاق ضرور مہیا کرے گا۔

اس گھر سے عموماً کھانے پینے کی کوئی نہ کوئی چیز ہمارے ہاں بھی پہنچتی رہتی۔ گھر کا کوئی فرد عموماً صحن میں کھڑے ہو کر اونچی آواز میں مجھ سے دریافت کرتا کہ زردہ بنا یا ہے۔ کھانا ہے تو بھجواؤں اور میری طرف سے ہاں ہونے کی صورت میں زردہ مجھے پہنچایا جاتا۔

ایک بار ایک شخص بڑے غصے میں ماسٹر صاحب کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ آپ کے بیٹے نے میرے بیٹے کو بہت پیٹا ہے۔ ماسٹر صاحب نے دریافت کیا کون سے بیٹے نے، اس نے کہا کہ نام کا تو مجھے پتہ نہیں ہے لیکن وہ سیاہ کالی رنگت والا لڑکا تھا۔ ماسٹر صاحب غصے میں بولے کہ شہر بھر میں جو کوئی کالی رنگت کا لڑکا ہے وہ میرا بیٹا ہی ہے۔ ماسٹر صاحب کے پانچوں بیٹے بہت اچھے اتھلیٹ تھے اور کسرتی جسم کے مالک تھے۔

ایک بار شہر پر ٹڈی دل نے حملہ کر دیا۔ سکول میں ٹڈیوں کی بہت بڑی تعداد یہاں پر موجود پودوں اور پھولوں کو چٹ کیے جا رہی تھی اور ماسٹر صاحب کے پانچوں بیٹے غلیلیں ہاتھ میں لیے اُن کا شکار کر رہے تھے۔ وہ شام تک سالن بنانے کے لئے معقول تعداد میں ٹڈیاں جمع کر چکے تھے۔ رات کے کھانے میں ان ٹڈیوں کا سالن تیار کیا گیا جو بطور سوغات مجھے بھی بھجوایا گیا۔

ہمارے زمانے میں کالج کی وردی ملیشیا رنگت کی پتلون اور سفید قمیض ہوا کرتی تھی۔ میں نے وردی کی پتلونیں ماسٹر صاحب سے سلوائیں۔ جب میں نے ٹرائی کے لیے انہیں پہنا تو پیچھے کولہوں کے نیچے ایک بڑی سی سلوٹ پڑ رہی تھی۔ میرے نشان دہی کرنے پر کچھ دیر تک تو اُسے کھینچ کھانچ کر سیدھا کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب کسی بھی طور کامیاب نہ ہوئے تو اعلان کر دیا کہ آپ کے کولہوں میں ہی نقص ہے۔ پتلون میں نے بالکل درست انداز میں سلائی کی ہے۔

ہمارے چوبارے کے ساتھ ہی دو کمرے اور بھی موجود تھے اور وہاں پر میاں چنوں سے تعلق رکھنے والا ایک مل مزدور عبدالجبار رہا کرتا تھا۔ ایک بار عید کی چھٹیاں ہو رہی تھیں۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ تم میاں چنوں جانے کے لئے کون سا راستہ اختیار کرتے ہو۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے وہ بس میں بیٹھ کر چیچہ وطنی جاتا ہے اور پھر وہاں سے بس تبدیل کر کے میاں چنوں جاتا ہے۔ میں لاری اڈے پر یہاں سے سیدھی میاں چنوں جانے والی بس دو دن پہلے دیکھ چکا تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ یہاں سے ایک بس سیدھی میاں چنوں جاتی ہے۔ آپ کو راستے میں بس بدلنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی اور کرایہ بھی کم ہو گا۔ اس نے عید پر میری اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے گھر جانے کے لیے یہ نو دریافت شدہ راستہ اختیار کیا۔ جب عید کے بعد ہم لوگ واپس آئے تو میں نے عبدالجبار سے پوچھا کہ سناؤ نیا راستہ کیسا رہا، بولا راستہ کیسا رہنا تھا، ہماری تو عید بھی اسی راستے میں ہی ہوئی۔ دورانِ سفر بس خراب ہو گئی کچی سڑک تھی اور دور دور تک کوئی ورک شاپ نہیں تھی۔ بس کو ٹھیک کروانے میں پورا ایک دن لگ گیا۔ ہم نے عید راستے میں ہی پڑھی اور عید والے دن رات کو کہیں جا کر گھر پہنچے۔

ایک دن ارشد نے منہ پر ڈھاٹھا باندھ کر ہاتھ میں سیاہ رنگت کا بڑا سا کھلونا پستول لے کر اس کے کمرے کی کھڑکی کھول کر اُسے بلند آواز میں ڈانٹ کر کہا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے باہر نکال دو۔ یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی ہی رہ گئیں۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے سوچا پھر چارپائی سے چھلانگ لگائی اور دوڑتا ہوا آناً فاناً دروازے سے باہر نکل کر سیڑھیاں اُترتے ہوئے نیچے باہر گلی میں جا پہنچا۔ ارشد اپنی اس شرارت پر بڑا پریشان تھا۔ اُسے خوف تھا کہ وہ بدحواسی میں بھاگ کر سیڑھیاں نیچے اُترتے ہوئے کہیں گر کر زخمی نہ ہو گیا ہو۔ بہرحال جب کافی دیر کے بعد وہ واپس آیا تو نہ صرف یہ کہ اس کے اوسان بحال تھے بلکہ وہ اپنی دلیری کی داستان بھی سنا رہا تھا کہ کس طرح اس نے ایک خطرناک ڈاکو سے گتھم گتھا ہو کر اُسے بھاگ جانے پر مجبور کیا تھا اور ارشد بار بار اس سے یہ داستان سن کر مدتوں محظوظ ہوتا رہا لیکن اُسے حقیقت حال کے متعلق کبھی بھی کچھ نہ بتایا۔

یہیں پر مالک مکان کے بھائی احمد حسن نمبردار بھی اکثر بیشتر عبدالجبار کے پاس آ کر قیام کیا کرتے تھے۔ اُن کی عمر پینتالیس پچاس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ گگو کے قریبی گاؤں میں رہائش پذیر تھے اور ایک فوجی پس منظر رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی کپتان احمد دین کو انگریز سرکار نے اُن کی سپاہیانہ خدمات کے عوض بورے والا میں

موجود ایسے دو گھر الاٹ کیے ہوئے تھے۔ جن کے ساتھ دو دو دکانیں ملحق تھیں۔ اس کے علاوہ گاؤں میں زمینیں بھی دے رکھی تھیں۔ اسی بنا پر گاؤں کی نمبر داری بھی اسی خاندان کو ودیعت کر رکھی تھی۔

نمبر دار محمد حسن سرخ و سپید رنگت، بھوری آنکھوں اور بڑی سی توند کے ساتھ ایک وضع دار شخصیت کے مالک تھے۔ جو ابھی تک غیر شادی شدہ تھے۔ اپنی شادی کے لیے ہمہ وقت اُن کے پاس بہت سے پروگرام موجود ہوا کرتے تھے۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر شادی سے دور بھاگتے تھے۔ پنچ وقتہ نمازی اور نیک انسان تھے۔ ایک بار تشریف لائے تو ایک بازو سفید پٹیوں میں جکڑ کر گلے میں ڈالا ہوا تھا۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ ہم چار لوگ اس گاڑی میں سوار تھے۔ باقی تینوں شراب کے نشے میں دھت بدکردار اور بد معاش لوگ تھے۔ اُن تینوں کو خراش تک نہیں آئی اور میرا بازو ٹوٹ گیا۔ اس سانحے پر وہ اللہ تعالیٰ سے بھی شاکی نظر آرہے تھے۔

Facebook Comments HS