معاون خصوصی پرائس کنٹرول کی آنیاں جانیاں
ویسے تو ہر حکومت چاہے وہ وفاق میں ہو یا صوبے میں اور خاص طور پر پنجاب کی ہو، ان کی ڈرامے بازیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں، موجودہ پنجاب حکومت جس کی وزیراعلی مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز ہیں، ان کی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کھپ دیکھ کر کھسرے یاد آ جاتے ہیں جو کسی کے گھر بیٹا پیدا ہونے پر ناچ ناچ کر پھاوے ہو جاتے ہیں، مریم نواز نے ایسے ایسے معاونین خصوصی بنائے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں جن کے کام کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کرنا کیا ہے
مثال کے طور پر ایک حنا پرویز بٹ ہیں جن کو خواتین کو ہراسانی، تشدد اور دیگر جرائم کے حوالے اہم عہدہ دیا گیا ہے، ان کے کام کی سمجھ نہیں آتی کہ جو کام ایک فون کال پر لیا جاسکتا ہے اس کے لئے وہ خود سرکاری لاؤ لشکر کے ساتھ لاہور سے چل پڑتی ہے اور دوسرے شہروں میں جاکر ڈی سی اور ڈی پی او سے شاہانہ پروٹوکول لیتی ہے اور پھر ظلم کا شکار بچی، لڑکی کو ڈی پی او آفس میں بلاوا کر میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے ورثا کو یقین دلایا جاتا ہے کہ مریم نواز ان کے ساتھ کھڑی ہیں، ان کو انصاف ملے گا، اس کے بعد کچھ علم نہیں ہوتا کہ اس مظلوم کو انصاف ملا بھی ہے کہ نہیں کیونکہ پولیس ان کیسز میں جو گھناؤنا کردار ادا کرتی ہے وہ آئے روز میڈیا میں آتا رہتا ہے
چند ماہ قبل سپورٹس بورڈ پنجاب میں ایک خاتون ملازمہ کے ساتھ ہراسمنٹ کا کیس سامنے آیا جس میں لڑکی نے بیان دیا کہ ایک ملازم نے کمرے میں بند کر کے اس کا دوپٹہ کھینچا اور ہراساں کیا اور وہ مشکل سے جان بچا کر وہاں سے بھاگی جبکہ ایک بیلدار مبشر چٹا نے ڈیٹ نہ مارنے پر قتل کی دھمکی دی، سوشل میڈیا پر یہ خبر بہت وائرل ہوئی مگر مجال ہے کہ حنا پرویز بٹ نے کوئی نوٹس لیا ہو جو معمولی سی بات پر دوسرے اضلاع میں پہنچ جاتی ہیں ان کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ لاہور میں چند میل کے فاصلے پر موجود متاثرہ لڑکی کا جاکر حال معلوم کرتی اور اس کے سر پر بھی ہاتھ رکھ کر لڑکی کو یقین دہانی کرواتیں کہ وزیراعلی مریم نواز ان کے ساتھ ہیں، وزیر کھیل، سیکرٹری سپورٹس پنجاب اور ڈی جی سپورٹس پنجاب نے اس پر سخت ایکشن لیا اور انکوائری کے بعد تین ملازمین کو نوکری سے برطرف اور ایک کو 20 ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا
اسی طرح کے معاونین خصوصی اور بھی ہیں مگر بات طویل ہو جائے گی ان میں ایک معاون خصوصی ایسی ہیں جن کے کام دیکھ کر ہنسی آتی ہے، ان کا کردار ایسا ہے کہ شادی والے گھر میں نین (برتن دھونے والی) پھرتی ہے، وزیراعلی کو نجانے کس عقلمند نے مشورہ دیا کہ اگر اشیائے خور و نوش کی قیمتیں قابو کرنے کے لئے ایک معاون خصوصی مقرر کرلی جائے تو قیمتیں دھڑام سے آسمان سے زمین پر گر جائیں گی اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے محترمہ سلمی بٹ کو وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ مقرر کیا گیا
سلمی بٹ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی ہر حکومت میں کسی نہ کسی طرح شامل رہی ہیں اور کوئی نہ کوئی عہدہ یا کام لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، 2013 ءمیں پنجاب یوتھ فیسٹیول کی ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا جس کی نظامت کے فرائض یہی محترمہ سرانجام دے رہی تھیں، ان کی اناؤنسمنٹس سنکر تمام حاضرین ہنستے رہے، بلانا کسی کو ہوتا تھا بلا کسی اور کو لیتی تھی، انعام کوئی دینا ہوتا اعلان کسی اور کا کر دیتی تھیں، سچ بات تو یہ ہے میں پہلی مرتبہ اسی تقریب میں محترمہ کو دیکھا اور سنا جس کے بعد ان کی قابلیت کھل سامنے آ گئی
معاون خصوصی کا عہدہ ملنے کے بعد محترمہ نے قیمتیں قابو کرنے کے لئے تاجر رہنماؤں سے اپنے دفتر میں ملاقاتیں شروع کیں اور ان کو اپنی قابلیت اور ذہانت سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ناجائز منافع نہ لیں اور عوام کو ریلیف دیں، بھلا پاکستان کے تاجر ایک بے اختیار معاون خصوصی کے قابو میں آنے والے ہیں، پاکستانی تاجر تو اے سی اور ڈی سی کے قابو میں نہیں آتے جو ان کو گرفتار کرنے کے اختیارات بھی رکھتے ہیں، ابھی تک ایسی کوئی خبر یا اطلاع نہیں ملی کہ معاون خصوصی کی وجہ سے تاجروں نے کسی بھی چیز کا ایک روپیہ بھی قیمت کم کی ہو
ان کو معاون خصوصی مقرر کرنے کا عوام کو فائدہ ہو یا نہ ہو، محترمہ کی موجیں ہو گئی ہیں، پھر اللہ کے کرم سے رمضان المبارک شروع ہو گیا تو محترمہ کو اپنی کارکردگی دکھانے کا بہترین موقع مل گیا اور انہوں نے لاہور کے ماڈل بازاروں کے دورے شروع کر دیے اور اپنے ساتھ مقامی ٹی وی چینل کا کوئی چھوٹا موٹا رپورٹر اور چند ایک یوٹیوبر لے کر انٹرویو دینا شروع کر دیے اور وزیراعلی کو ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیں کہ وہ بہترین کام کر رہی ہیں حالانکہ کے ماڈل بازار کے حالات سب جانتے ہیں جہاں ایک یا دو روپے قیمت کم کر کے انتہائی گھٹیا معیار کی سبزیاں اور پھل فروخت کیے جاتے ہیں
ماڈل بازاروں میں برائلر مرغی کا گوشت سرکاری قیمت پر دستیاب ہی نہیں، گرین ٹاؤن سہولت بازار میں مرغی کے سٹال ویلے پڑے ہیں، ایک سٹال پر سرکاری قیمت پر مرغی کا گوشت فروخت دیا جا رہا تھا جہاں بہت زیادہ رش تھا، اس کی وجہ ”گو سلو“ پی آئی اے پائلٹس والی پالیسی چل رہی تھی، ایک شہری نے احتجاج کیا تو اے ایس آئی حسن نے شہری کو دھکے دیے اور کہا کہ وہ ماڈل بازار سے نکل جائے
موجودہ ماڈل بازار تو شہباز شریف نے بنائے تھے اس میں مریم نواز حکومت کا کوئی کریڈٹ ہی نہیں جب لاہور کے ماڈل بازار جو چند ایک ہیں ان کے دورے مکمل ہو گئے تو محترمہ پنجاب کے دورے پر نکل پڑیں، حنا پرویز بٹ کی طرح ہر ضلع میں سرکاری خزانہ سے پروٹوکول کے مزے لئے، ماڈل بازار میں شہریوں سے انٹرویوز کیے اور بتایا کہ حکومت بہت اچھا کام کر رہی ہے، اب پنجاب کے دورے کیے جائیں اور بندہ مری کا مزا نہ لے تو یہ زیادتی ہوگی اس لئے معاون خصوصی نے دو روز قبل مری کا رخ کر لیا تاکہ نوکری بھی ہو جائے اور مری کی ٹھنڈی ہواؤں کے مزے بھی لے لئے جائیں، انہوں نے رمضان سہولت بازار مری کا دورہ کیا اور اشیائے خورد و نوش کے نرخوں کا جائزہ لیا، ان کا کہنا تھا کہ 15 سالوں میں یہ سستا ترین رمضان سہولت بازار ہے، پہلے میڈیا اکثر چیزوں کی کمی اور کوالٹی کی شکایت کرتا تھا اس دفعہ ایسی کوئی چیز میڈیا پر سننے میں نہیں آئی
مرغی کے گوشت کا بتا چکا ہوں، ماڈل بازار میں ایک خاتون کا کہنا تھا کہ بزدار دور میں رمضان میں چینی 55 روپے کلو ملتی تھی اب یہ سب دی ماں 130 روپے کلو دے رہی ہے، بھا لگے ای بازار کوں (آگ لگے اس بازار کو) ، بات یہ ہے کہ عوام تو چیخ رہی ہے کہ چینی مہنگی ہے، مرغی کا گوشت 800 روپے کلو مل رہا ہے، عوام مر گئی ہے مگر عوام کی سنتا کون ہے
محترمہ سلمی بٹ کا یہ کہنا کہ میڈیا میں اب کوئی شکایت نہیں آ رہی کیونکہ وہ رمضان میں ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں اور مسلسل دورے کر رہی ہیں، ان کی بات پر مجھے اس جانور کا واقعہ یاد آ رہا ہے جس نے فارم 47 جنگل کا بادشاہ بننے والے ایک شریف جانور کو شکایت کی کہ شیر نے جنگل میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے آپ کچھ کریں تو وہ فارم 47 کا بادشاہ ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگانے لگا جس پر اس جانور نے کہا کہ حضور کچھ کریں تو اس فارم 47 کے بادشاہ نے جواب دیا کہ تو بس میری آنیاں جانیاں دیکھ، اس لئے عوام بھی محترمہ سلمی بٹ کی آنیاں جانیاں دیکھے کیونکہ مہنگائی کم کرنا اس حکومت کے بس کی بات نہیں۔


