یہ دشت کی تنہائیاں اور درد کا تنہا سفر: سفرنامہ جاپان
ہیرو شیما کی وحشتوں سے نکل کر ہم کیوٹو پہنچ چکے تھے ہمارے سامنے وسیع جنگل تھا حد نگاہ تک سرسبز و شاداب فصلیں اور درخت ہی درخت تھے جس طرح اشجار کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ اسی طرح میرے اندر لا متناہی خیالات اور الجھنوں کی کشاکش جاری تھی اگرچہ میرے ارد گرد میرے ساتھی تھے جن کا اس تمام عرصے خوبصورت ساتھ رہا۔ مسٹر چڑراج دادا رحمنٰ اور سیکوسن ان کے ساتھ گزرے بے مثال دن یاد گار راتیں ان کی باتیں ان کی رفاقتیں آج بہت یاد آ رہی تھیں جوں جوں ہمارے کورس کے ایام ختم ہونے کے قریب آرہے تھے یہ سوچ کر دل پریشان ہو جاتا کہ اچانک ایک دن یہ ساتھ چھوٹ جائے گا اور یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اور ہم دل گرفتہ واپس اپنی اپنی دنیاؤں میں چلے جائیں گے۔
اگرچہ سامنے کا منظر بہت دلکش تھا۔ ایک طرف گھنا جنگل تھا دوسری طرف ایک خوبصورت جھیل تھی جس کے اوپر پرندوں کا شور تھا جہاں خاص طور پر سیگل کے غول کے غول منڈلا رہے تھے آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تیر رہے تھے اور اس سارے منظر کو خوبصورت بنا رہے تھے۔ چڑراج دادا رحمنٰ اور سیکوسن کی موجودگی اس سارے ماحول کی سندرتا کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔ میں بار بار اس منظر کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتا ہر لحظہ منظر بدل رہا تھا۔ سر سبز اور گھنا جنگل پرندوں کی چہچہاہٹ جھیل کا پرسکون پانی اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہو کر میرے دل میں راحت اور سکون پیدا کر رہا تھا۔ لیکن بیک وقت دوستوں سے جدائی کا احساس تکلیف بھی دے رہا تھا۔ چڑ راج اور دادا رحمنٰ تو میرے لیے اپنے تھے میرے اپنے ماحول کے تھے ہماری زبان ہمارا رہن سہن کچھ بھی تو فرق نہیں تھا۔ لیکن اس عرصے میں سیکوسن نے جس خلوص سے ہمارا ساتھ دیا وہ اپنی مثال آپ تھا سیکوسن نہ صرف خوبصورت اور نوجوان تھی بلکہ ایک پڑھی لکھی اور تہذیب یافتہ خاتون تھی۔ بولتی تو لبوں سے پھول جھڑتے تھے مسکراہٹ تو ہر وقت اس کے چہرے پر کھلی رہتی تھی۔
میں انہی خیالات میں ڈوبا سامنے والے منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ سیکوسن نے میرے قریب آ کر ایک ایسی بات کہہ دی کہ میری پریشانیوں میں اضافہ کر دیا اور اس کی بات نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ سیکوسن نے کہا لعلوانی سن جس طرح ہمارا گروپ سیر و تفریح پر نکلا ہے بالکل اس طرح ہماری ایک لوک کہانی ہے جس میں ہماری طرح تین بھائی جنگل میں شکار کھیلنے کو نکلتے ہیں۔ یہ تو ہمارے زمانے سیر و تفریح کا تصور ہے۔ اس زمانے جنگل میں لوگ صرف شکار کے لیے نکلتے تھے۔ تینوں کڑیل جوان تھے۔ علاقے میں ان کی بہادری کے چرچے تھے۔ تینوں بھائیوں نے شکار کھیلنے کے لیے یہاں کے مشہور پہاڑ تاوے شینا کی راہ لی۔ ان کے اس ارادے کے بارے جب وہاں کے لوگوں میں یہ بات پھیلی تو اس علاقے کے شوگن کی بیٹی نے جو بہت خوبصورت اور بہادر تھی۔ اپنے باپ سے کہا کہ میں بھی ان بہادر نوجوانوں کے ساتھ شکار کے لیے پہاڑ پر جانا چاہتی ہوں۔ اگرچہ یہ خطرناک مہم تھی لیکن شوگن اپنی بیٹی کو انکار نہ کر سکا۔ چنانچہ اس نے بیٹی کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور ایک دن وہ نوجوانوں کی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے وہاں پہنچ گئی۔ تینوں بھائیوں نے اسے بہت سمجھایا کہ سفر دشوار ہے اس میں بے شمار سخت مقامات آ سکتے ہیں۔ جنگلی جانوروں کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر وہ کہاں رکنے والی تھی سیکوسن نے زور دے کر کہا ”مگر جہاں محبت کا جذبہ کار فرما ہو وہاں خوف کہاں در آتا ہے۔“
یہ کہہ کر سیکوسن نے میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں سے امنڈتی ہوئی محبت کا سیل رواں مجھے بہا کر لے گیا۔ جیسے جیسے ہمارے کورس کے ایام آہستہ آہستہ ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہے تھے ہماری پریشانیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ اب تک جاپان میں رہتے ہوئے پلوں سے کافی پانی بہہ چکا تھا جاپانیوں اور ہمارے درمیان اجنبیت کی دیوار ختم ہو گئی تھی ان کی زبان کچھ کچھ سمجھ آنے لگ گئی تھی ان کے گیت اچھے لگتے تھے ان کا کلچر ان کے خیالات ان کی خواہشات ان کے اور ان کے جذبات اور ہمارے جذبات میں کوئی فرق نہیں تھا۔ لوگوں کا رویہ اور ہمارے ساتھ ان کا سلوک اپنائیت میں بدل چکا تھا۔ ان کی شائستگی جذبہ ایثار ان کی شفقت ان کی محبت نے ہمیں جکڑ کر رکھ دیا تھا۔
اس لیے کورس کے ختم ہونے کا مجھ پر جانا انجانا خوف طاری رہتا بمشکل چند روز باقی تھے۔ میں انہی خیالوں میں گم جھیل کے کنارے چٹائی پر لیٹا تھا چڑراج اور دادا رحمن میرے ساتھ بیٹھے تھے دادا رحمن کی رام کہانی جاری تھی آسمان پر بادل چھائے تھے۔ سیکوسن چشمے سے پانی لینے گئی تھی تھوڑی دیر بعد وہ پانی لاکر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور باتیں کرنے لگی سیکوسن کی باتوں سے ہی تو میرے خیالات کا تانا بانا ٹوٹ گیا اور میرے سارے خواب چکنا چور ہو گئے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وقت اتنی تیزی سے گزر جائے گا اس میں وقت کا تو کوئی قصور نہیں وقت کس کا انتظار کرتا ہے اس کا تو اپنا انداز ہے۔
آپ یہاں قریب سے پانی لے آتیں دور جانے کی کیا ضرورت تھی سیکوسن سے میں نے کہا سیکوسن نے بتایا کہ میرا تو دل تھا میں یہاں کے میٹھے چشمے کا پانی آپ کے لیے لا دوں بلکہ آبشار سے پانی لے کر آؤں لیکن وہ پانی بہت دور تھا میں نے کہا سیکوسن بلکہ بہتر یہ تھا کہ ہم آبشار کے گرتے پانیوں کے سامنے چل کر بیٹھتے آبشار کا نظارہ کرتے اس کے میٹھے پانیوں سے لطف اندوز ہوتے بلکہ یہ زیادہ بہتر تھا۔ بالکل سیکوسن فوراً بولی بالکل پھر زندگی میں موقع ملے نہ ملے، سیکوسن کے یہ الفاظ تیر کی طرح میرے دل میں پیوست ہو گئے۔
کیونکہ کئی دنوں سے انہی خیالات نے میرے دل و دماغ پر یورش کی ہوئی تھی جس طرح دن ختم ہوتے جا رہے تھے ایک بے کلی سی تھی جو مجھ پر چھائی ہوئی ہے میں نے سیکوسن سے کہا سیکوسن مجھے یہ سوچ پریشان کر دیتی ہے۔ لعلوانی سن میں خود اسی سوچ کی گرفت میں ہوں میں جتنا سوچتی ہوں پریشانی بڑھتی جاتی ہے اور یہ سوچ مجھے تھکا دیتی ہے ورنہ مجھے ماؤنٹ فجی سے بھی پانی لانا پڑتا تو میں نے لے آنا تھا۔
میں نے کہا لیکن اس دادا کا کیا کریں گے جو ہر وقت ڈنڈی مارنے پر تلا ہوتا ہے جب دیکھو تھکا تھکا رہتا ہے تھا اگلی مہم ہم کیسے سر کریں گے اگر اس کا یہی حال رہا۔
لعلوانی سن آپ نے ہمیں میلوں چلنا سکھایا ہے ہم یہاں پلے بڑھے ہیں ادھر ہی پیدا ہوئے ادھر ہی جوان ہوئے لیکن ہم نے واقعی آپ کے ساتھ آپ کی وجہ سے ٹوکیو کا چپہ چپہ دیکھا ہے۔ ورنہ ہم نے تمام ٹوکیو کہاں پیدل چل کر دیکھنا تھا۔
سیکوسن وہ تین بھائیوں کی لوک کہانی کا کیا ہوا۔ لعلوانی سن مجھے تو یہ کہانی پریشان رکھتی ہے اور مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں یہ کہانی ہماری کہانی ہی نہ بن جائے۔ وہ بھی اسی طرح تین دوست تھے تارو، جیرو اور سابورو وہ جنگل میں شکار کرنے نکلے شینا پہاڑ کو سر کرنے کی مہم ان کا ارادہ تھا۔ جس طرح تینوں دوست آج بھی میرے سامنے ہیں رحمان دادا چڑ راج اور لعلوانی سن بہر حال تینوں دوست طویل فاصلہ طے کر کے تاوے شینا پہاڑ دیکھنے چل پڑے۔ کئی دن ان کی مہم جاری رہی وہ چلتے رہے۔
حتی کہ ایک مشہور جھیل کے کنارے پہنچے وہ جھیل کنارے بیٹھے سفر کی تھکان دور کر رہے تھے کہ اچانک شہزادی غائب ہو گئی پہلے تو وہ سمجھے کہ شاید جھیل کنارے جو پھولوں کی خوبصورت کیاریوں ہیں وہ ان میں اگے ہوئے رنگا رنگ پھولوں سے لطف اندوز ہو رہی ہوگی چنانچہ انہوں نے نہ صرف پھولوں کی کیاریوں میں سے اسے تلاش کیا بلکہ گھنے درختوں کے سامنے جو جھاڑیاں تھی وہاں بھی دیکھا مگر وہ نہ ملی۔ پھر بھی انہوں نے سوچا کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے شہزادی آخر کہاں جا سکتی ہے ادھر کہیں نہ کہیں ہوگی لیکن وہ کہیں بھی نہ ملی پھر بھی تلاش جاری رکھی راستے میں انہیں ایک کنواں دکھائی دیا سابورو کو شک تھا کہ کہیں شہزادی اس کنویں میں نہ گر گئی ہو۔ اس نے کنویں کی منڈیر پر بیٹھ کر بلند آواز سے شہزادی کو آواز دی۔ آواز اتنی بلند تھی کہ کنویں میں سے آواز آئی ”کیا یہ سابورو کی آواز ہے“ ۔
جی شہزادی میں سابورو ہوں ہم آپ کی تلاش میں سرگرداں ہیں کہاں کہاں آپ کو تلاش نہیں کیا لیکن آپ کا کوئی سراغ نہ ملا لیکن میرا دل کہتا تھا کہ ہم آپ کو تلاش کر لیں گے آواز آئی آپ کنویں کے اندر آ جائیں سابورو نے چھلانگ لگائی اور کنویں کے اندر چلا گیا۔ جب اس نے دوسری طرف سر نکالا تو اس نے دیکھا سامنے محل ہے جس میں شہزادی بیٹھی تھی۔
سابورو نے کہا شہزادی میرا دل آپ کے لیے انتہائی بے چین تھا۔ یہ جو دو دن گزرے ہیں مجھے معلوم ہے میرے دل پر کیا گزری ہے اس نے شہزادی کا ہاتھ پکڑا اور کہا آؤ شہزادی ہم واپس اپنی دنیا میں لوٹ چلیں یہ کہہ کر انہوں نے کنویں میں غوطہ لگایا باہر نکلے کنویں کے باہر سامنے سابورو کے بھائی کھڑے تھے جو اپنی جگہ پریشان تھے کہ سابورو کہاں گم ہو گیا ہے۔ انہوں نے دونوں کو بڑی مشکل سے کنویں سے نکالا جب وہ باہر آئے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ وہ دونوں صحیح سلامت اپنی دنیا میں واپس آ گئے ہیں۔
جونہی انہوں نے روانگی کا ارادہ کیا تو شہزادی نے پریشان ہو کر کہا میں اپنی اہم کتاب محل میں چھوڑ آئی ہوں جو میرے والد نے مجھے تحفے میں دی تھی اور اس میں زندگی گزارنے کے لیے دنیا کے دانش مند انسانوں کے بہترین اقوال جمع ہیں اور میں اس کتاب کے بغیر نہیں جا سکتی۔ شہزادی کی پریشانی دیکھ کر سابورو نے کہا۔
شہزادی تم پریشان نہ ہو میں جا کر تمہاری کتاب لاتا ہوں۔
سابورو نے دوبارہ کنویں میں چھلانگ لگائی شہزادی اور اس کے بھائی اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگے کافی دیر ہو گئی تو شہزادی کی پریشانی بڑھتی گئی شام ہو گئی لیکن سابورو نہ آیا بھائیوں نے کافی انتظار کیا آخر مایوس ہو کر وہ آگے چل دیے۔ لیکن شہزادی انتظار میں بیٹھی رہی شام سے رات ہو گئی رات سے صبح ہو گئی اور اسی انتظار میں صبحیں شاموں میں بدلتی رہیں اور شامیں صبحوں میں شہزادی کا انتظار ختم نہ ہوا سابورو کے انتظار میں اس کی آنکھیں پتھرا گئیں بال سفید ہو گئے سابورو نہ آیا۔
جوں جوں کہانی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی اور سیکوسن کا دکھ اس کے چہرے سے عیاں تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ انسان کس طرح حالات کا اسیر ہے وقت اسے کس طرح حالات کا محتاج بنا دیتے ہیں کہ نہ وقت پراس کا کنٹرول ہوتا ہے نہ حالات پر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کر سکتا اب درد کا تنہا سفر شروع ہونے والا تھا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ میری نظریں سیکوسن پہ تھی اس کے چہرے کی پریشانی مجھے بتا رہی تھیں کہ سابورو کی طرح جب تم بھی اپنی دنیا میں غوطہ لگا کر گم ہو جاؤ گے تو واپس نہیں آؤ گے اور انتظار میں سیکوسن کا کندن جیسا چہرہ سلوٹوں میں بدل جائے گا اور اس کا نہ ختم ہونے والا انتظار جاری رہے گا۔


