عفیفہ کے لیے پیپرز کی تیاری کے تیر بہدف مشورے


tariq ishaq

امتحانات کی تیاری ایک سنجیدہ کام ہے، مگر سنجیدگی انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے عفیفہ اور ان جیسے تمام ذہین و فطین طلبہ کے لیے پیش خدمت ہیں چند ایسے نادر و نایاب ”امتحانی گُر“ ، جو نسل در نسل کامیاب طلبہ آزماتے آئے ہیں!

1: نیند پوری کرنا۔ کیونکہ نیند ہی زندگی ہے!

سب سے پہلا اور اہم اصول یہ ہے کہ جیسے ہی پیپرز قریب آئیں، نیند پوری کرنے کا سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! پیپر سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے سے اپنے جسم اور روح کو نیند کے مقدس پانی میں ڈبونا شروع کر دیں۔

رات ہو یا دن، بس سوتے رہیں، کیونکہ امتحان کے دوران ”الرٹ رہنا“ ضروری ہے، اور الرٹ تبھی ہوں گے جب جاگیں گے، اور جاگیں گے تبھی جب پہلے خوب سو چکے ہوں!

اگر کوئی پڑھائی کے دوران جگانے کی کوشش کرے، تو فوراً احتجاج کریں :
”پڑھائی بعد میں بھی ہو سکتی ہے، لیکن نیند کا نقصان پورا نہیں ہوتا!“

2: کتابوں کو اچھالنے کی تکنیک۔ اور قسمت کا کھیل

پڑھائی کا روایتی طریقہ بہت بورنگ ہوتا ہے، اس لیے کتابوں سے دوستی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو اوپر ہوا میں اچھالتے رہیں۔

جیسے ہی کتاب نیچے گرے، جو بھی صفحہ کھلا ہو، وہی پڑھیں! اس سے قسمت کا بھی امتحان ہو گا، اور شاید وہی سوال پیپر میں آ جائے۔

اگر کوئی صفحہ مشکل لگے، تو آنکھیں بند کر کے دعا کریں کہ یہ پیپر میں نہ آئے۔

3: آخری رات کا خاص وظیفہ۔ ”نیند میں کامیابی“

یہ رات سب سے اہم ہے، مگر پڑھائی کے لیے نہیں، بلکہ مزید نیند پوری کرنے کے لیے!
جیسے ہی رات ہو، اپنی کتاب کو محبت سے دیکھیں، ایک لمبی جمائی لیں اور آرام سے سو جائیں۔
صبح الارم بجے تو سب سے پہلے وقت چیک کریں، اگر ابھی تھوڑا وقت باقی ہو، تو بلا جھجک پھر سو جائیں!
یہ طریقہ ”سوئے جاگے ٹیکنیک“ کہلاتا ہے، اور بڑے بڑے کامیاب طلبہ نے اسے آزمایا ہے۔

4: امتحان کے دن کا مکمل پلان

اب امتحان کا دن آ گیا ہے، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں!
اچھی تیاری کریں۔ یعنی بال بنائیں، اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور چہرے پر مسلسل مسکراہٹ رکھیں!

کتاب کو اچھال کر آخری سلام کریں۔ کمرہ امتحان میں داخل ہونے سے پہلے، کتاب کو دور پھینک دیں تاکہ ذہن بوجھ سے آزاد ہو!

کسی بھی سوال کو خالی نہ چھوڑیں! ۔ اگر ”کیمیائی تعاملات“ کے سوال سمجھ نہ آئیں، تو فوراً قائداعظم کے چودہ نکات لکھ ڈالیں، کیونکہ کچھ نہ کچھ لکھنے پر نمبر ضرور ملتے ہیں!

زیادہ سے زیادہ صفحات بھریں! ۔ ممتحن پورا پیپر نہیں پڑھتا، مگر ”صفحے زیادہ لگانے“ پر خوش ہو جاتا ہے!

5: آخری وار۔ ممتحن کو ”امپریس“ کریں

یہ سب سے خفیہ ٹپ ہے، اور کامیابی کی ضمانت ہے :

• جیسے ہی پیپر ختم ہو، چہرے پر ایک معصوم مسکراہٹ سجا لیں، اور اگر موقع ملے تو کاپی میں ایک اضافی نوٹ لکھ دیں :

”سر/میم! آپ بہت اچھے ہیں! میں آپ کی فیس بک فرینڈ ہوں، آپ کی سب پوسٹ کو لائک کرتی ہوں، آپ کی عظمت کو سلام! مجھے آپ سے بہت امید ہے!“

یہ جملہ اگرچہ فزکس یا کیمسٹری کے اصولوں میں نہیں آتا، مگر امتحانی کاپی میں ایک جادوئی اثر ضرور چھوڑتا ہے!

نتیجہ: کامیابی آپ کے قدموں میں

یہ آزمودہ نسخے عفیفہ جیسے ذہین طلبہ کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ اگر آپ ان پر سو فیصد عمل کریں، تو یا تو آپ امتحان میں پاس ہو جائیں گے، یا پھر نیا ریکارڈ قائم کریں گے کہ دنیا میں کوئی بھی طالب علم اتنا ”پراعتماد“ نہیں ہو سکتا

Facebook Comments HS