طارق جمیل کا مہک ملک کو گلے لگانا اور مناہل ملک کی ننگی تصاویر کا اسکینڈل
انسانی زندگی اور ذہن انتہائی گنجلک اور پیچیدہ قسم کا مظہر ہے، جو سامنے یا بظاہر دکھائی دیتا ہے وہ کچھ اور ہوتا ہے اور جو مخفی ہوتا ہے اس کی حقیقت بالکل ہی مختلف ہوتی ہے، کمال دیکھنے والی کی آنکھ میں اور سمجھنے والے کے دماغ میں پنہاں ہوتا ہے کہ وہ اس منظر یا حقیقت کو کیا معنی دیتا ہے؟
معروف سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر خالد سہیل کے خوبصورت الفاظ انسانی زندگی کی اس پیچیدگی کی بخوبی عکاسی کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے
”دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی دیکھنے والی آنکھیں موجود ہیں“
اگر ہم انسان کو محض انسان کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیں تو یہ دھرتی پر سکون اور امن و شانتی کا گہوارہ بن سکتی ہے، مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہم انسانوں کو فرشتہ سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے کردار کے متعلق ججمینٹل بن کر انہیں انسان سے شیطان کے دائرے میں لا کھڑا کرتے ہیں، ہم ایسے تنگ نظروں کی نظر میں انسانوں کو ماپنے کے صرف دو ہی پیمانے ہیں یا تو وہ انتہائی نیک، پارسا یا متقی ہو سکتا ہے یا پھر شیطان، تیسری کیٹگری کی تو گنجائش ہی نہیں ہے۔
انسان کا انتہائی خطرناک روپ اس وقت ہوتا ہے جب وہ مذہبی لبادے میں خدائی اختیار کا بے دریغ استعمال کرنے لگتا ہے اور انسانوں کو گناہ و ثواب کی پہلیوں میں الجھا کر کفریہ ٹیگ چسپاں کرنے لگتا ہے، ان کی نظر میں انسان کا کوئی بھی کمزور پہلو بھلے ارادی ہو غیر ارادی کسی بھی انسان کو اس کے مرتبے سے گرانے کے لیے ایک مضبوط ثبوت ہوتا ہے جس کے لیے کسی تردید، وضاحت یا دوسرے رائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی لہاذا اس کی قسمت کا فیصلہ کوئی بھی مذہبی انسان فی الفور کر سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں مناہل ملک کی کچھ نازیبا تصاویر لیک ہوئیں تو جہاں لنک مانگنے والوں کا تانتا بندھا رہا وہیں کچھ پارسا اسے دو ٹکے کی خاتون، طوائف، رنڈی، رکھیل، شہرت کی بھوکی اور نجانے کیا کچھ کہہ رہے تھے، ہمیں کیا معلوم کہ پردے کے پیچھے حقائق کیا ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چلو وہ تو ٹھہری دو ٹکے کی خاتون لیکن جو لنک مانگتے ہیں انہیں کتنے سیر کا پارسا کہا جائے گا؟
اس نے تو وہی بیچا ہے نا جس کی یہاں ڈیمانڈ ہے، بنا ڈیمانڈ کے کوئی پاگل تھوڑی ہے کہ ایویں خواہ مخواہ میں کپڑے اتارے بھئی؟
گاہک اور ڈیمانڈ بنا تو یہ سب کچھ نہیں ہوتا نا!
المیہ یہ ہے کہ یہاں گاہک تو بچ بچا کے نکل جاتا ہے لیکن جس کا جسم نوچ کر راحت حاصل کی جاتی ہے وہ پلید اور نجس تصور کی جاتی ہے۔
مقام حیرت نہیں کہ گندگی نکالنے والا تو معتبر ٹھہرے لیکن گندگی کو تحفظ دینے والی یا اپنے اندر سمونے والی رنڈی اور غلیظ ٹھہرے؟
اب ہمیں کیا پتا کہ کسی کے اس حد تک جانے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
کوئی سنگین مجبوری تھی یا محض مشہور ہونے کا خمار، لیکن ہم کون ہوتے ہیں کسی کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنے والے؟
ہر داستان، کہانی، واقعہ یا حادثہ کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے، یک دم سے یا بے سبب کچھ نہیں ہوتا، ہاں ہمیں ایسا لگنے لگتا ہے کہ ہر مسکراہٹ کی تہہ میں اطمینان ہوتا ہے، ہر قہقہے کے پیچھے کوئی غم نہیں ہوتا اور ہر پُرسکون شخص ہر رنج و الم سے آزاد ہوتا ہے۔
اب اسے حالات کا جبر کہیں یا وقت کی ستم ظریفی کہ ہم انسانوں نے لوگوں کے حقیقی دکھوں اور پریشانیوں کو دیکھنا اور محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔
ہمیں ان کے ایمان کی تو فکر لاحق ہے لیکن اس اپروچ سے بے نیاز ہو گئے کہ اس کے گھر میں چولہا جلتا ہے یا نہیں، انسان ہونے کی حیثیت سے جو انسانوں سے پوچھنے والے سوال تھے انہیں پس پشت ڈال کر ہم نے ان سے وہ سوال پوچھنا شروع کر دیے جو خالق نے پوچھنے تھے۔
جب نفسانفسی کا یہ عالم ہو تو پھر خیر کہاں، وسائل کی تقسیم چند ہاتھوں میں سمٹ جائے، مواقعوں کا تناسب روز بروز سکڑنے لگے تو کوئی کچھ بھی کرے کیا فرق پڑتا ہے؟
کون جانے پیٹ کی یہ بھوک کیا کیا کرتب کرواتی ہے؟
کتنوں کی سفید پوشی کو کس طرح سے ننگا کرتی ہے کون جانے؟
بھوک تو بڑے بڑوں کو ناکوں چنے چبوا دیتی ہے، کپڑے تو درکنار انسان تمام تر نزاکتوں اور تہذیب و شائستگی تک سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
مناہل ملک نے پارسان کو کیا خوب کہا ہے کہ اگر میں آپ کی نظروں میں طوائف، رنڈی یا دو نمبر ہوں تو پھر میرے خالق نے مجھے اپنے گھر کیوں بلا لیا؟ میں نے عمرے کی سعادت حاصل کی، اس نے واضح لفظوں میں کہاں کہ مجھے آپ کے غلیظ کمنٹس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
مطلب یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی ہے اس نے تسلیم کیا ہے، بہانہ بازی نہیں کی اور نہ ہی کسی لبادے میں چھپنے کی کوشش کی ہے، وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے لیکن ہمارے سماج میں دوسروں کے بیڈروم میں زبردستی گھسنے کا رواج تو ہے لیکن انسانوں کے دکھوں کو جاننے اور ان کا ازالہ کرنے کی روایت قطعاً نہیں ہے۔
ہم مجبور کو تو گنجائش دینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے لیکن گاہکوں، تماشائیوں اور ٹھرکیوں کو جو مختلف پارسائی کے لبادوں میں دبکے ہوتے ہیں ان کے چہروں سے نقاب نوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، یقین مانیں ان لبادوں کی اوٹ میں وہی پارسا چھپے ہوتے ہیں جو دوسروں کو طوائف، بازاری اور نجانے کیا کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔
یہ وہی منافق ہی تو ہوتے ہیں جو سینما بازی بھی کرتے ہیں اور جنسی تسکین کے لیے طوائفوں کے کوٹھوں پر بھی پائے جاتے ہیں اور اس جلوس کا حصہ بھی بنے ہوتے ہیں جہاں اس طرح کے نعرے لگ رہے ہوتے ہیں کہ
”سینماؤں کو بند کرو اور طوائفوں کی رنڈی گردی ختم کرو وغیرہ“
اس منافق سماج میں رابی پیرزادہ یا دوسری شوبزنس کی خواتین جن کے اسکینڈل منظرعام پر آئے انہیں سماجی قبولیت کے لیے روایتی انداز اختیار کرنا پڑے، ظاہر ہے مذہبی لبادے کے بغیر یہ سماج کہاں چھوڑتا ہے؟
کچھ روز پہلے مولانا طارق جمیل بھی مہک ملک سے بغلگیر تھے، بڑی شفقت سے اسے گلے لگایا اور سر پر ہاتھ رکھ کر پیار کیا، کوئی ہرج نہیں ہے، انسان اور انسانیت پہلے ہوتی ہے مذہب بعد میں ہوتا ہے، مولانا کی نیت پر شک کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مولانا صاحب کو مارجن آف ڈاوٹ کا حق دیا جا سکتا ہے تو کسی بھی عام انسان اس میں مرد اور خاتون کی کوئی تخصیص نہیں ہے کو بھی یہ حق ملنا چاہیے۔
جب نیتوں کے بھید خالق ہی جانتا ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی کو کچھ بھی کہنے والے یا کسی کے متعلق حتمی رائے قائم کرنے والے؟
جو مذہبی دوست مولانا طارق جمیل یا ان ایسے دوسرے علماء کو گنجائش دینے کے تیار ہیں تو انہیں ایک عام آدمی کو بھی یہ گنجائش دینی چاہیے۔


