انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت؟
”کیا انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت ممکن ہے؟ جی ہاں، نہ صرف ممکن ہے بلکہ آج کل تو ممکن ہی یہی ہے۔ کیونکہ“ انسانیت ”ایک مثالی تصور ہے۔ ایک ایسا خواب جہاں سب برابر، مہربان، اور معصوم ہوتے ہیں۔ اس سے محبت کرنا آسان ہے، کیونکہ یہ ایک دور کی خوبصورتی ہے، ایک خیال، جس میں نہ کمزوریاں ہیں، نہ تضاد۔ لیکن انسان؟ وہ تو غلطیوں، حسد، غصے اور کمزوریوں کا پیکر ہے۔ انسان سے محبت قربانی مانگتی ہے، ایثار مانگتی ہے، برداشت مانگتی ہے۔ شاید اسی لیے ہم دور والوں سے ہمدردی کرنا سیکھتے ہیں، اور اپنے قریب والوں کی چیخیں سن کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
کسی نے خوب کہا ہے کہ ”انسان سے نفرت کرنا آسان ہے کیونکہ وہ غلطیاں کرتا ہے، اور انسانیت سے محبت کرنا آسان ہے کیونکہ وہ صرف کتابوں میں بستی ہے۔“ آخر ”دور کے ڈھول“ ہمیشہ سہانے ہی لگتے ہیں۔
بات فرد کی ہو یا ریاست کی، عالمی تاریخ اس مثالی قسم کی انسانیت سے بھری پڑی ہے۔
وہ علاقے جو کبھی خلافتِ عثمانیہ کے ماتحت تھے، وہاں کے لوگ اسے ختم کرنے پر تلے تھے، لیکن برصغیر میں، جہاں خلافت کبھی سایہ فگن بھی نہ ہوئی، اسے بچانے کے لئے ”تحریک خلافت“ کے نام پر چندے اکٹھے کر رہے تھے۔ آج بھی وہی مزاج زندہ ہے، وہی ”افغانیہ پن“
(Afghanistanism)
کا آسیب، جو دور کے مظلوموں کی فریاد پر آنکھیں نم کرتا ہے، لیکن گھر کے آنگن میں جلتی چتائیں، چیختی مائیں، اور خاموش لاشیں صرف اسے بے حس ہی نہیں کرتیں، بلکہ بے نیاز کر دیتی ہیں۔ ہم فلسطین کے مظلوموں کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ جو یقیناً انسانیت کا تقاضا ہے۔ لیکن جب اپنے ہی ملک کے مظلوم ہمیں پکاریں، تو ہم یا تو ان کی آوازوں کو ”غداری“ کہہ کر دبا دیتے ہیں، یا ان کے دکھوں کو محض ”دشمن کی سازشیں“ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ہم ایک عجیب معاشرے کے باسی ہیں۔ ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم نا انصاف ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ”چن چن کر“ انصاف کے متلاشی ہیں۔ فلسطین، کشمیر، یمن، روہنگیا۔ ہم ہر مظلوم کی آواز بنتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی مظلوم ہمارے اپنے گلی کوچے سے صدا بلند کرے، ہماری سماعتوں پر مصلحت کا پردہ پڑ جاتا ہے
ہم فلسطینی بچوں کی لاشیں دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں، مگر بلوچ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے پر ہماری آنکھ خشک رہتی ہے۔ ہم غزہ کی شہادتوں پر جلوس نکالتے ہیں، مگر اپنے ملک کے اندر ہونے والے ماورائے عدالت قتل پر محض خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
یہ نظر اندازی بے ساختہ ہرگز نہیں، بلکہ ایک جان بوجھ کر تخلیق کردہ المناک داستان ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ بلکہ، یہ ایک محتاط منصوبہ بند بیانیے کا نتیجہ ہے جسے ریاست اور میڈیا مل کر تیار کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ دراصل طاقت کی وہ مخصوص تشریح ہے جس میں ”قومی سلامتی اور ریاستی مفاد“ کے نام پر اپنے ہی شہریوں کو دشمن سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ مفاد ریاست کا نہیں، بلکہ ریاست میں بسنے والے شہریوں کا ہوتا ہے۔ آئین پاکستان، جو شہریوں کی آزاد زندگیوں کی علامت ہے، مگر ان معاملات پر آئین بھی چپ سادھ لیتا ہے۔ شاید آئین میں کچھ خفیہ سطور بھی ہیں جو مخصوص علاقوں کے لئے نہیں بنیں۔
ہم ایسی ریاست کیوں بنتے جا رہے ہیں جو عالمی وباؤں کا شور مچاتی ہے، لیکن اندرونی تعفن کو چھپاتی ہے۔ جو اپنوں کی آواز کو غداری، دہشت گردی، اور بدامنی کے القابات سے دبا دیتی ہے۔ لیبلنگ تھیوری ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے ریاست ”دوسرے“ پیدا کرتی ہے۔ بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی۔ جنہیں صرف اس لئے اٹھا لیا جاتا ہے کہ وہ سوال اٹھاتے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب انہیں فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ صرف عالمی المیوں کی بازگشت بنیں گی، یا اپنے اندر کے زخموں کا علاج بھی کریں گی۔ اگر ہم نے اپنے دکھوں کو پہچاننے، اور اپنے مظلوموں کو گلے لگانے کی جرات نہ کی، تو تاریخ ہمیں صرف ایک ایسے منافق معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی، جو دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتا تھا، مگر اپنے بچوں کو تڑپتا چھوڑ دیتا تھا۔
یہ وقت ہے سوال کرنے کا۔ سوال صرف ریاست سے نہیں، خود سے بھی۔
فیض کی زبان میں کہیں تو
”متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے،
کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے ”
اب وقت ہے کہ ہم حلقۂ زنجیر سے باہر نکل کر، زباں کو جرات دیں، اور آنکھوں کو وہ آنسو بخشیں جو صرف غزہ، شام، یمن یا برما کے لیے نہیں، بلکہ خضدار، کوئٹہ، مچھ، وزیرستان، کشمور اور تھر کے بچوں کے لیے بھی بہیں۔
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے۔
کیا ہم صرف عالمی مظلوموں کے آنسو پونچھنے والے لوگ ہیں، یا اپنے گھر کے زخموں پر مرہم رکھنے والے بھی؟
کیا ہم ریاست کے بیانیے کے تابع رہیں گے، یا ضمیر کے بیانیے کو ترجیح دیں گے؟
اقبال نے کہا تھا
”“ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
مگر خودی تب بلند ہوتی ہے جب سچائی کا سامنا کیا جائے۔ اپنی کمزوریوں کا، اپنے مظلوموں کا، اپنی کوتاہیوں کا۔
سمندر پار مظلوموں کے لئے رو رو کر فریاد کرنا اور ان لوگوں کی تکالیف پر لاتعلق رہنا جو محض چند میل کے فاصلے پر رہتے ہوں۔ آخر یہ سب کیا ہے؟
ایک مستحکم معاشرہ وہی ہوتا ہے جو تمام طبقات کے مفادات کا خیال رکھے۔ لیکن جب کسی طبقے کو مسلسل نظرانداز کیا جائے، تو معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ حکمران اشرافیہ اقتدار کو دوام دینے کے لیے نظریاتی بیانیوں میں چالاکی سے بیرونی دشمنوں کو نمایاں اور اندرونی نا انصافیوں کو غیر اہم بناتی ہے۔ اس چال سے عوام کی توجہ اصل مسائل۔ جیسے جبری گمشدگیاں، محرومیاں، اور عدم مساوات۔ سے ہٹا دی جاتی ہے۔
سماجی بندھن جب کمزور ہوں تو انحراف بڑھتا ہے۔ ریاست جب شکایات کا ازالہ نہیں کرتی، تو عوام میں بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ ریاستی غفلت خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں ایک ایسا ماحول جنم دیتی ہے جہاں احتجاج اور مزاحمت ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ ریاستی بیانیے اکثر انہی مظلوم گروہوں کو ”خطرہ“ بنا کر پیش کرتے ہیں۔
ان حالات میں قانون بھی اکثر مظلوم کی بجائے طاقتور کا محافظ بن جاتا ہے۔ عدالتی نظام اختلافی آوازوں کو دبانے کا آلہ بن جاتا ہے۔ جب اندرونی نا انصافیوں کو نظرانداز کر کے صرف بین الاقوامی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ آئین پاکستان کی روح کی صریح خلاف ورزی بھی۔
لیکن ہم کب تک توجہ ہٹانے کا یہ رقص جاری رکھ سکتے ہیں؟
ہم کب تک دور دراز کے مقاصد کے لئے مارچ کرتے رہیں گے جبکہ ہمارے اپنے زخم گہرے ہو رہے ہیں۔
یہ کیسی انسان دوستی ہے جو چن چن کر انسانوں کا انتخاب کرتی ہے؟
یہ کیسا ضمیر ہے جو صرف ”بین الاقوامی انصاف“ پر جاگتا ہے، مگر ملکی مظلوموں کی چیخیں اسے نیند میں بھی نہیں جگاتیں؟
ہم احتجاج کرتے ہیں، بینرز اٹھاتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹس کرتے ہیں۔ مگر صرف اُن کے لیے، جن کے حق میں بولنا ”محفوظ“ یا ”مقبول“ ہو۔
یہ کیسی انسانیت ہے جو قوم، نسل، یا عقیدے کے حساب سے انسانوں کی درجہ بندی کرتی ہے؟
یہ کیسا ضمیر ہے جو صرف بین الاقوامی مظلوموں پر جاگتا ہے اور ملکی مظلوموں پر خراٹے لیتا ہے؟
انسانی دکھ اور ظلم کو اگر ہم اپنی سیاسی وابستگیوں، مسلکی تعصبات، یا جغرافیائی ہمدردیوں کی عینک سے دیکھیں گے تو ہم صرف انصاف نہیں، انسانیت سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
یہ کیسی انسانیت ہے جو جغرافیہ کی شرط لگاتی ہے؟
یہ کیسا درد ہے جو ”غیر ملکی“ دکھ پر جاگتا ہے، اور ”قومی“ زخموں پر سو جاتا ہے؟
منٹو نے کہا تھا: ”انسان کو انسان سے محبت ہونی چاہیے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان، کالا ہو یا گورا
ہماری خاموشی بھی اب ایک جرم ہے، اور ہمارا منتخب درد بھی ایک منافقت۔
ہماری عدالتیں، ہمارا میڈیا، ہمارا تعلیمی نظام۔ سب میں وہی درد جگہ پاتا ہے جو ”قومی بیانیے“ کے مطابق ہو۔ جو سچ اس بیانیے سے ہٹ کر ہو، وہ بغاوت کہلاتا ہے۔ ہماری تہذیب کی ایک المیہ پہچان یہ بن چکی ہے کہ ہم انسانی دکھ میں اس وقت تک روتے نہیں جب تک وہ دکھ ہمارے قومی بیانیے کی سند حاصل نہ کر لے۔ ہم نے درد کو بھی خارجہ پالیسی کے تابع کر دیا ہے، اور آنسو کو بھی حب الوطنی کی چھلنی سے چھانا ہے۔
کاش ہم ایک ایسی سماعت، ایک ایسا ضمیر، اور ایک ایسا دل پالیں۔
جو صرف مظلوم کی آواز سنے، نہ کہ اس کا پتہ اور مذہب پوچھے۔
انسانیت اگر واقعی کوئی چیز ہے، تو وہ سرحدوں، قوموں، اور بیانیوں کی قید سے آزاد ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی کہانیوں کو دوبارہ سے دہرائیں، خاموش لوگوں کو اپنی آواز دیں، اور ان اندھیرے کونوں میں شمع روشن کریں جن کو ہم طویل عرصے سے نظر انداز کر رہے ہیں۔ کیونکہ حقیقی انصاف دور دراز کے ملکوں میں نہیں بلکہ گھر پر شروع ہوتا ہے، ان گلیوں میں جہاں ہم چلتے ہیں، ان لوگوں کے درمیان جن کو ہم اپنا کہتے ہیں۔



Comments are closed.