نذرانہ عقیدت
دنیا کے کسی بھی خطے کا ادب پڑھیں اور سمجھیں تو معلوم ہو گا کہ نہ صرف اس زمانے کے مخصوص حالات اور واقعات نے اس عہد کے ادب اور ادیبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس عہد میں موجود یا اس عہد سے بہت پہلے گزرے ہوئے ادیبوں نے بھی ان پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان ادیبوں یا لکھنے والوں کی بہت سی چیزوں کو اس عہد کے بعد کے لکھنے والے ادیبوں نے اپنا کر اور اپنے رنگ میں رنگ کر ایک منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔
ادب میں اس طرح کسی کی تقلید کرنا، کسی سے متاثر ہونا یا خراج عقیدت پیش کرنا کوئی بری بات نہیں، اور یہ ہر زمانے میں ہوتا رہا ہے۔
طوالت سے بچنے کے لیے ہم سیدھا اپنے موضوع پر آتے ہیں، اور وہ ہے پشتو زبان کے شاعر ریاض تسنیم کا پنجابی زبان کے شاعر سلطان باہو کو نذرانہ عقیدت پیش کرنا۔ اس سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ ان کو آپ سے متعارف کروا دوں۔
محمد ریاض تسنیم ادبی دنیا میں ریاض تسنیم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 3 دسمبر 1968 ء کو خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے ایک گاؤں ”سواتوں کلے“ میں لال سید کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور اور بعد ازاں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ پشاور سے نکلنے والے پشتو اخبار ”روزنامہ وحدت“ کے معاون مدیر رہے۔ پشتو کے ساتھ اردو زبان میں شاعری کا شغف ہے۔ پشتو شاعری کا پہلا مجموعہ ”دا کوم رنگ می کشید کڑے“ کے نام سے 2003 ء میں منظر عام پر آیا، اس کے بعد دو شعری مجموعے ”چندن“ اور ”زہ کہ دا واری جوندے شوم“ کے نام سے شائع ہوئے۔ پشتو زبان کے سب سے بڑے شاعر خوشحال خان خٹک کا شعری انتحاب ”د خوشحال انتخاب“ کے نام سے کیا۔ کراچی میں دوستوں کے ساتھ مل کر ”جرس ادبی جرگہ“ کے نام سے ایک ادبی تنظیم کے بنیاد رکھنے اور ”جرس“ کے نام سے ادبی مجلہ نکالنے والے ریاض تسنیم نے اردو میں ”بیڈ نمبر 28“ کے نام سے مضامین لکھے لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے کتابی صورت میں شائع نہ ہو سکے۔
تسنیم نے نہ صرف پشتو زبان کی کلاسیکی شاعری کو سنجیدگی سے پڑھا بلکہ بین الاقوامی شعراء کے ساتھ انھیں اردو اور علاقائی زبانوں جیسے پنجابی اور ہندکو ادب پر بھی کافی حد تک عبور حاصل تھا۔ پنجابی زبان و ادب سے نہ صرف خاص لگاؤ تھا بلکہ خالص پنجابی صنف ”ماہیہ“ کو پشتو شاعری میں بھی متعارف کروایا۔ وہ پنجابی شاعر حضرت سلطان باہو کو اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں اور اپنے شعری مجموعے ”دا کوم رنگ می کشید کڑے“ میں حضرت سلطان باہو کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار ”حضرت سلطان باہو تہ نظر“ (حضرت سلطان باہو کی نظر) کے عنوان سے ایک نظم میں کیا ہے۔ اس نظم میں سے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں
ما داسی خوب ولید چی لوگے شہ تری خوبانی ہو
زہ تنہا ولاڑ یم او چاپیرہ اوہ رنگونہ ہو
(میں نے ایسا خواب دیکھا جس پر سارے خواب قربان ہو، میں سات رنگوں کے بیچ تنہا کھڑا ہوں )
چونکہ تسنیم سلطان باہو کو اپنا مرشد مانتے ہیں، اس لیے مریدوں والے انداز میں کہتے ہیں کہ میں نے ایک خواب دیکھا، اور خواب بھی ایسا کہ جس پہ میرے سارے خواب قربان ہو۔ یعنی جو خواب میں نے دیکھا بہت معتبر ہے، اور یہ کہ میں تنہا کھڑا ہوں اور میرے اردگرد سات رنگ ہیں۔ یہاں سات رنگوں سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں سات بنیادی رنگ ہیں، جن کے ملاپ سے دنیا کے باقی رنگ بنے ہیں، دنیا میں ہمیں جو کچھ بھی نظر آتا ہے ان سات رنگوں سے بنا ہے، یعنی کہ میرے اردگرد پہاڑ، نباتات و جمادات وغیرہ سب کچھ ہے، لیکن میں ان سب میں تنہا کھڑا ہوں، اور میں ان سب کو چھوڑ کر آپ کے پیچھے چل پڑا ہوں، کیونکہ میں آپ کو اپنا مرشد مانتا ہوں اور یہ خواب مجھے اس لیے معتبر اور عزیز ہے کہ اس میں، میں آپ کے پیچھے چل پڑا ہوں، اور اس خواب میں آپ شامل ہیں۔
گدم پہ زان قدم زکہ قدم پہ قدم تا وینم
عشق خو داسی لار دہ چی ژوندی لری ریگونہ ہو
(میں خود پر ہی قدم رکھتا ہوں اور پاتا ہوں ہر قدم تجھ کو، عشق ہی وہ رستہ ہے جو ریت/گرد میں زندگی کا موجب ہے )
یعنی کہ میں اپنے آپ کو ناچیز سمجھتا ہوں، عاجز مانتا ہوں تو اس لیے میں قدم قدم پر آپ کو دیکھتا ہوں اور میری اس عاجزی کا فائدہ یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں۔
رحمان بابا فرماتے ہیں
جوندے زان پہ زمکہ خخ کڑہ لکہ تخم
کہ لوئی غواڑی د خاورو پہ مثال شہ
یعنی کہ اگر آپ آہنی بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں، ایک مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو نہ صرف ایک سرتوڑ کوشش کرنا چاہیے بلکہ اپنی ذات کو فنا کرتے ہوئے ”میں“ کو ختم کر دینا چاہیے۔ اب سلوک کی منازل طے کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے شیخ کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دے۔ خود کو شیخ کے سامنے اتنا مٹا دے کہ اگر شیخ دن کو رات کہے تو سالک بھی دن کو رات کہے، اور ریاض تسنیم نے ایسا ہی کیا ہے، اس لیے تو اپنے مرشد کو قدم قدم پر دیکھ رہا ہے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ میری یہ عاجزی و انکساری میرے عشق کا تقاضا ہے، اس کا حاصل یہی ہے کہ میں ہمیشہ آپ کی پیروی کروں۔
اس نظم میں ایک دوسری جگہ پر ریاض تسنیم اپنے مرشد کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا آپ سے عقیدت، عشق و محبت کا یہ حال ہے کہ میں جس طرف بھی دیکھتا ہوں، آپ کی آواز سنتا ہوں، اور آپ کی یہ آواز ایسی ہوتی ہے کہ جس میں دنیا کی باقی ساری آوازیں ختم ہوجاتی ہیں، اور مجھے صرف آپ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جن کو لوگوں نے پیر و مرشد بنایا ہوا ہے یا وہ خود کو مرتبے والا گردانتے ہیں اور وہ خود کو پیر بتاتے ہیں لیکن مجھے صرف آپ نظر آتے ہیں اور میں صرف آپ کو ہی مرشد مانتا ہوں۔

