کیا اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟


کائنات کے سربستہ رازوں میں سب سے بڑا راز یہ ہے کہ کیا اس پھیلی ہوئی کائنات کا کوئی خالق ہے؟
اس سوال سے وابستہ بہت سے سوال ہیں۔

اگر اس کائنات کا خالق ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے؟
کیا وہ اس زمان و مکاں میں مقیم ہے جو ہماری زندگی کا حصہ ہے یا ان سے مکمل آزاد؟
وہ خود کس طرح وجود میں آیا؟
کیا وہ دور پار ایک عرش پر موجود ہے یا پھر ہمارے درمیان؟
کیا وہ ہر انسان کی زندگی اور موت کا ذمہ دار ہے اور ان کی ہر حرکت کا نگران ہے؟

اور اس بات کا امکان بھی تو ہے کہ اس خالق نے کائنات تو بنا دی اور اس کے ارتقا کے لیے کچھ قوانین وضع کر دیے۔ مگراس کے بعد کسی طور کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں کی حرکت اور زمین پر موجود انسانوں سمیت مختلف مخلوقات کی زندگی میں اس کا کوئی رول نہیں۔

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بس خالق ہے اور کچھ نہیں۔ ہم خود اور جو کچھ ہم کائنات میں دیکھتے ہیں سب کچھ اس خالق کا پرتو ہیں۔

ایک اور تصور یہ بھی ہے کہ خدا جیسی کسی ہستی کا وجود نہیں اور یہ کائنات خود بخود وجود میں آ گئی۔ مگر اس سے مسئلہ تو حل نہیں ہوتا اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ
ہمارے چاروں طرف برپا یہ ہنگامہ کیا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے، اور یہ وجود میں کیسے
آیا؟

سائنسدانوں کے نزدیک اس کائنات کی پیدائش سے پہلے نہ جگہ تھی اور نہ وقت۔ یہ تو تصور کرنا بھی ہمارے بس کی بات نہیں۔

ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کیا ہیں؟ اس وسیع و عریض کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے؟ اور زمان و مکان، کائنات کے اسرار و رموز اور خدا کی حقیقت سمجھنے کے لئے ہمارے پاس علم کتنا محدود
ہے؟

کیا ہمارے حواسِ خمسہ اور ہمارا تمام علم کا ذخیرہ اس قابل ہیں کہ ہم خدا جیسی مافوق الفہم ہستی کے بارے میں وثوق سے یہ جان سکیں کہ وہ وجود رکھتی ہے یا نہیں؟

ہمارا المیہ ایک اور بھی ہے۔ ہم تو وثوق سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس عالم میں ہم اپنے آپ کو زندہ جاوید اور جیتا جاگتا محسوس کرتے ہیں کیا یہ واقعتاً ایسا ہی ہے؟ اس جہاں میں ہماری زندگی ایک خواب بھی تو ہو سکتی ہے۔

انسانی علم کی کم مائیگی و عاجزی کو میں اس طرح بیان کروں گا۔

خدا کے بارے میں کوئی بھی تصور زمان و مکان کے ایک محدود دائرے کے اندر رہ کر ہوتا ہے۔ ہماری سوچ کی پرواز کی ایک حد ہے ہم اس سے باہر جا کر کچھ بھی سوچ نہیں
سکتے۔ ہمارا موجودہ شعور ایک سہ سمتی زمانے کا تصور کر سکتا ہے جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف جا رہا ہے۔ یہاں غلطی یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کا تصورِ زمان و مکاں بھی ہماری طرح کا ہے۔ اسی لئے روز مرہ زندگی میں ہم خدا کی جو صفات بیان کرتے ہیں وہ عین انسانی صفات ہیں۔ اس بات سے ہماری کم فہمی اور کبھی کبھی ہٹ دھرمی کا اندازہ ہوتا ہے۔

خدا نے ہم سب کو پیدا کیا۔
خدا دیکھ رہا ہے۔
خدا ہماری مدد کر سکتا ہے۔

یہ سب خدا کی انسانی صفات بیان کرتے ہیں۔ وہ خدا جس کی انسان جیسی بے پناہ خوبیاں ہم بیان کرتے ہیں وہ ہمارے تصور کردہ زمان و مکاں کی قید سے باہر کی کوئی ہستی ہے۔ اور انسانی سمجھ سے بالا تر۔

یہ جو ہم بیان کرتے ہیں کہ
خدا کہاں رہتا ہے؟
کیا کرتا ہے؟
اور اس کی ہیئت کیسی ہے؟
یہ ہماری بنائی ہوئی صفات ہیں، خدا کی نہیں۔

جدید ترین سائنسی علم کی مطابق یہ کائنات 13.8 ارب سال قبل ایک ”بگ بینگ“ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس سے قبل زمان و مکاں ایک نقطہ نما شے میں مرکوز تھے اور یہ شے اس وقت بلند درجہ حرارت رکھتی تھی۔ ’بگ بینگ ’کے نتیجے میں کائنات پھیلنا شروع ہو گئی۔ اور ساتھ ہی ساتھ ٹھنڈی بھی ہوتی گئی۔ سب سے پہلے ایٹم بننے شروع ہوئے پھر مالیکیول بنے، اس کے بعد ستارے، سیارے اور پھر کہکشائیں وجود میں آئیں۔

سائنسداں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ کائنات اب بھی پھیل رہی ہے۔ مگر اس کے پھیلنے کی رفتار، ان کے معلوم کردہ مادے اور توانائی کے فارمولے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمیں صرف 5 فیصد کائنات نظر آتی ہے۔ باقی کائنات ہم سے پوشیدہ ہے۔ ہم کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کائنات میں ”سیاہ مادے“ اور ”سیاہ توانائی“ کا وجود بھی ہے۔ مگر لمحہِ موجود تک اس کی ہیئت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کیا جا سکا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کے کمرے میں بھُوت گھُس آئے ہوں۔ کمرے کی اشیاء اپنی جگہ پر حرکت کر رہی ہیں مگر وجہ معلوم نہیں کی جا سکتی۔ سیاہ مادے پر تحقیق فزکس اور آج کی سائنس کا اہم ترین موضوع ہے جس پر بہت کام ہو رہا ہے۔

ہر دم پھیلتی کائنات کا تصور بڑا دلفریب اور پُر اسرار ہے۔ اس تصور سے جو تصویر بنتی ہے اس میں کائنات محدود ہے اور ہم اگر چاہیں تو اس کے کنارے تک جا سکتے ہیں۔ مگر علمِ فلکیات ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات محدود تو ہو سکتی ہے مگر بے کراں بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

اس بات کو میں ایک مثال سے واضح کر تا ہوں : ایک بڑے گول غبارے میں جب ہوا بھری جا رہی ہو تو وہ بیک وقت محدود بھی ہو گا، لا محدود بھی اور پھیل بھی رہا ہو گا۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم ایک ایسے جاندار کا تصور کرتے ہیں جو صرف غبارے کی دو سمتی سطح کا ادراک کر سکتی ہے، بالکل اس طرح جس طرح ہم تین سمتی کائنات
کا ادراک کر سکتے ہیں۔ غبارے کی سطح پر موجود وہ یہی سمجھے گی کہ اس کی دنیا محدود ہے اور اس کا کنارہ موجود ہے۔ حالانکہ اگر وہ غبارے کی سطح پر چلنا شروع کر دے تو وہیں پہنچ جائے گی جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ اگر غبارہ پھیل بھی رہا ہے تو اس شے کو اس کا ادراک نہیں ہو گا۔ لیکن اگر وہ کسی طور اپنی دو جہتی دنیا سے باہر نکل کر ایک تیسری سمت جس میں سے ہم دیکھ رہے ہیں، اپنی غبارے کی سطح جیسی دو جہتی دنیا کو دیکھ سکے، تو اس کو سب سمجھ آ جائے گا کہ کس طور اس کی کائنات محدود ہے اور پھیل رہی ہے مگر اس کا کوئی کنارہ نہیں۔

دوسرے الفاظ میں کائنات کو پوری طرح سمجھنے کے لئے نہ صرف اس سے باہر نکلنا ضروری ہے، بلکہ ایک ایسے مقام سے نظارہ کرنا ہے جو وقت کی قیود سے آزاد ہو۔ ایک ایسا مقام جہاں نہ زماں ہو نہ مکاں۔ اس بات کا تصور بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔
ہاں البتہ خدا، اگر وہ موجود ہے، تو شاید کائنات کو ایک ایسی چوتھی سمت سے دیکھ سکتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ ایسے مقام پر فائز ہو سکتا ہے جہاں اس زمان و مکاں کا تصور نہیں جو ہماری سوچ کی انتہا ہے۔

اگر خالق کے سوال پر یہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنایا جائے تو نئی سوچوں کے دریچے
کھل سکتے ہیں اور اندھا دھند عقائد کی بجائے صحیح معنوں میں سچ کی تلاش کی طرف قدم اٹھنے لگیں گے۔

اس سادہ سی مثال سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کائنات کتنی بڑی گتھی ہے جس کو سلجھانا اتنا آسان نہیں۔ اسی طرح ہمارے موجودہ حواسِ خمسہ اور سوچ کی پرواز سے خدا کو سمجھنا بھی ناممکن ہے۔ لہٰذا ہم پھر اسی نقطے پر آ گئے کہ اگر اس جہانِ رنگ و بو کا کوئی خالق موجود ہے تو وہ نہ صرف ہماری سمجھ سے بالا تر ہے بلکہ ہماری سمجھ کی صلاحیتوں سے بھی بالا تر ہے۔ ہم اپنے سہ سمتی زماں اور یک جہتی وقت کے تصور سے نہ تو خدا کی ہیئت بیان کر سکتے ہیں اور نہ اس کا تصور ہی کر سکتے ہیں۔ اس لئے خدا کی جو بھی صفات ہم بیان کرتے ہیں وہ ہماری انسانی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک نابینا شخص کسی ایسے رنگ یا کسی ایسی شے کا حال بیان کر رہا ہو جو اس نے کبھی دیکھی ہی نہیں۔

یہاں ایک اور بات سمجھنی ضروری ہے کہ ”بگ بینگ ”نظریے کی عمر سو سال سے بھی کم ہے۔ بگ بینگ نظریے کے وجود میں آنے سے پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور یہ کہ ایک کائنات بے پایاں حجم رکھتی ہے۔ لہٰذا اگر خدا سے متعلق یہی گفتگو ہم سو سال قبل کر رہے ہوتے تو یقیناً ہماری سائنسی سمجھ بھی مختلف ہوتی اور بحث کا دائرہ کار بھی۔

انسانی تکبر کا ایک مظاہرہ یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ جو اس وقت اس کو معلوم ہے وہی دنیا کا سب سے بڑا اور قابلِ یقین سچ ہے۔ لیکن جب وقت گزرنے کے ساتھ سائنس ترقی کر جاتی ہے اور نئے نظریات پیدا ہو جاتے ہیں تو پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ وہ کس قدر غلطی پر تھا۔ کون جانے آنے والی صدیوں میں ہم اپنی موجودہ سمجھ کے
بارے میں بھی یہی تاثر قائم کریں۔

اگر کائنات کی پیدائش اور پھیلاؤ کے موجودہ نظریات کو سامنے رکھیں تو کئی اور سوالات جنم لیتے ہیں۔

کیا 14 ارب سال قبل جب ہماری کائنات ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی تو کیا تھا؟
کیا کوئی اور کائنات تھی جو نقطہ آغاز میں سمٹ آئی اور پھر ایک نئی ابتدا کی وجہ بنی جس سے ہماری موجودہ کائنات وجود میں آئی؟
ہماری کائنات کا مقدر کیا ہے؟
کیا کسی مقام پر اس کا پھیلنا کبھی بند بھی ہو گا اور دوبارہ سکڑنا شروع کر دے گی اور اسی حالت میں چلی جائے گی، جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا؟
کیا اس وقت ایک اور بگ بینگ ہو گا؟
آنے والے ان اوقات میں وقت کا کیا تصور ہو گا؟

ان سوالوں کے جوابات ہمیں کچھ سائنسی ماڈل دیتے ہیں۔ یہ ماڈل کوانٹم مکینکس کی مدد سے بنتے ہیں۔ کوانٹم مکینکس بذاتِ خود ایک حیرت کدہ ہے۔ کوانٹم مکینکس یہ انکشاف کرتی ہے کہ ایک کائنات نہیں ہے بلکہ لامحدود کائناتوں کا وجود ممکن ہے۔ اور ایک کائنات دوسری کائنات کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔

یہاں پہنچ کر ایک اہم سوال جنم لیتا ہے :اس بحرِ بے کراں جیسی کائنات کے وجود کا آخر مقصد کیا ہے؟

بطورِ بنی نوع انسان ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات ہم زمین کے باسیوں کے لئے بنائی گئی ہے۔ ایسا دعوٰی کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اپنی حیثیت ہی کیا ہے اور کائنات کی ترتیب میں ہمارا کردار کیا ہے۔

ذرا تصور کیجیے، ہماری کہکشاں اپنے اندر کھربوں ستارے رکھتی ہے جن میں سے سورج ایک معمولی ستارہ ہے۔ اور کائنات کے اندر اس طرح کی کھربوں کہکشائیں موجود ہیں؟ اس بات کی کوئی سائنسی توجیہہ نہیں ملتی کہ یہ کائنات محض ہمارے لئے بنائی گئی ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم اس پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے۔ یا ہمارا وجود کائنات کو متاثر کر سکتا۔ موجودہ سائنسی تحقیق کے مطابق ہماری رفتار کی ایک حد ہے جو روشنی کی رفتار ہے۔ کوئی چیز روشنی سے زیادہ تیزی سے حرکت نہیں کر سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر روشنی کی رفتار سے سفر کریں تو قریب ترین ستارے تک پہنچنے میں بھی چار سال لگیں گے۔ لہٰذا ہماری کم مائیگی کہ ہم کسی قریبی ستارے کی سیر پر بھی نہیں جا سکتے۔ اگر یہ سب تماشا ہمارے لئے ہوتا تو ہم میں یہ صلاحیت تو ہونی چاہیے تھی۔

ایک اور امکان بھی موجود ہے کہ کائنات کا وجود ہی نہ ہو۔ اور جس کو ہم کائنات سمجھ رہے ہیں یہ ہمارے دماغ کا بنایا ہوا افسانہ ہو۔ کچھ ایک خواب ہو اور ہم پر حقیقت اس وقت منکشف ہو جب ہم نیند سے جاگ جائیں۔

ان متجسس اور پریشان کن خیالات کی اساس اس ارتقاء پذیر اور محدود علم پر ہے جو ہمیں موجودہ وقت تک حاصل ہوا ہے۔ اس کی بنیاد پر ہم کسی طور اس پوزیشن میں نہیں کہ اٹھائے گئے سوالات کا کوئی مستند جواب دے سکیں۔ اشرف المخلوقات کا متکبرانہ دعویٰ کرنے کے باوجود کائنات میں ہماری حیثیت زمین پر رینگنے والے کیڑے سے زیادہ نہیں۔

اپنی ذات اور حیثیت پہچانے بغیر خدا کی حقیقت اور اس کی سر گرمیوں کے بارے میں بڑے بڑے سوالات اٹھانا اور دعوے کرنا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے ہم ان روایات کو پس پشت ڈال دیں جو ہمارے آبا و اجداد کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں اور جن کی بنیاد پر ہم نے اپنے آپ کو مختلف مذاہب اور فرقوں میں تقسیم کر لیا ہے۔ اور پھر خالصتاً اپنے حواس خمسہ اور عقل کی بنیاد پر سوچنا شروع کریں۔ کیا کوئی انسان دعوی کر سکتا ہے کہ اس طور وہ اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ خالق موجود ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی وہ وقت آئے گا جب ہم خدا کے وجود اور اس کی ہیئت کے بارے میں سائنسی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کر سکیں گے؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy

3 thoughts on “کیا اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟

  • 08/04/2025 at 5:28 شام
    Permalink

    ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ۔
    انسان کو کائنات کا ٹھیکہ مولوی حضرات نے دیا ہوگا۔
    اسلام نے واضح الفاظ میں خدا نے کہا ہے کہ ہم اسے ارض پر اپنا نمائندہ یا خلیفہ بناکر بھیجیں گے۔
    زمین پر پہلا خلیفہ بشکل آدم ع آئے۔ یہ نہیں کہ اس سے پہلے دنیا میں کوئی مخلوق نہیں تھی۔ آدم کے بیٹے قابیل نے جب ہابیل کو قتل کیا تو ایک کوا تھا جو پہلا غیر انسانی جاندار ہمیں پتہ چلتا ہے۔
    اس وقت زمین پر آگ سے بنے جنات کا راج تھا جو ارض یعنی زمین پر اودھم مچائے رکھتے اور دوسری مخلوقات کو تنگ کرتے رہتے تھے۔ ویسے یہ اب بھی موجود ہیں ۔
    بدی کی قوت جسے مسلمان شیطان کہتے ہیں یہ بھی ایک جن ہی تھا۔ اور ان یعنی جنات کے انسانوں کے لئے احساسات سمجھ میں بھی آتے ہیں۔

    مذہب کو دیوانے کی بڑ ماننے والوں کا مسئلہ اپنی جگہ 1450 سال پہلے ایک شخص محمد ﷺ جو پڑھا لکھا نہ تھا ایک عجیب جملہ کہتا ہے۔
    اے گروہ جنات اور انسان، تم استطاعت نہیں رکھتے کہ دنیا کے کونوں (اقطار السماوات) سے باہر جا سکو(یعنی زمین سے فرار)۔۔۔۔ہاں البتہ جب تم ایک طاقت اور قوت کو حاصل کرلو گے۔
    سورہ رحمان کی یہ ایک سادہ سی آیت ڈیڑھ ہزار سال پہلے بتارہی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب یہ طاقت جو اسکیپ ولاسٹی کہلائے گی اس کے حصول کے بعد انسان زمین کی حدود سے باہر نکلنے کی طاقت رکھنے لگے گا۔

    اگر یہ خدائی پیغام تھا تو میں اس پر ایمان لایا
    اور اگر بقول لادین حضرات محمد ﷺ کوئی نبی نہیں تھا بس مینٹل ڈس آرڈرکا نتیجہ تھا تو بھی میں ایسے شخص پر واری فریفتہ جو پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود اتنے عرصے پہلے یہ بتا چکا تھا۔ تو اس نے جو کچھ اور بتایا کیا اس میں سے ابھی تک کچھ غلط ثابت ہوا ۔۔۔یقینا نہیں۔ تو وہ اگر خود کریڈٹ لینے کی بجائے (کہ مثلاً وہ خدا ہے) جب کہتا ہے میں خدا کا نبی ہوں اور یہ پیغام اسی نے دیا ہے میں تو کسی قابل ہی نہیں۔ تو میں پھر بھی کیوں مسلمان نہ ہوں۔

    ہاں ایسا اب بھی بہت کچھ ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آسکا یا اب تک ہم اتنی ترقی نہیں کرسکے۔ جیسے خود واقعہ معراج کے دوران اتنی رفتار کو حاصل کرلینا کہ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کو لگ بھگ حاصل کرلینا۔

    ممکن ہے یہ کوئی چوتھی یا پانچویں جہت یا ڈائی مینشن کا کھیل ہو جو ہم اب تک حاصل نہیں کرسکے اور جس کے بعد دنیا کا وقت ہمارے سامنے سے گزرتا رہتا ہے اور ہم جب چاہے چھلانگ مارکر اس ٹائم مشین سے واپس آئیں گے تو وہیں ہونگے جہاں سے چلے تھے۔

    • 08/04/2025 at 5:49 شام
      Permalink

       ممکن ہے یہ کوئی چوتھی یا پانچویں جہت یا ڈائی مینشن کا کھیل ہو جو ہم اب تک حاصل نہیں کرسکے ۔
      ممکن ہے یہ ایک نظر نہ آنے والا راستہ ہو جو کہیں بھی یا ہر جگہ ہوسکتا ہے (اگر نظر آجائے) اور بس ہم نے ایک چھلانگ لگاکراس پلیٹ فارم پر چڑھ جانا ہے۔ اس کے بعد ہم پلیٹ فارم پر کھڑے ساری دنیا کو بدلتے اور وقت کو گزرتے ایک فلم کی طرح دیکھیں گے۔
      یوں دنیا کا وقت ہمارے سامنے سے گزرتا رہے گا اور اس پلیٹ فارم سے ہم جب دوبارہ چھلانگ مارکر واپس آئیں گے تو شاید زمین وہیں ہوں جہاں سے ہم چلے تھے۔
      کچھ کو ممکن ہے یہ اختیار بھی حاصل ہوجائے کہ وہ پلیٹ فارم سے کسی اور زمانے میں جاکر واپس آنے کی صلاحیت حاصل کرلیں۔ وہی تائم مشین۔

      متعدد بزرگ جو سینکڑوں ہزاروں سال آگے کی بات بتارہے ہوتے ہیں کیا پتہ انہیں یہ سہولت حاصل رہی ہو اب چوں کہ ان کے سامنے سے اتنی زیادہ معلومات اتنے سال کی گزری ہوگی تو وہ کیا کیا یاد رکھے سکے ہونگے
      ہندوستان کے شاہ ولی اللہ ہوں یا بابا وانگا اور یا ناسٹراڈیممس ۔۔۔ اللہ تعالی کی حکمت وہ جس کو چاہے جو علم عطا کرے۔
      بس ہمیں آج کی تاریخ میں اس کا شعور نہیں ہے

    • 08/04/2025 at 7:02 شام
      Permalink

      حضرت سلیمان ع کے دور میں جب ملکہ بلقیس کے بھاری بھرکم تخت کو یمن سے فلسطین لانے کی بات کی گئی تو جنات کا کہنا تھا کہ آجائے گا مگر وقت لگے گا۔ وزیر آصف برخیا جو انسان تھا اور ٹیکنالوجی یا خفیہ علم رکھتا تھا اب یہ سائنس تھی یا وقت کا ایسا پانچویں جہت کا علم جس کا نبی سلیمان ع کو بھی علم نہیں تھا بہرحال اس نے پلک جھپکتے اس بھاری بھرکم تخت کو وہاں پیش کردیا۔ اب یہ کیسے ممکن ہوا ہوگا اس کو اسی میں سمجھنا بہت آسان ہے جو میں نے اوپر بیان کیا۔

      وہ اسی لمحہ میں اس پلیٹ فارم پر چڑھا اب وقت اس کے اپنے لئے رک گیا۔ دنیا کے گلوب کو گھمایا۔ یمن میں ملکہ کے محل کے اس بند کمرے میں پہنچا۔ تخت کو اشارہ کیا پلیٹ فارم پر رکھا اور واپس اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے چلا تھا۔ محض چند سیکنڈ میں۔ یقیناً یہ علم یا ٹیکنالوجی اِس وقت موجود نہیں لیکن یقیناً اگر کسی کو مل گئی تو سمجھنا آسان ہے کہ دنیا کا نظام کیسا درہم برہم ہوجائے گا۔

Comments are closed.