کھوئی ہوئی جمہوریت، حقوق اور نہروں کے خلاف تحریک


جب سے معاشرہ وجود میں آیا ہے، تب سے کسی نہ کسی شکل میں سماجی تحرک معاشرے کے جسم میں خون کی مانند گردش کرتا رہا ہے۔ انہی سماجی ڈھانچوں سے بادشاہتیں، ریاستیں، جمہوریتیں، ممالک اور حکومتیں جنم لیتی رہی ہیں۔ ریاست اور حکومت کے نظم و نسق کے ساتھ سماجی تحریکیں بھی کسی نہ کسی صورت میں جڑی رہی ہیں۔

نئی سماجی تحریکیں اور متنازع رویوں کے مظاہر کو سڈنی ٹارو، جو اس موضوع پر گہری بصیرت رکھتے ہیں، یوں بیان کرتے ہیں : ”سماجی تحریکیں ایسی اجتماعی للکار ہوتی ہیں جن کی جڑیں مشترکہ مقاصد، پائیدار رفاقت اور یکجہتی میں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ تحریکیں بالعموم طاقتور اور با اختیار اشرافیہ سے ٹکرا کر بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کرتی ہیں، یا پھر کسی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔“ دنیا کی تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ عدم تشدد پر مبنی تحریکیں زیادہ کامیاب ثابت ہوئی ہیں اور انہیں ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر پہچان اور حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔

برصغیر کی مشترکہ تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ پاکستان کا دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرنا، عدم تشدد اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ آج ہم جس تحریک کو ”سندھ، سندھو اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی تحریک“ کہہ سکتے ہیں، اس کے بارے میں سیاسی جماعتوں کی یکجہتی اور قیادت کے سوالات سامنے آ رہے ہیں۔

سماجی سائنس، سوشیالوجی، اینتھروپالوجی، سیاسیات، فلسفہ، تاریخ اور ذرائع ابلاغ کا علم ایسے سوالات پر مسلسل تحقیق کرتا رہا ہے۔ یہاں ہم کسی مخصوص نظریاتی بحث میں جائے بغیر، صرف جمہوری حقوق سے جڑی اس تحریک، اس میں شامل افراد اور تنظیموں کے کردار، اور قیادت کے سوال پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر دوسری جنگ عظیم کے بعد کے سماجی تحرکات کو دیکھیں، تو ان میں جمہوریت کے فروغ، ووٹ کے حق، نسلی امتیاز کے خاتمے، محنت کشوں اور کسانوں کے حقوق، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے، ان کی خودمختاری، مقامی باشندوں کے حقوق، آزادی کی جدوجہد، بیرونی اثرات سے نجات، اشتراکیت، ماحولیات، ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، مظلوم طبقات، عورت مارچ، بلیک لائیوز میٹر، ٹریڈ یونینز کی جدوجہد، تنخواہوں میں اضافہ، مہنگائی، امتیازی سلوک، اور ہندوستان میں کسان تحریک جیسے موضوعات شامل ہیں۔

سندھ میں بھی کسانوں کے حقوق، ون یونٹ کے خاتمے، جمہوریت کی بحالی، سندھی زبان کو قومی زبانوں میں شامل کرنے، کالاباغ ڈیم کے خلاف جامع تحریک، گریٹر تھل کینال پر شدید مزاحمت، خواتین کے حقوق، ثقافت کی بحالی اور اس کی عزت کی تحریکیں، ”ثقافت کے دن“ کی صورت میں سامنے آئیں۔ آج جو تحریک متنازعہ نہروں کے خلاف جاری ہے، وہ باقی تمام تحریکوں سے زیادہ گہری، پھیلی ہوئی اور وسیع ہے۔ یہ تحریک نہ تو محض جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اور نہ ہی کسی ذاتی مفاد کے لیے ؛ یہ جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کی تحریک ہے۔

پانی زندگی کی بنیاد ہے، اور سندھ کے لیے یہ صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ اس کی بقاء، خوشحالی اور اقتصادی طاقت کا ضامن بھی ہے۔ سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ وہ فیصلے ہیں جو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے کیے گئے اور جن میں سندھ کو نظرانداز کیا گیا۔ ان فیصلوں نے نہ صرف سندھ کی تاریخی خوشحالی اور ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا بلکہ زراعت، صحت، سماجی اور معاشی ترقی کو بھی متاثر کیا۔ اب سندھ اپنے آئینی اور قانونی حق کا مطالبہ کر رہا ہے، جو ہر پاکستانی کا حق ہے۔ یہ تحریک آئین پر مبنی اصولوں پر استوار ہے اور جمہوریت کی پاسداری کی تحریک ہے۔

یہ تحریک یہ پیغام دیتی ہے کہ ”اختیار رکھنے والے لوگ آئین اور قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے نہیں کر سکتے۔“ اس پس منظر میں سندھ کی پانی کے لیے تحریک ایک نہایت اہم اور ناگزیر جدوجہد کے طور پر ابھری ہے، جو سندھ کے لوگوں کے آئینی حقوق، بقاء اور زندگی سے جڑی ہے۔

سندھ انگریز دور سے لے کر آج تک پانی کے اپنے حق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ مارشل لا ہو، جمہوریت ہو یا ہائبرڈ نظام۔ سندھ نے پانی کے لیے اپنی جدوجہد میں کبھی سانس نہیں روکا اور نہ ہی ”اچھے یا برے وقت“ پر یقین کیا ہے۔ سندھ نے عوام کی صورت میں، ایک آواز ہو کر للکارا ہے۔ یہ تحریک سندھ کی اجتماعی اور آئینی للکار ہے۔ سندھو دریا، سپت سندھو، اور سندھو کے تمام دریا، صرف نام ہی نہیں! ۔ جو سندھ کے سماجی، معاشی، ماحولیاتی اور ثقافتی وجود کی بنیاد ہیں۔ یہ کوئی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

اس تحریک کا بنیادی مقصد سندھ کے عوام کو ان کے آئینی حقوق کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور اس کے پائیدار نظم و نسق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ یہ تحریک کسی سیاسی جماعت کے محدود یا ذاتی مفادات سے متعلق نہیں بلکہ سندھ کی مجموعی بھلائی، اس کی صوبائی اور وفاقی وحدت کی آئینی حیثیت اور عوام کی خودداری سے جڑی ہوئی ہے۔

”یہ سندھ کی بنیادی حیاتیاتی ضرورت کی بات ہے ؛ یہ سندھ کی بقاء ہے! کسی بھی جماعت کی حکومت یا کسی فرد یا گروہ کا ذاتی مفاد، سندھ کی بقاء کی اس جدوجہد کے آگے کوئی معنی یا اہمیت نہیں رکھتا۔“

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ سماجی تحریک صرف پانی کی قلت کے حل تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ سندھ اور پاکستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور عزت سے زندگی گزارنے کی ضمانت ہے۔

سیاسی جماعتوں کا کردار اس تحریک میں انتہائی اہم ہے۔ روشن خیال، جمہوریت پسند، اور سندھ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی، مصنفین، ماہرین، صحافی، خواتین، مرد، بچے، فنکار، وکیل۔ پوری سندھ، بغیر کسی پارٹی یا نظریاتی تفریق کے اس میں شامل ہے۔ سندھ کی سیاسی اور سماجی ساخت نے اسے متحرک کیا ہے، اسی لیے ہر سطح پر سیاسی جماعتوں کا کردار اہم ہے۔

اگرچہ سیاسی جماعتیں اس تحریک کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں، لیکن اس کا اصل جوہر اور مقصد سیاست سے بالاتر ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی مقصد یا کردار کا سیاست سے بالاتر ہونا بھی ایک سیاسی عمل ہے! اس نکتہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ سندھ کے عوام نے سیاسی جماعتوں پر لازم کر دیا ہے کہ وہ اس تحریک میں عملی کردار ادا کریں اور پاکستان کے آئین و جمہوری اقدار پر مبنی پالیسی سازی کا حصہ بنیں۔ اب تمام سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اس تحریک پر سنجیدگی سے غور کریں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔

یہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے اٹھنے والی آواز اب سندھ کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب، وسیب، پنجاب کے روشن خیال سیاسی و سماجی حلقوں، ماہرینِ آب، اور کاشتکار تنظیموں کی جانب سے بھی بلند ہو رہی ہے۔ درحقیقت سندھ کی یہ تحریک پاکستان کی پائیدار اور شراکتی ترقی سے متعلق ہے۔

سندھ کے پانی کے حقوق کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اس تحریک کو کوئی بھی سیاسی جماعت وقتی مفاد کے آلے کے طور پر استعمال نہ کرے، بلکہ اسے سندھ کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک تاریخی موقع سمجھے۔

فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو نے شاید اپنی ڈائری میں موت کے قریب ایک جگہ لکھا تھا: ”دنیا کی تمام طاقتور لوگوں سے زیادہ طاقتور وہ خیال ہوتا ہے جس کا وقت آ چکا ہو۔“ یعنی اگر کسی خیال یا تصور کی گونج وقت کے ساتھ میل کھاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ اس قول کا حوالہ امریکا کے ایورٹ ڈرکسن نے دیا، جب 10 جون 1964 ء کو امریکی سینیٹ میں تین ماہ کی تاریخی بحث کے بعد ”سول رائٹس ایکٹ“ منظور ہوا۔ تاکہ ہر امریکی فرد کو مساوی حقوق دیے جائیں۔

جمہوری روایتوں اور انسانی حقوق کے لحاظ سے دنیا کی ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود، امریکا اس مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکا۔ وکٹر ہیوگو کا یہ جملہ اس رات ایک دہکتے سورج کی مانند سچ ثابت ہوا۔ اس وقت مساوات کا خیال، سب سے طاقتور تصور تھا!

پاکستان کے لیے، وسائل کی منصفانہ تقسیم پر مبنی یہ پانی سے متعلق تصور، اگرچہ سندھ کی طرف سے اٹھا ہے، لیکن یہ پورے پاکستان، اس کے عوام، اور چاروں صوبوں کے لیے ”سورج جیسا سچ“ ہے۔ جس کا وقت آ چکا ہے۔ اس کو تسلیم کر کے پاکستان کی ترقی، جمہوریت، اقتصادی بہتری، سماجی تحفظ، اور 2017 ء سے جاری غیر یقینی صورتحال (جو اب آٹھ سال سے زائد ہو چکی ہے ) کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ لمحہ ہے، جس میں عوام کسی ذاتی مفاد، مفاہمت، فائدے یا دشمنی کے بغیر، پاکستان اور اپنے آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہر وہ طبقہ اور گروہ جو جمہوری پاکستان کی ترقی سے خائف ہے اور صرف اپنے وقتی فائدے یا طاقت کے لیے سوچتا ہے، وہ اس کے مخالف کھڑا ہے

Facebook Comments HS