ضیائی دور کی نسل کی فکری دشواریاں
فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو نے کئی نئی اصطلاحات متعارف کروائیں، جن میں سے ایک اہم اصطلاح ”گورنمنٹلٹی“ ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ریاست کس طرح غیر محسوس انداز میں اپنے شہریوں کی ذہن سازی کرتی ہے۔ اسی لیے بعض مفکرین اسے ”گورن منٹلٹی“ ”ذہنوں پر حکمرانی“ بھی کہتے ہیں۔ یہ حکمرانی ایک خاص ڈسکورس یا علمی بیانیے کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں علم کو ایک مخصوص انداز میں پیش کیا جاتا ہے جو طاقتور طبقات کے مفادات کی خدمت کرتا ہے۔ یہ بیانیہ تعلیم، ذرائع ابلاغ اور سیاسی نظریات کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا ہے، اور یوں ایک مخصوص ذہنیت پیدا کی جاتی ہے۔
اگر ہم فوکو کے اس نظریے کو پاکستان کی انیس سو اسی اور نوے کی دہائی یعنی ضیائی دور پر منطبق کریں، تو ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ کس طرح ایک مخصوص طرز کی ذہن سازی اور بیانیہ قائم کیا گیا۔ اس دور میں نسلوں کی ذہن سازی تعلیم، میڈیا، مذہب اور سیاست کے ذریعے اس انداز میں کی گئی کہ ان کی فکری و معاشرتی ساخت ایک خاص سانچے میں ڈھل گئی۔ اسی نسل کو ہم ”ضیائی دور کی نسل“ کہہ سکتے ہیں، جو آج بھی مختلف فکری و سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
ضیائی دور کی نسل نے یہ تصور لے کر پرورش پائی کہ ہم پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں اور پاکستان ایک غیر معمولی ملک ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں باور کرایا گیا کہ دنیا ہم سے خوف زدہ ہے اور ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے تاکہ ہم ترقی نہ کر سکیں۔ یہی سوچ انہیں دنیا کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے اور وہ کسی بھی سازشی نظریے پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔
یہ نسل آج بھی افغانستان کی جنگ کو ”اسلام اور کفر“ کی جنگ سمجھتی ہے، جس میں مجاہدین نے کفار کو شکست دی۔ وہ آج بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہ دراصل دو عالمی طاقتوں کے درمیان مفادات کی جنگ تھی، جس میں پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس جنگ کے اثرات آج تک ہماری سیاست اور معاشرت پر چھائے ہوئے ہیں۔
اس نسل کو یہ سکھایا گیا کہ مذہب ہی ہر مسئلے کا حل ہے، اور جتنا زیادہ مذہبی ہوں گے، اتنی ہی زیادہ ترقی ممکن ہے۔ اسی سوچ نے انہیں ہر چیز کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کا عادی بنا دیا ہے۔ چاہے سائنس ہو یا تجارت، سیاست ہو یا معاشرت۔ ہر جگہ مذہب کو شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے تخلیقی اور تنقیدی سوچ محدود ہوتی جا رہی ہے اور رواداری و برداشت کے جذبات کمزور ہو چکے ہیں۔
اسی طرح اس نسل کے ذہنوں میں یہ بات بھی بٹھا دی گئی کہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ اسلام اور ہماری مشرقی اقدار کے مخالف بھی ہیں۔ چنانچہ ان نظریات کو سمجھے بغیر رد کر دیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر سوشلسٹ یا تو لادین ہوتا ہے یا اخلاقی زوال کا شکار۔ اس رجحان نے فکری تنوع کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
اگرچہ ضیائی سوچ کے حامل کچھ افراد ملک کے حالات سے تنگ آ کر بیرون ملک ہجرت کر جاتے ہیں، لیکن وہ اپنی مخصوص ذہنیت کے باعث وہاں بھی پاکستانی ماحول کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ انہی علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں زیادہ پاکستانی ہوں، یوں وہ جسمانی طور پر تو بیرون ملک ہوتے ہیں، مگر ذہنی طور پر اب بھی پاکستان ہی میں رہتے ہیں۔ ایسے افراد مقامی معاشروں سے گھلنے ملنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، اور ان کے بچے دو ثقافتوں کے درمیان الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
آج کی دنیا میں ضروری ہو چکا ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ریاست اور دیگر طاقتیں ہماری سوچ کی تشکیل کس طرح کرتی ہیں۔ ریاستی گورنمنٹلٹی کو سمجھنا اور اس کے اثرات سے آزاد ہونا آسان نہیں۔ اس کے لیے تنقیدی شعور، گہرے مطالعے اور مسلسل سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ نصابی کتب سے آگے بڑھ کر متنوع اور معیاری مطالعے کی طرف رجوع کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ زیادہ پڑھتے ہیں، وہ ریاستی بیانیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اور یہی سوالات اکثر ان کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ دراصل، ریاست کبھی بھی ایسی تعلیم کو فروغ دینے میں سنجیدہ نہیں رہی جو سوچنے، سمجھنے، اور سوال کرنے کی طاقت دے، کیونکہ ایسے ذہن حکومتی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ لہٰذا نئی نسل کو اپنی کوشش سے خود کو تعلیم یافتہ بنانا ہو گا، تاکہ وہ نہ صرف ریاستی بیانیے کو پرکھ سکیں بلکہ ایک باخبر، باشعور اور متنوع معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔


